ارون جیٹلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ارون جیٹلی
(ہندی میں: अरुण जेटली خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
The official photograph of the Defence Minister, Shri Arun Jaitley.jpg 

مناصب
وزیر قانون و انصاف   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
29 جولا‎ئی 2003  – 22 مئی 2004 
قائد حزب اختلاف، راجیہ سبھا (15 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
3 جون 2009  – 26 مئی 2014 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جسونت سنگھ 
غلام نبی آزاد  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر دفاع   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
26 مئی 2014  – 9 نومبر 2014 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اے کے انٹونی 
منوہر پاریکر  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر خزانہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
26 مئی 2014  – 30 مئی 2019 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png پی جدمبرم 
نرملا سیتارمن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر دفاع   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
13 مارچ 2017  – 3 ستمبر 2017 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png منوہر پاریکر 
نرملا سیتارمن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن راجیہ سبھا[1]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکن مدت
3 اپریل 2018  – 24 اگست 2019 
حلقہ انتخاب اتر پردیش 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نریش اگروال 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 28 دسمبر 1952[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 24 اگست 2019 (67 سال)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، دہلی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سرطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[5]،  وکیل،  ترجمان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
سی این این نیوز 18 انڈین آف دی ائیر (2014)
نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (2010)
بانگا بیبھوشن (2010)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

ارون جیٹلی (پیدائش: 28 دسمبر 1952ء– وفات: 24 اگست 2019ء)[6] ایک بھارتی سیاست داں، وکیل اور سابق وزیر معاشیات و وزیر دفاع تھے۔ وہ بھارتی حکومت میں معاشیات اور کارپوریٹ امور کے وزیر رہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہوتے ہوئے، ماضی میں باجپائی حکومت (2004-1998) کے دوران میں جیٹلی نے معاشیات و کارپوریٹ امور، تجارت و صنعت، قانون و انصاف کابینہ کے محکموں کا جائزہ لیا تھا اور نریندر مودی کی حکومت میں وزیر دفاع کے طور پر اپنی اضافی خدمات انجام دیں۔ مزید راجیہ سبھا میں 2009ء سے 2014ء کے درمیان میں حزب اختلاف کے قائد کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں، وہ بھارتی عدالت عظمیٰ کے سینیئر وکیل بھی تھے۔

نریندر مودی میں ان کے وزارت خزانہ کے دور میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا نفاذ اور فرانسیسی کمپنی کا متنازع رافیل معاہدہ شامل ہے۔ وہ 2009ء تا 2014ء راجیہ سبھا میں وزیر حزب اختلاف رہے۔[7][8] ارون جیٹلی بھارتی عدالت عظمیٰ میں سینئر کونسل تھے۔[7][8][9][10][11] 2019ء میں مودی کی دوسری حکومت بننے کے بعد انہوں اپنی خرابی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کی دوسری وزارت میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی۔[12][13]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ارون جیٹلی کی ولادت 28 دسمبر 1952ء کو دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد مہاراج کشن جیٹلی پیشہ سے وکیل تھے اور والدہ پربھا جیٹلی امور خانہ داری کی ذمہ دار۔[14] ابتدائی تعلیم سینٹ زیوئر اسکول، دہلی میں (1957ء تا 69) حاصل کرنے کے بعد[15] سری رام کالج، نئی دہلی سے 1973ء میں تجاریات میں آنرس ڈگری (بی کام) حاصل کی۔ 1977ء میں دہلی یونیورسٹی سے فاضل قانون کا امتحان پاس کیا۔ 1970ء کی دہائی میں تو دہلی یونیورسٹی میں اکھل بھارتیہ دیارتھی پریشد کے لیڈر تھے اور بعد میں دہلی یونیورسٹی میں انجمن طلبا کے صدر بھی بنے۔ ایمرجنسی (1975ء-77ء) کے دوران میں جب بنیادی حقوق [16] بھی سلب کرلئے گئے تھے جیٹلی کو 19 ماہ کے لیے حفاظتی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ راج نارائن اور جے پرکاش نارائن کی بد عنوانی مخالف تحریک میں وہ اہم لیڈر تھے۔ بعد میں انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1977ء میں کانگریس کو شکست ہوئی اور جیٹلی کو دہلی اے بی وی پی کا صدر نامزد کر دیا گیا۔ 1980ء کے بعد وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مستقل رکن بن گئے۔[17]

بحیثیت وکیل[ترمیم]

گجرات نیشنل لا یونیورسٹی میں سابق جج کے ایس پانیکر رادحا کرشنن کے ساتھ۔

1987ء کے بعد سے اب تک وہ بھارتی عدالت عظمیٰ اور کئی عدالت ہائے علیا میں اپنی قانونی خدمات دے چکے ہیں۔[7] 1990میں دہلی عدالت عالیہ نے انہیں سینئر کونسل کے اعزاز سے سرفراز کیا۔[8][18] 1989ء میں وی پی سنگھ نے انہیں ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل کے عہدہ پر فائز کیا اور انہوں نے بوفورس معاملہ میں تحقیق میں حصہ لیا۔[19][17] ان سے قانونی خدمات لینے والوں میں جنتا دل کے شرد یادو سے لے کر انڈین نیشنل کانگریس کے مادھو راو تک شامل ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لال کرشن اڈوانی نے بھی ان کی قانونی صلاحیت سے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے قانون اور حالات حاضرہ پر کئی کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ 1998ء میں انہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں حکومت ہند کی نمائندگی کی تھی جس میں ڈرگ اور پیسہ کے غلط استعمال کے متعلق قوانین منظور ہوئے تھے۔[20][21] سال 2002ء میں وزیر برائے قانونی امور رہتے ہوئے بھی انہوں نے عدالت میں پیپسیکو کی نمائندگی کی اور عدالت نے سلسلہ کوہ ہمالیہ کی سڑکوں پر غیر قانونی اشتہار لگانے کے جرم میں 8 کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا تھا۔[22] سال 2004ء میں بھی جیٹلی نے راجستھان عدالت عالیہ میں کوکا کولا مشروب کی نمائندگی کی۔[23] جون 2009ء میں راجیہ سبھا حزب مخالف لیڈر بننے کے بعد انہوں نے قانون دانی چھوڑ دی۔[24]

سیاسی سفر[ترمیم]

جیٹلی سال 1991ء سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں۔[25] 1999ء کے انتخابات کے دوران میں وہ بی جے پی کے ترجمان تھے۔

واجپائی حکومت[ترمیم]

1999ء میں قومی جمہوری اتحاد کی زیر نگرانی واجپائی حکومت میں جیٹلی کو وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آزاد چارج) بنایا گیا۔ اس کے علاوہ وہ قانونی وزیر بھی رہے۔ 2000ء میں انہیں کابینہ میں شامل کر لیا گیا اور قانون کے ساتھ کمپنی افیئرس اور شپنگ کی وزارت بھی انہیں دی گئی۔ مئی 2004ء میں نی جے پی کو شکست ملی اور جیٹلی پارٹی کے جنرل سکریٹری بن گئے اور وکالت پھر سے شروع کردی۔

2004ء تا 2014ء[ترمیم]

3 جون 2014ء کو اڈوانی نے انہیں راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر نامزد کیا جس کے بعد انہوں نے جنرل سکریٹری کے عہدہ سے استعفی دے دیا۔[26] راجیہ سبھا میں انہوں نے اپنے عہدہ کا خوب فائدہ اٹھایا اور خواتین ریزرویشن بل کے بحث میں حصہ لیا، اسی طرح انا ہزارے جن لوک پال بل کی بھی خوب حمایت کی۔[17] انہوں نے 2002ء میں آئین ہند کی 84ویں ترمیم کو کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا جس کی رو سے پارلیمان کی نشستوں کو 2026ء تک کے لیے غیر متحرک بنا دیا گیا۔[27] اسی طرح 2004ء میں آئین ہند کی 91ویں ترمیم کو بھی متعارف کرایا جس کی رو انحراف کو قابل مواخذہ عمل تسلیم کیا گیا۔[28]

وہ 1980ء سے پارٹی کے رکن رہے مگر 2014ء تک انہوں نے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ بھارت کے عام انتخابات، 2014ء میں نوجوت سنگھ سدھو کی جگہ امرتسر لوک سبھا حلقہ سے انہیں بی جے پی کا امیدوار نامزد کیا گیا لیکن وہ انڈین نیشنل کانگریس کے امریندر سنگھ سے ہار گئے۔ تب انہیں گجرات سے راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا۔ مارچ 2018ء میں انہیں اتر پردیش سے راجیہ سھا کا رکن منتخب کیا گیا۔[29]

2014ء میں بی جے پی کی واپسی[ترمیم]

26مئی 2014ء کو بی جے پی نے کانگریس کا دس سالہ طلسم توڑا اور نریندر مودی وزیر اعظم بھارت نامزد کیے گئے۔ جیٹلی کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وزیر مالیات، وزیر برائے امور صنعت اور وزیر دفاع بنایا گیا۔[30][31] ماہرہن و مبصرین کا کہنا ہے کہ جیٹلی کا بحیثیت وزیر دفاع پارٹ ٹائم کام کرنا گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی وجہ سے تھا۔ [32] ویکی لیکس کے ایک خلاصہ میں پتہ چلا کہ جیٹلی نے امریکی سفارت خانہ اور حکومت ہند معاملہ میں کہا تھا کہ ہندو قومیت کا مدعا ہمیشہ زیر بحث رہے گا اور اسے موقع بہ موقع استعمال کیا جاتا رہے گا۔[33] جیٹلی نے بعد میں واضح کیا کہ فائدہ کے لیے استعمال کرنے جیسا لفظ نہ تو میرا ہے اور نہ میرا یہ موقف ہے۔[34]

نومبر 2015ء میں جیٹلی نے کہا کہ شادی اور طلاق سے متعلق پرسنل لا کو بنیادی حقوق میں شمال کیا جاتا چاہیے کیونکہ دستوری میں مہیا کرائے گئے حقوق بالا تر ہیں۔[35] انہوں نے ستمبر 2016ء میں انکم ڈکلیریشن اسکیم، 2016ء کا اعلان کیا۔[36]

2016ء میں بحیثیت وزیر مالیات انہوں نے نوٹ بندی کا اعلان کر دیا جس کی رو سے موجودہ 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ قرار دئے گئے۔ انہوں نے یہ قدم بد عنوانی، کالا بازاری، جعلی کرنسی اور دہشت گردی پر لگام لگانے کے لیے اٹھایا تھا۔[37]

20 جون 2017ء کو انہوں نے معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے جی ایس ٹی کا اعلان کر دیا۔[38]

ٹوڈ جی سیرس نے ارون جیٹلی کو ایل جی بی ٹی کے لیے ماہر طور پر نامزد کیا جنہوں نے اس موضوع پر کھل کر بات کی۔[39]

29 مئی 2019ء کو ارون جیٹلی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنی خرابی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت میں فعالیت سے معذوری کا اظہار کیا اور وہ مودی کی دوسری وزارت کا حصہ نہیں رہے۔[40]

ذاتی زندگی[ترمیم]

ارون جیٹلی نے جموں و کشمیر کے سابق سیاست دان اور وزیر مالیات گردھاری لال دوگرا کی بیٹی سنگیتا سے 24 مئی 1982ء میں شادی کی۔ ان کی دو اولادیں ہیں: روہن اور سونالی۔ سونالی نے جییش بخشی سے شادی کی۔[41][7][42][43] ان کے دونوں بچے وکیل ہیں۔ جیٹلی کے دو بھائی بہن ہیں۔[44] جنوری 2019ء کو جیٹلی سوفٹ ٹیشو سرکوما جیسی نایاب بیماری کے شکار ہوئے اور نیو یارک میں علاج کے لیے گئے۔[45]

وفات[ترمیم]

9 اگست 2019ء کو انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، نئی دہلی میں داخل کرایا گیا۔ انہیں سانس میں تکلیف کی شکایت تھی۔[46][47] 17اگست کو خبر آئی کہ انہیں لائف سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔[48] 23 اگست کوان کی حالت اور نازک ہو گئی۔[49] ان کی وفات بھارتی معیاری وقت کے حساب سے 12:47 شام، 24 اگست 2019ء کو ہوئی۔ کل عمر 66 سال پائی۔[50][51] پسماندگان میں اہلیہ سنگیتا جیٹلی، بیٹا روہن جیٹلی اور بیٹی سونالی جیٹلی بخشی ہیں۔[52]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://timesofindia.indiatimes.com/india/rs-polls-bjp-trumps-opposition-makes-it-nine-out-of-ten-in-up/articleshow/63434789.cms
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Arun-Jaitley — بنام: Arun Jaitley — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. https://indianexpress.com/article/india/arun-jaitley-dead-live-updates-bjp-aiims-finance-minister-5911098/ — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2019
  4. https://www.timesnownews.com/india/article/arun-jaitley-death-live-news-former-finance-minister-bjp-leader-jaitley-dies-at-aiims-new-delhi/471216 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2019
  5. ^ ا ب https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  6. https://www.bbc.com/news/world-asia-india-49367972
  7. ^ ا ب پ ت "Arun Jaitley — A Profile"۔ PIB Press Releases۔ Press Information Bureau۔ 30 جنوری 2003۔ مورخہ 6 جنوری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اکتوبر 2012۔
  8. ^ ا ب پ "Hall of Fame – Top 50" (پی‌ڈی‌ایف)۔ J. Sagar Associates۔ مورخہ 2 دسمبر 2012 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مئی 2013۔
  9. Avani Khandelwal (10 جولائی 2014)۔ "Who is Arun Jaitley: The rise of India's newest finance minister"۔ Daily News and Analysis۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2016۔
  10. Arun Jaitley is no 'outsider' to Amritsar نسخہ محفوظہ 30 مارچ 2014 در وے بیک مشین – Niticentral
  11. "Arun Jaitley, the eyes and ears of Modi"۔ The Indian Express۔ 26 مئی 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2016۔
  12. "Arun Jaitley opts out of new government for health reasons"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ 30 مئی 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2019۔
  13. "Arun Jaitley writes letter to PM Modi, opts out of new Cabinet citing health reasons"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 29 مئی 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2019۔
  14. Goyal, Shikha (16 اگست 2019)۔ "Arun Jaitley: Biography and Political Journey"۔ Jagran۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2019۔
  15. "My memorable School days at St. Xaviers"۔ Arun Jaitley۔ مورخہ 12 فروری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 فروری 2013۔
  16. "Cometh The Hour.۔" Outlook۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2014۔
  17. ^ ا ب پ Avani Khandelwal (10 جولائی 2014)۔ "Who is Arun Jaitley: The rise of India's newest finance minister"۔ Daily News and Analysis۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2014۔
  18. "List of Senior Advocates designated by Delhi High Court upto اگست، 2014" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Delhi High Court۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2014۔
  19. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ indianexpress.com نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  20. "Cola war now goes to court,"۔[مردہ ربط]
  21. "SC stays contempt proceedings against Coke, Pepsi,"۔ The Economic Times۔
  22. "SC imposes Rs 1 cr cost on firms for defacing rocks"۔ The Times of India۔
  23. "Court blow to cola giants"۔ دی ٹیلی گراف (بھارت)1۔ Calcutta۔ 5 نومبر 2004۔
  24. "Arun Jaitley recuses himself from decisions on Vodafone tax case"۔ Business Today۔ 19 جون 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2014۔
  25. "Rajya Sabha Members Homepage – Arun Jaitley"۔ Rajya Sabha۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مئی 2013۔
  26. "Central Election Committee"۔ BJP۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مئی 2013۔
  27. Arun Jaitley introduced the 84th Amendment to freeze parliamentary seats until 2026
  28. Arun Jaitley introduced the 91st Amendment to penalize defections(pdf)
  29. "RS polls: BJP trumps opposition, makes it nine out of ten seats in UP"، دی ٹائمز آف انڈیا، 24 مارچ 2018
  30. "Narendra Modi government: Full list of portfolios and ministers"۔ The Indian Express۔ 27 مئی 2014۔
  31. "Corporate Affairs Ministry to be 'clubbed' with Finance Ministry"۔ The Economic Times۔ 27 مئی 2014۔
  32. Vivek Raghuvanshi (7 ستمبر 2014)۔ "Analysts: New Modi Government Lacks Clear Defense Policy"۔ Defense News۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2014۔
  33. "WikiLeaks cable on Arun Jaitley's 'opportunistic' remark"۔ این ڈی ٹی وی۔ 26 مارچ 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2016۔
  34. "Arun Jaitley denies remark in WikiLeaks cable"۔ این ڈی ٹی وی۔ 26 مارچ 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2016۔
  35. "Personal law should be subject to fundamental rights: Jaitley | India News – Times of India"۔ The Times of India۔
  36. IDS 'Major Success' Compared to VDIS, Says Arun Jaitley، News 18، 18 نومبر 2016
  37. "Rs 500, Rs 1000 currency notes stand abolished from midnight: PM Modi"، دی انڈین ایکسپریس، 9 نومبر 2016
  38. "Will be switching to GST regulation from جون 30 midnight: FM Arun Jaitley"۔ The Economic Times۔ 2017-06-20۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-20۔
  39. "CEO Brief: India" (پی‌ڈی‌ایف)۔ New York: Out Leadership۔ جون 8, 2017۔ مورخہ 3 ستمبر 2017 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2017۔
  40. "Arun Jaitley calls it a day"۔ theindependent.in۔ 2017-06-20۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-29۔
  41. Ashok Chatterjee (24 اپریل 2004)۔ "Knot for everybody's eyes"۔ The Times of India۔ مورخہ 23 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اکتوبر 2012۔
  42. "Profiles of Rajya Sabha Members (needs selection)"۔ Rajya Sabha۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2014۔
  43. "Arun Jaitley's daughter Sonali gets married"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ 2015-12-08۔ مورخہ 23 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-23۔
  44. "An eyewitness to history: We were a Partition family, says Arun Jaitley"۔ ہندوستان ٹائمز۔ 28 مئی 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2016۔
  45. "Indian FM Arun Jaitley diagnosed with rare cancer"۔ Khaleej Times۔ 17 جنوری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2019۔
  46. "Arun Jaitley Passes Away due to health reasons"۔ News Nation۔ 24 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اگست 2019۔
  47. "President Ram Nath Kovind visits AIIMS to inquire about Arun Jaitley's health"۔ Times of India۔ 16 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اگست 2019۔
  48. "Arun Jaitley put on life support, say AIIMS sources"۔ The Hindu۔ 17 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2019۔
  49. "Arun Jaitley's health deteriorates, say AIIMS sources"۔ The Hindu۔ 24 اگست 2019۔
  50. "Arun Jaitley passes away at 66"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-24۔
  51. "Arun Jaitley Passes Away due to health reasons"۔ News Nation۔ 24 اگست 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اگست 2019۔
  52. https://indtoday.com/arun-jaitley-no-more/