اسلام کی مختصر تاریخ (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسلمانوں کا سیاسی عروج و زوال برطانیہ کی معروف مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ (Karen Armstrong) کی تحریر کردہ کتاب Islam: A Short History کا اردو ترجمہ ہے۔ محمد احسن بٹ کی ترجمہ شدہ یہ کتاب دور رسالت سے لے کر سن 2000 عیسوی تک کی اسلامی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے بارے میں بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسلام کی مختصر تاریخ کے حوالے سے یہ ایک موزوں ترین کتاب ہے جس میں مصنفہ نے اسلام کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ہے، مزید براآں مصنفہ نے اسلام کے بنیادی عقائد کا بھی تجزیہ کیا ہے اور مسلمانوں کے عروج اور زوال کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ کتاب جو نگارشات لاہور کی شائع کردہ ہے کے فلپر پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے۔[1]

فنانشل ٹائمز کا تبصرہ[ترمیم]

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک، دین اسلام، کو اس کے وجود میں آنے کے بعد 1500 برس کے دوران غلط سمجھا گیا ہے۔ حالیہ صدیوں میں مغربی دنیا فکر کے ایک مکمل انقلاب سے گزرچکی ہے، تاہم اسلام کے حوالے سے اس کی بے اعتمادی اب بھی جوہری طور پر وسطی عہد والی ہی ہے۔ آخری صلیبی جنگ Crusade کے سات صدیوں بعد سے اسلام کے مقدس مقامات تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس کی افواج جو کبھی الوہی جبروت کا مظہر تھیں، اب سیکولرازم سے نبرد آزما ہیں۔ “بنیاد پرست“ جنونی، عورتوں پر جبر کرنے والے، بے رحم، سفاک، دہشت گرد، استبداد کرنے والے یہ ہیں نئی اسلامی قہاری کے بارے میں مغالطے۔ کیرن آرم سٹرانگ کی یہ کتاب Islam: A Short History (یعنی اردو میں مسلمانوں کا سیاسی عروج و زوال) ان سب مغالطوں کو رد کرتے ہوئے ایک ایسے عقیدے کو روشنی میں لے کر آتی ہے جس نے سپاہیوں کے ساتھ عالموں، صوفیوں اور شاعروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کتاب سے واضع ہوتا ہے کہ اسلام نہ صرف دنیا کا ایک سب سے زیادہ اہم اور بااثر مذہب ہے بلکہ دنیا کی ایک سب سے زیادہ دلکش تہذیب کی بنیاد بھی۔ یہ کتاب (اسلام کے بارے میں) ایک مکمل اور رہنما گائیڈ ہے ۔۔۔۔۔۔ نیز تعصب کا تریاق بھی“۔

کتاب کے پیش لفط میں مصنفہ لکھتی ہیں “اسلام میں مسلمانوں نے اللہ کو تاریخ میں دیکھا ہے۔ ان کی مقدس کتاب قرآن نے انہیں ایک تاریخی مقصد(مشن) سونپا ہے۔ ان کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ ایسا عادلانہ معاشرہ قائم کریں جس کے تمام افراد حتٰی کہ انتہائی کمزور اور بے بس لوگوں سے بھی انصاف اور احترام کے ساتھ برتائو کیا جائے۔ ایک ایسے معاشرے کو قائم کرنے اور اس میں جینے کا تجربہ انہیں الوہی ہستی سے آشنا کروائے گا کیونکہ وہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔ ایک مسلمان کو تاریخ کے ساتھ قول نبھانا پڑتا تھا اور اس کا مطلب تھا کہ ریاست کے معاملات روحانیت سے الگ نہیں تھے۔ بلکہ بذات خود مذہب کا حصہ تھے۔ (مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام ایک نظام حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے، یہ چند رسومات پر مبنی دیگر مذاہب کی طرح صرف ایک مذہب نہیں) مسلمان برادری کی سیاسی بہبود ایک سب سے زیادہ اہمیت کا معاملہ تھا۔ کسی بھی مذہبی آئیڈیل کے مانند تاریخ کے خراب اور الم ناک حالات میں اس کا نفاذ بھی ناممکن حد تک مشکل تھا تاہم ہر ناکامی کے بعد مسلمانوں کو اٹھنا اور دوبارہ آغاز کرنا ہوتا تھا“۔

کتاب کی ابتدا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی پر وحی کے واقعہ 610ء سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں خلفائے راشدین کے سنہری دور کے بعد پہلے فتنے کا ذکر کرتے ہوئے تمام ادوار کا احاظہ کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو صلیبیوں اور منگولوں کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ اسلام کی شروعات، ارتقا، عروج، تاتح اسلام کے بعد حالیہ تین صدیوں پر مشتمل واقعات الم زدہ اسلام کا نام دیا گیا ہے۔

مسلمانوں کے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ نے (صفحہ نمبر 123 پر ) لکھا ہے کہ “ اسلام ایک مستحکم عقیدہ ہے۔ مسلمانوں نے تاریخ میں تباہیوں کا مقابلہ مثبت انداز میں کیا ہے اور ان کو تعمیری طور پر استعمال کرتے ہوئے تازہ مذہبی بصیرتیں حاصل کی ہیں۔ ایسا ہی منگول یورش کے بعد ہوا جب لوگ واضع طور پر محسوس کر رہے تھے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے تاہم ایک بالکل نیا عالمی نظام بھی ممکن تھا“۔

مغلوں پر تبصرہ[ترمیم]

مغلیہ سلطنت کے بارے میں ان کا تبصرہ ہے کہ ایران میں شاہ اسماعیل صفوی (July 17, 1487 - May 23, 1524) نے جب سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا تو اس کی شیعہ علما نے بھی مخالفت کی مگر شاہ اسماعیل نے ایک نہ سنی۔ ان حالات میں بابر نے فرار ہوکر ہندوستان میں پناہ لی اور اقتدار بھی حاصل کر لیا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کو عیش و عشرت میں مبتلا ا ور فضولیات پر سرمایہ کے ضیاع کو قرار دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ سترہویں صدی کے آغاز میں دربار کے مصارف بہت بڑھ چکے تھے بادشاہ ثقافتی سرگرمیوں پر سرمایہ لٹا رہے تھے۔ مگر انہوں نے زراعت کو نظر انداز کر رکھا تھا جن پر ان کی دولت کا انحصار تھا۔

سلطنت عثمانیہ پر مصنفہ کی رائے[ترمیم]

عثمانیوں نے 1453ء میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو فتح کیا اور ایک سلطنت قائم کی۔ سلطان سلیم اول 1520-1467 جس نے ایرانی صفویوں کی پیش رفت کو روکا تھا، ایک فاتحانہ جنگ میں تبدیل ہو گئی جس کے نتیجے میں شام اور مصر اور بعد ازاں شمالی افریقہ اور عرب ریاستیں بھی عثمانی کے زیر تسلط آگئیں۔ ادھر مغرب میں بھی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور 1530ء میں ترک ویانا تک پہنچ گئے۔ وسیع و عریض سلطنت کی کامیابی کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ نے لکھا ہے کہ “سلطان نے نہ تو اپنی رعایا پر یک رنگی مسلط کی اور نہ اپنی سلطنت کے الگ الگ عناصر کو ایک ہی بڑی جماعت میں ڈھلنے پر مجبور کیا۔ حکومت صرف لا ئحہ عمل مرتب کردیتی جس کے تحت مختلف گروہ مسیحی، یہودی، عرب، ترک، بربر، تاجر، علما، صوفیا اور تجارتی تنظیمیں —امن و امان کے ساتھ رہتے۔ ہر کوئی اپنا اپنا کردار ادا کرتا اور اپنے عقائد اور رسوم و روایات پر عمل کرتا۔ اہم بات یہ تھی کہ عثمانی رعایا ایک شرعی ریاست سے تعلق رکھنے پر فخر محسوس کرتی۔ قرآن کی تعلیمات تھیں کہ امت اگر قرآن کے قوانین کے مطابق چلے تو خوشحال ہوگی۔

ترکوں کے زوال کی وجہ بھی بالآخر حکمرانوں کی عیش و عشرت بنی زرعی معاشرے کی حامل سلطنت مملکت کی توسیع کا ساتھ نہ دے سکی جس کے نتیجے میں عسکری نظام کمزور ہوتا گیا۔ معاشی عدم استحکام نے جنم لیا جس نے بدعنوانی اور ٹیکس چوری کو فروغ دیا۔ ایک جانب محصولات میں کمی ہو رہی تھی مگر دوسری جانب حکمرانوں کی عیش و عشرت اسی طرح جاری تھی۔

ترکوں کا یورپیوں کو مراعات کا نتیجہ[ترمیم]

عثمانیوں نے ابتدا میں یورپی طاقتوں کو زبردست شکست سے دوچار کیا مگر اٹھارویں صدی کے آخر تک وہ ان کا سامنا کرنے کے اہل رہے اور نہ ہی برابری کی بنیاد پر ان سے معاملہ کرنے کے قابل رہے۔ ان حالات میں وہ یورپی تاجر جنہیں عثمانیوں نے خصوصی مراعات دے اور قانون کی پابندیوں سے مستشنٰی قرار دے کر رہنے کی اجازت دی گئی تھی وہ سر اٹھانے لگے۔ ان یورپیوں کے جرائم پر انہی کے قوانین کے مطابق انہی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے تھے اور ان عدالتوں میں یورپی وکلا ہی پیش ہوا کرتے تھے۔ عثمانیوں کے یہ مہمان کمزور ہوتی سلطنت کو دیکھ کر کنٹرول سے باہر ہو گئے تھے اور باغیانہ روش اپنا رہے تھے۔

مذہب اسلام پر اظہار خیال[ترمیم]

مذہب اسلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیرن آرم سٹرانگ لکھتی ہیں کہ اگرچہ اٹھارویں صدی کے اواخر تک تین عظیم مسلم سلطنتیں زوال پزیر ہوچکی تھیں مگر یہ اسلام کی جوہری نااہلی یا بدقسمتی نہ تھی جیسا کہ یورپی اکثر تکبر کے ساتھ سوچتے ہیں۔ ہر زرعی معاشرے کا دور حیات محدود ہی ہوا کرتا ہے اور یہ مسلمان ریاستیں جو زرعی معاشرے کا آخری نمونہ تھیں، اپنے فطری اور ناگزیر انجام سے دوچار تھیں۔ جدید دور سے پہلے خود مغربی اور مسیحی طاقتیں بھی اسی طرح کے زوال سے گزرچکی تھیں۔ اس سے پہلے بھی مسلمان ریاستیں زوال کا شکار ہوچکی تھیں اور ہر مرتبہ مسلمان قفس کی طرح خاک سے اٹھ کر آسمان تک پہنچ گئے تھے اور عظیم ترین کارنامے سر انجام دیتے رہے تھے۔

فلسطین اور اسلامی دنیا[ترمیم]

وہ لکھتی ہیں کہ فلسطین کا چھینا جانا، مغربی طاقتوں کے ہاتھوں اسلامی دنیا کی تذلیل کی ایک علامت بن گیا، جس کا ضمیر لاکھوں فلسطینیوں کی مستقل بے وطنی پر ذرا بھی ملامت کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

اسلامی دنیا میں سیکولرازم کی آمد[ترمیم]

مصنفہ لکھتی ہیں کہ ابتدائی زمانے میں ہی کچھ مسلمان مغرب کی محبت میں مبتلا تھے ان میں ایرانی دانشور ملکوم خان (1908-1833) اور آقاخان کرمانی (1896-1853) نے ایرانیوں کو تاکید کہ شریعت کی جگہ جدید سیکولر قانونی نظام اپنائیں کیونکہ ترقی کا واحد راستہ یہی ہے۔ مصر کے ادیب رفاح التحتوی (1873-1801) بھی اسی نظریے کے حامی تھے۔

سیکولر ازم کا نفاذ اور سفاکیت[ترمیم]

وہ لکھتی ہیں کہ جدیدیت کا زیادہ ڈرامائی پروگرام مصر کے محمد علی پاشا (1848-1769) کا تھا، جس نے مصر کو استبول سے درحقیقت آزاد کرایا اور اس پسماندہ صوبے کو جدید دنیا میں شامل کیا لیکن اس کے طریقہ کار کی سفاکی نے ظاہر کر دیا کہ اس جان لیوا رفتار کے ساتھ جدیدیت کو اپنانا کتنا دشوار ہے۔ اس نے اپنے سیاسی مخالفوں کا قتل عام کروایا۔ کہاجاتا ہے کہ مصر کے آب پاشی کے نظام کی بہتری کے لیے لی جانے والی جبری مزدوری کے نتیجے میں 23 ہزار کسان ہلاک ہو گئے۔ دیگر کسان محمد علی کی جدید فوج میں جبری بھرتی سے خوف زدہ ہوکر اپنی اعضاء کاٹنے لگے، بعض نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں اور بعض نے اپنی آنکھیں پھوڑ لیں۔ ملک کو سیکولر بنانے کے لیے محمد علی نے مزہبی طور پر وقف شدہ جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔ ایک منظم طریقے سے علما کو محدود کر دیا اور ان سے ہرطرح کے اختیارات واپس لے لیے۔ ۔۔۔ محمد علی مصر کو ایک جدید آزاد ریاست بنانے کے خواہش مند تھے۔ اس کی بجائے جدیدیت پذیری کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ حقیتا برطانوی نوآبادی بن گیا۔

مغربی غلبے کا خطرہ اور جمال الدین افغانی[ترمیم]

اسلامی دنیا میں مغرب سے آنے والے طوفان کا اندازہ ایرانی مصلح جمال الدین 1897-1839 جو خود کو الافغانی کہلاتے تھے کرچکے تھے۔ وہ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت ہندوستان میں ہی موجود تھے۔ وہ عرب، ترکی، روس یا یورپ جہاں بھی گئے انہوں نے مغرب کی بے انتہا طاقت کا مشاہدہ کیا اور انہیں یقین ہو گیا کہ مغرب جلد ہی اسلامی دنیا پر غالب آجائے گا اور اسے کچل دے گا۔ وہ مسلمان حکمرانوں کی جانب سے مغربی طرز زندگی کی کھوکھلی نقالی کے خطرات کا مشاہدہ کرسکتے تھے۔ انہوں نے یورپی خطرے کے خلاف اسلامی دنیا کے لوگوں کو متحد ہوجانے کی تلقین کی۔

مغربی غلبے کو روکنے کے لیے افغانی کی تجویز[ترمیم]

جمال الدین افغانی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو نئی دنیا کی سائنسی ثقافت کو لازمی مان لینا چاہیے مگر اپنی شرائط پر۔ وہ کہتے تھے کہ مسلمانوں کو اپنی ثقافتی روایات کو ترویج دینی چاہیے اور اس کا مطلب تھا کہ اسلام کو ترویج دینی چاہیے۔ ان کا نظریہ تھا کہ اسلام کو بدلے ہوئے حالات کا حل لازمی پیش کرنا اور زیادہ عقلیت پسندانہ اور جدید بننا ہوگا۔ ان کی سوچ کی سب اہم بات یہ تھی کہ اننہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تمہیں اجتہاد کے مدت دراز سے بند دروازوں کو کھولنا ہوگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن دونوں کی ہدایت کے مطابق اپنی آزاد عقل کو استعمال کرنا ہوگا۔

سیکولر ازم کی مخالفت[ترمیم]

نوجوان صحافی رشید رضا 1935-1865 کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ رضا سیکولرازم کی جانب بڑھتے ہوئے عرب دانشوروں پر مشتعل تھے جن کے خیال میں اسلام عوام کی پسماندگی کا سبب تھا۔ رضا کا ایمان تھا کہ ان دانشوروں کے رویئے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ امت مسلمہ مغربی استمعاریت کے شکنجے میں مزید پھنس جائے گی۔ رضا ان پہلھے مسلمانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک مکمل طور پر جدید لیکن اصلاح شدہ کی بنیادوں پر اسلامی ریاست کے قیام کی وکالت کی۔

اقبال تصوف اور سیکولرازم[ترمیم]

کیرن آرم سٹرانگ لکھتی ہیں کہ مسلم مصلحین کو مستقل احساس تھا کہ انہیں اسلام پر یورپی تنقید کا جواب دینا ہے۔ ہندوستان میں شاعر اور فلسفی علامہ محمد اقبال 1938-1876 نے اس حقیقت کو واضع کیا کہ اسلام کسی بھی مغربی نظام کے مانند عقلی ہے۔ اقبال کا عقلیت پر اسرار انہیں تصوف کو مسترد کرنے کی جانب لے گیا۔ انہوں نے اسلامی دنیا میں فووغ پاتی ہوئی باطنیت کے برعکس ایک نئے رجحان کی ترجمانی کی کیونکہ ترقی کا واحد راستہ جدید عقلیت پسندی ہی دکھائی دے رہی تھی۔ علامہ اقبال کا ایمان تھا کہ مغرب نے تسلسل (یعنی روایت) کی قیمت پر ترقی کی ہے اور مغرب کی سیکولر انفرادیت پسندی نے شخصیت کے تصور کو خدا سے الگ کر دیا ہے اور اسے بت پرست اور شیطانی بنادیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مغرب آخر کار اپنے آپ کو تباہ و برباد کرلے گا۔ اقبال کی تائید کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ اس حقیقت کو پہلی عالمی جنگ کے بعد سمجھ لینا آسان تھا اور اسے یورپ کی اجتماعی خود کشی کے طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کا مشن ہے کہ و دنیا کو چھوڑ کر مراقبے کرنے کی بجائے شریعت کے مثالیوں کو نافذ کرنے والے عمل کے ذریعے زندگی کی الوہی جہت کا مشاہدہ کریں

اسلام جدید مذہب ہے[ترمیم]

اسلام کو جدید مذہب قرار دیتے ہوئے وہ کچھ یوں رقم طراز ہیں۔ درحقیقت اسلام تو تمام اعترافی مذاہب میں سب سے زیادہ عقلی اور ترقی یافتہ ہے۔ اس کی کڑی وحدت پرستی نے انسانیت کو اساطیر کی خرافات سے نجات دلائی اور قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ و فطرت کا قریبی مشاہدہ اور غور و فکر کریں نیز اپنے اعمال کا مستقبل تجزیہ کرتے رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقلیت پسندانہ روح جس نے جدیدیت کو جنم دیا ہے، حقیقت میں اسلام سے نکلی تھی۔

انقلابی مسلم رہنما اور مصفنہ کے رائے[ترمیم]

ماضی قریب اور حال کے معروف و انقلابی مسلم رہنماؤں پر بھی مصنفہ نے رائے دی ہے۔ ان رہنماؤں کو وہ لبرل، سکیولر اور بنیاد پرست کی تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔

حسن البنا[ترمیم]

مصر کے نوجوان اسکول ٹیچر حسن البنا 1949-1906 کے بارے میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے ایک تنظیم اخوان المسلون قائم کی اور اپنا پیغام تعلیم یافتہ اشرافیہ کی بجائے عام لوگوں تک پہنچایا۔ جلد ہی یہ تنظیم پورے مشرق وسطٰی میں پھیل کر عوامی تحریک بن گئی۔ ان کا نظریہ واحد ایسا نظریہ تھا جومعاشرے کے تمام طبقوں کو متاثر کرنے کا اہل تھا۔ حسن البنا جانتے تھے کہ مسلمانوں کو مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے اور یہ کہ انہیں اپنے سیا سی او سماجی اداروں کی اصلاح لازمی کرنی چاہیے۔

جب حسن البنا نے نہر سویز کے علاقے میں برطانویوں کو عیش و عشرت کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھا تو وہ مصری محنت کشوں کی المناک حالت سے اس تضاد کو دیکھ کر روپڑے۔ حسن البنا نے عوام میں ناانصافی اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کو حل سمجھا۔ ادھر مسیحیت نے جدیدیت کے مقابلے کے چیلنج کو قبول کیا تو دوسری جانب مسلمانوں نے اس کا مقابلہ ایک سماجی یا سیاسی جدوجہد اور کوشش (جہاد) کے ذریعے دیا۔ حسن البنا کا کہنا تھا کہ اسلام ایک مکمل طرز (ضابطہ) حیات ہے اور مذہب کو مغرب کی طرح نجی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اخوان المسلمین کا کردار[ترمیم]

کیرن آرم سٹرانگ لکھتی ہیں کہ اخوان المسلمین نے نہ صرف نئے دور کی روح کے مطابق قرآن کی تعبیر کرنے کی کوشش کی بلکہ مسلم امہ کے اتحاد، معیار زندگی کو بہتر کرنے، معاشرتی انصاف کے حصول، غربت، جہالت کے خلاف جنگ اور غیر ملکی تسلط سے مسلمان ملکوں کو آزادی دلانے کے لیے بھی جدوجہد کی۔ نو آبادیاتی نظام کی حکمرانی اور مغرب کی نقالی کی وجہ سے مسلمان اپنی بنیادی اسلامی اقدار و تعلیمات سے ہٹ گئے تھے۔ جتنی زیادہ انہوں نے دوسروں کی نقل کی وہ ثقافتی اعتبار سے دوغلے ہوتے گئے۔

حسن البنا کا فلاحی کردار[ترمیم]

حسن البنا نے اپنے ساتھیوں کو تصوف کے طرز پر رائج روایتی مشقوں اور تعلیمات کی بجائے اسکول بنائے، ایک جدید اسکاؤٹ تحریک کی بنیاد رکھی، محنت کشوں کے لیے شام کے اسکول کھولے اور سول سروس کے امتحان کے لیے ٹیوٹوریل کالج قائم کیے۔ اخوانوں نے دیہی علاقوں میں کلینک اور ہسپتال قائم کیے، کارخانے بنائے جہاں مسلمانوں کو سرکاری شعبے کے مقابلے میں بہتر اجرت دی جاتی۔ وہاں صحت کی انشورنس ہوتی اور چھٹیاں ملتیں۔ البنا نے مسلمانوں کو جدید لیبر قوانین سکھائے تاکہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کرسکیں۔ دوسری جنگ عظیم تک اخوان کے لاکھوں ارکان تھے۔ ان کی کامیابی نے ثابت کیا کہ دانشور اور سیکولر حکومت کچھ بھی کرتی رہے عوام کی اکثریت جدید اور مذہبی ہونے کی خواہاں تھی۔ اس انداز کی سماجی خدمات بہت سے جدید اسلامی تحریکوں کی بھی خصوصیت بن گئی تھیں۔ جن میں شیخ احمد یاسین (حماس کے بانی) کی غزہ میں قائم کردہ المجامعہ (اسلامی کانگرس) اہم تنظیم ہے۔

جدید اسلامی ریاست یعنی کیا؟[ترمیم]

نو آبادیاتی تجربے اور یورپ سے ٹکرائو نے اسلامی معاشرے کو ہلاکر رکھ دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ جاننا دشوار تھا کہ مغرب کا جواب کیسے دیا جائے چونکہ درپیش چیلنچ نیا تھا، اس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی تھی۔ مغرب نے ترقی کے لیے سیاست اور مذہب کو الگ کر دیا تھا اور مذہب کی جگہ قوم پرستی کو فروغ دیا گیا تھا۔ پہلے تو اس نظریے نے یورپ کو متحد رکھا مگر بعد ازاں یہ نظریہ بھی ناکام ہوا اور 1870 میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہوئی جو دو عالمی جنگوں کا باعث بنی۔ ہولوکاسٹ اور روسی گولاگ Gulag نے ثابت کیا کہ سیکولر نظریات قدیم مذہبی تعصبات ہی کی طرح ہلاکت انگیز ہیں۔ روشن خیال فلسفیوں کا یہ نظریہ خام خیالی ثابت ہوا کہ قوم جتنی تعلیم یافتہ ہوگی اتنی ہی مہذب، روادار اور عقلیت پسند ہوگی۔

مسلمانوں کے سیاسی نظام کا مطلب[ترمیم]

کرین اآرم سٹرانگ لکھتی ہیں کہ مسیحیوں کی طرح مسلمانوں کے نزدیک سیاست ثانوی معاملہ کبھی بھی نہ تھا۔ ہم دیکھ آئے ہیں کہ یہ تو ان کی مذہبی جستجو کی آماجگاہ رہی تھی۔ اسلام میں نجات کا مطلب صرف گناہ سے نجات نہیں تھا بلکہ ایک ایسے منصفانہ معاشرے کی تخلیق بھی مقصود تھی جہاں کوئی فرد آسانی سے اپنی پوری ہستی کو وجودی اطاعت کے لیے وقف کر دے۔ جس سے اسے سکون و طمانیت حاصل ہو۔ چنانچہ سیاست انتہائی اہم معاملہ تھا اور پوری بیسویں صدی کے دوران ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے یکے بعد دیگر کوششیں کی جاتی رہیں۔ مگر ایسا ہمیشہ دشوار ہی رہا۔ یہ تو ایک ایسی آرزو تھی جس کے لیے جہاد ضروری تھا۔

سیکولرازم اور اسلام پر مغربی رائے کی غلطی[ترمیم]

مصفنہ سیکولرازم اور اسلام کے بارے میں اپنے مغربی معاشرے کی رائے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ یہ غلط تھا، جیسا کہ مغربی لوگ بعض اوقات تصور کرتے ہیں اسلام مسلمانوں کے لیے ایک جدید سیکولر معاشرے کو تخلیق کرنا ناممکن بنا دیتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں سیکولرپذیری کا عمل بہت مختلف رہا ہے۔ مغرب میں عمومی طور پر موافق سمجھتے ہوئے اس کا تجربہ کیا گیا۔ ابتدائی ایام میں تو سیکولرازم کو جان لاک (1704-1632) جیسے فلسفیوں نے مذہبی ہونے کا ایک نیا اور بہتر طریقہ تصور کیا تھا، کیونکہ یہ مذہب کو ریاستی گرفت سے آزاد کرواتا تھا اور اسے اپنے روحانی آدرشوں کو سچائی کے ساتھ بروئے عمل لانے کے قابل بناتا تھا تاہم اسلامی دنیا میں سیکولرازم میں مذہب اور مذہبی لوگوں کو ہمیشہ ہی تنقید اور مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔

سیکولر مسلم حکمرانوں کے مظالم کا تذکرہ[ترمیم]

وہ سیکولر مسلم حکمرانوں کے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے مختلف حکمرانوں کی مثال یتے ہوئے لکھتی یں کہ مذہبی لوگوں کو شدید مظالم کا شکار بنایا گیا۔ جن حکمرانوں کو وہ بطور مثال پیش کرتی ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

کمال اتاترک کے مظالم[ترمیم]

اتاترک نے ترکی میں تمام مدارس کو بند کر دیا، تمام صوفی سلسلوں کو دبایا اور ترکی کے مردوں اور عورتوں کو مجبور کیا کہ وہ جدید مغربی طرز زندگی اختیار کریں اور مغرب کے لوگوں جیسا لباس زیب تن کریں۔

ایک اسلامی اسکالر خرم جاہ مراد مرحوم کا کہنا ہے کہ ترکی میں نہ صرف یہ کہ لباس کو جبری طور پر مغربی کروایا گیا بلکہ قوم پرستی کے دھارے میں بہہ کر عربی اور اسلام سے بھی نفرت پیدا کی گئی۔ ترکی میں 28 برس تک اذان نہ ہو سکی۔ نمازوں پر پاببدی عائد کی گئی مگر جب 28 برس بعد اذان ہوئی تو بچے، بوڑھے اورجوان مسجد کی جانب روتے ہوئے بھاگے۔ بعد ازاں اذان کی پابندی ختم کرنے والے حکمران کو فوج نے پھانسی دے دی تھی۔ ترکی نے بیسویں صدی کی ابتدا میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ترقی مغرب کے طور طریقوں میں ہے لہٰذا وہاں پر شادی و نکاح بھی مغربی طرز پر ہونے لگے چونکہ اسلامی طرز کے ہر اقدام پر پابندی عائد تھی۔ (بحوالہ عروج کا راستہ)

کیرن آرم سٹرانگ کا بھی تجزیہ ہے کہ ایسے اقدامات ہمیشہ تخریبی ہوا کرتے ہیں اور ترکی میں بھی اس قسم کی پابندیوں سے اسلام ختم نہیں ہوا بلکہ زیرزمین چلا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Karen Armstrong۔ Islam: A Short History۔ آئی ایس بی این 0-8129-6618-X۔ Preface. xi