ازدواجی آبروریزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ازدواجی آبروریزی شادی کے بعد مرد کا اپنی بیوی یا بیوی کا اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر مجامعت کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل خانگی تشدد اور جنسی زیادتی کی ایک قسم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نعرے بلند ہوئے تو اس ازدواجی آبروریزی کے خلاف آوازیں بھی اٹھنے لگیں، کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک میں خواتین اس جنسی تشدد کا زیادہ شکار تھیں۔ گرچہ بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں قانوناً اس فعل کو قابل سزا جرم تسلیم کر لیا گیا ہے تاہم بعض ممالک میں ابھی تک اسے قابل سزا جرم نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اس فعل کے لیے کوئی قانون بنایا گیا ہے۔

ازدواجی آبروریزی کو قابل سزا جرم تسلیم کرنے والے ممالک[ترمیم]

بیش تر مغربی ممالک میں جن میں انگلستان اور ریاستہائے متحدہ امریکا بھی شامل ہیں، ازدواجی آبروریزی یا اپنے شریک حیات سے اس کی مرضی کے خلاف جنسی تعلق قائم کرنا قابل سزا جرم ہے۔ یہ قانون اب دیگر ممالک میں بھی منظور ہو رہا ہے جن میں جنوبی کوریا قابل ذکر ہے۔[1]

فہرست[ترمیم]

ازدواجی آبروریزی کو قابل سزا جرم بنانے میں دشواری[ترمیم]

ترقی پزیر ممالک میں ازدواجی آبروریزی کو قابل سزا جرم بنانے کی دشواری کا اندازہ بھارت کی مرکزی وزیر برائے خواتین و بہبودی اطفال منیکا گاندھی کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ " عالمی سطح پر ازدواجی آبروریزی کا جو تصور ہے اسے بھارت میں نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں متفرق عوامل مثلاﹰ پست تعلیمی سطح، ناخواندگی، غربت، سماجی رسوم و رواج، مذہبی عقائد اور معاشرے کی سوچ وغیرہ اس کی راہ میں حائل ہیں۔[42]

ممالک جہاں ازدواجی آبروریزی قابل سزا جرم نہیں[ترمیم]

بھارت میں ازدواجی آبروریزی اور قانون[ترمیم]

بھارت میں ازدواجی آبروریزی کے واقعات عام ہیں جبکہ قانونی چارہ جوئی کے مواقع بہت کم ہیں۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 375 کی رو سے شادی کے بعد جبری ہم بستری اسی وقت جرم ہو گی جب بیوی 15 سال سے کم ہو۔

بھارت میں ازدواجی آبروریزی سے متاثر خواتین قانون تحفظ نسواں از خانگی تشدد 2005ء (Protection of Women from Domestic Violence Act 2005 ۔(PWDVA)) کے تحت شکایت درج کر سکتی ہیں، یہ قانون 2006ء میں نافذ ہوا ہے۔ تاہم عدالتی نظام زن و شو کے درمیان میں عائلی حل ہی فراہم کرتا ہے۔[42]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://ijldai.thelawbrigade.com/wp-content/uploads/2015/09/24.pdf
  2. ^ ا ب پ ت نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Temkin86 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج Report of the Secretary-General, In-depth study on all forms of violence against women, United Nations, UN Doc A/61/122/Add.1, 6 July 2006. وثق شدہ بتاریخ August 15, 2011, در وے بیک مشین
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ AIN2013 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. "Gender Equality in Bosnia and Herzegovina | Social Institutions and Gender Index (SIGI)"۔ Genderindex.org۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ CAT-Cambodia نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  7. United Nations High Commissioner for Refugees۔ "Refworld | Honduras: Domestic violence; legislation and protection available to victims (2007-2009)"۔ Unhcr.org۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  8. Committee on the Elimination of Discrimination against Women, Fourth Periodic Report of Cuba, Document number CEDAW/C/CUB/4, 27/09/99.
  9. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ UNSRGhana نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  10. ^ ا ب پ ت ٹ Council of Europe, Legislation in the member States of the Council of Europe in the field of violence against women, Strasbourg, 2009. vol. 1:139; v1:156; v2:19; v2:74,78; v2:87
  11. "In May 2010, the Sexual Offenses Act was signed into law, which makes rape gender-neutral and expands its definition to include spousal rape and coercion and child abuse." Freedom House۔ Freedom in the World 2011: The Annual Survey of Political Rights and Civil Liberties۔ Rowman & Littlefield۔ صفحہ 285۔ آئی ایس بی این 978-1-4422-0994-7۔
  12. Spousal rape is a crime, but unlike other rapes is not a "public crime" and thereby requires the survivors to complain for prosecution to occur. OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 119۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ RiM284 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "2014 Human Rights Reports: Japan"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2016۔ The law criminalizes all forms of rape involving force against women, including spousal rape, and the government generally enforced the law effectively.
  15. "Spousal rape, however, is punishable under Kyrgyz legislation." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 75۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  16. "Special Issue : Kenya Gazette Supplement"۔ Kenyalaw.org۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  17. "Archived copy"۔ مورخہ 2015-11-19 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-11-19۔
  18. ^ ا ب پ ت ٹ "Pambazuka - Southern Africa: Justice for survivors of marital rape, how far has SADC come ?"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  19. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج "In the sexual offences legislation of Namibia, Lesotho, Swaziland, and South Africa, rape within marriage is illegal." Karen Stefiszyn، A Brief Overview of Recent Developments in Sexual Offences Legislation in Southern Africa، UN. Expert Group Meeting on good practices in legislation on violence against women.، صفحہ 4
  20. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Liberia-OR نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  21. OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 237۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  22. "Archived copy" (پی‌ڈی‌ایف)۔ مورخہ 2012-08-31 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-09۔
  23. Della-Giustina، J. A (2009). "A Cross-cultural, Comparative Analysis of the Domestic Violence Policies of Nicaragua and Russia". Journal of International Women's Studies 10: 34. 
  24. "128 Sexual violation defined – Crimes Act 1961 No 43 (as at 7 November 2015)"۔ New Zealand Legislation۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2016۔
  25. "…but convictions are rare." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 124۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  26. "Gender Equality in Peru | Social Institutions and Gender Index (SIGI)"۔ Genderindex.org۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  27. United Nations High Commissioner for Refugees۔ "Refworld - Peru: Domestic violence, including legislation; state protection and services available to victims (2011-February 2014)"۔ Refworld۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  28. "Rape and sexual assault in Romania"۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2015۔
  29. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ AFWRRwanda نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  30. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Slovenia نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  31. "Provisional Constitution" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Federal Government of Somalia۔ مورخہ دسمبر 28, 2013 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2014۔
  32. "Marital Rape – Ruling Seen as Move to Protect Spousal Right to Sex – Korea « womensphere"۔ Womensphere.wordpress.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-05-14۔
  33. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ AFPThailand نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  34. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ crownlaw.gov.to نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  35. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ UNTurkey نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  36. "Rape, including spousal rape, is illegal in Turkmenistan and punishable by sentences ranging from 3 to 25 years in prison, depending on the extent of the violence. The government generally applies this law." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 87۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  37. "Ukrainian legislation prohibits rape, but contains no specific reference to spousal rape. Perpetrators of spousal rape are punished under a law prohibiting forced sexual relations with a materially dependent person." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 89۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  38. "Archived copy"۔ مورخہ 2011-08-14 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-01-04۔
  39. OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 119۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  40. "Rape is punishable by law in Uzbekistan and spousal rape is specifically prohibited, but no man has ever been convicted for raping his wife." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 91۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  41. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ kubatana1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  42. ^ ا ب Marital rape in India: 36 countries where marital rape is not a crime
  43. "Rape is not a crime in the Afghan Penal Code. Under the code, rapists can only be charged with "forced" zina, or adultery, which sometimes results in women also being prosecuted for zina." Human Rights Watch۔ "We Have the Promises of the World": Women's Rights in Afghanistan۔ Human Rights Watch۔
  44. ^ ا ب پ ت ٹ ث Freedom House۔ "Women's Rights in the Middle East and North Africa 2010"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ
  45. Asian-Pacific Resource & Research Centre for Women (ARROW)۔ Reclaiming & Redefining Rights: Thematic Studies Series 1: Sexuality & Rights in Asia (پی‌ڈی‌ایف)۔ Kuala Lumpur, Malaysia: ARROW۔ صفحات 22–23۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  46. "The 'Explanation' which forms part of Article 375 of Brunei's Penal Code (rape) stipulates that 'Sexual intercourse by a man with his own wife, the wife not being under thirteen (13) years of age, is not rape.' This amounts to legalisation and legitimization of marital rape, including the rape of children, in flagrant violation of international human rights law." Amnesty International, "Brunei Darussalam: Amnesty International submission to the UN Universal Periodic Review," Sixth session of the UPR Working Group, November–December 2009.
  47. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Claire Provost۔ "UN Women justice report: get the data"۔ the Guardian۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  48. "Gender Equality in Central African Republic - Social Institutions and Gender Index (SIGI)"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  49. Asian-Pacific Resource and Research Centre (ARROW)۔ "China: MDG 3: Promote Gender Equality and Empower Woman"۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 مارچ 2011۔ China has no legal provisions for marital rape and the main reason for this is in deference to a prevailing cultural perception that wives are supposed to submit to their husband's wishes in matters of sexual relations and hence, there is no such concept of ‘rape’ within marriage or ‘rape’ being considered a form of violence within the marriage.
  50. "In China, it is difficult to punish an offender for marital rape because the law does not define this behaviour as a crime. … there are no explicit articles in Chinese law that relate to marital rape." Nicole Westmarland؛ Geetanjali Gangoli۔ International Approaches to Rape۔ The Policy Press۔ صفحہ 69۔ آئی ایس بی این 978-1-84742-621-5۔
  51. "Chad"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  52. Peterman، Amber; Tia Palermo; Caryn Bredenkamp (June 2011). "Estimates and Determinants of Sexual Violence Against Women in the Democratic Republic of Congo". American Journal of Public Health 101 (6): 1060–1067. doi:10.2105/AJPH.2010.300070. آئی ایس ایس این 0090-0036. PMID 21566049. 
  53. Catherine. Warrick۔ Law in the service of legitimacy: Gender and politics in Jordan۔ Farnham, Surrey, England; Burlington, Vt.: Ashgate Pub.۔ آئی ایس بی این 978-0-7546-7587-7۔
  54. "2010 Human Rights Report: Eritrea"۔ State.gov۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  55. ^ ا ب پ ت Fareda Banda, Project on a Mechanism to Address Laws that Discriminate Against Women, Office of the High Commissioner for Human Rights – Women's Rights and Gender Unit, 6 March 2008, pp. 85-87.
  56. Amanda Klasing۔ "A chance for Congress to help Haitian women"۔ Human Rights Watch۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مئی 2012۔ The penal code includes penalties for rape but does not address marital rape.
  57. "Article 375 of Indian Penal Code, wherein the definition of rape is provided, has explicitly excluded sexual acts by a man with his wife as long as she is not below sixteen years of age"
  58. the law on rape contains an exemption: it reads Article 285: "Any person who by using force or threat of force forces a woman to have sexual intercourse with him out of marriage, shall, being guilty of rape, shall be punished with a maximum imprisonment of twelve years."[1] Nevertheless, marital rape can be considered a form of domestic violence under the Law Regarding the Elimination of Violence in the Household, 2004.[2]
  59. Nicole Westmarland؛ Geetanjali Gangoli۔ International Approaches to Rape۔ The Policy Press۔ آئی ایس بی این 978-1-84742-620-8۔
  60. "Iraqi law would legalize marital rape, child marriage for country's Shia"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  61. "The law does not recognize spousal rape." OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 214۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  62. United Nations High Commissioner for Refugees۔ "Refworld - Jordan: The penalty for rape; legal penalties for failing to complete a court-ordered probation, where, and if, that is the sentence"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  63. ^ ا ب Musawah۔ Musawah Thematic Report on Article 16: Kuwait and Oman (50th CEDAW Session)۔ Selangor, Malaysia۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  64. UN Committee on Elimination of Discrimination against Women۔ "Lao People's Democratic Republic boasts new legislation, machinery to improve women's lot, but expert committee faults rape, domestic violence policies"۔ WOM/1743۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 مارچ 2011۔
  65. Amnesty International, "Libya," 2011.
  66. MALI: Sexual and Reproductive Health and Rights (Instruments and Policies tab), in Women's Network for a Better World, Map of sexual and reproductive health and rights in Africa and Spain.
  67. "AWAM : All Women's Action Society Malaysia"۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  68. "Marital rape will remain non-crime, law minister announces"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  69. "Remove exception to marital rape in the law"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  70. " Additionally, spousal rape is not regarded as a criminal act in Mongolia (US 11 Mar. 2010, Sec. 6; UN 7 Nov. 2008, Para. 25). According to the NCAV because law enforcement organizations do not view marital rape as a crime, victims will consequently not ask for help from law enforcement officials (NCAV 2009). Victims also do not report marital rape out of concern for the reputation of their families (ibid.)." Immigration and Refugee Board of Canada۔ "Domestic violence, including legislation, in particular the progress in the implementation of the 2005 law, and availability of state protection and support services (2008 - April 2010) [MNG103387.E]"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-01-24۔
  71. Committee on the Elimination of Discrimination against Women۔ "Concluding observations of the Committee on the Elimination of Discrimination against Women: Myanmar" (پی‌ڈی‌ایف)۔ CEDAW/C/MMR/CO/3۔ صفحہ para. 46۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 مارچ 2011۔
  72. "The Cutting Edge News"۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  73. "2009 Human Rights Report: Saudi Arabia"۔ U.S. State Department۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2010۔
  74. "Under Senegalese law, rape is illegal, though spousal rape is not." Graeme R. Newman۔ Crime and Punishment Around the World: Africa and the Middle East, Volume 1۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 85۔ آئی ایس بی این 978-0-313-35133-4۔
  75. "Sexual offences"۔ statutes.agc.gov.sg۔ Attorney-General's Chambers۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2012۔
  76. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ auto نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  77. "Rapes surge in Sri Lanka amid weak laws"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  78. UK Home Office۔ "Country of Origin Information Report - The Syrian Arab Republic"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-08
  79. OECD۔ Atlas of Gender and Development: How Social Norms Affect Gender Equality in non-OECD Countries۔ OECD Publishing۔ صفحہ 85۔ آئی ایس بی این 978-92-64-07747-8۔
  80. "No Way Out"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  81. Asma Ghribi۔ "Tunisian Law Allows Rapists to Avoid Prosecution in Case of Marriage with Victim"۔ Tunisia Live۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-16۔
  82. "Factbox: Women's rights in the Arab world"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  83. Patience Akumu۔ "The phenomenon of marital rape"۔ The Observer۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  84. "Domestic violence not a 'private affair'"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  85. "A clause outlawing marital rape has been dropped because of cultural considerations." Jo Fidgen۔ "Zambia's celebrity couple reveal wife-beating past"۔ BBC۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-22۔
  86. "But Zambia does not have a comprehensive law on sexual violence or a provision for marital rape or psychological abuse in its penal code." Human Rights Watch۔ Zambia: Curbing Sexual and Gender-Based Violence۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-22۔