اسرائیل کے قانون ساز انتخابات، 2019ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اکیسویں کنیست کے لیے انتخابات
Flag of اسرائیل
→ 2015ء 9 اپریل 2019
ٹرن آؤٹ 68.41%

جماعت قائد % نشستیں ±
لیکود بنیامین نیتن یاہو 26.46% 35 +5
بلو اینڈ وائٹ بینی گینتس 26.13% 35 +24
شاس اریہ درعی 5.99% 8 +1
توراتی یہودیت اتحاد یعقوو لیتسمان 5.78% 8 +2
حداشتحریک عرب برائے تغیر ایمن عودہ 4.49% 6 0
اسرائیلی لیبر پارٹی آوی گیبائی 4.43% 6 -13
یسرائیل بیتینو اویگڈور لائیبرمین 4.01% 5 -1
یمین اتحاد رفی پیرتص 3.70% 5 -3
میرتس تمر زندبرگ 3.63% 4 -1
کولانو موشہ کحلون 3.54% 4 -6
متحدہ فہرست عرببلد منصور عباس 3.33% 4 -3
اس میں نشستیں جیتنے والی جماعتیں شامل ہیں۔ مکمل نتائج نیچے دیکھیے۔
وزیر اعظم اسرائیل قبل
Benjamin Netanyahu 2018.jpg بنیامین نیتن یاہو
لیکود

اسرائیل میں قبل از وقت قانون ساز انتخابات 9 اپریل 2019 کو منعقد ہوئے تاکہ 21 ویں کنیست کے لیے 120 اراکین کا انتخاب کیا جا سکے۔ انتخابات نومبر 2019 میں منعقد ہونا تھے، لیکن موجودہ حکومت کے ارکان انتہائی قدامت پسند آبادی کی جانب قومی خدمت انجام دینے کے حوالے سے متعلق ایک بل پر تنازع کا شکار ہو گئے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بد عنوانی کے الزامات نے معاملہ مزید سنگین کر دیا۔

نیتن یاہو کی لیکود اور بینی گینتس کے بلو اینڈ وہائٹ اتحاد نے مساوی طور پر 35، 35 نشستیں جیتیں۔ اقتدار کا توازن چھوٹی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے، جس میں دائیں بازو کی اور مذہبی جماعتوں نے پچھلی مرتبہ لیکود کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنائی تھی۔ ممکنہ طور پر بنیامین نیتن یاہو کو اگلی حکومت تشکیل دینے کا موقع ملتا ہے۔

نظام انتخاب[ترمیم]

کنیست میں 120 نشستوں کا انتخاب ایک واحد قومی سطح پر محیط حلقے میں فہرست بند متناسب نمائندگی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ انتخاب کے لیے معیّنہ انتخابی حد 3.25 فی صد ہے۔ تقریباً تمام صورتوں میں یہ کم از کم جماعتی حجم کی چار نشستوں کے مساوی ہے، لیکن کبھی کبھار کے نایاب مواقع پر ایک جماعت کا اکتفا تین نشستوں پر بھی ہو سکتا ہے۔[1]

گو کہ انتخابات کی تاریخ 9 اپریل 2019 تھی، لیکن دنیا بھر کے سفارت خانوں میں پولنگ کا آغاز 28 مارچ 2019 کو ہوا۔[2]

اضافی ووٹ معاہدے[ترمیم]

دو جماعتیں ایک معاہدہ کر سکتی ہیں جو انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ بچی ہوئی نشستوں پر مقابلہ کر سکتی ہیں، چاہے وہ ساتھ مل کر انتخاب لڑ رہی ہوں۔ بدر-اوفر طریقہ غیر متناسب طور پر بڑے اتحادوں کی موافقت کرتا ہے، مطلب یہ کے ایسا اتحاد زیادہ بچی ہوئی نشستیں حاصل کر سکتا ہے جس کا امکان انفرادی جماعت کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اگر اتحاد کو بچی ہوئی نشستیں ملتی ہیں تو بدر-اوفر کا حساب نجی طور پر کیا جاتا ہے، یہ تعین کرنے کے لیے کہ کیسے نشستوں کو دو اتحادی جماعتوں کے مابین تقسیم کیا جائے۔[3] انتخابات سے قبل جماعتوں کی جانب سے مندرجہ ذیل معاہدوں پر دستخط کیے گئے:

عوامی دلچسپی کی خبریں[ترمیم]

دست برداریاں[ترمیم]

  • تسپی لیونی نے 18 فروری 2019 کو اعلان کیا کہ ان کی ہتنوعا جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔[24]
  • بائیں بازو کے کارکن ایلاد یانیو نے 30 دسمبر 2018 کو اعلان کیا کہ وہ اپنی 2013 میں قائم ہونے والی جماعت کی ازسرِ نو تشکیل کریں گے جس کا نام "ایریٹز حداشہ" ہے، جو آئندہ انتخابات میں حصہ لیتی، [25] گو کہ یانیو دوڑ سے باہر ہو گئے جس کی وجہ گینتس/لیپید 20 فروری 2019 کو منظرِ عام پر آنے والا انتخاب تھا۔[26]
  • 20 فروری 2019 کو گرین لیف پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔[27]
  • ہاریڈی ویمنز کالج کی بانی عدینہ بار شلوم نے انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی، اپنی نئی قائم شدہ لیکن غیر رجسٹرڈ جماعت آہی یسرائیلی کے ذریعے، [28][29]، گو کہ جماعت نے 26 فروری 2019 کو اپنی دست برداری کا اعلان کیا۔[30]
  • یوم ٹوو سامیا نے بی یہاو کی دست برداری کا اعلان 4 مارچ 2019 کو کیا۔[31]
  • ایلی ییشائی نے یخاد کی دست برداری کا اعلان 27 مارچ 2019 کو کیا۔[32]

مہم[ترمیم]

بعض جماعتیں جیسے لیکود، لیبر، دی جیوش ہوم، زیہوت اور میریتس کے نظام ایسے ہیں جس میں قیادت اور ان کے اتحاد میں زیادہ تر امیدوار بنیادی انتخابات میں منتخب ہوئے ہیں۔

بلو اینڈ وہائٹ[ترمیم]

بینی گینتس کی اسرائیل ریزیلیئنس پارٹی اور موشے یعلون کی تیلیم نے اپنی جماعت کی تختی کی نقاب کشائی 19 فروری 2019 کو کی۔[33] یائر لیپید کی یش عتید جماعت نے اپنی جماعت کی تختی کی نقاب کشائی 18 فروری 2019 کو کی۔[34] 21 فروری 2019 کو تینوں جماعتیں مشترکہ اتحاد کے نام بلو اینڈ وہائٹ پر متفق ہو گئیں۔[35]

یونائیٹیڈ رائٹ[ترمیم]

دی جیوش ہوم نے اپنی قیادت کا انتخاب 27 اپریل 2017 کو کیا؛ نفتالی بینیت 80.3 فیصد ووٹ لے کر جیت گئے؛ یوناتن برانسکی 12.2 فیصد اور اسحاق زاغا نے 7.47 فیصد ووٹ وصول کیے۔[36] نیو رائٹ کے قیام کے نتیجے میں بینیت علاحدہ ہو گئے اور جیوش ہوم نے انتخاب منسوخ کر دیا۔[37] 4 فروری 2019 کو رفی پیریتز جیوش ہوم کے قائد منتخب ہو گئے۔[38]

تکوما جماعت نے اپنی قیادت کا انتخاب 14 جنوری 2019 کو کیا؛ بیزالیل سموترخ نے یوری ایریئل کو شکست دی۔[39]

14 فروری 2019 کو جیوش ہوم تکوما جماعت کے ساتھ اتحاد میں انتخاب لڑنے پر متفق ہو گئی۔ جیوش ہوم کے قائد رفی پیریتز نے اتحاد کی قیادت کی۔ تکوما کے سربراہ بیزلال سموترخ نمبر دو بنیں گے۔[17] 20 فروری 2019 کو وہ اوتزما یہودی کو اتحاد میں شامل کرنے پر رضامند ہو گئے۔ اس اتحاد کو یونائیٹیڈ رائٹ کا نام دیا گیا۔[18][40]اوتزما یہودی کی شمولیت شدید تنقید کا باعث بنی۔[41][42][43]

لیبر[ترمیم]

لیبر جماعت نے اپنی قیادت کا انتخاب 10 جولائی 2017 کو کیا؛ ایوی گبّے نے عامر پیریتز کو شکست دی۔ اسحاق ہرزوگ ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں باہر ہو گئے۔[44] جماعت نے اپنی قیادت کا انتخاب 11 فروری 2019 کو کیا تاکہ اراکین کی اس کی تختی کے لیے انتخاب کیا جائے۔[45]

لیکود[ترمیم]

لیکود کی قیادت کے انتخاب کی تاریخ 23 فروری 2016 کو طے تھی جس میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا نام تجویز کیا گیا تھا،[46] اور بعد میں اس کو جماعت کی عدالت کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا کیونکہ لیکود کے آئین میں صرف ایک امیدوار ہونے کی صورت میں ووٹ کی ضرورت نہیں تھی۔[47][48] لیکود نے 5 فروری 2019 کو قیادت کے انتخابات کرائے، جس کے نتیجے میں بنیامین نیتن یاہو کے حریفوں نے سینیر جگہیں جیت لیں۔[49][50] انتخابی نتائج میں ووٹنگ کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ بعض کیسوں میں امیدوار نے پڑنے والے ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ لیکود جماعت نے معاملے کی جانچ کی۔[51] آخری نتیجے میں کنیست کے اسپیکر یولی ایڈلسٹین پہلے نمبر پر آئے، جس کے بعد یسرائیل کاتز، جیلاد اردان، گائیڈیون سعار اور میری ریگیو آئے۔[52]

28 فروری 2019 کو اٹارنی جنرل نے اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر تین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کریں گے، جن میں رشورت، دھوکا دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانا شامل ہے۔ ان میں ذرائع ابلاغ میں موافقانہ کوریج ملنے کے عوض قانون سازی کو سودا کرنا شامل ہیں۔[53]

میریتس[ترمیم]

میریتس نے اپنی قیادت کا انعقاد 22 مارچ 2018 کو کیا؛ تمار زینڈبرگ 71 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ ایوی بسکیلا نے 29 فیصد ووٹ حاصل کیے۔[54] میریتس نے اپنی قیادت کا انتخاب 14 فروری 2019 کو کیا۔[55]

یسرائیل بینتینو[ترمیم]

ایویگڈور لائیبرمین کی یسرائیل بیتینو جماعت کی تختی 19 فروری 2019 کو شائع کی۔ [56]

زیہوت[ترمیم]

زیہوت جماعت نے پہلی مرتبہ اپنی قیادت کے انتخاب کا انعقاد 29 جنوری 2019 کو کیا، جس میں اسرائیلی ووٹروں (بشمول بیرون ملک مقیم) نے محفوظ آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔ ان ابتدائی انتخابات میں ان امیدواروں کو ترتیب دیا جنہوں نے جماعت کے اندرونی انتخابات ستمبر 2017 میں جیتے تھے۔[57][58]

نتائج[ترمیم]

2019 Knesset.svg
جماعت/اتحاد ووٹ % نشستیں +/–
لیکود 1,140,370 26.46 35 +5
Blue & White 1,125,881 26.13 35 +24
شاس 258,275 5.99 8 +1
United Torah Judaism 249,049 5.78 8 +2
HadashTa'al 193,442 4.49 6 0
اسرائیلی لیبر پارٹی 190,870 4.43 6 –13
Yisrael Beiteinu 173,004 4.01 5 –1
United Right 159,468 3.70 5 –3
Meretz 156,473 3.63 4 –1
کولانو 152,756 3.54 4 –6
United Arab ListBalad 143,666 3.33 4 –3
New Right 138,598 3.22 0 نئی
Zehut 118,031 2.74 0 نئی
Gesher 74,701 1.73 0 نئی
Betah 4,618 0.11 0 نئی
The Arab List (ANPMada) 4,135 0.10 0 0
Social Justice 3,843 0.09 0 نئی
Shield of Israel 3,394 0.08 0 نئی
Justice for All 3,281 0.08 0 نئی
Tzomet 2,417 0.06 0 نئی
Yashar 1,438 0.03 0 نئی
Zekhuyotenu BeKoleinu 1,316 0.03 0 نئی
Veteran Civil 1,168 0.03 0 نئی
Kol Yisrael Ahim 1,140 0.03 0 نئی
Pirate Party of Israel 819 0.02 0 0
Pashut Ahava 733 0.02 0 نئی
Eretz Yisrael Shelanu 701 0.02 0 نئی
We are all friends Na Nach 624 0.01 0 0
MeHathala 603 0.02 0 نئی
Hope for Change 562 0.01 0 0
Green Economy – One Nation 556 0.01 0 0
Education 518 0.01 0 نئی
Ahrayut LaMeyasdim 428 0.01 0 نئی
Human Dignity 404 0.01 0 نئی
Shavim 401 0.01 0 نئی
Manhigut Hevratit 385 0.01 0 نئی
Ani VeAta 368 0.01 0 نئی
Bible Bloc 353 0.01 0 نئی
Ihud Bnei HaBrit 265 0.01 0 نئی
Brit Olam 216 0.01 0 0
نادرست/خالی ووٹ 30,983
کُل 4,340,253 100 120 0
رجسٹرڈ ووٹرز/ٹرن آؤٹ 6,339,729 68.46
ذریعہ: CEC

حکومت سازی[ترمیم]

بلو اینڈ وہائٹ دھڑے کے سربراہ بینی گینتس نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے حکومت سازی کا راستہ ہموار کر دیا۔ بنیامین نتن یاہو نے دیگر جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد کے لیے گفتگو شروع کر دی۔[59]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "With Bader-Ofer method, not every ballot counts"۔ دی یروشلم پوسٹ۔ 16 مارچ 2014۔
  2. www.twitter.com (انگریزی زبان میں) https://twitter.com/IsraelinIreland/status/1111235587749629954۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل 2019۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  3. The Distribution of Knesset Seats Among the Lists – the Bader-Offer Method, کنیست website
  4. "Jewish Home signs vote sharing agreement with Likud"۔ Israel National News۔ 20 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  5. "New Right unveils Knesset slate featuring equal representation for women"۔ Times of Israel۔ 20 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019۔
  6. "Labor and Meretz sign vote sharing agreement"۔ Israel National News۔ 25 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2019۔
  7. "United Torah Judaism and Shas sign vote-sharing agreement"۔ Israel National News۔ 6 مارچ 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2019۔
  8. "Ra'am-Balad and Hadash-Ta'al - Israel Elections - Jerusalem Post"۔ www.jpost.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2019۔
  9. tzvimoshe۔ "Zehut Platform"۔ Zehut (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2019۔
  10. Albert Levy (27 جنوری 2019)۔ "Open primaries are good for all Israelis and good for Israel"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 فروری 2019۔
  11. David Israel (29 دسمبر 2018)۔ "Bennett's, Shaked's 'New Right' Party to Challenge Netanyahu"۔ Jewish Press۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 دسمبر 2018۔
  12. "Political Drama: Senior Israeli Ministers Launch New Right-wing Party"۔ ہاریتز۔ 30 دسمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2018۔
  13. "Despite possible indictments, ex-IDF general Gal Hirsch launches political party"۔ The Times of Israel۔ 8 جنوری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جنوری 2019۔
  14. Stuart Winer (14 جنوری 2019)۔ "Yom Kippur War vet who brought down government launches election campaign"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2019۔
  15. Stuart Winer (15 جنوری 2019)۔ "Commando who saved Netanyahu's life 50 years ago sets up rival political party"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2019۔
  16. Raoul Wootliff (20 فروری 2019)۔ "Registering new party, YouTube star urges public to vote 'F**k'"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  17. ^ ا ب Hezki Baruch (14 فروری 2019)۔ "Jewish Home and National Union to run together"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2019۔
  18. ^ ا ب Jacob Magid۔ "Jewish Home party votes overwhelmingly to merge with extremist Otzma Yehudit"۔ The Times of Israel (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  19. Hezki Baruch (18 فروری 2019)۔ "MK Oren Hazan leaves Likud, heads Tzomet party"۔ Israel National News (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2019۔
  20. "Levy-Abekasis: No merger with Gantz after his 'weird, hallucinatory' behavior"۔ The Times of Israel۔ 20 فروری 2019۔
  21. Gil Hoffman (20 فروری 2019)۔ "Gantz loses out on Levy's Gesher, aims for merger with Lapid"۔ دی جروشلم پوسٹ۔
  22. Elad Benari (21 فروری 2019)۔ "Gantz and Lapid to run together"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  23. Jacob Magid (21 فروری 2019)۔ "United Gantz-Lapid party to be called 'Blue and White'"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2019۔
  24. Gil Hoffman (18 فروری 2019)۔ "Tearful Tzipi Livni quits politics"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  25. "Anti-corruption protest leader forms new party ahead of elections"۔ The Times of Israel۔ 30 دسمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2018۔
  26. "Eldad Yaniv's Eretz Hadasha Party won't run in the election"۔ Israel National News۔ 20 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2019۔
  27. "Pro-marijuana legalization party to sit out elections"۔ The Times of Israel۔ 20 فروری 2019۔
  28. Jeremy Sharon (30 جولا‎ئی 2018)۔ "Adina Bar-Shalom registers new party, Ahi Yisraeli"۔ دی جروشلم پوسٹ۔
  29. Gil Hoffman (23 دسمبر 2018)۔ "Adina Bar-Shalom to head nascent Achi Israeli party"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2018۔
  30. "Israeli Brother party will not run in the elections"۔ Israel National News۔ 26 فروری 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2019۔
  31. "B'yahad party won't run in upcoming Knesset elections"۔ Israel National News۔ 4 مارچ 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2019۔
  32. Newman, Marissa (27 مارچ 2019)۔ "Eli Yishai's Yachad party drops out of election race, boosting right"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2019۔
  33. Mordechai Sones (19 فروری 2019)۔ "Israel Resilience: Full list of candidates"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2019۔
  34. Raoul Wootliff (18 فروری 2019)۔ "Lapid unveils Yesh Atid list, says unity with Gantz still 'on the table'"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2019۔
  35. Staff (21 فروری 2019)۔ "Lapid-Gantz-Ya'alon list: 'Blue and White'"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2019۔
  36. Wootliff, Raoul (28 اپریل 2017)۔ "Bennett wins sweeping victory in Jewish Home leadership race"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2017۔
  37. Hezki Baruch (3 جنوری 2019)۔ "'The Jewish Home needs rehabilitation'"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2019۔
  38. Staff writer (4 فروری 2019)۔ "Beit Yehudi leader slams Shaked, Bennet: You don't abandon a home"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 فروری 2019۔
  39. Lahar Harkov (14 جنوری 2019)۔ "Smotrich hopes to head religious-Zionist bloc after big win over Ariel"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2019۔
  40. Hezki Baruch (21 فروری 2019)۔ "'Union of the Right-Wing Parties' submits Knesset list"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2019۔
  41. Amir Tibon (22 فروری 2019)۔ "Prominent Jewish Group Changes Course, Denounces Far-right Party Courted by Netanyahu"۔ Haaretz (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2019۔
  42. Jeremy Sharon۔ "Jewish groups speak out against union of Bayit Yehudi with Otzma Party"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2019۔
  43. Staff (22 فروری 2019)۔ "AIPAC slams 'racist and reprehensible' extremist party wooed by Netanyahu"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2019۔
  44. Kershner, Isabel (10 جولا‎ئی 2017)۔ "Israeli Labor Party Tries a New Leader: Gabbay, Self-Made Millionaire"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مارچ 2018۔
  45. Lis, Jonathan (8 فروری 2019)۔ "Despite Plunge in Polls, Israel's Labor Not Rushing to Join Meretz"۔ ہاریتز۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 فروری 2019۔
  46. Jonathan Lis (30 دسمبر 2015)۔ "In Win for Netanyahu, Likud Votes for Early Primaries, Safeguarding His Leadership"۔ ہاریتز (انگریزی زبان میں)۔
  47. Jonathan Lis (13 جنوری 2016)۔ "Likud Calls Off Leadership Vote: Netanyahu to Remain Party Head Through 2023"۔ ہاریتز (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2018۔
  48. "Netanyahu declared Likud leader for seventh term"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ 14 جنوری 2016۔
  49. Wootliff, Raoul (6 فروری 2019)۔ "Edelstein takes top spot in Likud primaries, with Netanyahu rival Sa'ar in 4th"۔ The Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2019۔
  50. Gil Hoffman (25 دسمبر 2018)۔ "Likud sets Feb 5 date for primary"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2019۔
  51. "Voting irregularities surface in Likud primaries results"۔ www.timesofisrael.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2019۔
  52. Staff (14 فروری 2019)۔ "Final Likud primary tally leaves top 5 as is, with no gain for PM's rival Sa'ar"۔ The Times of Israel (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2019۔
  53. "Benjamin Netanyahu: What are the corruption allegations?"۔ BBC News۔ 28 فروری 2019۔
  54. Hoffman, Gil (22 مارچ 2018)۔ "Meretz voters elect Tamar Zandberg as new leader"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مارچ 2018۔
  55. Elad Benari (14 فروری 2019)۔ "Gilon and Rozin win Meretz primaries"۔ Israel National News۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2019۔
  56. Alexander Fulbright (20 فروری 2019)۔ "Liberman unveils Yisrael Beytenu candidates, leaves out veteran lawmakers"۔ The Times of Israel۔
  57. Raoul Wootliff (29 جنوری 2019)۔ "With first open primaries, Moshe Feiglin's 'Zehut' looks for a public identity"۔ دی جروشلم پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 فروری 2019۔
  58. Eliran Tal (30 جنوری 2019)۔ "אלו תוצאות הפריימריז של מפלגת זהות"۔ Channel 20 News Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 فروری 2019۔
  59. Oren Liebermann (10 اپریل 2019)۔ "Netanyahu set for fifth term as Israel's leader as rival concedes defeat"۔ CNN (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2019۔