مندرجات کا رخ کریں

اسلم پرویز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اسلم پرویز
معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1932ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 نومبر 1984ء (52 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان
برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکار   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر  (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اسلم پرویز (انگریزی: Aslam Pervaiz) (ولادت: 12 فروری 1932ء – وفات: 21 نومبر 1984ء) پاکستانی فلمی اداکار تھے۔‌ اسلم پرویز کا اصل نام ضیا تھا اور انھوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز 1955ء میں انور کمال پاشا کی فلم قاتل سے کیا تھا۔ یہ فلم اداکارہ نیئر سلطانہ کی بھی پہلی فلم تھی۔[1] اسلم پرویز نے اپنے کیرئیر کے ابتدائی دور میں پاٹے خان، پردیسن، چھو منتر، کوئل اور نیند جیسی فلموں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا، جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔[2]

فلمی کیریئر کا آغاز

[ترمیم]

اسلم پرویز نے 1966 میں بطور ولن اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور فلم پھنے خان میں نورجہاں کے ساتھ بطور ہیرو کردار ادا کیا۔ 1950ء کے دہائی میں پاکستانی فلمی صنعت کو اسلم پرویز کی شکل میں ایک نہ صرف مقبول ہیرو بلکہ کامیاب ولن بھی ملا، جس نے ہر روپ میں بے مثال اداکاری کی اور ان کی فلموں کو شائقین میں زبردست پزیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی فلموں میں جذبات، سنسنی اور کردار کی گہرائی کی وجہ سے انھیں ہر عمر کے ناظرین میں مقبولیت حاصل رہی۔ انھوں نے ویلن کے کرداروں میں پیچیدگی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا، جس سے ہر کردار حقیقی محسوس ہوتا تھا۔ ان کی اداکاری کا انداز ہر فلم میں نیاپن اور تازگی لے کر آتا تھا، جس نے فلمی مناظر کو دلچسپ اور یادگار بنایا۔ اسلم پرویز کی مقبولیت کا راز ان کے کردار کی تیاری، مکالمہ بازی اور ہلکی چھوٹی اداکاری میں پوشیدہ تھا۔ ان کے ویلن کردار اکثر فلم کی کہانی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے تھے اور ناظرین کے ذہنوں میں دیرپا اثر چھوڑتے تھے۔ نقادوں نے ان کے اداکاری کے تنوع اور ہر کردار میں مکمل غرق ہونے کی صلاحیت کی بارہا تعریف کی۔ ان کی فلمیں نہ صرف تجارتی طور پر کامیاب رہیں بلکہ فنکارانہ اعتبار سے بھی سراہا گیا۔

مرکزی کرداروں سے منفی پیش کشی کی جانب کوچ

[ترمیم]

ابتدائی دور میں وہ فلموں میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے، جن میں پاٹے خان، پردیس، پینگاں، پاسبان، مس 56، چن ماہی، آنکھ کا نشہ، چھو منتر اور کوئل جیسی فلمیں شامل ہیں۔ بعد ازاں انھوں نے ویلن کے کردار میں بھی مہارت حاصل کی اور اپنی اداکاری کے ذریعے فلمی مناظر کو مزید دلچسپ بنایا۔ اس کی مثالیں فلمیں سہیلی، انسان اور آدمی، رواج، بہاروں پھول برسائو، شکوہ، دامن اور بہن بھائی ہیں، جن میں ان کے ولن کردار کی شدت اور کشش کو نمایاں طور پر سراہا گیا۔ اسلم پرویز کا کردار ہر صورت میں قابلِ یاد رہنے والا تھا اور انھوں نے فلمی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔

درد ناک سانحہ

[ترمیم]

14 نومبر 1984ء کو اسلم پرویز اداکار اقبال حسن کے ساتھ ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم جھورا کی عکس بندی کے بعد فیروز پور روڈ، لاہور سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ ان کی کار ایک ویگن سے ٹکرا گئی۔ اس تصادم کے نتیجے میں اقبال حسن موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ اسلم پرویز ایک ہفتہ تک زندگی اور موت کی کش مکش میں رہے اور بالآخر 21 نومبر 1984ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس المناک حادثے نے پاکستانی فلمی صنعت کو ایک نمایاں اداکار سے محروم کر دیا، جس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔

وفات کے بعد فلمی حلقوں، شائقین اور میڈیا نے اسلم پرویز کی شخصیت اور اداکاری کی بے پناہ تعریف کی۔ متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلز نے ان کی زندگی اور فن کے اعتراف میں پس از مرگ بیانات شائع کیے۔ اداکاروں، ہدایت کاروں اور شائقین نے ان کی وفات کو پاکستانی فلمی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ ان کے ساتھی فنکاروں نے ان کے اخلاق، محنت اور ہر کردار میں مکمل ڈوب جانے کی خصوصیت کو یاد کرتے ہوئے تعزیتی کلمات کہے۔ وفات کے بعد کئی فلمی میگزینوں نے ان کے کیریئر اور اہم فلمی کرداروں کا تفصیلی جائزہ شائع کیا، جس سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ سیاست دانوں اور انتظامی عہدوں پر فائز افراد نے بھی اسلم پرویز کی گراں قدر فلمی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے نقصان کو ناقابل تلافی قرار دیا۔

مستقبل کے ادا کاروں کے لیے ورثہ

[ترمیم]

اسلم پرویز نہ صرف اپنی اداکاری بلکہ اپنے فنی اخلاق، محنت اور فلموں کے لیے لگن کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کی اداکاری کے انداز اور کرداروں کی نوعیت نے انھیں 1950ء سے 1980ء کی دہائی کے مقبول ترین اور یادگار فنکاروں میں شامل کیا۔ ان کا فنی سفر آج بھی نئے فنکاروں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، جو مختلف کرداروں میں مہارت حاصل کرنے اور شائقین کے دل جیتنے کی راہ دکھاتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "اداکار اسلم پرویز کو بچھڑے30برس بیت گئے"
  2. "اسلم پرویز: پاکستانی فلموں کا وہ ہیرو جسے ٹریفک حادثے نے ہم سے چھین لیا"