استاد بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
استاد بخاری
پیدائش (سندھی: سيد احمد شاھ بخاري)

16 جنوری 1930(1930-01-16)ء

دادو، سندھ، برطانوی ہندوستان
وفات
9 اکتوبر 1992(1992-10-09) (عمر  62 سال)

کراچی، دادو میں مدفون
قلمی نام "استاد"
پیشہ شاعر، استاد
قومیت پاکستانی
نسل سندھی
شہریت پاکستانی
تعلیم ماسٹرز کی ڈگری سندھی
مادر علمی سندھ یونیورسٹی
دور 1967ء
اصناف جماليات
موضوع شاعري
ادبی تحریک ترقی پسند
نمایاں کام شاعری کا مجموعہ (24)
اولاد سيد آفتاب حسين شاہ، سيد امير شاہ(پوتا)
ویب سائٹ
http://ustadbukhari.blogspot.com

استاد بخاری (پیدائش: 16 جنوری، 1930ء - وفات: 9 اکتوبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے بڑے مقبول شاعر ہیں۔ ادبی خدمات پر حکومت پاکستان نے 2009ء میں اسے تمغائے حُسن کارکردگی دیا۔[1][2] اس بڑے شاعر کا اصل نام سید احمد شاہ ولد حاجن شاہ بخاری ہے۔[3][4][5][6][7]

شجرہ[ترمیم]

استاد بخاری کا شجرہ یا حسب نسب 19 ویں نسب یا نسل میں اچ شریف کے جلال الدین شیر شاہ سرخ پوش بخاری سے ملتا ہے۔ استاد بخاری کا شجرہ سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے بیٹے بہاءالدین بخاری سے شروع ہوتا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

استاد بخاری 16 جنوری 1930ء کو گاؤں غلام چانڈیو ضلع دادو، برطانوی ہندوستان میں ایک غریب سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بزرگوار کے ذریعۂ معاش کا انحصار مریدوں کے خراج پر تھا۔ استاد بخاری بڑے ہو کر پیری مریدی کا سلسلہ ختم کر لیا اور تعلیم پر دھیان دیا۔ وہ پہلے پرائمری استاد بنے پھر پروفیسر بنے، 1980ء کے بعد گاؤں چھوڑ کر دادو شہر میں سکونت اختیار کی۔ عرصہ دراز سے کینسر میں مبتلا رہے اور 9 اکتوبر 1992ء کو کراچی میں رات کو دیر سے وفات پائی۔[6]

تعلیم[ترمیم]

استاد بخاری نے پرائمری تعلیم گاؤں غلام چانڈیو میں 1941ء کو مکمل کی۔ سندھی فائنل (7 درجے تک) تک تعلیم دادو سے 1943 میں حاصل کی۔ حالات کی گردشوں میں تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دی۔ پھر جب پرائمری استاد بنے تو تعلیم کی طرف توجہ دی۔ سندھ یونیورسٹی سے 1964ء میں بی اے اور 1967ء میں ایم اے (سندھی ادب) میں پاس کیا۔ 1967ء میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی سفارش پرسانگھڑ شہر میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ وہ بطور لیکچرار نواب شاہ میں بھی رہے۔ 1971ء میں ان کا تبادلہ دادو ڈگری کالج میں ہوا۔ وہیں بطور پروفیسر ترقی پائی، 1990ء میں سروس سے رٹائر ہوئے۔ 1995ء میں استاد بخاری کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ڈگری کالج دادو کا نام بدل کر استاد بخاری کے نام پر رکھ دیا گیا۔[8]<[3][6][7]

حوالہ جات[ترمیم]