ارسلان غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ارسلان غزنوی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1101  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1118 (16–17 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلطنت غزنویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد مسعود سوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ گوہر خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1114  – 1117 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
بہرام شاہ غزنوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

سلطان ارسلان غزنوی اپنے باپ سلطان مسعود غزنوی سوم کے جانشین کے طور پر تخت نشین ہوا۔ اس کا دور حکومت انتشار کا شکار رہا۔ آخر کار اپنے بھائی بہرام شاہ غزنوی کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔

تخت نشینی[ترمیم]

سلطان ارسلان غزنوی 508ھ بمطابق 1114ء میں اپنے باپ سلطان مسعود غزنوی سوم کے جانشین کے طور پر تخت نشین ہوا۔ [1]

بہرام کا فرار[ترمیم]

سلطان ارسلان غزنوی کے ہاتھ جب عنان حکومت آئی تو اس نے اپنے بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان مصیبت زدہ بھائیوں میں سے صرف ایک اپنی جان بچا کر نکل سکا اور وہ بہرام شاہ غزنوی تھا جو سلطان احمد سنجر کے پاس پناہ گزین ہوا۔ ان دنوں سلطان سنجر اپنے بھائی محمد سلطان بن ملک شاہ کی طرف سے خراسان کا حاکم تھا۔ ارسلان شاہ نے بہرام کی طلبی کے لیے سلطان سنجر کو کئی خطوط روانہ کیے اور ہر طرح سے عاجزانہ درخواست کی لیکن احمد سنجر اس کے کہنے میں نہ آیا اور اس نے ارسلان کی خواہش کے برعکس بہرام کی ہر ممکن امداد کرنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ وہ ایک بہت بڑا لشکر تیار کر کے بہرام کے ساتھ خود بھی غزنی پر حملہ آور ہونے لگا۔

احمد سنجر سے صلح کی کوشش[ترمیم]

سلطان ارسلان کو جب احمد سنجر کے غزنی پر حملہ کرنے کی خبر ملی تو اس نے اس اقدام کی سلطان محمد سے شکایت کی اور ساتھ یہ درخواست کی کہ سلطان اپنے بھائی کو جنگ کرنے سے باز رکھے۔ سلطان محمد نے ارسلان کی درخواست کے پیش نظر بہرام اور ارسلان میں صلح کی بہت کوشش کی لیکن اس کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ جب ارسلان شاه سلطان کی کوشش سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنی ماں مہوعراق کو جو سلطان سنجر کی سگی بہن تھی دو لاکھ دینار اور دوسرے بہت سے گراں قدر تحفے تحائف دے کر سلطان سنجر کی خدمت میں روانہ کیا تا کہ اس کی معرفت سے سلطان سنجر صلح کی بات چیت کرے۔ مہوعراق سلطان ارسلان سے خوشی نہ تھی اور وہ اس کے مظالم سے بہت تنگ آ چکی تھی۔ نیز مہوعراق کع اپنے دوسرے بیٹوں کی تباہی کا بھی از حد ملال تھا جو سلطان ارسلان کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس لیے مہوعراق نے سلطان سنجر سے صلح کی بات چیت کرنے کی بجائے اپنے بھائی کے پاس پہنچ کر ارسلان کے مظالم کی داستان بیان کی اور اس سے غزنی پر حملہ کرنے کے لیے بہت اصرار کیا۔

غزنی پر حملہ[ترمیم]

سلطان ارسلان غزنوی کو جب اپنی ماں مہوعراق کی طرف سے بھی مایوسی ہوئی تو اس نے مجبوراً جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اس کا لشکر تیس ہزار سواروں، بےشمار پیادوں اور ایک سو ساٹھ کوه پیکر ہاتھیوں پر مشتمل تھا۔ ارسلان نے یہ زبردست لشکر تیار کر کے غزنی سے ایک کوس کے فاصلے پر خیمہ زن ہوا تا کہ سلطان احمد سنجر سے معرکہ آرائی کرے۔ سلطان احمد سنجر اور بہرام کا مشترکہ لشکر بھی فورا سامنے آیا اور فریقین میں زبردست جنگ شروع ہو گئی۔ ابتدا میں دونوں لشکر پوری جوانمردی سے لڑتے رہے اور میدان جنگ میں جمے رہے۔ کچھ دیر لڑائی ہونے کے بعد سیستان کے بادشاه ابوالفضل کی ہمت و جوان مردی کے طفیل سلطان سنجر و بہرام کا شکر ارسلان کے لشکر پر غالب آنے لگا اور حریف کے پاؤں میدان جنگ سے اکھڑنے لگے۔ ارسلان شکست کھا کر ہندوستان کی طرف بھاگ گیا اور سلطان سنجر فاتح کی حیثیت سے غزنی میں داخل ہوا۔ سنجر نے چالیس روز تک غزنی میں قیام کیا وہاں کی حکومت اس نے بہرام شاہ غزنوی کے سپرد کی اور خود واپس خراسان آگیا۔ [2] سلطان احمد سنجر واپس خراسان جاتے ہوئے بےانتہا مال غزنین کے خزانے سے لے گیا تھا۔ اس مال میں خصوصاً پانچ تاج، سترہ تخت طلائی و تقرری اور ایک ہزار تین سو جواہر سے مرصع زیور شامل تھے۔ [3]

قتل[ترمیم]

سلطان ارسلان نے جب سنجر کی واپسی کی خبر سنی تو اس نے ہندوستانیوں کی ایک فوج تیار کی اور غزنی پر حملہ کر دیا۔ بہرام ارسلان کا مقابلہ نہ کر سکا اور بامیان (یہ مقام کابل شہر کے شمال مغرب میں اس سے تقریبا سو میل کے فاصلے پر واقع ہے) کے قلعے پر پناہ گزین ہو گیا۔ ارسلان چاہتا تھا کہ بہرام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے اور خود غزنی پر قابض ہو جائے۔ ارسلان کے لشکر کو خبر بھی نہ ہوئی اور اچانک سلطان سنجر کا زبردست لشکر اس کے سر پر آ پہنچا ہے۔ اس لشکر کو دیکھ کر ارسلان کے ہوش اڑ گئے اور وہ بدحواس ہو کر افغانوں کی طرف بھاگ نکلا۔ سنجر کے لشکر نے اس کا پیچھا کر کے اسے گرفتار کیا اور بہرام کے حوالے کر دیا۔ بہرام نے فورا اس بد کردار کو تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سلطان ارسلان غزنوی نے تین سال حکومت کرنے کے بعد ستائیس سال کی عمر میں وفات پائی۔ [4] دوسری روایات کے مطابق پنتیس سال کی عمر میں کچھ کم تین سال حکومت کر کے 1117ء میں اپنے بھائی بہرام شاہ غزنوی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ [5] طبقات ناصری میں لکھا ہے کہ ارسلان کا تین سالہ عہد حکومت آسمانی مصیبتوں اور تباہیوں کا دور تھا۔ غزنی کی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے عہد میں بجلی گرنے اور آگ کی بارش ہونے سے غزنی کے بہت سے گھراور بازار تباہ و برباد ہو گئے تھے۔ [6]

سکے[ترمیم]

سلطان ارسلان غزنوی کے عہد حکومت میں چلنے والے سکوں میں ایک کا منفقوش درج ذیل ہے۔

  1. سلطان الاعظم سلان الدولہ الملک ارسلان بن مسعود [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 54
  2. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 123 ، 124
  3. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 54
  4. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 124
  5. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 55
  6. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 124
  7. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 55