اسلام میں زنا کی سزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زنا اور نکاح میں فرق

غیر ازدواجی زنا کی سزا رجم کا ذکر احادیث میں آتا ہے لیکن قرآن میں زنا کی سزا کے طور پر اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس سزا کی موجودگی قرآن سے ثابت نہیں ہے؛ مزید یہ کہ کم از کم چار صالح اور مقتدر گواہ ایسے ہونا لازم ہیں کہ جو اس واقعہ کا مفصل اور آنکھوں دیکھا حال بیان کر کے اس کی شہادت دے سکتے ہوں؛ یعنی ان گواہوں نے متعلقہ افراد کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو (اور زنا کی تعریف کے مطابق مرد کے قضیب کا عورت کے مہبل میں ادخال لازم ہے، گویا گواہوں کا اس ادخال کو دیکھنا رجم کی گواہی کی شرط بنتا ہے)۔[1] اور اگر ان میں سے کسی کی بھی گواہی غلط ثابت ہوتی ہو تو ان گواہوں پر خود سخت سزا لازم ہوتی ہے۔ رجم پر آج بھی مسلم دنیا میں متنازع افکار پائے جاتے ہیں جبکہ غیر مسلم دنیا میں مسلم علما کی جانب سے بھی رجم کی سزا کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا اور نا ہی کوئی فرد رجم کی سزا دینے کا مستحق قرار دیا جاتا ہے[2] پتھروں سے مارنے کے عمل (رجم) کا ذکر ناصرف اسلامی، بلکہ قدیم یونانی، یہودی اور مسیحی دستاویزات میں بھی ملتا ہے۔

زناشرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور اسلام میں اس کے مرتکب کے لیے سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ قتل کے بعد زنا سے بڑھ کر کوئی اور گناہ ہو۔

زنا کی تعریف[ترمیم]

مسلم علما زنا کی تعریف کے بارے میں مختلف سطحوں کا نظریہ پیش کرتے ہیں اور اس لحاظ سے کوئی بھی ایسا فعل جس میں جنسی تسکین اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے خلاف حاصل ہو وہ زنا میں شمار ہو جاتا ہے؛ ان افعال میں بوسہ، مخالف جنس کو چھونا، جنس دہن حتٰی کے مخالف جنس کی جانب دیکھنا یا جنسی خیالات رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونا بھی زنا میں شمار کیا جاتا ہے۔[3] علما کے مطابق کچھ زنا ایسے ہیں جن پر کوئی سزا (عام حالات میں) نہیں دی جاتی جبکہ وہ زنا جس پر سزا نافذ ہوتی ہے اس کی قانونی تعریف وہی ہے جو اس مضمون کے ابتدایئے میں درج کی گئی ہے یعنی عورت اور مرد کے جنسی اعضاء کا ایک دوسرے میں داخل ہونا، اس قسم کے زنا کے علاوہ دیگر اقسام کے زنا پر اگر فحاشی یا حرام کاری کی سزا ہو بھی تو وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے نا کہ سو کوڑوں یا رجم کی سزا۔

گواہوں کا بیان[ترمیم]

جیسا کہ ابتدایئے میں ذکر ہوا کہ زنا کی سزا کے نفاذ کے لیے چار ایسے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جنہوں نے زنا (جماع یا قضیب کے مہبل میں دخول) کے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا دوسری صورت اس سزا کے نفاذ کی یہ بن سکتی ہے کہ اس عمل کے مرتکب ہونے والے افراد خود اس کا اقرار کر لیں۔ چار گواہوں کا بیک وقت دو افراد کو جماع کرتے ہوئے ان کے جنسی اعضاء کی ایک دوسرے میں رسائی یا دخول کو دیکھ لینا عام حالات میں منطقی طور پر ناممکن ہی ہے اور شاید بہت ہی کم ایسے اشخاص ہوں گے جو اس عمل کے مرتکب ہونے کے بعد خود اس کا اقرار کریں[4] اور اپنے آپ کو سنگسار کروانے کے لیے پیش کریں۔ اب رہ جاتی ہے ایک اور صورت اور وہ ہے عورت کا حاملہ ہو جانا۔ پھر یہ کہ ان گواہوں میں سے کسی کی اگر گواہی ناقص ثابت ہو تو ان پر خود سخت سزا لازم آتی ہے؛ اور کسی پر اس قسم کا الزام لگانے والوں کے بارے میں قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ: اور وہ لوگ جو تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر نا لاسکیں وہ چار گواہ تو کوڑے مارو انہیں اسی (80) کوڑے اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کبھی بھی۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں[5]

حرمت زنا کے بارے میں فرامین الِہی[ترمیم]

فرمان باری تعالٰیٰ ہے:

وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے [6]

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ
زانیہ اور زانی، کوڑے مارو ہر ایک کو ان دونوں میں، سوسو کوڑے [7]

زنا حرمت میں احادیث مبارکہ[ترمیم]

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔

  • شادی شدہ مرد اور عورت زناکریں تو دونوں کو سنگسار کردو یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے۔[8]
  • زانی ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا ( یعنی جب وہ زنا کرتا ہے تو ایمان سے خالی ہوجاتا ہے)۔‘‘[9]
  • رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’ ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا۔ ‘‘[10]

زنا کے حرام ہونے کی حکمت[ترمیم]

اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا،ہرمسلمان کی عزت، نفس اور روح کی طہارت باقی رکھنا اوراچھے نسب کے لوگوں کو ملاوٹ کی غلاظت سے محفوظ کرنا۔

زانی پر حد قـا ئم کرنے کی شرائط[ترمیم]

زنا کرنے والا مسلمان، عاقل اور بالغ ہو جس نے یہ جرم اپنے اختیار سے کیا ہو اور جرم کے لیے اس پر کوئی زبردستی نہ کی گئی ہو۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ 3 قسم کے لوگوں کا کوئی عمل نہیں لکھا جاتا

  1. نابالغ جب تک بالغ نہ ہو جائے۔
  2. سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو جائے
  3. مجنون جب تک ٹھیک نہ ہو جائے‘‘[11]

وضاحت:۔ یعنی نابالغ سے ان گناہوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا جن کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔ جن گناہوں کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے مثلاً قتل، چوری وغیرہ تو ان گناہوں کے متعلق نابالغ سے بھی باز پرس کی جائے گی

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’میری امت کی بھول چوک اور جس چیز پر وہ مجبور کیے جائیں معاف کر دیا گیا ہے ۔‘‘[12]

رجم یعنی زنا کارپر حد قائم کر نے کاطریقہ[ترمیم]

مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: رجم

زمین میں گڑھا کھودا جائے۔ زانی کو اس میں کھڑاکرکے،سینہ تک اس کو مٹی سے دبادیاجائے اور پھر پتھر مارے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ یہ کارروائی امام اورمسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے کی جائے۔ فرمان الٰہی ہے :۔ (ترجمہ) اور ان کی سزا کے وقت ایمان والوں کی ایک جماعت حا ضر ہونی چاہیے۔[13] رجم کے بارے میں عورت اور مرد کا حکم برابر ہے۔ البتہ عورت کے کپڑے باندھ دیے جائیں تاکہ وہ بے پردہ نہ ہو ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. David Pearl۔ A textbook on Muslim personal law۔ Croom Helm Australia۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت) آن لائن کتاب
  2. دارالافتاء کی جانب سے رجم پر ایک فتویٰ
  3. دارالافتاء پر زنا کی متعدد سطحوں کا بیان
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Asghar نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. قرآن سوت 24 آیت 4
  6. قرآن؛ سورت 17 آیت 32
  7. قرآن؛ سورت 24 آیات 1 تا 2
  8. احمد۔ عن ابی بن کعب ما
  9. صحیح بخاری۔ عن عبد اللہ بن عمرو ما
  10. صحیحین۔ عن عبد اللہ بن مسعود
  11. ابن ما جہ۔ عن عائشہ ا
  12. بیہقی۔ عن ابی ذر
  13. سورۃ النور 24:آیت 2