اسرائیل میں عربی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حیفا میں وزارت داخلہ/وزارت استقبال تارکین وطن کی عمارت کے باہر ایک کثیر لسانی (عبرانی، عربی، انگریزی اور روسی) تختی
تل ابیب میں ایک مقام پر کثیر لسانی (عبرانی، عربی، انگریزی اور روسی) انتباہ
اسرائیل میں سر راہ آویزاں ایک کثیر لسانی تختی۔ کچھ تختیوں میں عبرانی ناموں کی عربی اور انگریزی نقل حرفی بھی درج کی جاتی ہے جیسا کہ اس تصویر بھی نظر آرہا ہے۔

اسرائیل میں عربی زبان اس کی آبادی کے 20 فیصد سے زیادہ کی مادری زبان ہے۔ ان میں زیادہ تر اسرائیل کے عرب نژاد باشندے ہیں جن میں عرب دنیا کے عربی بولنے والے یہود بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کو 'یہودی ریاست' قرار دینے کے قانون کے بعد اسرائیل میں عربی کی بطور قومی زبان حیثیت باقی نہیں رہی، اب محض قانونی دستاویزات میں استعمال کی جائے گی اور اس کو قومی کی بجائے اب 'خصوصی حیثیت' دے دی گئی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

جدید معیاری عربی (جسے فصیح عربی اور ادبی عربی بھی کہتے ہیں) کو اسرائیل میں خصوصی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اسرائیل میں عربی زبان کے متعدد لہجے بولے جاتے ہیں اور ان کو بولنے والوں میں اسرائیل کے عرب نژاد باشندے، اسرائیل دروز کے علاوہ کچھ مزراحی یہود (یمنی یہود)، مصری یہود، سوری یہود، مغربی یہود، تونسی یہود، لیبیائی یہود، الجیریائی یہود اور فرانسیسی یہود شامل ہیں۔ خصوصاً وہ مہاجرین جنہوں نے عربی زبان کو سرکاری قرار دینے والے ممالک سے اسرائیل ہجرت کی ہے۔ سنہ 1949ء میں 156،000[1] فلسطینی عرب اسرائیل کے خط صلح کے اندر رہ گئے تھے اور وہ عبرانی نہیں جانتے تھے لہذا اسرائیل میں خود بخود عربی جاننے اور بولنے والے ہو گئے۔ آج کے دور میں زیادہ تر عرب اسرائیلی، جو وہاں کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، روانی سے عبرانی بولتے ہیں اور اس کو اپنی دوسری زبان کا درجہ دیتے ہیں۔

عدالت عظمی کا فیصلہ[ترمیم]

کئی برسوں تک اسرائیلی عہدیداروں کو عربی زبان بولنا سخت منع تھا، صرف واضح قانونی حکم کی صورت ہی میں رعایت ملتی تھی (مثلاً خطرناک کیمیائی خطرات سے آگاہ کرنا) یا جب عربی بولنے والوں کو خطاب کرنا یا کوئی پیغام پہونچانا مقصود ہو۔ یہ رویہ نومبر سنہ 2000ء میں عدالت عظمی کے ایک فیصلے کے بعد تبدیل ہوا جس کی رو سے عربی زبان کو عبرانی زبان کے بعد دوسرا درجہ دیا گیا اور زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی۔[2] اس قانون کے بعد سڑکوں کی تمام تختیوں، کھانے کے لیبل اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ پیغامات جو عبرانی میں شائع ہوتے ہیں انہیں فصیح عربی میں ترجمہ کرنا لازم قرار دیا گیا۔ البتہ اس حکم سے مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ان پیغاموں کو مستثنیٰ رکھا گیا جن کے مخاطب محض عبرانی بولنے والے ہوں۔

کنیست میں عربی زبان[ترمیم]

کنیست میں عربی زبان کے استعمال کی ہمیشہ اجازت رہی ہے مگر عربی بولنے والے کنیست کے کچھ ہی ارکان نے اس اجازت کا فائدہ اٹھایا۔ یہ صورت حال یوں بھی واضح ہوتی ہے کہ کنیست کے تمام عربی دان ارکان عبرانی بھی اچھی طرح جانتے ہیں جبکہ اس کے برعکس بیشتر عبرانی دان ارکان عربی سے واقف نہیں ہوتے۔

تعلیمی نصاب میں عربی[ترمیم]

عبرانی اسکولوں میں عربی کے اسباق درجہ 7 سے درجہ 9 تک پڑھائے جاتے ہیں۔ درجہ 9 کے بعد بھی عربی زبان کی تعلیم جاری رکھنے کے خواہش مند طلبہ عربی کو اختیاری مضمون کے طور پر منتخب کر سکتے ہیں اور بارہویں تک اس کی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں، یہی نہیں بلکہ عربی زبان کا میٹریکولیشن کا امتحان بھی دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی وہ عربی زبان کو طلاقت کے ساتھ بول پاتے پیں۔ ان میں زیادہ تر محکمہ سراغ رسانی میں نوکری پانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

عربی زبان تاریخ بہ تاریخ[ترمیم]

اکیڈمی برائے عربی زبان[ترمیم]

دیگر واقعات[ترمیم]

  • سنہ 2008ء میں کنیست ارکان کی ایک جماعت نے عربی زبان کے بحیثیت سرکاری زبان کا درجہ رد کرنے کے لیے ایک قانون متعارف کروایا۔[5][6] ایسے ہی بل سنہ 2011ء اور 2014ء میں بھی متعارف کروائے گئے۔[7]
  • سنہ 2009ء میں وزیر مواصلات، اسرائیل کاتز نے اعلان کیا کہ اسرائیل، مشرقی یروشلم اور ممکنہ حد تک مغربی کنارہ کی تمام بڑی سڑکوں کے نشانات میں ترمیم کی جائے گی، جگہ اور علاقوں کے عربی اور انگریزی کے نام کی جگہ عبرانی نام ہو بہو لکھے جائیں گے۔ مثلاً ناصرہ کو ناصرت سے بدل کر “تاتضرت“ کیا جائے گا۔[8] وزیر نے یہ بھی کہا کہ تبدیلی نام کی یہ کارروائی تدریجا ہوگی تاکہ ناگہانی واقعات سے نمٹا جا سکے۔ لیکن اس فیصلے کی سخت تنقید ہوئی اور اسے اسرائیل میں فلسطینی ثقافت کو ختم کرنے کی کارروائی بتایا گیا۔[8][9]
  • 19 جولائی 2018ء کو عربی زبان اسرائیل میں اپنا قومی زبان کا درجہ کھو بیٹھی، اب اس کو صرف ”خصوصی حیثیت“ یا درجہ حاصل ہے۔[10]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Dr. Sarah Ozacky-Lazar, Relations between Jews and Arabs during Israel’s first decade (in Hebrew)"۔
  2. "The official text of the Israeli supreme court ruling (in Hebrew)"۔
  3. The law in Hebrew in the Israeli official gazette (publication no. 2092 from 28 March 2007).
  4. "Arabic Language Academy – Haifa"۔ Arabicac.com۔ مورخہ 8 مارچ 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2012۔
  5. "Knesset Hawks Move To Strip Arabic of Official Status in Israel –"۔ Forward.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2012۔
  6. Shahar Ilan۔ "MKs: Make Hebrew the only official language – Haaretz Daily Newspaper | Israel News"۔ Haaretz۔ Israel۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2012۔
  7. Liora Halperin۔ "The Irony of Erasing Arabic"۔ Forward.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2018۔
  8. ^ ا ب CounterPunch, 17 July 2009, Israeli Road Signs: Wiping Arabic Names Off the Map وثق شدہ بتاریخ June 13, 2011, در وے بیک مشین
  9. BBC, 13 July 2009, Row over 'standard' Hebrew signs
  10. ’یہودی ریاست‘ کے قانون پر تنازع کیوں - BBC News اردو