استعارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

علم بیان کی اصطلاح میں حقیقی اور مجازی معنوں کے درمیان تشبیہ کا علاقہ ہونا ۔ یعنی حقیقی معنی کا لباس عاریۃَ َ لے کر مجازی معنوں کو پہنانا۔ مثلا نرگس کہہ کر آنکھ مراد لینا ۔ استعارہ اور تشبیہ میں یہ فرق ہے کہ تشیبہ میں حرف تشبیہ کا ہونا لازمی ہے۔ جسے وہ شیر کی مانند ہے۔ استعارے میں حرف تشبیہ نہیں ہوتا جیسے شیر خدا ۔ استعارے کی دو قسمیں ہیں۔ استعارہ بالتصریح جس میں فقط مشبہ بہ کا ذکر کریں۔ مثلا چاند کہیں اور معشوق مراد لیں۔ دوسرے استعارہ بالکنایہ جس میں صفر مشبہ کا ذکر ہو مثلا موت کے پنجے سے چھوٹے ۔ موت درندے سے استعارہ بالکنایہ ہے اور لفظ پنجہ قرینہ ہے۔

ارکان استعارہ[ترمیم]

  • مستعار لہ: وہ فرد یا چیز جس کے لیے کوئی لفظ یا خوبی ادھار لیا جائے۔
  • مستعار منہ:وہ شخص یا چیز جس سے کوئی لفظ یا خوبی مستعار لیا جائے۔
  • وجہ جامع: مستعار لہ اور مستعار منہ میں جو وصف اور خوبی مشترک ہو اسے وجہ جامع کہا جاتا ہے۔

مثلاََ

جملہ مستعار لہ مستعار منہ وجہ جامع
علی شیر ہے علی شیر بہادری

مزید دیکھیے[ترمیم]