اسلام میں جادو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں جادو دین میں ہلاکت لانے والے کئی امور کا جامع بتایا گیا ہے۔ مثلا جنّوں اور شیطانوں سے مدد طلب کرنا، غیر اللہ سے دل کا ڈرنا، اللہ پر توکل کو چھوڑ بیٹھنا اور لوگوں کے مفادات و ذرائع معاش کو تباہ کرنے کے درپے ہونا وغیرہ۔ جادو معاشرے کی جڑیں کاٹنے اور اس کی بنیادیں گرانے والا آلہ ہے اور یہ خاندانوں میں جھگڑے و فسادات پیدا کرنے کا سبب بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :

سات مہلک چیزوں سے اجتناب کرو " ۔ صحابہ کرام م نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ کون کونسی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
  1. اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا ۔
  2. جادو
  3. اس شخص کو قتل کرنا جس کی جان کو ناحق مارنا اللہ نے حرام کر رکھا ہے ۔
  4. سود خوری کرنا ۔
  5. یتیم کا مال کھا جانا ۔
  6. جنگ کے دن ( میدان سے ) پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلنا ۔
  7. اور بھولی بھالی پاکدامن و بے قصور عورتوں پر تہمت و بہتان لگانا "۔ [1]

جادو گر اور شیطان[ترمیم]

شیطان جادو گر کو بھڑکاتا ہے تاکہ وہ جادو کرے اور اللہ کے بندوں کو اذیت و تکلیف پہنچائے چنانچہ اسی سلسلہ میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے :

وہ ان سے وہ ( جادو ) سیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ میاں بیوی کے مابین تفریق و علیحدگی پیدا کر دیتے ہیں۔( [2]

اسی طرح ارشاد الہی ہے :

وہ ایسی چیز ( جادو ) سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان ہی پہنچاتا ہے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا "۔ [2]

جادو اذن الہی کے تابع[ترمیم]

ہر جادو مسحور پر اثر انداز نہیں ہوتا کتنے ہی جادو گر ہیں کہ انہوں نے اپنی طرف سے کسی پر جادو کا بھرپور وار کیا مگر اس پر ان کے جادو کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ارشاد الہی ہے :

وہ کسی کو اس ( جادو ) کے ذریعے نقصان نہیں دے سکتے سوائے اللہ کے حکم کے۔ [2]

جبکہ نفع و نقصان تو سارے کا سارا اللہ تعالٰی ہی کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ( حدیث معاذ میں ہے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو کہ اللہ تعالٰی نے تمہارے مقدر میں لکھ رکھا ہے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]