اساف اور نائلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search



اساف اور نائلہ خطہ عرب کے دو دیو اور دیویاں ہیں جنہیں عرب قبل از اسلام پوجا جاتا تھا۔

آغاز[ترمیم]

مسلم مورخین جیسے محمد بن عبد اللہ بن أحمد الأزرقي کا کہنا ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل بنو خزاعہ کے جد امجد عمرو بن لہی مکہ میں بت پرستی کا بانی تھا۔ اسی نے اساف اور نائلہ کو بھی متعارف کرایا۔ اس نے لوگوں کو اساف ار نائلہ کی عبادت کی دعوت دی اور کہا کہ ان کے آبا و اجداد بھی ایسا کرتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اس کی بات مان لی اور یوں مکہ میں بت پرستی عام ہو گئی۔ اس کے بعد قریش کے سردار قصی بن کلاب نے خانہ کعبہ کے نزدیک چاہ زمزم پر دو پتھر نصب کردئے۔[1]

روایات[ترمیم]

اساف اور نائلہ قریش کے خاص بت سمجھے جاتے تھے۔ اس میں اساف ان کے بہت قریب تھا جس پر وہ تلبیہ بھی پڑھتے تھے۔[2]

عرب میں اساف اور نائلہ کے متعلق بہت کی روایتیں اور اقوال مشہور ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ یہ دونوں مقدس خانہ کعبہ کے پاس فحش کاری میں مبتلا جس کی وجہ سے وہیں پتھر کے بن گئے۔ ابن الکلبی اپنی کتاب کتاب الاصنام میں کہتا ہے:

دونوں نے حج کا قصد کیا تھا۔ مکہ پہونچنے کے بعد وہ دونوں کعبہ میں داخل ہوئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے آس پاس کوئی نہیں تھا اور حرم زائرین سے خالی تھا۔ دونوں نے تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اساف نے اپنی جائے پناہ میں فحش کاری کا ارتکاب کرلیا۔ اسی وقت دونوں مسخ کے شکار ہوئے اور پتھر کے بنادئے گیے۔[3]

مکہ کے مورخ الازرقی کا کہنا ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت مکہ پر قبیلہ جرہم کی حکومت تھی۔ بعد میں دونوں پتھروں کو کعبہ سے ہٹا کر صفا و مروہ پر نصب کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ بعد میں لوگوں نے دونوں کو پوجنا شروع کر دیا اور ان کے بت بنا لیے۔

630ء میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد دونوں بتوں کو مسمار کر دیا گیا۔[4]

تشریح[ترمیم]

عزيز العظمہ کا کہنا ہے کہ اساف اور نائلہ قریش کے خاص بت تھے جنہیں کہیں سے لایا گیا تھا۔ مکہ میں دونوں کی آمد کے بعد انہیں اہم درجہ ملا اور عزی کی طرح پوجا جانے لگا۔[2]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. الازرقی، Akhbār Makka، pg. 49
  2. ^ ا ب Al-Azmeh، Aziz (2017-02-23). The Emergence of Islam in Late Antiquity: Allah and His People (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. ISBN 978-1-316-64155-2. 
  3. ابن الکلبی، کتاب الاصنام، pg. 34
  4. الازرقی، Akhbar Makka، pg. 50