استصلاح
| مضامین بسلسلہ |
| اصول فقہ |
|---|
| فقہ |
| احکام |
| مذہبی القاب |
|
استصلاح یا مصلحت اصول فقہ کی ایک بنیادی اور اہم اصطلاح ہے، جس سے مراد شرعی احکام کو انسانی فائدے کے حصول اور نقصان کے سدِ باب کے اصول پر استوار کرنا ہے۔[1]
لغوی و اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]لغوی مفہوم
[ترمیم]عربی زبان میں "الاستصلاح" کا لغوی معنی "طلبِ مصلحت" (کسی چیز کی بھلائی چاہنا) ہے،[2] یا اس سے مراد "العمل علی إصلاح شيء ما" یعنی کسی خراب چیز کی اصلاح کے لیے عمل کرنا ہے۔[1] مصلحت کا لغوی معنی "المنفعۃ" (فائدہ) ہے، خواہ اس کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے، جس سے نفع حاصل ہو یا نقصان دور ہو۔[1][3] لفظ "صلاح" دراصل "فساد" کی ضد ہے۔[4]
اصطلاحی مفہوم
[ترمیم]اصطلاحی مفہوم میں "استصلاح" سے مراد شرعی احکام کو "مصلحتِ مرسلہ" کی بنیاد پر قائم کرنا ہے۔[1] فقہی اصطلاح میں مصلحت سے مراد "المحافظۃ علی مقصود الشرع" یعنی شارع (اللہ تعالیٰ) کے مقرر کردہ مقاصد کی حفاظت کرنا ہے۔[4][5]
مصلحت کی اقسام باعتبار اہمیت
[ترمیم]انسانی ضروریات اور اہمیت کے لحاظ سے مصلحتوں کے تین بنیادی درجات یا مراتب ہیں:[6]
ضروریات
[ترمیم]یہ وہ بنیادی مصلحتیں ہیں جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور ان کے فقدان سے دنیا و آخرت کا نظامِ زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے۔[6][7] شریعت کے مطابق ان میں درج ذیل پانچ کلیات (الضروریات الخمس) شامل ہیں جن کی حفاظت ہر ملّت پر لازم کی گئی ہے:[8]
- حفظِ دین: دین کا تحفظ، جس کے لیے جہاد فرض کیا گیا اور ارتداد پر سزا مقرر کی گئی۔[9][10]
- حفظِ نفس: انسانی جان کا تحفظ، جس کے لیے قصاص اور دیت کے قوانین وضع کیے گئے۔[9][10]
- حفظِ عقل: عقل کی حفاظت، جس کے لیے نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا گیا اور حدِ شرب مقرر کی گئی۔[9][10]
- حفظِ نسل: خاندانی نظام اور نسل کا تحفظ، جس کے لیے زنا کی ممانعت اور حدِ زنا مقرر کی گئی۔[9][10]
- حفظِ مال: مال کا تحفظ، جس کے تحت چوری کی سزا اور خرید و فروخت کے قوانین وضع کیے گئے۔[9][10]
بعض فقہا جیسے نجم الدین الطوفی اور تاج الدین السبکی نے اس فہرست میں چھٹی چیز حفظِ عرض (عزت و آبرو کی حفاظت) کا بھی اضافہ کیا ہے، جس کے لیے حدِ قذف مقرر کی گئی ہے۔[11][12]
حاجات
[ترمیم]حاجات سے مراد وہ مصلحتیں ہیں جن کی انسان کو اپنی زندگی میں تنگی اور حرج (سختی) دور کرنے اور آسانی پیدا کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے نہ ہونے سے زندگی تو ختم نہیں ہوتی لیکن انسان تنگی اور مشکل کا شکار ہو جاتا ہے، جیسے معاملات میں بیع، اجارہ، قراض اور مساقاۃ کی اجازت دینا۔[6][7]
تحسینیات
[ترمیم]یہ وہ مصلحتیں ہیں جن کا تعلق اخلاقِ حسنہ، مروّت اور پسندیدہ عادات سے ہے۔ ان کے بغیر نظامِ زندگی متاثر نہیں ہوتا اور نہ کوئی حرج واقع ہوتا ہے، لیکن ان کا ہونا معاشرے کو خوبصورت بناتا ہے، جیسے طہارت کے احکام، پردہ اور کھانے پینے کے آداب۔[6][7]
شریعت کے اعتبار سے مصلحت کی تقسیم
[ترمیم]شریعت کی گواہی اور مہرِ تصدیق کے اعتبار سے مصلحت کی تین اقسام ہیں:[13]
مصلحتِ معتبرہ
[ترمیم]یہ وہ مصلحتیں ہیں جن کی شریعت نے واضح طور پر تائید کی ہو اور ان کو حاصل کرنے کے لیے احکام صادر کیے ہوں، جیسے عقل کے تحفظ کے لیے شراب کی حرمت۔[14] اس قسم کی مصلحت کے معتبر ہونے پر تمام فقہا کا اتفاق ہے۔[14]
مصلحتِ ملغاۃ
[ترمیم]یہ وہ مصلحتیں ہیں جنھیں شریعت نے تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کے باطل ہونے کی گواہی دی ہے، کیونکہ ان میں نقصان (مفسدہ) کا پہلو غالب ہوتا ہے، جیسے سود میں منافع یا زنا میں لذتِ نفس کا حصول۔[14][15] اس کی ایک تاریخی مثال اندلس کے تلمیذِ امام مالک "یحییٰ بن یحییٰ اللیثی" کا وہ فتویٰ ہے جس میں انھوں نے اندلس کے بادشاہ کو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر توڑنے پر غلام آزاد کرنے کی بجائے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا، کیونکہ ان کے نزدیک بادشاہ کے لیے غلام آزاد کرنا آسان تھا اور اس کی تادیب روزے سے ہی ممکن تھی۔ تاہم یہ مصلحت شریعت کے نص کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل اور ملغاۃ قرار پائی۔[15][16]
مصلحتِ مرسلہ
[ترمیم]یہ وہ مصلحتیں ہیں جن کے بارے میں شریعت نے نہ تو ان کے معتبر ہونے کی تائید کی ہو اور نہ ان کو باطل قرار دینے کا کوئی صریح حکم جاری کیا ہو، بلکہ ان کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہو۔[16] یہ مصلحتیں شریعت کے عمومی مقاصد اور روح کے مطابق ہوتی ہیں لیکن ان کا کوئی خاص شرعی ثبوت نہیں ملتا۔[16][13]
استصلاح اور قیاس میں فرق
[ترمیم]اصولِ فقہ میں قیاس اور استصلاح (مصلحتِ مرسلہ) دونوں اجتہاد بالرائے کے تحت آتے ہیں، لیکن ان میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ قیاس میں مجتہد کسی واقعے کا حکم معلوم کرنے کے لیے ایک خاص اور معین اصل (مثال) کی طرف رجوع کرتا ہے جس کی علت شریعت کے نص سے ثابت ہوتی ہے، جبکہ استصلاح میں مجتہد کے پاس کوئی معین اصل نہیں ہوتی بلکہ وہ شریعت کے عمومی اور کلی مقاصد (اصولِ کلیہ) کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔[17][18]
فقہا کے مذاہب
[ترمیم]مصلحتِ مرسلہ کو مستقل شرعی دلیل اور قانون سازی کا ماخذ تسلیم کرنے کے حوالے سے ائمہِ فقہ کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
امام مالک اور حنابلہ کا مذہب
[ترمیم]امام مالک مصلحتِ مرسلہ کو شرعی احکام کا مستقل ماخذ ماننے میں سب سے آگے ہیں اور ان کے مذہب کی بنیاد کثیر مصلحتوں پر رکھی گئی ہے۔[16][19] امام احمد بن حنبل نے بھی اس اصل کو تسلیم کیا ہے اور اپنے فتاویٰ میں مصلحت کی بنیاد پر احکام صادر کیے ہیں۔[19] ان ائمہ کا استدلال یہ ہے کہ انسانی مصلحتیں بدلتی رہتی ہیں اور اگر شریعت کو صرف منصوص مصلحتوں تک محدود کر دیا جائے تو وہ نئے مسائل کا حل پیش کرنے سے قاصر رہ جائے گی۔[20]
حنفی اور شافعی کا مذہب
[ترمیم]امام شافعی اور امام ابو حنیفہ مصلحتِ مرسلہ کو مستقل شرعی دلیل کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس طرح خواہشاتِ نفسانی اور ظالم حکمرانوں کے لیے من مانی قانون سازی کا دروازہ کھل جائے گا۔[20] تاہم عملی طور پر تمام مذاہب مصلحتِ مرسلہ کا استعمال کرتے ہیں: حنفی فقہا اسے "استحسانِ ضرورت" یا "عرف" کے عنوان سے نافذ کرتے ہیں، جبکہ شافعی ائمہ اسے قیاسِ معنیٰ کے تحت استعمال کرتے ہیں۔[13] ابن دقیق العید اور شہاب الدین القرافی کے مطابق، تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مصلحتِ مرسلہ حقیقت میں تمام مذاہب میں معتبر ہے، بس اصطلاحات کا اختلاف ہے۔[17][19]
امام غزالی کی تین شرائط
[ترمیم]امام غزالی نے مصلحتِ مرسلہ کے استعمال کو محدود کیا ہے اور اسے صرف اسی صورت میں قابلِ عمل قرار دیا ہے جب اس میں درج ذیل تین خصوصیات یکجا ہوں:[21]
- ضروری ہو: یعنی اس کا تعلق الضروریات الخمس (دین، نفس، عقل، نسل، مال) میں سے کسی ایک کی حفاظت سے ہو۔[21]
- قطعی ہو: یعنی اس مصلحت کا حصول یقینی ہو، ظنی نہ ہو۔[21]
- کلی ہو: یعنی وہ مصلحت پوری مسلم امت یا اس کے اکثریتی حصے کے لیے عام ہو، کسی خاص گروہ یا فرد تک محدود نہ ہو۔[21]
اس کی سب سے واضح مثال "مسئلہ تترس" (تترس الکفار بأساری المسلمین) ہے، جہاں اگر کافر جنگ کے دوران مسلمان قیدیوں کو ڈھال بنا لیں اور ان پر حملہ نہ کرنے کی صورت میں پوری اسلامی ریاست اور تمام مسلمانوں کے مارے جانے کا خطرہ ہو، تو ایسے حالات میں مسلم قیدیوں کی جان کی قربانی دے کر پوری امت کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے، کیونکہ یہ مصلحت قطعی، کلی اور ضروری ہے۔[21]
نجم الدین الطوفی کا نظریہ
[ترمیم]حنبلی فقیہ نجم الدین الطوفی کا مصلحت کے باب میں انتہائی منفرد اور متنازع نظریہ ہے۔ ان کا خیال تھا کہ معاملات اور معاشرتی امور میں مصلحت کو نص اور اجماع پر بھی ترجیح حاصل ہونی چاہیے، کیونکہ شریعت کا بنیادی مقصد ہی مصلحت کا تحفظ ہے۔ ائمہ اور متاخرینِ اصول نے ان کے اس نظریے کو سخت ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا، کیونکہ نص کو نظر انداز کر کے عقل کو شارع کا درجہ دینا دین کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔[14][22]
مصلحتِ مرسلہ کی بنیادی شرائط و ضوابط
[ترمیم]جمہور فقہا کے نزدیک مصلحتِ مرسلہ پر احکام کی بنیاد رکھنے کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا لازمی ہے، تاکہ خواہشاتِ نفس اور ہوائے باطل کے تحت شریعت میں مداخلت نہ کی جا سکے:[20][23]
- مصلحت کا حقیقی ہونا: مصلحت یقینی یا غالبِ گمان کے ساتھ حقیقی ہو، محض وہمی یا خیالی نہ ہو، جیسے یہ وہم کرنا کہ عورت اور مرد کے وراثت کے حصوں کو برابر کرنے میں کفار کو خوش کرنے کی مصلحت ہے۔[20]
- عمومی فائدہ ہونا: مصلحت پوری قوم یا اکثریتی معاشرے کے لیے نفع بخش ہو، کسی امیر، حکمران یا مخصوص طبقے کے ذاتی مفاد کے لیے نہ ہو۔[20]
- نص اور اجماع سے عدمِ ٹکراؤ: مصلحت شریعت کے کسی صریح نص (قرآن و سنت) یا متفقہ اجماع کے خلاف نہ ہو، ورنہ وہ مصلحتِ ملغاۃ کہلائے گی۔[20]
- عبادات کے دائرے سے باہر ہونا: مصلحتِ مرسلہ کا دائرہ کار صرف معاملات، عادات اور انتظامی امور تک محدود ہے۔ عبادات کے توقیفی معاملات میں مصلحت کی بنیاد پر تبدیلی یا نئی عبادت کا اضافہ کرنا سخت ممنوع اور بدعت ہے۔[14]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 عیاض بن نامی السلمی (2005)۔ أصول الفقہ الذي لا یسع الفقیہ جہلہ۔ ریاض: دار التدمریہ۔ ج 1۔ ص 204
- ↑ حافظ ثناء اللہ الزاہدی (1994)۔ تلخیص الأصول۔ کویت: مرکز المخطوطات والتراث والوثائق۔ ج 1۔ ص 46
- ↑ بلقاسم بن ذاکر الزبیدی (2014)۔ الاجتہاد في مناط الحکم الشرعي دراسۃ تأصیلیۃ تطبیقیۃ۔ مکہ: مرکز تکوین۔ ج 1۔ ص 447
- 1 2 التروک النبویۃ - تأصیلا وتطبیقا۔ ج 1۔ ص 390
- ↑ محمد الامین الشنقیطی (1990)۔ المصالح المرسلۃ۔ مدینہ منورہ: الجامعۃ الإسلامیۃ۔ ج 1۔ ص 32
- 1 2 3 4 نور الدین بن مختار الخادمی (2001)۔ علم المقاصد الشرعیۃ۔ ریاض: مکتبہ العبیکان۔ ج 1۔ ص 72
- 1 2 3 عبد الوہاب خلاف (1955)۔ علم أصول الفقہ وخلاصۃ تاریخ التشریع۔ قاہرہ: مطبعۃ المدنی۔ ج 1۔ ص 187
- ↑ بلقاسم بن ذاکر الزبیدی (2014)۔ الاجتہاد في مناط الحکم الشرعي دراسۃ تأصیلیۃ تطبیقیۃ۔ مکہ: مرکز تکوین۔ ج 1۔ ص 308
- 1 2 3 4 5 بلقاسم بن ذاکر الزبیدی (2014)۔ الاجتہاد في مناط الحکم الشرعي دراسۃ تأصیلیۃ تطبیقیۃ۔ مکہ: مرکز تکوین۔ ج 1۔ ص 125
- 1 2 3 4 5 عبد الوہاب خلاف (1955)۔ علم أصول الفقہ وخلاصۃ تاریخ التشریع۔ قاہرہ: مطبعۃ المدنی۔ ج 1۔ ص 188
- ↑ نور الدین بن مختار الخادمی (2001)۔ علم المقاصد الشرعیۃ۔ ریاض: مکتبہ العبیکان۔ ج 1۔ ص 81
- ↑ ابن النجار الفتوحی۔ شرح الکوکب المنیر۔ ج 4۔ ص 160
- 1 2 3 علی محمد جریشہ (1977)۔ المصلحۃ المرسلۃ محاولۃ لبسطہا ونظرۃ فیہا۔ مدینہ منورہ: الجامعۃ الاسلامیۃ۔ ج 1۔ ص 37
- 1 2 3 4 5 عیاض بن نامی السلمی (2005)۔ أصول الفقہ الذي لا یسع الفقیہ جہلہ۔ ریاض: دار التدمریہ۔ ج 1۔ ص 205
- 1 2 عبد الوہاب خلاف (1955)۔ علم أصول الفقہ وخلاصۃ تاریخ التشریع۔ قاہرہ: مطبعۃ المدنی۔ ج 1۔ ص 87
- 1 2 3 4 علاء الدین المرداوی۔ تحریر المنقول وتہذیب علم الأصول۔ ج 1۔ ص 292
- 1 2 بلقاسم بن ذاکر الزبیدی (2014)۔ الاجتہاد في مناط الحکم الشرعي دراسۃ تأصیلیۃ تطبیقیۃ۔ مکہ: مرکز تکوین۔ ج 1۔ ص 452
- ↑ ابن النجار الفتوحی۔ شرح الکوکب المنیر۔ ج 4۔ ص 170
- 1 2 3 بدر الدین الزرکشی۔ البحر المحیط في أصول الفقہ۔ ج 8۔ ص 83
- 1 2 3 4 5 6 عبد الوہاب خلاف (1955)۔ علم أصول الفقہ وخلاصۃ تاریخ التشریع۔ قاہرہ: مطبعۃ المدنی۔ ج 1۔ ص 81
- 1 2 3 4 5 ابن الحاجب۔ مختصر المنتہیٰ۔ ج 3۔ ص 124
- ↑ ابن النجار الفتوحی۔ شرح الکوکب المنیر۔ ج 4۔ ص 433
- ↑ محمد الامین الشنقیطی (1990)۔ المصالح المرسلۃ۔ مدینہ منورہ: الجامعۃ الإسلامیۃ۔ ج 1۔ ص 21
| ویکی ذخائر پر استصلاح سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |