اسلام اور تبنیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عربوں میں اسلام سے قبل کی رسموں میں سے ایک اور رسم یہ بھی تھی کہ منہ بولے بیٹے (متبنی) کو وہاں پر حقیقی بیٹا سمجھ لیا جاتا اور اس پرحقیقی بیٹے کے احکام جاری کر دیے جاتے۔ اسی لیے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جاہلی رسم کو مٹانے اور عملی طور پر اس کی تردید کے لیے اپنے متبنیٰ زید بن حارثہ (یہ حضور اقدس ﷺم کے غلام تھے لیکن آپ نے ان کو آزاد فرماکراپنا منہ بولا بیٹا بنالیا تھا اوراپنی باندی ام ایمن سے ان کا نکاح فرمادیا تھا جن کے بطن سے ان کے صاحبزادے اسامہ بن زید پیدا ہوئے ) کی مطلقہ بیوی زینب بنت جحش سے نکاح فرمایا تو کفار و مشرکین وغیرہ نے اس پر گویا آسمان سر پر اٹھا لیا اور طرح طرح کے الزامات اور اعتراضات گھڑنا اور پھیلانا شروع کردیے۔ تو اس پر ان آیات کریمہ میں اصل حقیقت کو واضح فرمایا گیا اور بتایا گیا کہ لے پالک اور منہ بولے بیٹے محض تمہارے منہ کے کہنے سے اصل اور حقیقی بیٹے نہیں بن جاتے بلکہ انسان کا اصل اور حقیقی بیٹا وہی ہوتا ہے اور وہی ہو سکتا ہے جو اس کی صلب اور اس کے نطفے سے پیدا ہوا ہو اور بس۔ سو جس طرح کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح کسی کے دو باپ بھی نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے منہ بولے بیٹے کو اس کے اصل باپ کی نسبت سے بلانے پکارنے کا حکم دیا گیا [1]

  • عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ ربیعہ (بدری صحابی) نے سالم کو اپنا بیٹا بنایا اور ان کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بن ولید بن عتبہ سے کیا حالانکہ سالم ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی زید کو اپنا بیٹا بنایا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ متبنی کو لوگ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے اور اسے اس کی میراث میں سے حصہ دیتے۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی تم انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہی اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں الغرض جس کے باپ کے متعلق علم نہ ہو تو وہ دینی بھائی اور دوست ہے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مدنی کبیر اسحاق مدنی سورہ الاحزاب آیت4
  2. سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1136