اسرار علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرار علی
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیLeft-hand batsman
گیند بازیLeft arm fast-medium
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 4 40
رنز بنائے 33 1130
بیٹنگ اوسط 4.71 20.54
100s/50s 0/0 0/6
ٹاپ اسکور 10 79
گیندیں کرائیں 318 6190
وکٹ 6 114
بولنگ اوسط 27.50 22.63
اننگز میں 5 وکٹ 0 6
میچ میں 10 وکٹ - 1
بہترین بولنگ 2/29 2/29
کیچ/سٹمپ 1/0 22/0

اسرار علی (پیدائش:یکم مئی 1927ء وفات : یکم فروری 2016ء) ایک پاکستانی کرکٹر تھے۔[1] جس نے پاکستان کی طرف سے چار ٹیسٹ میچ کھیلے تھے جبکہ 1946/47 - 1960/61 کے دوران 40 فرسٹ کلا س میچز میں بھی شرکت کی تھی

ٓابتدائی دور[ترمیم]

اسرارعلی پاکستان کی طرف سے اس اولین ٹیسٹ سریزکاحصہ تھے جس نے ٹیسٹ سٹیٹس حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے بھارت کادورہ کیا' پاکستان کے علاوہ انہوں نے بہاولپور'ملتان اورسائوتھ پنجاب کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلی جبکہ پاکستان کی طرف سے4ٹیسٹ میچ ہی کھیل سکے ان کاٹیسٹ کیپ نمبر 6 تھا۔

فرسٹ کلاس کرکٹ[ترمیم]

اسرارعلی نے فرسٹ کلاس کرکٹ کاآغاز تقسیم ہندوستان سے قبل1946-47ء میں کیاتھا بعد میں پاکستان آگئے اور1952-53ء میں بھارت جانے والی ٹیم کاحصہ تھے۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے اسرار نے بھارت کے خلاف اولین ٹیسٹ سریز میں2ٹیسٹ کھیلے مگر کوئی متاثرکن کارکردگی نہ دکھا سکے۔ دہلی کے پہلے ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں ایک اوردوسری میں9 رنز تک محدود رہے۔ دوسرے ٹیسٹ میں ممبئی کے مقام پر10اور5 کاہی کھاتہ کھول سکے۔5ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں وہ صرف دو ٹیسٹ ہی کھیل سکے اس کے بعد ان کو1959-60ء میں آسٹریلیا کے خلاف دوبارہ ٹیم میں واپس بلایاگیا مگرایک بارپھر ان کی بیٹنگ میں کارکردگی متاثر کن نہ تھی۔ڈھاکہ کے ٹیسٹ میں7اورایک جبکہ لاہور میں بغیرکوئی رنز بنائے پیئرحاصل کیا' لاہور کا ٹیسٹ ان کے کیرئیر کاآخری ٹیسٹ میچ تھا۔

اسرار علی نے4 ٹیسٹ میچوں میں33 رنزبنائے'10ان کاکسی ایک باری کا زیادہ سے زیادہ سکورتھا' انہوں نے6وکٹ بھی لیے' انہوں نے آسٹریلوی کھلاڑی لیس فیول کو4مرتبہ پویلین بھجوایا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت ان کی کارکردگی فرسٹ کلاس میں زیادہ بہتر تھی۔ انہوں نے1957-58ء میں بہاولپور کی طرف سے قائد اعظم ٹرافی میں کھیلتے ہوئے پنجاب اے کے خلاف58رنز دے کر9وکٹ لیے جبکہ کوارٹرفائنل میں صرف ایک رنز دے کر6کھلاڑیوں کی اننگز کاخاتمہ کیا' ان کے اعدادوشمار کچھ یوں تھے(11اوورز10میڈن'6وکٹ صرف ایک رنزکے عوض)اس تباہ کن بائولنگ کے باعث ڈھاکہ یونیورسٹی کی ٹیم39 رنز ہی بناسکی'اسرارعلی نے اس میچ میں اپنابہترین فرسٹ کلاس سکور79بنایا۔اسرارعلی نے اپنے فرسٹ کلاس کیرئیر کاآغاز رانجی ٹرفی سے کیاتھا جو 1960-61ء میں اپنے اختتام کوپہنچا۔ انہوں نے1959 ء میں لنکاشائر لیگ میں بھی اپنے جوہردکھائے جس کے دوران انہوں نے50.66 کی اوسط سے 912 رنزبنائے اور22.95 کی اوسط سے48وکٹوں کے بھی مالک بنے۔

وفات[ترمیم]

اسرارعلی یکم فروری2016 کو 88 سال اور 126دن کی عمر میں صوبہ پنجاب کے شہراوکاڑہ میں دل کادورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Israr Ali".