ازبکستان کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پہلی ملینیم قبل از مسیح میں ایران کے خانہ بدوش نے وسط ایشیا کی ندیوں پر آبپاشی کا نظام قائم کیا اور بخارا و سمرقند جیسے شہر آباد کیے۔ اپنے محل وقوع کی وجہ سے یہ علاقے بہت جلد آباد ہو گئے اور چین و یورپ کے درمیان میں آمد و رفت کا سب سے اہم راستہ بن گئے جسے بعد میں شاہراہ ریشم کے نام سے جانا گیا۔ چین و یورپ کے تجارتی راستہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ کافی مالدار ہو گیا۔ اس تجارت سے سب سے زیادہ فائدہ سوغدائی ایرانی قبیلہ کو ہوا۔ لیکن 7ویں صدی عیسوی میں ماوراء النہر کہی جانے والے اس علاقے میں سب سے بڑا انگلاب اس وقت آیا جب عرب قوم یہاں اسلام کا پرچم لہرا دیا اور یوں یہ علاقہ اسلام کے زیر آغوش آگیا۔ 8ویں اور نویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ خلافت عباسیہ کے زیر حکومت تھا اور یہی زمانہ تعلیم اور ثقافت کا سنہری دور مانا جاتا ہے۔ اس کے ترکوں نے شمال کی جانب سے علاقہ میں دخل اندازی شروع کی اور نئے صوبے آباد کیے، ان میں بہت سے ایرانی نسل کے لوگ بھی تھے۔ 12ویں صدی تک کیے صوبے آباد کیے جاچکے تھے، اب باری تھی ماوراء النہر کو متحد کرنے کی، لہذا انہوں نے ایران اور خوارزم کے علاقے کو ملا کر ماوراء النہر کو ایک بڑے صوبے میں منتقل کر دیا جو بحیرہ ارال کے جنوب تک پھیلا ہوا تھا۔ 13ویں صدی کے اوائل میں منگول کے چنگیز خان کی چنگاری یہاں بھی پہونچی اور پورے علاقہ کو تہس نہس کر دیا اور ایرانی بولنے والوں کو وسط ایشیا کے دوسرے علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔ امیر تیمور کے زمانے میں ماوراء النہر سے پحر سے پھلنا پھولنا شروع کیا اور اس بار ا س کا مرکز سمرقند تھا۔ تیمور کے بعد یہ صوبہ کئی حصوں میں بٹ گیا اور 1510ء میں ازبیک کے قبائل نے وسط ایشیا پر قبضہ کر لیا۔ [1]

سولہویں صدی میں ازبیک میں دو مد مقابل خانیت آمنے سامنے ہوئے: خانیت بخارا اور خانان خیوہ۔ اس زمانہ میں چونکہ سمندی سفر کامیاب ہورہاتھا لہذا شاہراہ ریشم زوال پزیر ہو گیا۔ خانیت کو ایرانیوں سے جنگ لڑنی پڑی اور ان کا کوئی ساتھی بھی نہیں تھا۔ شمالی گھمککڑوں نے بھی ان پر حملے کر کے ان کو کمزور کر دیا تھا اور وہ الگ تھلگ ہو گئے۔ 1729ء تا 1741ء کے درمیان میں ایران کے نادر شاہ نے خانیت کو ایک علاقہ تک محدود کر دیا۔ 19ویں صدی کے اوائل میں تین ازبیک قبائل- خانیت بخارا، خانیت خیوہ اور خانیت خوقند نے اپنی پسپائی سے ابرنے کا ہلکا سا دور دیکھا۔ لیکن صدی کے نصف آتے آتے اس کی زرخیزی اور تجارتی مالداری کو روس کی نظر لگ گئی۔ خصوصا اس کی کپاس کی کھیتی ایک اہم ذریعہ تھی جس سے یہاں خوب تجارت ہوتی تھی۔ روس نے اسی لالچ میں وسط ایشیا میں اپنی پوری فوج لگادی۔ 1876ء میں روس نے تینوں خانیت پر قبضہ کر لیا اور موجودہ دور کا ازبکستان اس کی زیر حکومت آگیا اور خانیت کے اختیارات کافی حد تک محدود کردئے گئے۔ 19ویں صدی کے دوسرے نصف میں روس نے ازبکستان کی روسی آبادی نے ترقی کی اور یہاں انڈسٹری کا آغاز ہوا۔ [1]

2ہویں صدی کا آغاز جدت پسند تحریک کا بیج لے کر نمودار ہوا۔ موجودہ ازبکستان میں شروع ہوئی یہ تحریک روس کو یہاں سے بھگادینے کی مانگ شروع کردی۔ 1916ء میں وسط ایشیائی لوگوں کے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے کے جواب میں ازبکستان اور دیگر علاقوں میں ایک پرتشدد حزب مخالف کا آغاز ہوا۔ 1917ء میں زار کے خاتمے کے بعد جدت پسندوں نے خانیت خوقند میں ایک مختصر مدتی آزاد ریاست قائم کی۔ بولسویک جماعت کےماسکو میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جدت پسند دو حصوں میں بٹ گئے، ایک نے روسم کمیونزم کو اپنایا تو دوسرے نے عام ترقی پسندی کو اختیار کیا اور اسی سے بسماچی تحریک تحریک کی ابتدا ہوئی۔ چونکہ یہ تحریک 1920ء کے اوائل میں کچل دی گئی تھی لہذا فیض اللہ خوجائے جیسے علاقائی لیڈروں نے ازبکستان میں طاقت حاصل کرلی۔ 1924ء میں سویت اتحاد نے ازبک سویت ساشلسٹ ریپبلک قائم کیا جس میں موجودہ تاجکستان اور ازبکستان شامل تھے۔ 1929ء میں تاجکستان ایک آزاد ریاست بن گیا جس کا نام تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ رکھا گیا۔ 1920-1930ء میں وسیع پیمانے پر فصل کٹائی کی وجہ سے وسط ایشیا ایک بڑی بھک مری کا شکار ہو گیا۔ 1930ء میں فیض اللہ خوجائے اور دیگر لیڈروں کو سوویت لیڈر جوژف وی سٹالن (اقتدار: 1927–1953) نے دھوکا سے قتل کر دیا۔ ازبکستان کی سیاست اور مشیعت کی روسی کاری کا دور 1930 سے 1970 تک چلا۔ اس دوران میں روس نے ہرطرح سے علاقہ کو لوٹا اور برباد کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں نے اسٹالن نے قفقاز اور کرائمیا کے تمام قومی گروہوں کو جلا وطن کر دیا اور سب کو ازبکستان بھیج دیا تاکہ وہ لوگ جنگ کے خلاف کوئی متنوع حرکت نہ کرسکیں۔ [1] 1970ء کے آس پاس ازبکستان پر ماسکو کا تسلط کمزور ہوتا گیا کیونکہ ازبک پارٹی کے لیڈر شرف راشدی نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو حکومت کے عہدوں پر فائز کیا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں روس نے پھر سے ازبکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور وہاں کے سیاسی لیڈروں کو جلاوطن کرنے لگا۔ اس حرکت سے ازبک قومیت کا جلا ملی جو اب تک روسی پالیسیوں سے خفا تھے جیسے کپاس کا مکمل نفع روس کو جانا اور اسلامی اقدارات کو ختم کرنا وغیرہ۔ 1980ء کی دہائی میں سوویت اتحاد کے رہنما میخائیل ایس (اقتدار: 1985-91ء) کی لبرل پر پبنی پالیسیوں اور ماحول نے سیاسی مخالف طاقتوں کو جنم دیا اور ازبکستان کی سماجی پالیسی کی مخالفت شروع ہوئی۔ 1989ء میں نسلی پرتشدد واقعات ایک سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد ازبیک نسل کے اسلام کریمو کو کمیونسٹ پارٹی کا صدر بنایا گیا۔ 1991ء میں ازبکستان کی سوویت نے سوویت اتحاد سے آزادی کا اعلان کر دیا اور اسلام کریمو آزاد ازبکستان کے پہلے صدر ہوئے۔ [1]

1992ء میں ازبکستان کو نیا دستور ملا مگر مرکزی حزب اختلاف ، برلیک پر پابندی لگا دی گئی اور میڈیا کو دبانا شروع کیا گیا۔ 1995ء میں نیشنل ریفرینڈم کے ذریعے اسلام کریمو کے دور حکومت کو 1997ء سے 2000ء تک بڑھادیا گیا۔ مشرقی ازبکستان میں 1998ء اور 1999ء میں پرتشدد واقعات ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس کی بنا پر اسلام پسندوں نشانا بنایا جانے لگا۔ 2000ء میں کریمو کو بالاجماع صدر منتخب کیا گیا مگر انتخابات کا یہ طریقہ بین القوامی تنقید کا نشانہ بنا۔ اسی سال کے آخر میں ازبکستان نے تاجکستان کی سرحد پر کانوں کی کھدائی شروع کی جس سے دونوں ملکوں کے تعقلقان سنگین ہو گئے اور ازبکستان دنیا پھر میں علاقائی غنڈے کے طور پو جانا جانے لگا۔ 2000ء کے آس پاس پڑوسی ریاستوں -کرغیزستان اور ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ 2006ء میں کرغیزستان کے ساتھ اس وقت مزید خراب ہو گئے جب ازبکستان نے ان ہزاروں پناہ گزینوں کا معاوضہ مانگ لیا جو فسادات کے دوران میں انڈیجون سے کرغیزستان چلے گئے تھے۔ 2006ء میں کریمو نے خود مختاری جاری رکھی اور حکومتی افسران اور عہدیداروں کو کو برطرف کرنا بند نہیں کیا۔ یہاں تک کہ نائب وزیر اعظم کو بھی نہیں بخشا۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ "Country Profile: Uzbekistan"۔ کتب خانہ کانگریس Federal Research Division (فروری 2007)۔ This article incorporates text from this source, which is in the دائرہ عام۔