اسرائیل بھوٹان تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرائیل بھوٹان تعلقات

اسرائیل

بھوٹان

اسرائیل کے بھوٹان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بھوٹان اسرائیل سے دشمنی رکھتا ہے یا اس کے ساتھ کسی قسم کا منفی رویہ رکھتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بھوٹان کے کل خارجہ تعلقات زیادہ ممالک سے نہیں ہے۔ بھوٹان کو عرف عام میں ممنوعہ بادشاہت (forbidden kingdom) کہا جاتا رہا۔ اس کے سفارتی تعلقات دنیا کے محض 52 ممالک سے ہیں۔ اس فہرست میں ریاستہائے متحدہ امریکا اور مملکت متحدہ شامل نہیں ہیں۔ مگر اس میں کئی اور ممالک جیسے کہ چین اور کینیڈا شامل ہیں۔ وسط ایشیا سے جڑے دیگر ممالک جن کے ساتھ بھوٹان کے اچھے روابط موجود ہیں، ان میں کویت (1983ء سے)، مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات (2012ء سے) اور عمان (2013ء سے) شامل ہیں۔ اکیسویں صدی میں دو باتیں ان دونوں ممالک کو قریب لانے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے پر سوچنے کے لیے مجبور کر رہی ہیں۔ ان میں سے اول الذکر یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے کئی بھوٹان کے طلبہ اسرائیلی تعلیمی درس گاہوں سے استفادہ کر کے لوٹے ہیں اور وہ اس ملک کے اعلٰی تعلیمی معیار اور تکنیکی ترقی کے قائل و معترف بھی ہیں۔ دوسری بات جو یہ طلبہ اور کئی عالمی ماہرین نے تجویز کی ہے، وہ یہ ہے کہ فصلوں کی کاشت کاری اور زرعی تکنیک میں اسرائیل جو اپنی پہچان بنائی ہے، اس سے بھوٹان کو کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ملک اس تکنیک کی منتقلی سے کافی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

اسرائیل مغربی ایشیا میں واقع یہودی ریاست ہے۔ وہ عرب ممالک سے گھرا ہے جو عمومًا اس کے ساتھ اچھے روابط نہیں رکھتے۔ عرب ملکوں سے اس کی کئی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ تاہم اسرائیل مصر، اردن اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنا چکا ہے اور سفارتی تعلقات بھی قائم کر چکا ہے۔ بھوٹان اسرائیل کے رقبے سے دوگنے حصے پر پھیلا ہے۔ بیشتر بھوٹان بدھ مت پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم بھوٹان کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ جنگل سے گھرا ہے۔ اسرائیل کے بر عکس بھوٹان کی سرحد سے کوئی سمندر یا ساحل نہیں جڑتا۔ بھر بھی بھوٹان کے ساتھ ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے۔ جدید دور میں وہ کسی قسم کی جنگی تاریخ نہیں رکھتا۔ بھوٹان کی حفاظت بھارت کرتا ہے۔ 2018ء میں جب بھوٹان کے ڈوکلام میں چینی فوج گھس گئی تھی، تب بھوٹان کی حفاظت کے لیے بھارت کی فوج آگے آئی تھی۔[1]

تعلیمی شعبے میں تعاون[ترمیم]

بھوٹان میں زرعی مطالعات (agrostudies) میں غیر معمولی دل چسپی کا اضافہ ہو رہا ہے۔ 2016ء میں اسرائیل میں شعبہ تعلیم سے 21 بھوٹانی طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔ جب کہ 2013ء، 2014ء اور 2015ء میں بھی ہر سال 30 طلبہ فارغ التحصیل ہوتے آئے ہیں۔ اس سے اس بات کی توقع بڑھی ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف یوں ہی جاری رہے گا، بلکہ مزید کئی بھوٹانی طلبہ اسرائیل کا دورہ کریں گے اور زراعت کے علاوہ دیگر تکنیکی شعبوں میں استفادہ کریں گے۔[2]

سیاحت کے شعبے میں تعاون[ترمیم]

بھوٹان کے ملک کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ وہ بیرونی زر مبادلہ ہے کو اسے سیاحت سے حاصل ہوتا ہے۔ چوں کہ اسرائیل ایک متمول ملک ہے اور اسرائیلی باشندے بیرونی سفر پر اکثر جایا کرتے ہیں، اس لیے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی صورت میں بھوٹان اسرائیلیوں کی آمد و رفت سے استفادہ کرے گا۔ [2]

یروشلم پر قرارداد میں بھوٹان کی غیر جانب داری[ترمیم]

2018ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں یروشلم کو اسرائیل کے دار الحکومت پیش کی تھی، اس قرارداد پر دنیا کے کئی ممالک بہ شمول بھارت نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بھوٹان نے مکمل غیر جانب داری بتاتے ہوئے رائے دہی میں غیر حاضر رہا۔ دی بھوٹانیز ویب سائٹ کے بقول مخالف ووٹ سے اجتناب در حقیقت سفارتی تعلقات قائم کرنے سے پہلے ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش تھی۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]