اسلامی سکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام کی آمدسے پہلے عرب میں ایرانی اوررومی سکّے چلتے تھے حضرت عمرؓ کے عہد مبارک میں 18ھ؁ میں اسلامی سکّہ ڈھالاگیا۔ آپؓ ایرانی درہم وزن کرائے تو اس میں سے بعض 20قیراط کے بعد 12 قیراط کے اوربعض 10قیراط کے نکلے حضرت عمر نے ان تینوں کا مجموعہ لیکراس کا ثلث یعنی 14قیراط درہم کا وزن قراردیا اس طرح درہم کا وزن سات مثقال ہو گیا یہ درہم کسروی درہم کے نمونے پرڈھالے گئے بعض کا نقش الحمد للہ بعض کالااللہ الا اللہ اوربعض کا محمدرسول اللہ قراردیاگیا۔ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانۂ خلافت میں صرف دراہم ڈھالے گئے دینار نبومیہ کے عہد میں عبدالملک بن مروان کے زمانے میں ڈھالے گئے۔

اموی عہد[ترمیم]

عبد الملک کا دوسرا قابل فخر کارنامہ اسلامی سکوں کا اجرا ہے ابھی تک اسلامی مملکت کے تمام علاقوں میں رومی اور فارسی سکے رائج تھے۔ یہ سکے سونے اور چاندی سے بنائے جاتے تھے۔ اور تمام تجارتی اور سرکاری لین دین ان ہی سکوں کے توسط سے ہوتا تھا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں ابھی فارسی درہم کے نمونہ پر سکے بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ امیر معاویہ نے بھی اپنی عہد حکومت میں اپنے سکے جاری کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس ناتمام کوشش کے بعد کسی بھی مسلمان حکمران سوائے حضرت عبداللہ ابن زبیر کے بھائی مصعب بن زبیر کے اس اہم قومی ضرورت کی طرف توجہ نہ دی مگر مصعب کے جاری شدہ سکے معیاری نہ تھے اور انھیں قبول عام حاصل نہ ہو سکا۔ عبد الملک نے خالص اسلامی سکوں کی ترویج کا آغاز کیا۔ اس نے رومی دینار و فارسی درہم کے مقابلہ میں نئے درہم اور دینار جاری کیے جن پر (قل ھو اللہ احد) کی عبارت کندہ تھی۔ یہ سکے علی الترتیب چاندی اور سونے کے تھے۔ اس کے علاوہ ان سکوں پر تاریخ اور ٹکسال کا نام بھی درج کیا جاتا تھا۔ شہشاہ بازنطینی سلطنت نے اس انقلابی تبدیلی پر دھمکی دی کہ اگر عبد الملک نے اسلامی سکوں کا ڈھالنا بند نہ کیا تو وہ اپنے سکوں پر ایسے نازبیا کلمات درج کروائے گا جن سے رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو۔ عبد الملک نے اس دھمکی کا کوئی اثر نہ لیا اور اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ اسی وجہ سے شہشاہ بازنطینی سلطنت، جستینی دوم نے اعلان جنگ کر دیا، جس کے نتیجے میں جنگ سباستوپولیس 692ء میں لڑی گئی جس میں عبد الملک بن مروان کے سوتیلے بھائی محمد بن مروان نے بازنطینی سپہ سالار لئونتیوس کو شکست دے کر اس بحث کا خاتمہ کر دیا-

695ء، 76ھ میں دمشق میں ٹکسال تعمیر کی گئی۔ حجاج بن یوسف نے کوفہ میں بھی ایسی ہی ایک ٹکسال قائم کی۔ سونے اور چاندی کے دینار میں بالعموم ایک اور دس کی نسبت تھی۔ اگرچہ اس نسبت میں بعض اوقات تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں۔ اسلامی سکے کی معیار قدرو قیمت اور خوبصورتی کی بدولت بہت جلد اقوام عالم نے ان کو قبول کر لیا۔