اسد بن فرات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسد بن فرات
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 759  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات جولا‎ئی 828 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سرقوسہ، صقلیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات طاعون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اغالبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک حنفی یا مالکی
عملی زندگی
پیشہ مفسرِ قانون،  الٰہیات دان،  فوجی افسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

قاضی ابوعبداللہ اسد بن فرات (پیدائش:759ء— وفات: جولائی 828ء) افریقیہ سے تعلق رکھنے والے ماہر الہٰیات، مجتہد، عالم اور فقیہ تھے۔

خاندان[ترمیم]

قاضی اسد کی کنیت ابوعبداللہ، والد کا نام فرات اور دادا کا نام سنان تھا۔ قاضی اسد مزاحاً کہا کرتے تھے کہ: ’’میں اسد (شیر) ہوں‘ جو وحشی جانوروں میں سب سے بہتر ہے، میرے والد فرات ہیں جو دریاؤں میں سب سے بہتر ہے اور میرے دادا سنان (نیزے کی اَنی) تھے جو ہتھیاروں میں بہترین ہے۔‘‘ قاضی اسد کا خاندان بنو سُلَیم بن قَیس کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھا اور اُن کا آبائی وطن نیشاپور تھا اور ابھی یہ شکم مادر میں ہی تھے کہ اِن کے والد ہجرت کرکے بمقام حران (دیارِ ابی بکر) میں آئے اور یہیں مقیم ہوئے۔

پیدائش[ترمیم]

حران میں ہی 142ھ میں قاضی اسد کی پیدائش ہوئی۔قاضی اسد کے سالِ پیدائش میں اختلافی بیانات بھی موجود ہیں کہ اُن کی پیدائش 143ھ یا 145ھ میں ہوئی مگر متن کی روایت خود قاضی بن اسد کی زبان سے مروی ہے۔[1]

ابتدائی حالات[ترمیم]

قاضی اسد کا آبائی پیشہ سپہ گری تھا۔ ابھی دو سال کے ہی تھے کہ اپنے والد فرات بن سنان کے ہمراہ 144ھ میں محمد بن اشعث کی فوج کے ہمراہ مسلم افریقہ آئے۔ قیروان میں پانچ سال کی عمر تک مقیم رہے، پھر اِن کے والد نے تیونس میں قیام اختیار کیا اور وہاں نو سال تک مقیم ہوئے۔

تحصیل علم[ترمیم]

بعد ازاں اِس کے بعد اُن کے دینی علوم کی تکمیل کا وقت آیا۔ اُن دِنوں تیونس میں علی بن زیاد کی مسندِ درس حدیث بچھی ہوئی تھی۔ قاضی اسد علی بن زیاد کی مسندِ درس کی طرف رجوع کرنے لگے اور اُن سے علم حدیث و فقہ کی تحصیل کی۔ موطأ امام مالک پہلی بار امام علی بن زیاد سے پڑھی۔ 176ھ میں تکمیل علم کے لیے مشرق کے سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ پہنچے اور امام مالک کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے۔ امام مالک کے درس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ موطأ کے درس میں طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے تھے جنہیں تلامذہ لکھتے جاتے تھے۔ عبد اللہ بن وہب اور عبدالرحمٰن بن قاسم امام مالک کے نامور تلامذہ میں سے تھے اور اِن کی حیثیت امام ابوحنیفہ کے اصحاب امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی کی سی تھی اور یہی دونوں کے جوابات کو لکھا کرتے تھے۔امام مالک فطرتاً قیل و قال کو پسند نہیں کرتے تھے اور سہل و سادہ طور پر محض روایات کی بنیاد پر جواب دیتے تھے۔ اِسی وجہ سے تلامذہ اپنے طالب علمانہ خدشاتِ دِلی کو پیش کرتے ہوئے جھجھکتے تھے۔ جب اسد امام مالک کی مجلس میں شریک ہوئے تو ابن قاسم وغیرہ نے اُن کے ذریعہ سے اپنے خدشات زائل کرنا چاہے اور اُنہیں سوال در سوال سکھاتے تاکہ وہ امام مالک کے سامنے یہ سوالات پیش کرسکیں۔بالآخر امام مالک نے اسد کو بھی قیل و قال کی ممانعت کردی اور یہ پورا واقعہ خود قاضی اسد کی زبانی یوں ہے کہ: امام مالک کے اصحاب قاسم وغیرہ مجھے سکھاتے کہ فلاں مسئلہ کے متعلق اُن سے دریافت کروں۔چنانچہ جب اُن سے سوال کرتا تو وہ جواب دے دیتے۔ اِس کے بعد میرے ساتھی مجھے پھر یوں سکھانے لگے کہ: اگر یہ ایسا ہے تو یوں ایسا ہوگا اور یہ یوں ہے تو یہ یوں ہوگا۔ اِس پر میں اِسی طریقہ سے سوالات کرنے لگا۔ایک دِن وہ مجھ سے عاجز آگئے اور فرمانے لگے کہ سلسلہ در سلسلہ چھیڑ رکھا ہے، اگر ایسا ہو تو یہ ایسا ہے اور ایسا ہو تو ۔۔۔۔ اگر تم یہ چاہتے ہو تو تمہارے لیے عراق کا راستہ ہے۔‘‘ (یعنی اگر قیل و قال ہی کرنا لازم ہے تو عراق روانہ ہوجاؤ تاکہ وہاں کے فقہا سے قیل و قال کرسکو)۔ اِس واقعہ کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میرا سہارا پکڑتے ہو، میں آئندہ اِس قسم کی حرکت نہ کروں گا۔[1]

امام مالک سے موطأ سبقاً سبقاً پڑھنے کے بعد کسی دوسری کتاب کے پڑھنے کا شوق ظاہر کیا تو امام مالک نے فرمایا: ’’وہی تمہارے لیےبھی کافی ہے جو میں دوسروں کو دے رہا ہوں۔‘‘ (یعنی تم بھی وہی پڑھو جو سب پڑھ رہے ہیں)۔ جب مدینہ منورہ میں امام مالک کی مسندِ درس سے سلسلہ تعلیم کی تکمیل ہو گئی تو اِنہیں عراق میں فقہ حنفی کی تحصیل کا خیال پیدا ہوا اور پھر امام مالک سے رخصت ہونے کے لیے اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امام مالک نے خاص التفات سے اِنہیں رخصت کیا۔ خود قاضی اسد کہتے ہیں کہ: ’’میں اور حارث بن اسد قفصی اور غالب بن مہدی امام مالک کی خدمت میں رخصت ہونے کے لیے حاضر ہوئے۔میرے دونوں ساتھی مجھ سے پہلے باریاب ہوئے اور امام مالک سے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے۔اُنہوں نے اُن دونوں کو وصیت کی۔ اِس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ: میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے تقویٰ، قرآن اور اُس کی اُمت کی خیرخواہی کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘ اِس کے بعد جب ہم لوگ باہر نکلے تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: اے ابوعبداللہ! واللہ! اُنہوں نے تمہیں اپنی وصیت میں ہم لوگوں سے زیادہ عطا کیا۔ راوی سلیمان کا قول ہے کہ امام مالک رخصت کرتے وقت اپنے تلامذہ کو صرف ’’تقویٰ اللہ‘‘ کی وصیت فرماتے تھے۔امام مالک سے تحصیل علم کے بعد قاضی اسد عراق چلے گئے تاکہ وہاں فقہ حنفی کی تحصیل کرسکیں۔

عراق میں تحصیل علم[ترمیم]

مدینہ منورہ کے بعد قاضی اسد نے عراق میں جید علمائے کرام اور شیوخ سے تحصیل علم کیا۔ عراق میں امام ابوحنیفہ کے تلامذہ کی مسندِہائے درس میں شریک ہوئے اور علاوہ ازیں امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی اور اسد بن عمرو کے حلقوں میں شریک ہوئے۔دیگر ممتاز فقہائے احناف سے بھی علم فقہ کی تحصیل کی۔ قاضی اسد کو سب سے زیادہ امام محمد بن حسن شیبانی کی خدمت میں نمایاں اختصاص ہوا اور اُن کی اِجازت سے اُن کے عام درس میں شریک ہونے کے کے علاوہ شب کے وقت بھی اُن سے پڑھا کرتے تھے اور پھر اِن کی غریب الوطنی معلوم ہوجانے پر امام محمد بن حسن شیبانی نے اِن کی مالی امداد بھی جاری رکھی۔ یہ واقعات خود قاضی اسد نے سلیمان بن سالم کو سنائے تھے کہ: ’’میں نے امام محمد بن حسن شیبانی سے کہا کہ : میں پردیسی ہوں اور آپ سے فقہ و حدیث کا بہت کم سرمایہ جمع کرسکا ہوں، کیونکہ آپ کے تلامذہ کی تعداد زیادہ ہے۔ اِس لیے میرے لیے کیا خاص عنایت ہوسکتی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: عراقی طلبہ کے ساتھ دِن میں شریک رہو اور رات کا وقت میں صرف تمہارے لیے خاص کرتا ہوں۔ رات میرے ہی پاس گزارو، وہیں تمہیں احادیث سنایا کروں گا۔ چنانچہ میں شب کو امام محمد بن حسن شیبانی کے یہاں رہنے لگا، وہ خود چھت پر رہتے تھے اور میں نیچے کی منزل میں رہتا تھا لیکن میری خاطر سے وہ نیچے ہی اُتر آتے اور درس کے لیے اپنے سامنے ایک پیالہ میں پانی رکھ کر بیٹھ جاتے، جب پڑھتے پڑھتے رات زیادہ گزر جاتی تو مجھے نیند آنے لگتی ، وہ مجھے اُونگھتے ہوئے دیکھ کر ایک چُلُّو پانی میرے منہ پر چھڑکتے اور میں بیدار ہوجاتا۔ اُن کا اور میرا یہی طریقہ و راستہ جاری رہا یہاں تک کہ میں جس قدر اُن سے پڑھنا چاہتا تھا، پڑھ لیا۔‘‘

قاضی اسد عراق میں تحصیل علم میں مصروف تھے کہ مدینہ منورہ سے امام مالک کی وفات کی خبر پہنچی اور اُسی وقت سے امام مالک کے تلامذہ لوگوں کے لیے مرجع خلائق بن گئے جن میں قاضی اسد بن فرات بھی تھے۔ اِس جانکاہ خبر کو قاضی اسد بن فرات نے یوں بیان کیا ہے کہ:’’ہم لوگ ایک دن امام محمد بن حسن شیبانی کے حلقۂ درس میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور لوگوں کو پھاندتا ہوا امام محمد کے قریب پہنچا اور اُن سے کوئی خبر بیان کی جس پر امام محمد بول اُٹھے: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون‘‘ ایک مصیبت ہے کہ اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری مصیبت نہیں کہ امام مالک بن انس کا اِنتقال ہو گیا یعنی امیر المومنین فی الحدیث نے وفات پائی۔ یہ خبر مسجد میں پھیلی تو لوگ امام مالک کی وفات پر اِظہارِ غم کے لیے جمع ہونے لگے اور اُس کے بعد یہ حال ہو گیا کہ جب کوئی امام مالک بن انس کی حدیث و روایت کرنے لگتا تو ایک خلقت اُس کے گرد اُمنڈ آتی اور اِس قدر مجمع ہوجاتا کہ راستے بند ہوجاتے۔

قاضی اسد نے مشرق میں فقہ مالکی و فقہ حنفی کی تحصیل کے علاوہ شیوخِ عراق میں سے یحییٰ بن اکوع بن ابی زائدہ لاکوفی، ابوبکر بن عیاش، مُسَیَّب بن شریک اور ہیثم بن شریک وغیرہ سے علم حدیث حاصل کیا اور اُن سے احادیث روایت کیں اور اِن میں سے صرف مؤخر الذکر ہیثم بن شریک سے بارہ ہزار احادیث لکھیں۔[2]

عراق سے واپسی اور مصر کا سفر[ترمیم]

قاضی اسد مشرق میں تحصیل علوم سے فراغت کے بعد وطن واپسی کے خیال پر آمادہ ہوئے لیکن مصارف کا کوئی سامان نہ تھا، اِس لیے سخت پریشان تھے اور آخر امام محمد کے سامنے تذکرہ آیا تو اُنہوں نے فرمایا: تمہارا ذِکر ولی عہد کے سامنے کروں گا، اُمید ہے کہ تم باآسانی وطن پہنچ جاؤ گے۔چنانچہ امام محمد نے ولی عہد سے اِن کا تذکرہ کیا اور اُس سے ملاقات کے لیے تاریخ مقرر ہو گئی۔جب ولی عہد کے محل جانے لگے تو امام محمد نے اُنہیں سمجھایا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ جس رکھ رکھاؤ سے پیش آؤ گے، ویسا ہی وہ بھی تم سے برتاؤ کریں گے، اگر تم اپنی خودداری قائم رکھ کر اُن سے ملو گے تو وہ بھی تمہیں باعزت و خوددار سمجھیں گے۔ اِس کے بعد ولی عہد کے محل پہنچے، ایک خادم نے اُن کا اِستقبال کیا اور ایک جگہ بٹھا دِیا، یہاں ایک اُن کے سامنے ڈھکا ہوا ایک خوان لایا گیا۔ اسد نے پوچھا:’’یہ جو کچھ لائے ہو، تمہاری طرف سے ہے یا تمہارے آقا کی طرف سے؟‘‘ پھر وہ بولا: آقا کے حکم سے لایا ہوں۔ اسد نے خوبصورتی سے جواب دیا: تمہارا آقا کبھی اُسے پسند نہیں کرسکتا کہ اُس کا مہمان اُس کی شرکت کے بغیر کھانا کھائے، صاحبزادے یہ تمہارا ہی احسان ہے، مجھ پر بھی تمہاری مکافات واجب ہے۔ یہ کہہ کر جیب ٹٹولی اور اُس وقت سارا سرمایہ جو جیب میں تھا، وہ صرف چالیس درہم تھے۔ اُنہوں نے اُس کے صلے میں بڑی فراخی سے وہ چالیس درہم اُس کی طرف بڑھا دیے اور خوان اُٹھا لینے کا اِشارہ کیا۔ خادم قاضی اسد سے بہت زیادہ خوش ہوا اور سارا واقعہ اپنے آقا سے جا کر کہہ دیا۔ وہ سن کر محظوظ ہوا اور قاضی اسد کو اندر طلب کر لیا۔جب میں ولی عہد کے پاس پہنچا تو وہ ایک تخت پر جلوہ افروز تھا۔ اُس کے سامنے ایک دوسرا تخت تھا جس پر حاجب بیٹھا ہوا تھا، تیسرا تخت خالی تھا، اُس پر مجھے بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔ پھر مجھ سے مختلف گفتگوئیں کرتا رہا اور میں مناسب جوابات دیتا رہا۔ جب میری واپسی کا وقت آیا تو ایک رقعہ لکھ کر سربمہر لفافہ میرے حوالے کر دیا اور کہا: اِسے صاحب دیوان کے یہاں لے جاؤ تو وہ تمہیں اپنا ملازم تصور کریں گے۔ قاضی اسد نے دوبارہ ملاقات کا خیال ترک کرکے رختِ سفر باندھ لیا اور اپنے شفیق اُساتذہ سے رخصت ہوکر مصر روانہ ہو گئے۔

ابو عبد الله اسد بن فرات بن سنان امام مالک، امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی اور دوسرے مشاہیر محدثین کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ انہیں افریقا کا قاضی القضاۃ بنا دیا گیا۔ جب زیادۃ اللہ بن ابراہیم اغلبی نے سسلی (صقلیہ) پر حملے کے لیے مشاورت کی تو آپ نے اس کی پرزور حمایت کی۔ اس نے ایک سو جہازوں کا بیڑا تیار کیا جس کا مرکز قیروان (تیونس) تھا۔ قاضی اسد کو ہی اس حملے کا قائد مقرر کیا۔ سات سو سوار اور دس ہزار پیادے جہازوں پر سوار ہوئے۔ پہلے عام طور پر سسلی کے دار الحکومت سراکیوز (سرقوسہ) پر حملہ کیا جاتا تھا۔قاضی اسد نے اچانک شہر مازر (مازارا) پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر کے خسکی کے راستے سراکیوز (سرقوسہ) کا قصد کیا اور اس کا محاصر کر لیا۔ شہر فتح نہیں ہوا تھا کہ قاضی اسد نے زخمی ہو کر وفات پائی۔ انہیں سراکیوز (سرقوسہ) کے باہر ہی دفن کر دیا گیا اور وہاں ایک مسجد بنا دی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب تاریخ صقلیہ: جلد 2،  صفحہ 241۔
  2. ضمیمہ تلامذہ امام محمدقاضی اسد بن فرات فاتح صقلیہ: صفحہ 10۔