اردو ہندی تنازع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زبانوں کی سرکاری حیثیت میں تبدیلی
اردو کو سرکاری زبان کا درجہ 1837ء[1]
اردو کے ساتھ ہندی کو سرکاری زبان کی حیثیت 1900ء
اردو کو پاکستان میں قومی زبان کا درجہ 1948ء[1]
ہندی کو الگ سرکاری حیثیت کا درجہ اور اردو پر ہندی کو ترجیح 1950ء
انگریزی کے ساتھ اردو اور ہندی میں بھارت کا ایک روڈ سائن بورڈ

اردو زبان كی ترقی و ترویج كا آغاز تیرہویں صدی سے ہوا اور یہ زبان جلد ہی ترقی كی منزلیں طے كرتی ہوئی ہندوستان كے ہندوؤں اور مسلمانوں کی نمائندہ زبان بن گئی۔ اردو كی ترقی میں مسلمانوں كے ساتھ ساتھ ہندو ادیبوں نے بھی بہت كام كیا ہے۔ اس کی آب یاری اور ترویج و ترقی میں شمالی ہند کے تمام علاقوں نے حصہ لیا۔ یہیں کے لوگ اسے دکن میں لے گئے اور یہ وہاں دکنی اور گجراتی زبان کہلائی۔ اس کے فروغ میں حیدرآباد دکن اور پنجاب کی خدمات اتنی ہی اہم ہیں جتنی دہلی اور لکھنؤ کی۔ خصوصاً پنجاب نے اس کے علمی و ادبی خزانوں میں بیش بہا اضافہ کیا۔[2] برصغیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے جلد ہی بھانپ لیا تھا کہ اس ملک میں آئندہ اگر کوئی زبان مشترکہ زبان بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ اردو ہے اسی لیے فورٹ ولیم کالج میں نووارد انگریزوں کو اردو کی ابتدائی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا اور یوں اردو کی بالواسطہ طور پر ترویج بھی ہونے لگی۔[3] مگر انگریزی اقتدار آنے کے بعد 1867ء میں کچھ ہندو تنظیموں اور قائدین نے اردو زبان كی مخالفت شروع كر دی۔ اردو زبان كی مخالفت كے نتیجے سے اردو ہندی تنازع شروع ہوا ۔[4]

1867ء میں بنارس كے چیدہ چیدہ ہندو رہنماؤں نے مطالبہ كیا كہ سرکاری عدالتوں اور دفاتر میں اردو اور فارسی کو یکسر ختم كر دیا جائے اور اس كی جگہ ہندی كو سركاری زبان كے طور پر رائج كیا جائے۔ ہندوؤں نے برطانوی بل بوتے پر زور پکڑتے ہی سب سے پہلا حملہ اردو زبان پر کیا اور ایک شعوری تحریک شروع کی جس کے تحت اُردو زبان سے عربی اور فارسی لفظیات کو نکال کر اس میں سنسکرت الفاظ شامل کرکے ہندی کے نام سے ایک نئی زبان بنائی۔[5]۔ یہ کہا گیا كہ اردو قرآن کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس کی جگہ ہندی یا دیوناگری رسم الخط جاری کیا جائے۔ اس لسانی تحریک کا صدر دفتر الہ آباد میں قائم کیا گیا جبکہ پورے ملک میں ہندوؤں نے کئی ایک ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دیں، تاکہ پورے ہندوستان کے تمام ہندوؤں کو اس تحریک میں شامل کیا جائے اور اس کے مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔ سر سید احمد خان نے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے بنارس کے شہر میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر کسی کی تنگ نظری اور تعصب کا یہی عالم رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہو جائے گا۔[6]

ایک علاحدہ زبان کے طور پر ہندی کی تشکیل کے سیاسی لائحۂ عمل سے قبل "ہندی" اردو ہی کا پرانا نام تھا۔ فطری طور پر فارسی کا اقتدار ہونے کے سبب مسلم دورِِ اقتدار کے اکثر متون فارسی رسمِ خط میں ہیں اور ایسا اس لیے بھی ہے کہ فارسی رسم خط کو اختیار کرنے کی آزادی ہر فرد کو حاصل تھی جب کہ سنسکرت اور ناگری لِپی پر برہمنوں کی اجارہ داری تھی اور عام ہندو اس میں مداخلت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اگر کچھ متون دیوناگری لپی میں بھی ہیں تو اس سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ دیوناگری لپی میں موجود متون اس سیاسی جدید ہندی کے ماضی کا حصہ ہیں جس کی تشکیل کے عزائم میں انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں شدت آئی۔ محض دیوناگری لپی میں موجود متون کو جدید ہندی میں شامل کرنے کا لائحۂ عمل ہندی تاریخ کے نظریہ سازوں کے لیے بڑی مصیبتوں کا سبب بنا۔[7]

اس کے اسباب لسانی سے زیادہ فرقہ وارانہ (Sectarian) تھے جن کی جڑیں ہندو احیاء پرستی میں پیوست تھیں۔ بعد میں انھیں عوامل نے ’’ہندی، ہندو، ہندوستان‘‘ کے نعرے کی شکل اختیار کرلی۔ یہاں کے مذہبی اکثریتی طبقے نے دیوناگری رسمِ خط کی شکل میں اس نئی زبان کو تقویت دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جس کے نتیجے میں اردو چشم زدن میں محض ایک اقلیتی طبقے کی زبان بن کر رہ گئی،[8] اسی زمانے سے دو قومی نظریے کی باقاعدہ بنیاد پڑنی شروع ہوئی اور 1947ء میں برصغیر کی تقسیم وجود میں آئی۔

سرسید احمد خان[ترمیم]

اردو زبان كی مخالفت كے نتیجے پر سرسید احمد خان جیسا روشن خیال‘ ترقی پسند مسلمان دانشور و ادیب بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اور انہیں ہندو مسلم اتحاد كے بارے میں اپنے خیالات بدلنے پڑے اس موقع پر آپ نے فرمایا كہ :

٫٫ مجھے یقین ہو گیا ہے كہ اب ہندو اور مسلمان بطور ایک قوم كے كبھی ایک دوسرے كے ساتھ مل كر نہیں رہ سكتے۔ ٬٬

سرسید احمد خان نے ہندوؤں كی اردو زبان كی مخالفت كے پیش نظر اردو كے تحفظ كے لیے اقدامات كرنے كا ارادہ كیا۔ 1867ء میں انہوں نے حكومت سے مطالبہ كیا كہ ایك “ دار الترجمہ٬٬ قائم كیا جائے تاكہ یونیورسٹی كے طلبہ كے لیے كتابوں كا اردو ترجمہ كیا جا سكے ہندوؤں نے سرسید احمد خان كے اس مطالبے كی شدت سے مخالفت كی لیكن آپ نے تحفظ اردو كے لیے ہندووٕں كا خوب مقابلہ كیا۔ آپ نے الٰہ آباد میں ایك تنظیم سنٹرل ایسوسی ایشن قائم كی اورسائنٹیفک سوسائٹی كے ذریعے اردو كی حفاظت كا بخوبی بندوبست كیا۔

یہ مسئلہ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی سے سر اٹھا رہا تھا۔ شمال مغربی صوبوں میں سرکاری کام کاج کی زبان کے طور پر اردو کے رواج کے فوراً بعد ہندو تعلیم یافتہ اعلیٰ طبقے نے احتجاج کیا اور اگست 1840ء میں حکومت نے آسان زبان استعمال کرنے کی ہدایت متعلقہ محکموں کو دی اور1856ء میں ریونیوکے جونیر افسران کو ناگری رسم الخط میں لکھنے کی ہدایت دی گئی۔[9] اور یہاں سے شعبۂ مال گزاری میں ہندی کو داخلہ ملا۔

سرسیّد نے یکم اگست1867ء کو وائسرائے اور گورنر جنرل کو ایک یاداشت پیش کی جس میں موجودہ نظامِ تعلیم کو ناقص بتایا گیا، جس کی بنیاد انگریزی ذریعۂ تعلیم پر تھی۔ سرسیّد کے خیال میں ”یوروپین علوم و فنون اور سائنس کی روشنی“ کو عام کیا جانا ضروری تھا اور اس کے لیے انگریزی نہیں بلکہ دیسی زبان زیادہ موزوں تھی۔ اس میمورنڈم پر دس افراد کے دستخط تھے جن میں سے چار یعنی اسرچند مکرجی، بدری پرساد، منولال اور راجا جے کشن داس غیر مسلم تھے۔

اس منصوبے کو برطانوی حکومت نے رد کر دیا، جس کی اطلاع 5ستمبر، 1867ء کو بیلی نے برٹش انڈین ایسوی ایشن کے صدر اور اراکین کو ایک خط کے ذریعے دی۔ حکومت نے اس تجویز کو اگرچہ رد کر دیا لیکن اس نے کلکتہ یونیورسٹی، بنارس انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری اور کئی دوسرے افراد سے اس سلسلے میں ان کی رائے بھی مانگی اور17فروری ،1868ء کو بنارس انسٹی ٹیوٹ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا گیا جس میں سیّد احمد خاں اور بابو شیوپرساد بھی شریک تھے اور اس اجلاس میں بابو شیو پرساد نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور صدر نے محسوس کیا کہ کوئی اس موضوع پر گفتگو کرنا نہیں چاہتا اور اس اجلاس کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے بھی اپنی کتاب ”ہندی اردو تنازع“ میں سرسیّد کے یکم اگست، 1867ء کے یاداشت کا ذکر کیا اور لکھا ہے :

”اس درخواست پر حکومت نے خاصی توجہ دی تھی، لیکن بعض دوسری باتوں کے ساتھ بڑی رکاوٹ یہ پیدا ہو گئی کہ بنارس کے ہندوؤں کی طرف سے اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ اردو کے مخالفین نے اخبارات میں اس بات کا مطالبہ کر دیا کہ اس مجوزہ یونیورسٹی میں مسلمانوں کے لیے اردو زبان اور ہندوؤں کے لیے ہندی زبان مخصوص کی جائے۔[10]

1868ءمیں راجا شیوپرساد نے ایک کتابچہ ’میمورنڈم آن کورٹ کیریکٹرس‘ شائع کیا، جس میں فارسی اور اردو تعلیم کی سرکاری سرپرستی کو ہندی کی ترقی میں سدِراہ بتایا اور فارسی رسم الخط کی جگہ ہندی رسم الخط کو عدالت میں رائج کرنے کا مطالبہ کیا[11] اور یہ لے یہاں تک پہنچی کہ راجا جے کشن داس (جو سرسیّد کے خاص دوستوں میں تھے) نے برطانوی حکومت کو ہندوؤں کے حق میں مسلمانوں کی حکومت سے بہتر قرار دیا اور لکھا:

”جب سے ہندوستان میں مسلمانوں کا تسلط ہوا اس وقت سے ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں ایسی سختی برتی گئی جس کے سبب سے ان کے دل نہایت افسردہ و پژمردہ ہو گئے اور اے سے سخت موانع پیش آئے کہ ان کا سلسلۂ مذہبی تمام درہم برہم ہو گیا اور رفتہ رفتہ یہاں تک نوبت پہنچی کہ سنسکرت کا قدیمی علم صرف براے نام رہ گیا اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ کاروبارِ عدالت بھی فارسی میں دفعتاً شروع ہو گئے، چناں چہ رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم سنسکرت ہندوستان میں کالعدم ہو گیا الغرض ایسی ایسی وجوہ سے بجائے روشن ضمیری و استعداد علمی کے ہندوستان میں تاریکی، جہالت طاری ہو گئی“۔[12]

حالاں کہ سنسکرت کا سمٹنا مسلمان حکمرانوں کے جابرانہ رویئے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ برہمنوں کی اجارہ داری کے سبب سے تھا جس کا اندازہ مشہور فرانسیسی سیاح برنیئر کے سفرنامے سے کیا جاسکتا ہے جس میں اس نے لکھا ہے :

”یہ کتابیں جو مجھے بنارس میں دکھائی گئی تھیں اگر وہ بید ہی تھے تو بڑی ضخامت کی ہوتی ہیں اور یہ ایسی نایاب ہیں کہ میرے آقا کو باوجود بڑی تلاش اور شوق خریداری کے ایک کتاب بھی نہیں ملی۔ ہندو ان کو بڑی ہوشیاری سے چھپائے رکھتے ہیں کہ مبادا مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں “۔[13]

یہاں برنیئر نے آقا کے لقب سے نواب دانشمند خاں کو یاد کیا ہے، جس کی محفل میں برنیئر کے بقول ایسے ہندو پنڈت بھی آتے تھے جو داراشکوہ کی خدمت میں رہ چکے تھے اور دانشمند خاں ان سے ہندو فلسفے اور ان کی مذہبی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا تھا۔ محمود غزنوی کے زمانے میں البیرونی، جلال الدین اکبر کے زمانے میں فیضی اور بعد میں شہزادہ داراشکوہ نے ہندوؤں کے مذہبی صحیفوں کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا، لیکن برہمنوں نے جیساکہ برنیئر کے بیان سے ظاہر ہے، اپنی مذہبی کتابوں کو چھپا کے رکھا۔ لیکن راجا جے کشن نے برہمنوں کے اس خوف کی جگہ مسلمان حکمرانوں کے جبر اور اردو زبان کو اس کا ذمہ دار بتایا اور بقول ڈاکٹر مظہر مہدی:

”راجا جے کشن داس نے کہا کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت کے قیام کے بعد وہ جبر و تشدد تو ختم ہو گیا جو صدیوں تک ہندوؤں پر روا رکھا گیا تھا اور ان کے لیے سازگار حالات بھی پیدا ہوئے لیکن وہ پورے طور پر ان سے مستفیض نہ ہو سکے جس کی بنیادی وجہ اس حکومت کا اردو اور فارسی رسم الخط کو قبول کرنا اور حکومت کے دفاتر میں ان کا اجرا کرنا تھا، کیوں کہ اس زبان اور رسم الخط کو صرف روزگار پیشہ لوگوں نے اسی قدر سیکھا جتنی ان کو ضرورت تھی لیکن تاجروں اور کسانوں نے ’اس کو محض لغو و فضول‘ جانا کیوں کہ وہ اس اجنبی زبان میں علم حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے جو ان کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہو“۔[14]

اس سے ظاہر ہے کہ1869ء تک زبان کا مسئلہ ہندو اور مسلم شناخت کا مسئلہ بن چکا تھا گویا کہ پوری طرح کمیونلائز ہو چکا تھا۔ ہندی کے نام نہاد علم بردار اردو کی مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انھوں نے انگریزی حکومت کو اپنے حق میں مسلمانوں کی حکومت سے بہتر بتایا۔ ’نینی تال انسٹی ٹیوٹ‘کا قیام1869ء میں عمل میں آیا جس کی بنیاد ہی ہندی کی حمایت اور اردو کی مخالفت کے خیال سے رکھی گئی تھی۔ 28اگست، 1869ء کو اس کا ایک جلسہ ہوا جس میں بابو بودھی بلبھ پنت نے اردو اور فارسی رسم الخط کی مخالفت میں تقریر کی۔ اس جلسے کی صدارت گنگا دت پنت نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ اس ملک میں ”اردو کا چلن مسلمانوں کی فتح کے بعد ہوا اور مسلم فاتحین نے اسے اپنی سہولت کے لیے ے رواج دیا۔ لیکن اب اس ملک کے حاکم انگریز ہیں جو نہ اردو بولتے ہیں اور نہ ہندی، اس لیے یہاں اس ملک کی فطری زبان ہندی رائج ہونی چاہیے “۔[15]

اس جلسے کی کارروائی کماؤں کے کمشنر کو بھی بھیجی گئی کہ وہ اس کو حکومت کے سامنے پیش کر دیں۔ اس جلسے میں تمام مسلمان اردو کی حمایت کر رہے تھے اور تمام ہندو ہندی کی۔ گویا کہ زبان کا مسئلہ پوری طرح فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر چکا تھا۔

اس سلسلے میں مذہبی اور اصلاحی تنظیموں کی مداخلت نے مزید پیچیدگی پیدا کر دی۔ آریہ سماج نے بھی ہندی کی حمایت کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی تھے جن کی مادری زبان گجراتی تھی لیکن انھوں نے بھی ہندی کی حمایت کی اور جب1882ءمیں ہنٹر کمیشن کا قیام عمل میں آیا جس کو اسکولوں میں ذریعۂ تعلیم کی زبان کا فیصلہ کرنا تھا تو سوامی دیانند نے آریہ سماجیوں کو خطوط لکھے اور ہدایت دی کہ:

”وہ ہندی کی پُرزور حمایت کریں اور کمیشن کو میمورنڈم بھیجیں اگر یہ وقت ضائع ہو گیا تو پھر مستقبل میں یہ موقع ہاتھ نہیں آنے کا“۔[16]

بلکہ انھوں نے ’ایک دیس، ایک بھاشا‘ جیسا نعرہ بھی دیا جو ظاہر ہے کہ کھلا فاشزم (Fascism) تھا۔ ہندی کے بیشتر حامی مثلاً بابو شیو پرساد، راجا جے کشن داس، راجا بھِنگا اور بابو ہریش چندر اردو سے ماہرانہ واقفیت رکھتے تھے لیکن ہندی کا سوال چوں کہ ہندی قومیت کے مسئلے سے وابستہ کر دیا گیا اس لیے یہ تمام لوگ اردو کے سخت مخالف اور ہندی کے حامی ہو گئے۔ 1882 ء میں ہندی کے حامیوں نے ایجوکیشن کمیشن کو 118 میمورنڈم دیے جن میں 67 ہزار دستخط جمع گئے تھے جب کہ اردو کی حمایت میں ’ایک ایڈریس ایجوکیشن کمیشن کو پیش کیا گیا‘ اور اس میں بھی یہ کہا گیا کہ:

”اردو ہماری نہ مذہبی زبان ہے اور نہ قومی اور نہ اسے (کذا؟) کسی غیر ملک سے درآمد ہی کی گئی ہے۔ اس نے ہندوستان میں جنم لیا ہے، اس کی پیدائش ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کی مشترکہ کوششوں سے ہوئی ہے۔ یہ اس طرح بتدریج ہندوستان کی ورناکلر زبان بنی ہے “۔[17]

1893ء میں ناگری پرچارنی سبھا (بنارس) کا قیام عمل میں آیا، جس کے بانیوں میں گوپال پرشاد کھتری، رام نرائن مصر اور شیام سندر داس شامل تھے۔ ہندی کے نفاذ کے سلسلے میں ناگری پرچارنی سبھا نے سب سے اہم اور منظم تحریک کا رول ادا کیا۔ 1897ء میں پنڈت مدن موہن مالویہ نے بھی ایک پمفلٹ ’کورٹ کیرکٹر اینڈ پرائمری ایجوکیشن‘ شائع کیا اور اس میں ہندی کی وکالت کی۔ 9مارچ1898 کو ہندو تعلیم یافتہ اُمرا کا ایک وفد مدن موہن مالویہ کی قیادت میں لفٹننٹ گورنر سر میکڈانلڈ سے ملا اوراس نے فارسی رسم الخط کی جگہ ناگری رسم خط کے اجرا کا مطالبہ کیا۔ اور:

”32سال کی اس تحریک کے نتیجے میں سرکار نے 1900ء میں عدالتوں میں فارسی رسم خط کے ساتھ ساتھ ناگری رسم خط کے استعمال کی بھی اجازت دے دی“۔[7][18]

سرسیّد نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بڑے زور و شور سے اردو زبان کی مدافعت جاری رکھی۔ اُن کے بعد اُن کے لائق جانشینوں نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک نے یہ خدمت انجام دی۔

نواب محسن الملک[ترمیم]

ہندوؤں كی تحریك كی وجہ سے 1900ء میں یو پی كے بدنام زمانہ گورنر انٹونی میكڈانلڈ نے احكامات جاری كئے كہ دفاتر میں اردو كی بجائے ہندی كو بطور سركاری زبان استعمال كیا جائے۔ اس حكم كے جاری ہونے پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان پیدا ہوا۔ 13مئی، 1900 ء كو علی گڑھ میں نواب محسن الملك نے ایك جلسے سے خطاب كرتے ہوئے حكومت كے اقدام پر سخت نكتہ چینی كی۔ نواب محسن الملك نے اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم كی جس كے تحت ملك میں مختلف مقامات پر اردو كی حمایت میں جلسے كئے گئے اور حكومت كے خلاف سخت غصے كا اظہار كیا گیا۔ اردو كی حفاظت كے یے علی گڑھ كے طلبائ نے پرجوش مظاہرے كئے جس كی بنائ پر گونر میكڈانلڈ كی جانب سے نواب محسن الملك كو یہ دھمكی دی گئی كہ كالج كی سركاری گرانٹ بند كر دی جائے گی۔

یوپی کے لیفٹنینٹ گورنر سر انٹونی میکڈانل نے اردو کے خلاف مہم شروع کی تو نواب محسن الملک نے اس کا جواب دینے کے لیے لکھنؤ میں ایک بڑا جلسہ کیا۔۔ محسن الملک نے اس جلسے میں جس جوش و خروش سے تقریر کی۔ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یوں سمجھیے کہ الفاظ کا ایک لاوا تھا جو ابل ابل کر پہاڑ سے نکل رہا تھا۔ آخر میں نواب محسن الملک نے یہ کہتے ہوئے کہ:

اگر حکومت اردو کو مٹانے پر ہی تل گئی ہے تو بہت اچھا۔ہم اردو کی لاش کو گومتی دریا میں بہا کر خود بھی ساتھ ہی مٹ جائیں گے

اور والہانہ انداز میں یہ شعر پڑھا۔

چل ساتھ کہ حسرت دل محروم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

اردو كے خلاف تحریك میں كانگریس اپنی پوری قوت كے ساتھ شامل كار رہی اور اسے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔ اسی زمانے سے دو قومی نظریے کی باقاعدہ بنیاد پڑنی شروع ہوئی‘ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم وجود میں آئی . دو متحارب سلطنتیں وجود میں آئیں جو مسلح حالت میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔[5]

نواب محسن الملک نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بڑے زور و شور سے اردو زبان کی مدافعت جاری رکھی۔ اُن کے بعد اُن کے جانشینوں اور انجمنِ ترقّیٴ اُردو نے یہ خدمت انجام دی۔

انجمنِ ترقّیٴ اُردو[ترمیم]

1903ء میں محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس کا سالانہ جلسہ دلّی میں منعقد ہوا۔ اس جلسے میں کانفرنس کے مختلف شعبے قائم کیے گئے۔ اِنہیں شعبوں میں ایک شعبہ ترقّیٴ اردو کا بھی تھا۔ یہی شعبہ’انجمن ترقی اردو‘کی بنیاد تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری رہے تھے۔ 1905ء میں نواب حبیب الرحمن خان شیروانی اور 1909ء میں عزیز مرزا اس عہدے پر فائز ہوئے۔ عزیز مرزا کے بعد 1912ء میں مولوی عبدالحق سیکرٹری منتخب ہوئے۔ مولوی صاحب اورنگ آباد (دکن ) میں ملازم تھے وہ انجمن کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس طرح حیدرآباد دکن اس کا مرکز بن گیا۔ انجمن کے زیر اہتمام لاکھ سے زائد جدیدعلمی، فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ نیز اردو کے نادر نسخے تلاش کرکے چھاپے گئے۔ دوسہ ماہی رسائل،اردواور سائنس جاری کیے گئے۔ ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیا گیا۔ حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی انجمن ہی کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔ اس یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ انجمن نے ایک دارالترجمہ بھی قائم کیا جہاں سینکڑوں علمی کتابیں تصنیف و ترجمہ ہوئیں۔

انڈین نیشنل کانگریس کے بااثر عناصر اور دوسری ہندو جماعتوں نے ہندی کو رواج دینے کی بڑی کوشش کی اور اس سلسلے میں بڑی پیچیدہ، چالاک سیاست سے کام لیا لیکن انجمن اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کی اَن تھک محنت، حوصلے اور مقابلے کی وجہ سے انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انجمن نے ہندی اردو تنازعے میں اردو زبان کی سلامتی اور تحفّظ کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انجمن کے یہ کارنامے تحریکِ پاکستان کا اہم حصّہ ہیں۔[19] مولوی صاحب سرسیّد کے تربیت یافتہ تھے محسن الملک کے ساتھ کام کرچکے تھے۔ مولانا حالی کے عقیدت مند اور علمی، ادبی کاموں سے دلچسپی رکھتے تھے۔ مولوی صاحب انجمن کے سیکریٹری مقرر ہو گئے۔ انجمن کو اپنے ساتھ اورنگ آباد لے آئے اور رفتہ رفتہ اس صدی میں اردو زبان و ادب کی ترقّی کی سب سے بڑی انجمن کا سب سے اہم حوالہ بن گئے۔ مولوی عبد الحق انجمنِ ترقّیٴ اُردو کے سیکریٹری ہی نہیں مجسّم ترقّی اردو تھے۔ اُن کا سونا جاگنا، اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پڑھنا لکھنا، آنا جانا، دوستی، تعلقات، روپیہ پیسہ غرض کہ سب کچھ انجمن کے لیے تھا۔ ساری تنخواہ انجمن کی نذر کردیتے (بعد میں پینشن بھی انجمن پر ہی خرچ کرتے رہے) لکھنے پڑھنے سے جو آمدنی ہوتی وہ بھی انجمن کے کھاتے میں جاتی۔ زندہ رہے تو اردو کے لیے اور یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ کراچی کے جناح اسپتال میں بسترمرگ پر تھے مگر لیٹے لیٹے ”قاموس الکتب“ (جلد اوّل) کا معرکہ آرا مقدمہ لکھ دیا۔ مولوی عبد الحق نے جنھیں انجمن کے حوالے اور اردو کی خدمت سے خواص و عوام نے ”بابائے اردو“ کا خطاب دیا انجمن کو غیر معمولی ترقّی دی۔ ان کی خدمات کا دائرہ وسیع کیا۔ وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق علمی اور ادبی منصوبے مرتّب کیے اور ان پر بڑی دل جمعی سے کام کیا انجمن کے کاموں کی ایسی شہرت ہوئی کہ نظام دکنمیر عثمان علی خاں نے ایک ذاتی فرمان کے ذریعے سے اس کی سرپرستی منظور کی اور اس کے لیے مستقل امداد جاری کردی۔[19] مولوی عبدالحق نے ہندی اردو تنازعے میں اردو زبان کی سلامتی اور تحفّظ کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Maria Isabel Maldonado Garcia۔ Urdu Evolution and Reforms۔ Punjab University Department of Press and Publications, Lahore, Pakistan۔ صفحہ 223۔
  2. اردو زبان
  3. اردو ہے جس کا نام
  4. اردو ہندی تنازع، ڈاکٹر فرمان فتحپوری
  5. ^ ا ب اردو ہندی افتراقات
  6. پاکستان کیوں ناگزیر تھا،سعید صدیقی
  7. ^ ا ب زبان کا مسئلہ، جاوید رحمانی
  8. ہندی اردو تنازعات اور معروضی حقائق کی روشنی میں (حصّہ دوّم), پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ
  9. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، غالب نامہ، جولائی 2004ء نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص ص 223-222-
  10. ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ہندی اردو تنازع، 1977، کراچی: نیشنل بک فاؤنڈیشن، ص 103-
  11. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص 225-
  12. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص226-
  13. تنویر احمد علوی، ہندوؤں کے مذہبی قوانین اور علوم و فنون: تجسس سے تجزیئے تک2002 ءدہلی: شاہد پبلکیشنز،ص 176-
  14. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص 226-
  15. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص 227
  16. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص 230
  17. ڈاکٹر مظہر مہدی، انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو ہندی تنازع، جولائی 2004ء نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ، ص 232
  18. 1ویر بھارت تلوار، راجا شیوپرساد ستارۂ ہند2005ء نئی دہلی: ساہتیہ اکادمی، ص 54
  19. ^ ا ب انجمنِ ترقّیٴ اُردو پاکستان

بیرونی روابط[ترمیم]