ارفع کریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ارفع کریم
Arfa-Karim-Randhawa.jpg
پیدائش 2 فروری 1995 (1995-02-02)
چک نمبر 4 ج ب، رام دیوالی، فیصل آباد، پاکستان
وفات 14 جنوری 2012 (عمر 16 سال)
لاہور, پاکستان
آخری آرام گاہ چک نمبر 4 ج ب رام دیوالی, فیصل آباد
اقامت لاہور
قومیت پاکستانی
تعلیم اے لیول (پہلا سال)
مادر علمی لاہور گرامر اسکول
پیشہ طالبعلم
وجۂ شہرت دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سند پیشہ ور، 2004ء-2008ء
مذہب اسلام
اعزازات فاطمہ جناح طلائی تمغا
سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ
صدارتی تمغا حسن کارکردگی

ارفع کریم نے نو سال کی عمر میں شمارندیات کا امتحان (مائیکروسافٹ سند پیشہ ور) کامیاب کر کے عالمی شہرت حاصل کی۔

ولادت[ترمیم]

ارفع کریم فیصل آباد کے ایک نزدیکی گاؤں رام دیوالی میں 2 فروری 1995ء کو پیدا ہوئیں ۔آپ کے والدامجد عبدالکریم رند ھاوا ایک آرمی آفیسر ہیں ۔

کم ترین عمرمیں اعزاز[ترمیم]

نو برس کی عمر میں 2004 میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ ،ارفع کریم رندھاوا نے دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے کا اعزازحاصل کیا ۔ اس سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا ۔

ارفع کریم کے اعزازت[ترمیم]

  • ارفع کریم رندھاوا مائیکروسافٹ کارپوریشن کی دعوت پر جولائی 2005 میں اپنے والد کے ہمراہ امریکہ گئیں ۔جہاں اسے دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند دی گئی۔
  • ارفع کریم جب بل گیٹس سے ملی تو اس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان کا دوسرا رخ ۔ ارفع کریم کو پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیا ۔ ایک روشن چہرے کا نام۔بل گیٹس نے ارفع کریم سے دس منٹ ملاقات کی۔
  • اسکے علاوہ دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے انہیں مد عو کیا گیا جہاں انہیں مختلف تمغا جات اور اعزازات د ئیے گئے ۔
  • ارفع کریم نے دبئی کے فلائینگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی حاصل کیا ۔
  • ارفع کریم کو 2005 میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ِ ” صدارتی ایوارڈ “” پرائڈ آف پرفارمنس” دیا گیا
  • ”مادرملت جناح طلائی تمغے” بھی عطا کیا گیا
  • ” سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ” سے بھی نوازا گیا ۔
  • مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ سن 2006 کی تکنیکی ڈیولپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو مد عو کیا گیا تھا ۔
  • حکومت نے بعد از مرگ لاہور کے ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم نام سے منسوب کر دیا علاوہ ازیں ان کے گاؤ ں کو بھی ارفع کریم کا نام دے دیا گیا ۔[1]

وفات[ترمیم]

ارفع کریم کو 22 دسمبر، 2011ء کو مرگی کا دورہ پڑا، بعد میں طبیعت بگڑنے پر انہیں لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ کومے کی حالت میں رہیں اور 14 جنوری، 2012ء کی شب کو 16 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ [2]

ارفع کے نام پر یادگاری ٹکٹ[ترمیم]

جنوری، 2012ء میں پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ارفع کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]