اسرائیل بھارت تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرائیل بھارت تعلقات
نقشہ مقام India اور Israel

بھارت

اسرائیل
سفارت خانے
بھارتی سفارت خانہ، تل ابیب، اسرائیل اسرائیلی سفارت خانہ، نئی دہلی، بھارت
مندوب
بھارتی سفیر برائے اسرائیل پاون کپور اسرائیلی سفیر برائے بھارت ڈینیل کارمون

بھارتی اسرائیلی تعلقات ابتدا میں اتنے مضبوط نہیں تھے جتنے کہ اب ہیں۔ بھارت نے اسرائیل کو تسلیم تو کر لیا تھا، تاہم اس کے تعلقات یہودی مملکت سے قونصل خانہ سے زیادہ نہ تھے۔ بھارت میں اسرائیلی قونصل خانہ ممبئی شہر میں تھا، جب کہ زیادہ تر ممالک کے سفارت خانے دہلی میں تھے۔ بھارت اور اسرائیل تعلقات کے فروغ جو چند معاملات حائل تھے، ان میں فلسطین کا مسئلہ اور اس موضوع پر بھارت کا مخالف اسرائیل رویہ اور خلیج فارس میں بر سر روزگار لاکھوں بھارتیوں کی تعداد، جن کے پیش نظر بھارت کبھی بھی کوئی مخالف عرب رویہ اپنا نہیں سکتا تھا۔ تاہم 1992ء میں بھارت میں انڈین نیشنل کانگریس کے پی وی نرسمہا راؤ کے دور اختیار میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ عام ممالک جیسے معمول کی سطح کے تعلقات قائم کر دیے۔ تب سے یہ تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ اسی کی وجہ سے جب فلسطینی قائد یاسر عرفات گھر ہی پر محروس ہو گئے تھے، تب بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے خیریت دریافت کرنے سوا کوئی احتجاجی بیان جاری نہیں کیا۔ 2017ء میں ڈونالڈ ٹرمپ نے جب اقوام متحدہ میں یروشلم کو اسرائیل کے دارالخکومت قرار دینے والی قرارداد پیش کی تھی، تب بھارت نے اس کی مخالفت کی تھی۔[1] تاہم بھارت کو زبردست زک اس وقت پہنچا جب پاکستان میں موجود فلسطینی سفیر نے بھارت کے مشتبہ متنازع دہشت گرد حافظ سعید کی ریالی میں شرکت کی۔[2] اس کے بعد نریندر مودی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

فوجی اور کلیدی تعلقات[ترمیم]

بھارت اسرائیل سے زراعت، ہتھیاروں، جنگی طور طریقوں اور خفیہ دفاعی اطلاعات کے شعبے میں تعلقات کافی بہتر بنا چکا ہے۔

خط زمانی[ترمیم]

  • 1962ء کی بھارت چین جنگ میں بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسرائیل کے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریون کو پیغام بھیجا جس بحری جہاز میں ہتھیار بھارت روانہ کیے جائیں، اُن پر اسرائیل کا جھنڈا نہ لہرایا جائے۔تاہم چوں کہ یہ تجویز منظور نہیں ہوئی، معاملہ آگے نہیں تھا۔
  • 1971ء کی پاکستان بھارت جنگ کے دوران میں سری ناتھ راگھون نے اپنی کتاب ’1971‘ میں اُس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مشیر پی این ہسکر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگرچہ اسرائیل بھارت کو براہ راست ہتھیار فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر نے ایران کو بھیجے گئے ہتھیاروں سے لدے جہاز کو بھارت کی جانب موڑ دیا۔
  • 29 جنوری 1992ء باضابطہ طور معمول کے بھارت اسرائیل سفارتی تعلقات قائم ہو گئے۔
  • 1998ء میں پوکھرن جب بھارت نے جوہری تجربے کیے تھے تو امریکا نے بھارت پر اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کر دیں۔ لیکن، بھارت ان پابندیوں سے غیر متاثر رہا کیوں کہ اسرائیل کے ذریعے بھارت کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہی۔
  • 1999ء کی کارگل کی جنگ کے دوران میں بھارت کو اسرائیل نے بھارت کو بھاری توپیں، نگرانی کرنے والے ڈرون اور لیزر گائیڈڈ میزائلوں کے ساتھ ساتھ جاسوسی کے شعبے میں تعاون بھی فراہم کیا۔
  • 2000ء میں بھارت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی اور وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا۔ اسی سال اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون سرکاری دورے پر بھارت پہنچے۔
  • اکتوبر 2015ء میں بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔
  • جولائی 2017ء بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دور پر پہنچے تھے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]