اردو نظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اردو زبان
اردو زبان

یہ مضمون اردو زبان پر مضامین کا تسلسل ہے
اصناف ادب

اردو ادب کو دو بنیادی اصناف شعر اور نثر میں تقسیم کیا جاتا ہے_ہر وہ متن جو نظم کی شرائط پر پورا اترتا ہے شاعری جبکہ ایسے متون جن میں شعریات کے فنی قواعد کی پابندی نہیں کی جاتی نثر کے زمرے میں آتے ہیں_ شاعری کو اردو میں مزید دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک غزل اور دوسری نظم_جس شعری متن میں شاعر ردیف قافیہ,مطلع مقطع,تخلص اور عروض کے خاص نظام کی پابندی کرتا ہے غزل کہلاتی ہے_غزل کے لغوی معنی ہرن کی اس چیخ کے ہیں جو وہ شکاری کے کامیاب حملے کی وجہ سے بلند کرتی ہے جبکہ اصطلاحی معنوں میں اردو شاعری کی وہ قسم جس میں شاعر ردیف قافیہ سمیت دیگر پابندیوں کے تحت جو متن تخلیق کرے غزل کہلاتا ہے کلاسیکی معنی میں غزل عورتوں سے گفتگو یا عورتوں کی گفتگو بھی کہلاتی ہے_اردو میں غزل کے علاؤہ تمام منظوم کلام کو نظم کے زمرے میں لیا جاتا ہے جس میں مثنوی,مسدس,مخمس,رباعی,ماہیا,ٹپا,ہائیکو, آزاد نظم, پابند نظم,معری نظم وغیرہ سب شعری اصناف شامل پیں_

زشتہ صدی بھر سے اردو میں وزن سے خارج تُک بندی کا رواج بھی عام ہے جس کو نثری نظم کہا جاتا ہے چونکہ یہ ترکیب اپنی ساخت میں پی غلط ہے کہ کوئی کلام خواہ وہ شعری ہو یا نثری بیک وقت نظم اور نثر دونوں نہیں ہو سکتا اس لیے بعض ناقدین اس کو نثم لکھتے ہیں_ان میں ڈاکٹر سید عامر سہیل,ڈاکٹر عمران ازفر کے نام نمایاں ہیں_ نثر میں شاعری کے مقدمے کی ڈاکٹر ابرار احمد نے بھی تائید کی ہیں اور انہوں نے خود بھی ایسی نظمیں لکھی ہیں جو وزن سے خارج ہیں یہ لوگ مجید امجد کی آخری زندگی کی نظموں کو نثری نظمیں کہتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ عروض کے فن سے واقف نہیں ہوتے اس لیے یہ نہیں سمجھ سکے کہ مجید امجد کی وہ سب نظمیں آزاد نظم کے عروضی قاعدے پر پوری اترتی ہیں جن میں زحافات کے استعمال سے مجید امجد نے نئی ہیتی شکلیں متعارف کی پیں_بے وزن شاعری کرنے والے گروہ عبدالرشید کو نثری نظم کا شاعر کہتے ہیں جبکہ درحقیقت عبدالرشید کی غالب نظمیں آزاد نظم کی ہیت میں ہیں_

اردو نظم کی معاصر صورت حال میں بہت سے لوگ اچھی نظم لکھ رہے ہیں_


اف اردو شاعری کی سب سے مشہور صنف ہے اس میں پائی جانے والی نغمگی پاکستانی افراد کے مزاج کو پسند آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس صنف سخن کو جسے ہر خاص و عام نے قبول کیا اور سراہا ہے مگر اردو شاعر موجودہیصورت حال میں زیادہ کام ردو میں نو رہا ہظم ہے۔ اردو نظم میں بہت زیادہ تجربے کیے گئے ہیں اور یہی اس کی وسعت کی دلی_نظیر اکبر آبادی,علامہ محمد اقبال,اختر شیرانی,نذر محمد راشد,میرا جی,مجید امجد,فیض احمد فیض,اختر حسین جعفری,اختر الایمان,افتخار جالب, انیس ناگی,غلام جیلانی کامران, ڈاکٹر وزیر آغا,اسلم انصاری,آفتاب اقبال شمیم,احسان اکبر,حسن عابدی,ڈاکٹر محمد امین,فہمیدہ ریاض,کشور ناہید,ماہ طلعت زاہدی, ثمینہ راجہ,انوار فطرت,یاسمین حمید,فرخ یار,اقتدار جاوید,ڈاکٹر رفیق سندیلوی,ڈاکٹر روش ندیم,حمیدہ شاہین,ڈاکٹر ارشد معراج,تنویر قاضی, ناہید قمر,ڈاکٹر عمران ازفر آزاد ائی نظمنمائندہ بڑے شاعروں شمارںہوتے سے ہیں۔ اردو میں کلاسیکی شعریسصنف مثنوی کی ترقی یافتہ شکل ہے جس پر سنسکرت,عربی,فارسی شاعری کے اثرات ہیں_انیسویں ویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران اس صنف سخن پر میں انگرشاعری یزی کے اثرمزید وسعت سے پیدا _ئی۔ اور قاردیف کی پابندی سے بھی لکھی جاتی ہے اور اور اس کے بغیر ہے۔[1]




تعریف[ترمیم]

نظم شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جو کسی ایک عنوان کے تحت کسی ایک موضوع پر لکھی جاتی ہے۔ [2]، نظم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بحر اور قافیہ سے پابند بھی ہوتی ہے اور ان قیود سے آزاد بھی۔ اس میں مضامین کی وسعت ہوتی ہے۔ نظم زندگی کے کسی بھی موضوع پر کہی جا کتی ہے۔

ارتقا[ترمیم]

اردو نظم کی ابتدائی مثالیں قلی قطب شاہ کے دیوان میں ہی مل جاتی ہیں۔ بلکہ اردو ادب کا سب سے پہلا شہ پارہ مثنوی کدم راو پدم راو دراصل اردو نظم کی ہی قسم ہے۔ اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اردو نظم کی تاریخ بہت پرانی ہے بلکہ ادب کی ابتدا ہے۔ بعد میں نظیر اکبرآبادی (1735–1830) نے اردو نظم کو مقام عروج عطا کیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر بیشتر نظمیں لکھی ہیں۔ نظیر میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر تھے جنھوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لیے مشہور ہیں۔[3]، ان کی آدمی نامہ، بنجارا نامہ، راکھی، روٹیاں مشہور نظموں میں سے ہیں۔ ان کی اکثر نظمیں مشہور ہیں۔

محمد حسین آزاد (1830–1910) اور حالی نے اردو نظم میں مغربیت کا تعارف کروایا اور یوں اردو نظم میں جدت پسندی کی ابتدا ہوئی جس سے موضوعات میں وسعت پیدا ہوئی۔ اب ملکی حالات، اجتماعی خیالات و احساسات پر نظمیں لکھی جانے لگیں۔ پھر اسماعیل میرٹھی(1844–1917)، شبلی نعمانی(1857–1914)، اکبر الہ آبادی (1846–1921) اور چکبست(1882–1926) کا دورآتا ہے جنھوں نے اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مگر اردو نظم کی ہیئت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ ان میں حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی نے آسان زبان میں بچوں کے لیے نظمیں لکھی ہیں۔ اردو نظم کی ہیئت میں تبدیلی کی پہلی کوشش عبد الحلیم شرر (1860–1926) نے کی۔ انہوں نے نظم معرا کو رائج کرنے کی کوشش کی۔ اسی کو آگے بڑھانے کا ذمہ نظم طباطبائی (1854–1933)نے لیا جنھوں نے اس کی ہیئت میں مزید تبدیلی کی۔ چونکہ اس دور میں مغربی ادب کے تراجم ہونے لگے تھے لہذا مغرب کا اثر اردو نظم پر بھی ہوا اور نظم کے اسلوب اور ہیئت میں خاصی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ اقبال (1877–1938) نے اردو نظم میں کافی کچھ لکھا اور نت نئے تجربے کیے۔ ان کے بعد سیماب، حفیظ، ساغر، جمیل مظہری، افسر، جوش، احسان دانش، اختر شیرانی اور ن م راشد نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں۔

ہیئت اور اسلوب کے سلسلے میں جن شعرا نے تجربہ کرنے کی کوشش کی ان میں عظمت اللہ خان کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ہندی کے سبک الفاظ، بحریں اور علامتیں استعمال کر کے اپنی نظموں میں انفرادیت پیدا کی۔ آگے چل کر میر اجی نے آزاد نظموں کے سلسلے میں عظمت اللہ خان کے طرز سے فائدہ اٹھایا۔ [4]، اردو شاعری اور خاص طور پر اردو نظم میں ترقی پسند تحریک نے انقلاب پیدا کر دیا۔ ادب اسلوب، ہیئت، موضوع، سانچہ اور تعداد اشعار میں وسعت دیکھنے کو ملی۔ آزاد نظم کو ایک الگ مقام ملا۔ ن م راشد، تصدق حسین، ضیا جالندھری اور مجید امجد اس دور کے قابل ذکر شاعر ہیں۔

اہم نظمیں[ترمیم]

اردو نظم کے شعرا اردو ادب کو کچھ ایسی نظمیں دے گئے ہیں جو رہتی دنیا تک اردو ادب اور خاص طور پر اردو شاعری کو لوگوں کی زبان اور دل میں جگہ بنانے کا موقع عنایت کرتی رہے گی۔ علامہ اقبال کی بچوں کی دعا (لب پہ آتہ ہے دعا بن کے تمنا میری)، حالی کی مسدس مد و زجر اسلام (مسدس حالی، نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ، حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام:، اختر شیرانی کی او دیس سے آنے والے بتا، ساحر لدھیانوی کی نظم:تاج محل، جوش ملیح آبادی کی نظم: کسان اردو نظم کے شاہکار نمونے ہیں۔ ذیل میں منیر نیازی کی نظم میں اور میرا خدا:


لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام

بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام

ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام

ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام

بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام

سب سے بڑا ہے نام خدا کا اس کے بعد ہے میرا نام

[5] .ﻧﺜﺮﯼ ﻧﻈم۔

جو آباد حویلیوں کو چھوڑ کر۔۔۔!

سرخ صحرا میں سبز کہف کی عبادت کر رہے ہیں۔

اے ہوا۔۔۔!

سامرہ ، قم اور رے کی وادیوں میں پھیلی ۔۔۔۔!

پھولوں اور خوشبوؤں کی رازداں ہوا۔۔۔!

وہ تمہیں ملیں۔۔۔تو انھیں کہنا۔۔۔!

بہار آئی ہوئی ہے۔

صبح و شام اداسیوں میں گذر جاتے ہیں۔

تمہیں سبز موسم کے رازداں۔۔۔کارواں۔۔۔سارباں۔۔۔!

بہت یاد کرتے رہتے ہیں۔

آنکھوں سے حروف مقطعات بہاتے رہتے ہیں۔

     منصف ہاشمی۔۔۔۔فیصل آباد۔


نثری نظم ۔

شدت غم میں آنکھیں سرخ رہتی ہیں۔

سوسن نسترن شاخوں پر نازل ہوتے ہوئے۔۔۔!

ہواؤں کو آباد خانۂ خواہشات کا پتہ دیتی رہتیں ہیں۔

جو محبوب کی یاد میں روتا رہے۔

صادقین محبت کے ہاتھ چومتا رہے۔

وہ کبھی سبز درختوں کو۔۔۔!

فاختاؤں کے گھونسلے کبھی جلاتا نہیں۔

کوہ بلقان۔۔۔کوہ سینا اور نجد کی وادیوں میں۔۔۔! خانۂ بدوشوں کی طرح پھرتا رہتا ہے۔

عزازیل کی طرح نوری فرغل اتارتا نہیں۔

کسی کا سینہ چیرتا نہیں۔۔۔جگر کبھی کھاتا نہیں۔

          (منصف ہاشمی)


نثری نظم۔

جب بھی عشق والوں کا ذکر کرتا ہوں۔۔۔! سرخ سبز پرندوں کے ساتھ۔۔۔! اک سیاہ عمامہ باندھے علمدار بھی آتا ہے۔ آہووان دشت میں چراغ روشن کرتے ہوئے۔۔۔! بھیگی آنکھوں کے خواب کی گرھیں کھول کر دکھاتا ہے۔ محبتوں،چاہتوں کی پوٹلی سے زعفرانی پتیاں دکھاتے ہوئے۔۔۔! دست حنائی کے لمس سے۔۔۔! حنوط دھڑکنوں کو جگاتے ہوئے۔۔۔! گل مریم کا زخمی سر دکھاتا ہے۔۔۔بہت رولاتا ہے۔

منصف ہاشمی۔فیصل آباد۔

 پاکستان

اقسام[ترمیم]

ہیئت کی بنیاد پر اردو نظم کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

  • پابند نظم
  • طویل نظم
  • معرا نظم
  • آزاد نظم
  • نثری نظم

پابند نظم[ترمیم]

پابند نظم غزل کی طرح بحر و قافیہ کی پابند ہوتی ہے۔ ابتدائی دور میں زیادہ تر پابند نظمیں ہی لکھی جاتی تھیں۔ چکبست، اقبال، نظیر اور جوش نے پابند نظمیں کہی ہیں۔

  • اقبال: مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، مکڑا اور مکھی، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ،
  • الطاف حسین حالی: مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
  • نظیر اکبرآبادی: آدمی نامہ، روٹیاں

طویل نظم[ترمیم]

قصیدہ،مرثیہ یا مثنوی طویل نظم کی مثالیں ہیں، مثنوی، قصیدے اور مرثیہ کی بہ نسبت طویل ہوتی ہے اور بیک وقت ایک ہی مثنوی میں کئی ساری کہانیاں بیان کی جاتی ہیں مگر چونکہ مرکزی کہانی ایک ہوتی ہے اس لیے مثنوی مختصر کہانیوں کا مجموعہ نہ ہو کر ایک طویل نظم ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ طویل نظم صرف مثنوی، مرثیہ یا قصیدہ ہی ہے۔ اردو نظم میں فکری نظموں نے بھی جگہ بنائی ہے۔ علامہ اقبال، حالی جوش، علی سردار جعفری، ساحر لدھیانوی نے بہت معیاری طویل نظمیں لکھی ہیں۔ اقبال کی شکوہ جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری کافی مشہور ہوئیں۔

  • اقبال: شکوہ، جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری، ساقی نامہ
  • حالی:برکھا رت، حب وطن، نشاط امید
  • علی سردار جعفری: نئی دنیا کو سلام، میرے خواب، بمبئی،
  • ساحر لدھیانوی: اے شریف انسانو، پرچھائیاں،

دیگر طویل نظم کے شاعروں میں حرمت الاکرام، ن۔م۔راشد، اختر الایمان، وزیر آغا، جعفر طاہر، رفیق خاور، عبد العزیز خالد، عمیق حنفی، قاضی سلیم قابل ذکر ہیں۔

معرا نظم[ترمیم]

معرا نظم کسی مخصوص بحر میں کہی جاتی ہے مگر اس میں قافیہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کو انگریزی میں (blank verse) کہتے ہیں۔ اس نظم کا ایک عنوان بھی ہوتا ہے۔ اردو میں نظم معرا کی روایت انگریزی شاعری سے منتقل ہوئی، شروع میں اسے "غیر مقفی نظم" کہا جاتا تھا لیکن بعد میں عبد الحلیم شرر نے مولوی عبد الحق کے مشورے سے "نظم معرا" کی اصطلاح استعمال کی جو اب مقبول ہے۔ [6] معرا نظم کے اہم شعرا میں تصدق حسین، میر اجی، ن۔م۔راشد، فیض احمدفیض ، اختر الایمان، یوسف ظفر، مجید امجد، ضیا جالندھری قابل ذکر ہیں۔

آزاد نظم[ترمیم]

آزاد نظم کو انگریزی میں (free verse) کہتے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ فرانس غیر مساوی مصرعوں پر لکھی گئی ایک نظم تھی۔ حالانکہ اردو میں آزاد نظم میں بھی عروض کی پاپندی کی جاتی ہے مگر اس کو قافیہ و ردیف سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ میر اجی، ن۔م۔راشد، فیض احمد فیض، سردار جعفری اور اختر الایمان آزاد نظم کے قابل ذکر شاعر ہیں۔

نثری نظم[ترمیم]

یہ صنف مکمل آزاد صنف ہے اور اس میں وزن، ردیف اور قافیے کی پابندی نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن شعریت کا عنصر ضرور موجود ہوتا اسی لیے اسے نظم کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ ہر نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا جسے چھوٹی بڑی لائنوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نظم آج کل بہت مقبول ہو رہی ہے۔ سجاد ظہر، زبیر رضوی، کمار پاشی، عتیق اللہ صادق اس صنف کے چند اہم شاعر ہیں۔

دیگر اقسام[ترمیم]

اردو نظم کی اشعار کی تعداد و ترتیب کے اعتبار سے بھی قسمیں کی جاتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ریختہ. صفحہ نظمیں https://rekhta.org/nazms?lang=ur. اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2018ء.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  2. قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان. قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان. نئی دہلی. ISBN ISBN 978-93-5007-4 تأكد من صحة |isbn= القيمة: invalid character (معاونت).  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  3. . نا معلوم.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت);
  4. قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان. نئی دہلی. ISBN ISBN 978-93-5007-4 تأكد من صحة |isbn= القيمة: invalid character (معاونت).  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  5. ریختہ (نا معلوم). صفحہ میں اور میرا خدا.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت);
  6. اردو کے اصناف شعری

بیرونی روابط[ترمیم]