اسلام میں انجیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

انجیل کا لفظ مسلمانوں کے نزدیک چار آسمانی کتب میں سے اس کتاب پر بولا جاتا ہے جو اسلامی عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ قرآن مقدس کے مطابق اللہ نے چار بڑی کتب نازل کیں، جن میں زبور، تورات، انجیل اور قرآن شامل ہے۔ مسلمان اس انجیل کو محرف شدہ مانتے ہیں جو مسیحی عوام کے پاس موجود ہے۔ مسیحیت میں انجیل مسیح یعنی عیسیٰ نبی پر نازل نہیں ہوئی، بلکہ بعد میں حواریوں اور ان کے شاگردوں نے روح القدس کی مدد سے اپنے الفاظ میں دنیاؤی وسائل اسستعمال کرتے ہوئی لکھیں۔ اسلام میں چار اناجیل کا تصور بھی موجود نہیں، جب کہ موجودہ مسیحیت انجیل کے چار الگ الگ نسخوں پر انجیل کا لفظ بولتے ہیں۔انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو قرآن مجید میں بیان کردہ کتابوں میں تورات اور زبور کے بعد تیسری کتاب ہے۔ یہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔

موجودہ بائبل کے عہد نامہ جدید کی پہلی چار کتابیں اناجیل اربعہ کہلاتی ہیں جن کے نام:

اشتقاقیات[ترمیم]

یونانی زبان کے لفظ ایون جولین/Euangelion سے عربی میں (براستہ حبشہ[1]) یہ لفظ انجیل بن گیا۔یہ لفظ ایون جولین/Euangelion عہد نامہ جدید میں تقریباً سو بار آیا ہے۔ اردو پروٹسٹنٹ ترجمہ میں صرف گیارہ مرتبہ ہی اس کا ترجمہ انجیل گیا گیا ہے۔ باقی تمام مقامات پر خوشخبری کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ نئے عہد نامہ کے پروٹسٹنٹ ترجمہ میں لفظ انجیل اور خوشخبری بلا متیاز ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے گئے ہیں[2]۔کیتھولک ترجمہ (اردو) میں ہر جگہ انجیل ہی ترجمہ کیا گیا ہے۔

عہد نامہ جدید میں کسی جگہ بھی انجیل سے مراد کوئی کتاب نہیں ہے۔[1] بلکہ ہر جگہ یہ مسیحی عقیدہ کہ مسیح نے ان کے لیے جان دی اور نجات کا ذریعہ بنا، اور وہ پھر واپس آئے گا، یہ ہی خوشخبری کے معنی رکھتا ہے۔ 150ء کے بعد ہی انجیل کا لفظ نئے عہد نامہ کے لئے استعمال ہونا شروع ہوا۔[3](قرآن: سورۃ الحدید:27) میں آ جانے کی وجہ سے پھر جہاں جہاں اسلام پہنچا اس زبان میں بھی مسیحی عہد نامہ جدید کی پہلی چاروں کتب اور بعض اوقات سارے عہد نامہ جدید کے مجموعہ کو انجیل کہا جانے لگا۔

قرآن میں لفظ انجیل (الانجیل) اس صحیفے کے ليے استعمال ہوا ہے جو اسلامی عقیدے کے مطابق عیسیٰ نبی پر نازل ہوا۔[4] جبکہ کہ مسیحیت میں انجیل مسیح (عیسیٰ نبی) پر نازل نہيں ہوئی بلکہ بعد میں کچھ حواریوں یا ان کے شاگردوں (جن پر اختلاف ہے) نے الہام سے اپنے الفاظ کے مطابق لکھیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالا جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 قاموس الکتاب (لغات بابئل)، طبع ہشتم، 2005ء صفحہ 93، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور۔
  2. رومیوں،1:15، 16:2، افسیوں 1:13، 16:19
  3. جس کا متن میں موجود انجیل کے مفہوم سے تعلق نہیں ہے
  4. قرآن مقدس، سورۃ الحدید، آیت 27