اسماء بن حارثہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسماء بن حارثہ اسلمی اصحاب صفہ میں شامل صحابہ سے ہیں۔
حافظ ابنِ عبدالبر، علامہ ابونعیم اصبہانی اور علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے اسماء بن حارثہ کو اصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے ۔ [1] اسماء نام ، کنیت ابوہند، والد کانام حارثہ ،قبیلۂ ’’اسلم‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہندبن حارثہ کے حقیقی بھائی ہیں ۔ ہنداپنے سات بھائی:اسماء، خراش، ذویب، سلمۃ، حمران، مالک اور فضالۃ کے ساتھ بیعتِ رضوان میں شریک رہے ۔ یہ خصوصیت ان کے خاندان کے علاوہ کسی کو بھی حاصل نہیں کہ حقیقی بھائیوں کی اتنی کثیر تعداد بیک وقت کسی بھی غزوۃ وغیرہ میں شریک رہی ہو۔ [2] اسماء نبی اکرم کے درِ اقدس ہی پہ پڑے رہتے اور آپ کی خدمت کے لیے ہروقت اپنے کوتیار رکھتے اور ساتھ رہ کر خوب علومِ نبوت سے مستفیض ہوتے رہتے تھے ۔ ابوہریرہ کا بیان ہے کہ میں حارثہ کے لڑکے ہند اور اسماء کور سول اللہ کا خادم ہی سمجھتا ہوں ؛ کیونکہ یہ دونوں درِ اقدس ہی سے چمٹے رہتے اور آپ کی خدمت کے لیے ہروقت کوشاں رہتے تھے ۔ [3] یہ اسماء ہی ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم’’ اسلم‘‘ میں یومِ عاشوراء کاروزہ رکھنے کے سلسلہ میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ [4] سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ نبی اقدس نے قبیلۂ ’’اسلم‘‘ کے ایک شخص -حضرت اسماء- کو لوگوں میں یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جاؤ جاکر یہ اعلان کردو، جس نے آج کے دن کھالیا تو وہ بقیہ دن کھا نے پینے سے رک جائے اور روزہ دارسی شکل اختیار کرلے اور جس نے آج کے دن نہ کھایا اور نہ پیاتو وہ روزہ رکھ لے ؛ کیونکہ آج عاشورہ کا دن ہے ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت 66ھ؁ میں بمقامِ بصرہ، 80؍سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الأولیا:1/348، الاستیعاب:1/81، الإصابۃ :1/54
  2. صحیح بخاري: 1/ 268،
  3. الاستیعاب : 1/ 82، الإصابۃ : 1/ 55۔
  4. صفۃ الصفوۃ: 1/424، : الإصابۃ : 1/248
  5. حلیۃ الأولیا:1/348