اسلام میں عورت کی گواہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں عورت کی گواہی ایک متنازع مسئلہ ہے۔ اختلاف کی وجوہات میں سے ایک قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کا مندرجہ ذیل ارشاد ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ ...
اے ایمان والو! جب تم کسی وقت مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھنے والے انصاف سے لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو اللہ نے سکھایا ہے سو اسے چاہیے کہ لکھ دے اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور اللّہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہو تاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے ...


پاکستان کے کچھ عالم جن میں جاوید احمد غامدی، محمد اکبر، محمد حنیف اور غلام احمد پرویز شامل ہیں، وہ تمام اس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عورت کی آدھی گواہی صرف معاملات کے لیے ہے جہاں کسی کو گواہ بنایا جائے۔ جرائم کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔

قانونی حیثیت[ترمیم]

وہ ممالک جہاں بعض مقدمات میں عورت کی گواہی مرد کے مقابل نصف حیثیت رکھتی ہے۔

OIC وہ ممالک جہاں پر عورت کی گواہی مرد کے مقابل تمام قسم کے مقدمات میں قبول کی جاتی ہے :

بیرونی روابط[ترمیم]

عورت اور قرآن از محمد حنیف

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  2. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  3. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  4. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  5. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  6. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  7. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  8. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  9. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  10. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  11. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  12. "Right to equal protection by the law". BBC World Service. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  13. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  14. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  15. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  16. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014. 
  17. "Gender Equality Profile" (PDF). Unicef. 2011. اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2014.