ارونا رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ارونا رائے
رائے بھارت کے حق معلومات قانون سے جڑے ایک اجلاس میں شرکت کرتی ہوئی (مئی 2007ء کی تصویر)
رائے بھارت کے حق معلومات قانون سے جڑے ایک اجلاس میں شرکت کرتی ہوئی (مئی 2007ء کی تصویر)

معلومات شخصیت
پیدائش 26 جون 1946ء (عمر 73 سال)
چنائے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی
Indraprastha College for Women  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سماجی کارکن
اعزازات
ریمن میگاسیسے ایوارڈ، 2000ء، لال بہادر شاستری قومی ایوارڈ، 2010ء

ارونا رائے (انگریزی: Aruna Roy، پیدائش: 26 جون، 1946ء) ایک بھارت سیاسی اور سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے شنکر سنگھ، نکھل دیو اور کئی دیگر لوگوں کی معیت میں مزدور کسان شکتی سنگٹھن (ایم کے ایس ایس) (ورکرز اینڈ پیزینٹز اسٹرینتھ یونین) کی بنا ڈالی۔

مزدور کسان شکتی سنگٹھن[ترمیم]

رائے نے سیول سرویسیز سے استعفا دے کر غرباء اور حاشیے پر بنے ہوئے لوگوں کے لیے کام شروع کیا۔ انہوں نے سوشیل ورک اینڈ ریسرچ سنٹر (ایس ڈبلیو آر سی)، تلونیا، راجستھان میں شامل ہو چکی ہیں۔[1][2]

1987ء میں وہ نکھل دیو، شنکر سنکھ اور دوسروں کے ساتھ مل کر مزدور کسان شکتی سنگٹھن کی بنیاد ڈالی۔[3]

ایم کے ایس ایس نے شروع میں مزدوروں کے لیے یکساں اور برابر اجرت کے لیے لڑائی شروع کی جو ایک جد وجہد کی شکل اختیار کرتے ہوئے بھارت حق معلومات پس پردہ کردار ادا کیا۔ ارونا قانون حق معلومات تحریک، بھارت کی قائد ہے جو ایم کے ایس ایس کی طرف سے جاری تھا۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل کیمپین فار پیپلز رائٹ ٹو انفارمیشن سے بھی منسلک ہیں، جس کی وجہ بالآخر قانون حق معلومات، 2005ء کے بننے کو یقینی بنایا۔[4]

مہمات[ترمیم]

ارونا رائے غریبوں اور پچھڑے لوگوں کے لیے کئی مہمات سے جڑی ہیں۔ ان میں حق معلومات، حق ملازمت (نریگا[5] اور حق غذا (Right to Food)۔ جدید طور پر وہ ایک مہم سے جڑی ہیں جس کا مقصد عالمی سطح پر غیرتعاونی وظیفہ غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو فراہم کرنا ہے۔ یہ مطالبہ وہ پینشن پریشد کی رکن کے طور پر کر رہی ہیں۔[6][7] وہ این سی پی آر آئی کے تحت سرکاری خامیوں کے افشا کرنے والے ملازم کے تحفظ قانون (Whistleblower Protection Law) اور شکایات کے ازالے کے قانون (Grievance Redressal Act) کے لیے کوشاں ہیں۔[8][9]

ایوارڈ اور دیگر کام[ترمیم]

وہ قومی مشاورتی کونسل کی رکن کے طور پر 2006ء تک برسرخدمت تھی، جس کے بعد انہوں نے استعفی دے دیا۔[10][11]

2000ء میں انہیں ریمن میگاسیسے ایوارڈ برائے سماجی قیادت حاصل ہوا۔[12] 2010ء میں انہیں لال بہادر شاستری قومی ایوارڈ عوامی معاملات، تعلیم اور نطم کے لیے دیا گیا تھا۔ 2011ء میں ارونا رائے کو ٹائم رسالے کی جانب سے دنیا کے سو مؤثر ترین لوگوں سے ایک شمار کیا گیا تھا۔[13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Women who dared, by Ritu Menon. Published by National Book Trust, India, 2002. ISBN 81-237-3856-0. Page 169-170.
  2. Aruna Roy National Resource Center for Women, حکومت ہند.
  3. MKSS As a Role Model, Civl Society Online. Jan 2012
  4. Blacked out: government secrecy in the information age, by Alasdair Scott Roberts. Cambridge University Press, 2006.
  5. "Matersfamilias | Saba Naqvi | Aug 24,2015"۔ www.outlookindia.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  6. "Pension Parishad calls off strike"۔ The Hindu۔ 2013-12-21۔ ISSN 0971-751X۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  7. "Forgotten Brethren | Harsh Mander | Apr 20,2015"۔ www.outlookindia.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  8. "Aruna Roy seeks early passage of grievance redress, whistleblower bills"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  9. Aruna Roy۔ "The Fate of RTI After One Year of Modi is a Bad Omen"۔ The Wire۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  10. "NAC reconstituted"۔ The Hindu۔ 4 جون 2005۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Daughter Of The Dust | Urvashi Butalia | Oct 16,2006"۔ www.outlookindia.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔
  12. Ramon Magsaysay Award Citation
  13. Jyoti Thottam (2011-04-21)۔ "The 2011 TIME 100 - TIME"۔ Time۔ ISSN 0040-781X۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-27۔