مندرجات کا رخ کریں

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اسلامی جمہوریۂ ایران کی مسلح افواج
نیروهای مسلح جمهوری اسلامی ایران
مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا لوگو
خدماتی شاخیں
صدر دفترعشرت آباد، تہران، ایران
قیادت
کمانڈر ان چیف رہبر معظم ایران علی خامنہ‌ ای
وزیر دفاع و پشتی بانی مسلح افواج بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ
وزیر داخلہ بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی
افرادی قوت
عسکری مدت18
جبری بھرتیYes
فعال اہلکار610،000[1] (درجہ نواں)
ذخیرہ افواج350،000[1]
خرچے
بجٹامریکی ڈالر15.8 billion (2025)[2]
جی ڈی پی کا فیصد2.5% (2025)[2]
صنعت
گھریلو سپلائر
سالانہ برآمدات سربیا
 لبنان
 بیلاروس
 یمن
 الجزائر

سابقہ :

+ US$2.5 billion (2024)
متعلقہ مضامین
تاریخ
درجےRank insignia of the Iranian military

ایرانی مسلح افواج کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کہا جاتا ہے، ایران کی مجموعی فوجی قوت پر مشتمل ہیں جن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج (ارتش)، سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی اور نفاذِ قانون کی کمان (فراجا) شامل ہیں۔

ایرانی مسلح افواج مشرق وسطیٰ میں فعال فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی فوج ہیں۔ ان میں تقریباً 610،000 فعال فوجی اور 350،000 ریزرو و تربیت یافتہ اہلکار شامل ہیں، جنھیں ضرورت پڑنے پر متحرک کیا جا سکتا ہے۔ یوں ایران کی کل فوجی افرادی قوت تقریباً 960،000 بنتی ہے اگرچہ اس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے (فراجا) یا بسیج شامل نہیں۔

ایران کی زیادہ تر درآمد شدہ اسلحہ جات وہ امریکی سسٹم ہیں جو 1979ء کے اسلامی انقلاب سے قبل حاصل کیے گئے تھے جب کہ 1990ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے بعد کچھ ہتھیار روس سے بھی لیے گئے۔ تاہم اس کے بعد ایران نے خود انحصاری کے تحت ایک مضبوط مقامی اسلحہ سازی پروگرام کا آغاز کیا اور آج اس کا بیشتر فوجی ساز و سامان اندرونِ ملک تیار ہوتا ہے۔ 2000ء کی دہائی تک ایران ہتھیاروں کا برآمد کنندہ بھی بن چکا تھا۔

بین الاقوامی اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران غیر ملکی اسلحہ نہیں خرید سکتا اور اس کی فضائیہ کا بیڑا بھی ضعیف ہو چکا ہے۔ اس لیے ایران نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے میدان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور مختلف قسم کے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، ڈرون، بحری اثاثے اور فضائی دفاعی نظام خود تیار کیے ہیں۔

ایران کا بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام ایک بین الاقوامی سیاسی تنازع ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا میزائل پروگرام صرف سرجیکل حملوں کے لیے ہے اور یہ جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے نہیں بنایا گیا لہٰذا یہ جوہری مذاکرات سے خارج الموضوع ہے۔

ایران کا ڈرون پروگرام بھی دنیا بھر خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور مغربی دنیا میں خدشات کا باعث ہے کیونکہ اس کے اتحادی گروہوں اور امریکا مخالف ممالک کو یہ ڈرون منتقل کیے جا رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ مکینزی کے مطابق: ”ہم کوریائی جنگ کے بعد پہلی بار ایسی صورت حال میں ہیں کہ ہمیں مکمل فضائی برتری حاصل نہیں“ اور اس کی وجہ ایرانی ڈرون ہیں۔

ایران کی تمام مسلح افواج کا کنٹرول جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے ماتحت ہے جب کہ ”وزارت دفاع و پشتی بانیِ مسلح افواج“ فوجی عمل کی منصوبہ بندی اور مالی امور سنبھالتی ہے، لیکن براہِ راست فوجی کمان میں مداخلت نہیں کرتی۔ ایران کے رہبر معظم (سپریم لیڈر) تمام افواج کے سپہ سالارِ اعلیٰ ہیں۔

ایران میں ارتش اور سپاہِ پاسداران کی دوہری فوجی ساخت کی وجہ سے کمان، لاجسٹکس اور فوجی نظام میں تکرار اور غیر مؤثر نظم پیدا ہو گیا ہے، جس پر شفافیت کی کمی، پارلیمانی نگرانی کی محدودیت اور قومی دفاع میں مؤثر کردار ادا نہ کرنے کے الزامات لگتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 International Institute for Strategic Studies (15 Feb 2023). International Military Balance 2023 (بزبان انگریزی). London: Routledge. pp. 324–328. ISBN:978-1-03-250895-5.
  2. 1 2 Nan Tian; Aude Fleurant; Alexandra Kuimova; Pieter D. Wezeman; Siemon T. Wezeman (24 Apr 2022). "International in World Military Expenditure, 2021" (PDF) (بزبان انگریزی). Stockholm International Peace Research Institute. Archived from the original on 2022-04-25. Retrieved 2022-04-25.
  3. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 Iran Military Power: Ensuring Regime Survival and Securing Regional Dominance (PDF)، Defense Intelligence Agency، اگست 2019، ص 90، ISBN:978-0-16-095157-2، DIA-Q-00055-A
  4. ↑ "Iran inaugurates new drone production line in Tajikistan", The Washington Post (بزبان انگریزی), 17 May 2022 {{حوالہ}}: نامعلوم پیرامیٹر |agency= رد کیا گیا (help)