استنجا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

استنجاء استنجاء سنت ہے اسلیے کہ نبی علیہ السلام اس پر ہمیشگی کی ہے ۔

  • استنجا نجو سے مشتق ہے، ا سکا ترجمہ ہے پاخانہ ا ور باب استفعال میں جا کر اس کا تر جمہ ہو گیا پاخانہ صا ف کر نا ۔
  • پاخانہ یا پیشاب پانی اور ڈھیلے سے صاف کیا جا سکتا ہے، البتہ ڈھیلے سے صاف کر نے کے بعد پانی سے صاف کر نا زیادہ بہتر ہے اور دونوں کو نہ ملا سکے تو پانی سے صاف کر نا بہتر ہے اور پانی سے بھی صاف نہ کر سکے تو پھر ڈھیلا سے صاف کرے ۔
  • پانی سے صاف کر نا زیادہ بہتر ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے کہ اھل قباء پانی سے دھوتے تھے تو انکی تعریف میں یہ آیت اتری ۔عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال:نزلت ھذہ الآیة فی اھل قباء (فیہ رجال یحبون أن یتطھروا ) قال کانوا یستنجون بالماء فنزلت فیہم ھذہ الآیة ۔[1] اس حدیث میں ہے کہ پانی سے استنجا ء کر نے کی وجہ سے اھل قبا کی اللہ تعالی نے تعریف کی ہے ۔اسلیے پانی سے دھونا زیادہ بہتر ہے۔ لیکن چونکہ جنگل اور صحراوں میں انسان کی مجبوری ہو تی ہے اسلیے پتھر سے بھی صاف کرے تو جائز ہے ۔استنجاء صحیح ہو نے کے لیے تین پتھر ہو نا واجب نہیں ہے اس سے کم میں بھی جائز ہو جائے گا، البتہ حدیث کی وجہ سے تین پتھر لینا سنت ہے ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( ابو داود شریف ، باب فی الاستنجاء بالماء ،ص 7، نمبر 44 سنن للبیھقی ، باب الاستنجاء بالماء ، ج اول ص 17٠، نمبر 511)
  2. اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1 - مؤلف : مولانا ثمیر الدین قاسمی جامعہ روضۃ العلوم جھار کھنڈ انڈیا