اسماعیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اسماعیلی اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت جعفر صادق (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ سے اتفاق پایا جاتا ہے اور یوں ان کے لیے بھی اثنا عشریہ کی طرح جعفری کا لفظ بھی مستعمل ملتا ہے جبکہ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اکثر کتب و رسائل میں عام طور پر جعفری کا لفظ اثنا عشریہ اہل تشیع کے لیے بطور متبادل آتا ہے۔ 765ء میں حضرت جعفر صادق کی وفات کے بعد ان کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (721ء تا 755ء) کو سلسلۂ امامت میں مسلسل کرنے والے جعفریوں کو اسماعیلی جبکہ موسی بن جعفر (745ء تا 799ء) کی امامت تسلیم کرنے والوں کو اثنا عشریہ کہا جاتا ہے۔ اسماعیلی تفرقے والے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، زین العابدین، محمد باقر اور جعفر صادق علیہم السلام کو اہل تشیع کی طرح اپنے ائمہ مانتے ہیں اور ان کے بعد ساتویں امام اسماعیل بن جعفر صادق اور ان کے بعد محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق (746ء تا 809ء) کو اپنے آٹھویں امام کا درجہ دیتے ہیں۔[1]

اسماعیلی تسبیحات

اسماعیلی فرقہ میں تسبیحات پڑھنے کو بہت اہمیت دیا جاتا ہے۔اور اسماعیلیوں کے ہاں مختلف قسموں اور اوقات کی تسبیحات پڑھی جاتی ہے۔جن میں صبح و شام کی تسبیح۔مشکل آسان کی تسبیح۔چاندرات کی تسبیح ۔پیر بھائی کی تسبیح ۔بیت الخیال کی تسبیح وغیرہ وغیرہ تسبیحات پڑھی جاتی ہے۔

اسماعیلی تعلیمات میں تسبیح پڑھنےکی اہمیت

تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی، بزرگی، حمد اور عظمت بیان کرنا۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی قولی، فعلی اور قلبی عبادات بھی تسبیح میں شامل ہوتی ہیں۔ تسبیح کے متعلق قرآن حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : سُبُحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا ) تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيُهِنَّ ، وَ إِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُم - (44-17:43) جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اُس سے وہ کہیں زیادہ پاک اور برتر ہے۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن میں ہے اُس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم اُن کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔“

اللہ تبارک و تعالی تمام کائنات کا خالق، مالک اور ربّ ہے اور اُس کی ذات یکتا ہر قسم کی عبادات اور تعریفوں کے لائق ہے۔ مندرجہ بالا آیت اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز کسی نہ کسی انداز میں اپن پروردگار کی تسبیح پڑھتی ہے۔ یہ تصیح زبانِ حال سے بھی ہوتی ہے اور زبانِ قال سے بھی۔ یعنی یہ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز اپنے پورے وجود سے اس حقیقت پر گواہی دے رہی ہے کہ جس ہستی نے اُن کو پیدا کیا ہے اور جو ان کی پرورش اور نگہبانی کر رہی ہے وہ ذات ہر قسم کے عیب، نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام سے منقول ہے۔

کہ دیواروں کے گرنے سے جو آواز نکلتی ہے وہ بھی تسبیح ہے۔ نیز حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ کیا  سوکھے ہوئے درخت بھی تسبیح کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ضرور کرتے ہیں۔ کیا تم نے گھر کی کھڑکیوں کو چھٹتے ہوئے نہیں سُنا؟ بس یہی اُن کی تسبیح ہے۔ (تفسیر المتقین)

قرآن حکیم میں ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيرُ صَفَتٍ كُلِّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَ تَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا

يَفْعَلُونَ (24:41) " کیا تو نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ جتنی مخلوقات سارے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پر پھیلائے ہوئے پرندے (غرض سب) اُسی کی تسبیح کیا کرتے ہیں۔ سب اپنی صلوٰۃ اور اپنی تسبیح کا طریقہ خوب جانتے ہیں۔ اور جو کچھ یہ کیا کرتے ہیں اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ حضرت داؤد علیہ اسلام کے تذکرے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ل وَالطَّيْرَ مَحْشُورَة كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ ( 19-18 :38) یقیناً ہم نے پہاڑوں کو (حضرت داؤد علیہ السلام) کے تابع کر دیا تھا۔ وہ اس کے ساتھ سورج ڈھلنے اور سورج نکلنے کے وقت تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندے بھی اکٹھے کئے ہوئے۔ سب اس کے حضور میں بہت رجوع ہونے والے تھے۔“

آسمان میں گرجنے والے بادل اور فرشتوں کے متعلق ارشاد ہے کہ : وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَئِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ (13 :13) اور گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتا ہے اور سب فرشتے اس کے خوف سے (تسبیح کرتے ہیں)۔

اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے متعلق ارشاد ہے کہ : وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ، وَ مَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ، يُسَبِّحُونَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا یفترون (21:19, 20)   اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کے لئے ہے اور جو اس کے حضور میں ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے سرکشی کرتے ہیں اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں۔ وہ رات اور دن تسبیح کرتے رہتے ہیں، سستی نہیں کرتے ۔ “

پس جب کائنات کی ہر چیز کسی نہ کسی انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے تو پھر انسان جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور جس کو تمام مخلوقات سے اشرف قرار دیا گیا ہے کس طرح اس عمل سے دُور رہ سکتا ہے؟ جیسا کہ پیر صدر دین اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ : اے جی جھیٹا جھیٹا کینک پینگ پکھی اواخیک پراٹیا ، ایوا سر دے جیو اُٹھی صاحب جی کو دھیان دھرے، کو کائے سوتو بند را زھری بھوڑا مورکھ پرانی ، ایوا ... گنان " ایجی ست ونتی جاگو، پاٹھ نمبر8.

"اے بھائی ! چھوٹے چھوٹے کیڑے، پروانے ، پرندے، بے زبان مخلوق ایسی سب مخلوق صبح اُٹھ کر مولا کو یاد کرتی ہیں۔ اے بھولے نادان انسان ! تو کیوں نیند میں سویا ہوا ہے؟"

چنانچہ انسانوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا لا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَ أصيلا 0 (42-41 :33) ”اے لوگو جو ایمان لا چکے ! اللہ تعالیٰ کو یاد کرو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو۔“

نیز قرآن حکیم کی متعدد آیات سے اس حقیقت کی دلیل ملتی ہے کہ ہر انسان کی روح کا تعلق روح کل یعنی اللہ تعالٰی کے نور کے ساتھ ہے اور یہ نور ہی روح انسانی کی اصل اور اس کا مرکز ہے۔ مگر انسان اپنے بُرے اعمال، حُبّ دُنیا اور ذکر الہی سے غفلت کی وجہ سے اپنی اصل سے دُور ہوتا چلا جاتا ہے۔ عدل الہی اور رحمت خداوندی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ انسان کیلئے ایسے ذرائع فراہم کر دے جو اس کی روح کو اپنی اصل سے قریب ہونے میں مدد دے سکیں۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آیت کے ذریعہ اللہ تعالی نے اس جانب اپنی حجت تمام کردی۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ : ولِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أسمائه ۔

(7:180)

اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں پس اسے انہی سے پکارو۔ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام میں کفر کرتے ہیں۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ذریعہ پکارنے کے حکم پراگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ معنوی اعتبار سے یہ ایک انتہائی وسیع فرمان ہے۔ کو یا اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ خداوند تعالی ہی تمہاری روح کا منبع و مرکز ہے، اس سے قریب ہونے کے لئے اسے پکارو۔ روح کل کے ساتھ اپنے روحانی رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کیلئے اسے پکارو۔ وہی تمہارا ولی و ناصر ہے، اس کو مدد کے لئے پکارو۔ اس کے نام میں مٹھاس ہے اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے پکارو۔ اس کے نام روحانی خزانوں کی چابیاں ہیں، ان خزانوں تک رسائی کے لئے اُن کا ذکر کرو۔ اس کے ذکر میں دلوں کیلئے سکون اور اطمینان ہے، اپنے بے چین اور بے قرار دل کی تسکین کے لئے اسے یاد کرو کیونکہ اس کا یہ بھی فرمان ہے کہ : الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ (13:28) جو لوگ ایمان لا چکے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ، دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی اطمینان

پاتے ہیں۔“ ایک اور بات جسے ذہن نشین کر لینی چاہیئے وہ یہ ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً اس دُنیا میں مختلف قسم کی تکالیف اور آفات میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جہاں اسے ان مشکلات سے نجات کے لئے ہر ممکن تدابیر اختیار کرنی چاہیئے وہاں دوسری جانب اسے صبر، ہمت اور مشکلات کی آسانی کیلئے ذکر و تسبیح کی جانب بھی توجہ دینی چاہیئے کیونکہ بالآخر یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو طاقت کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے اور وہیں سے اسے مدد حاصل ہو سکتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے کہ : امَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (62 : 27)

بھلا کون ہے جو بے قرار دل کی دُعا قبول کرتا ہے جس وقت بھی وہ اُسے پکارے اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے؟“

انبیاء علیہم السلام پر کی جانے والی رحمتوں کے تذکرے میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَتِ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ 8 فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَ نَجَّيْنَهُ مِنَ الْغَمْ وَ كَذَلِكَ نُنَجِي الْمُؤْمِنِينَ .(21:87-88) اور ذوالنون (مچھلی والا یونس ) جبکہ وہ غضبناک ہو کر چلا گیا تو اس کو یقین تھا کہ ہم ہرگز اس پر روزی تنگ نہ کریں گے، پس اس نے (مچھلی کے پیٹ کے) اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقیناً میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے تھا۔ پس ہم نے اس کی فریاد سُن لی اور اُسے غم سے نجات دے دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔“

حضرت یونس علیہ السلام کی اس تسبیح کا ذکر کرتے ہوئے ایک مقام پر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ) لَلَبِثَ فِي بَطْنِةٍ إِلَى يَوْمِ ييُعدُّونَ 6 (144-37:143) " پس یقیناً اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو ضرور وہ اس (مچھلی) کے پیٹ میں جی اٹھنے کے دن (قیامت) تک پڑارہتا۔“

جس طرح انسان اپنی دُنیوی خوشی کے بار بار تذکرے سے خوشی محسوس کرتا ہے اور غم کے ذکر سے غمگین ہو جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں کے ذکر سے مومن کے دل میں پاکیزگی اور روحانی سکون کی برکات کا احساس پیدا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر قسم کی برکات کا سرچشمہ ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے :

تَبْرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ 6 (55:78) " بڑا با برکت ہے تمہارے پروردگار کا نام جو صاحب جلالت و بزرگی ہے۔"

جب اللہ تعالیٰ اتنی تاکید کے ساتھ اپنے بندوں کو تسبیح پڑھنے کا حکم فرماتا ہے اور اپنے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ اسے پکارنے کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی جان لینا چاہیئے کہ وہ اسماء، کلمات یا الفاظ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تصیح کی جانی چاہیئے ان کی نشاندہی بھی پیغمبر" زمانہ یا زمانے کے امام کی طرف سے کی جاتی ہے کیونکہ ہادی زمانہ روحانی طبیب کی حیثیت رکھتا ہے اور مومنین کی باطنی اور روحانی ضروریات کے متعلق ان سے بڑھ کر اور کوئی آگاہ نہیں ہوتا۔ عہدِ نبوی کے مطالعے سے ایسے بہت سے واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضور صلعم اپنے دور میں مسلمانوں کو ذکر و تسبیح کیلئے مختلف اسماء و کلمات کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر سیرتوں پر مبنی کتابوں میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ ام ہانی( رح) نے آنحضرت صلعم سے گزارش کی کہ اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اورچلنے پھرنے سے کمزوری محسوس ہوتی ہے اس لئے کوئی ایسا عمل بتائیے جو بیٹھے بیٹھے انجام دے سکوں۔ آپ نے ایک وظیفہ بتلایا اور فرمایا کہ : سُبحان الله ایک سو مرتبہ الْحَمْدُ لِله ایک سو مرتبہ ، الله اکبر ایک سو مرتبہ اور لَا إِلَهَ إِلَّا الله ایک سو مرتبہ کہا کرو (سیر الصحابیات از مولانا سعید انصاری، صفحہ 135 بحوالہ مسلم)پیغمبر صلعم کے بعد ائمہ علیہم السلام اس جانب مومنین کی رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ مومنین کے لئے امامِ زمان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ دونوں جہاں میں جو بہترین ہے وہ انہیں نصیب ہو۔ چنانچہ امام زمان جہاں دنیوی اور روحانی معاملات میں ہماری رہنمائی فرماتے رہتے ہیں وہاں ہمیں ایسی عبادات اور تسبیحات بھی بتاتے ہیں جو ہماری دنیوی و روحانی مشکلات و آفات کی شدت کو کم کرنے اور انہیں برداشت کرنے کی ہمت حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ نیز مشکل حالات میں عبادت کے عمل کو آسان تر بنانے میں بھی ہماری مدد کرتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے فرمایا کہ : شام کی دُعا کے وقت آپ جہاں کہیں بھی ہوں، کھیت میں یا راستے میں جہاں بھی ہوں دُعا گزار لینا، چوکنا نہیں۔ اگر آپ کو دُعا پڑھنا نہ آتا ہو تو ” پیر شاہ“ کے نام کی بارہ تسبیح پڑھنا۔ بارہ تسبیح اور بارہ سجدے پورے ہونے سے آپ کی دُعا قبول ہوتی ہے۔ بارہ تسبیح پڑھنے تک دُعا کا وقت بھی پورا ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا کاروبار کھیتی باڑی کا ہے تب بھی یہ کھیتی باڑی کا کاروبار آپ کو مذہب پر عمل کرنے سے نہیں روکتا۔“

(کچھ کھد ریسر، 1903-11-23)

ایک اور مقام پر مولا نے فرمایا کہ : ہر ایک مومن پر واجب ہے کہ وقت پر دُعا بندگی ادا کرے۔ اگر دعا پڑھنا آپ کے لئے ممکن نہ ہو تو پیر شاہ، یا امام، یا محمد، یا علی اور یا خدا کے نام کی ایک تسبیح پڑھے تو ہم اُن کو دُعا کے طور پر قبول فرمائیں گے۔“ (بمبئی، 1950-1-14)

نیز مولانا حاضر امام نے مورخہ 1962-5-16 کو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کے پریذیڈنٹ کے نام اپنے تعلیقہ مبارک میں فرمایا کہ : ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے اُن روحانی بچوں کو جو اب تک نئی عربی دُعا نہیں جانتے اور ہمارے بڑی عمر کے روحانی بچوں کو بھی جن کے لئے دُعا سیکھنا ممکن ہی نہ ہو، آگاہ کریں کہ وہ دُعا کی جگہ مندرجہ ذیل تسبیحات پڑھ سکتے ہیں : شام کی دُعاؤں کے لئے تین تسبیحات :با آسانی یاد کر سکتا ہے۔ مندرجہ بالا فرامین کے حوالے سے محض یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ عبادت بندگی اور ذکر و تسبیح کے طریقے کی نشاندہی کرنا زمانے کے امام کا کام ہے۔ اس لئے مومنین کو چاہئے کہ امام زمان کی جانب سے عبادت و بندگی اور ذکر و تسبیح کیلئے جو طریقہ دیا جائے اسی پر عمل پیرا ہوں۔

چنانچہ جماعت خانوں میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہیں وہ زمانے کے امام کی جانب سے عنایت شدہ یا منظور شدہ ہیں جن کے ساتھ امام زمان کی دُعائیں بھی شامل ہیں۔ چونکہ امام زمان اپنے روحانی بچوں کے لئے ہمیشہ بہترین چاہتے ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ آپ جو تسبیحات ہمیں عنایت فرماتے ہیں وہ ہمارے لئے بہترین ہیں۔

یا الله یا عَلِی اور يَا مُحَمَّدٌ

صبح کی دُعا کے لئے چار تسبیحات : يَا ا يا الله، يَا وَهَاب يَا عَلِی اور اللهُ الصَّمَد اس مقام پر یہ واضح رہے کہ مندرجہ بالا فرامین اور اسی نوعیت کے دیگر فرامین اس دور کے ہیں جب دُعا بہت طویل تھی یا عربی دُعا حال ہی میں نافذ ہوئی تھی جسے زبانی یاد کرنا ہر ایک کیلئے اور خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں کیلئے ممکن نہ تھا اس لئے زمانے کے امام کی جانب سے ان کیلئے آسانی فراہم کی گئی۔ موجودہ دور میں دُعا نہایت ہی مختصر ہے اور تعلیم کا نظام کافی بہتر ہے اس لئے ہر شخص اسےبا آسانی یاد کر سکتا ہے۔ مندرجہ بالا فرامین کے حوالے سے محض یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ عبادت بندگی اور ذکر و تسبیح کے طریقے کی نشاندہی کرنا زمانے کے امام کا کام ہے۔ اس لئے مومنین کو چاہئے کہ امام زمان کی جانب سے عبادت و بندگی اور ذکر و تسبیح کیلئے جو طریقہ دیا جائے اسی پر عمل پیرا ہوں۔چنانچہ جماعت خانوں میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہیں وہ زمانے کے امام کی جانب سے عنایت شدہ یا منظور شدہ ہیں جن کے ساتھ امام زمان کی دُعائیں بھی شامل ہیں۔ چونکہ امام زمان اپنے روحانی بچوں کے لئے ہمیشہ بہترین چاہتے ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ آپ جو تسبیحات ہمیں عنایت فرماتے ہیں وہ ہمارے لئے بہترین ہیں۔۔۔(کتاب مجالس صفحہ نمبر 236)

صبح کی دُعا کے بعد پڑھی جانے والی تسبیحات

ان تسبیحات کے متعلق روایت کی جاتی ہے کہ جولائی 1870ء میں 42 اسماعیلیوں کا ایک قافلہ بادبانی کشتی پر سوار کچھ سے مشرقی افریقہ کی طرف روانہ ہوا۔ قافلے کے تمام افراد بہت غریب تھے اور ان میں سے اکثر نوجوان کسان تھے جو اپنی غربت سے تنگ آکر بہتر معاشی زندگی کی تلاش میں افریقہ جا رہے تھے۔ ہر ایک کو اپنے کھانے پینے کا سامان اپنے ساتھ لینا تھا۔ کشتی کے راستے کچھ سے افریقہ تک کا سفر تقریباً ایک مہینے میں طے ہوتا تھا۔ اُن کی پہلی منزل بمبئی تھی جہاں کشتی کے لئے ساز و سامان مہیا کرنے کیلئے کچھ دنوں کا قیام تھا۔ اُن اسماعیلیوں کو معلوم ہوا کہ امام حسن علی شاہ روزانہ جماعت کی ملاقات کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ انہیں امام کے حضور مہمانی پیش کرنے کا موقع میسر آگیا۔ انہوں نے مولا کے حضور میں عرض کی کہ وہ اپنی غربت سے تنگ آکر بہتر زندگی کی تلاش میں افریقہ کی طرف جا رہے ہیں۔ امام نے انہیں اپنی دُعا و برکات سے نوازا۔ نیز افریقہ کی جماعت کے لئے اپنی دُعا و برکات بھیجتے ہوئے روزانہ شام کی پہلی دُعا کے بعد مندرجہ ذیل چار تسبیحات پڑھنے کا حکم فرمایا :

يا الله

يا وهاب

يا على

اللهُ الصَّمَد

اُن 42 اسماعیلیوں میں ایک بارہ سالہ لڑکا محمد رحمت اللہ ہیمانی تھا جو بعد میں ترقی کرتا ہوا زنجار کا بہت بڑا تاجر اور اسماعیلی کونسل برائے افریقہ کا پہلا صدربنا۔

1905ء میں حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے ان تسبیحات کو شام کی بجائے صبح کو پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس تبدیلی کا ذکر 1905ء میں افریقہ کی جماعت کے لئے نافذ ہونے والے پہلے اسماعیلی آئین کے chapter II کے آئٹم نمبر 12 میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ " مولا کے فرمان کے مطابق جو چار تسبیحات مغرب کے وقت پڑھی جاتی ہیں وہ اب سے فجر کے وقت پڑھی جائیں گی۔“ الواعظ رائی ابو علی عبدالعزیز کے مورخہ اکتوبر 1990 کے انگریزی مقالہ Specialfour

Tasbeehs سے ماخوز)۔

نیز مولانا حاضر امام نے مورخہ 1962-5-16 کو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کے پریذیڈنٹ کے نام اپنے تعلیقہ مبارک میں فرمایا کہ : " ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے اُن روحانی بچوں کو جو اب تک نئی عربی دُعا نہیں جانتے اور ہمارے بڑی عمر کے روحانی بچوں کو بھی جن کے لئے دُعا سیکھنا ممکن ہی نہ ہو، آگاہ کریں کہ وہ دُعا کی جگہ مندرجہ ذیل تسبیحات پڑھ سکتے ہیں :

شام کی دُعاؤں کے لئے تین تسبیحات :

يا الله، یا عَلِی اور يَا مُحَمَّدٌ

صبح کی دُعا کے لئے چار تسبیحات :

يا الله، يَا وَهَاب يَا عَلِی اور الله الصمد ۔

یا الله : یعنی اے اللہ " لفظ الله الله سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں معبود اور اس پر علامت معرفہ یعنی الف لام لگانے اور کثرت استعمال کی وجہ سے الله بن گیا۔ اسم اللہ ایک اعتبار سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اہم ذاتی ہے یعنی اللہ تعالٰی نے اپنے لئے زیادہ تر اسی نام کا استعمال فرمایا ہے اور دیگر جتنے بھی اسمائے ذاتی ہیں وہ اسی اسم کی طرف منسوب ہوئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (180 :7)

اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں۔“ اس آیت سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کے تمام اسمائے حسنٰی اسم اللہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ " الله " خداوند تعالیٰ کے تمام ناموں میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ قرآن حکیم میں خداوند تعالیٰ کے جو نام آئے ہیں انہیں اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خدا کی کسی ایک صفت کو منعکس کرتے ہیں لیکن وہ نام جو تمام صفات و کمالات الہی کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی جو اس کی تمام صفات جمال و جلال کا جامع ہے وہ صرف اللہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی آیت میں کئی نام اللہ کی طرف منسوب ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں ارشاد ہے : هُوَ اللهُ الَّذِى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ = هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ) هُوَ اللهُ الذى لا إله إلا هو ع الملك القُلوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبُحْنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ . هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِى المُصَوِّرُ لَهُ الاسماء الحسنى (24-59:22)

  " وہ اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، پاکیزہ، سلامتی والا، امان دینے والا، نگہبانی کرنے والا، زیر دست، جبار، بڑائی والا، پاک ہے اللہ تعالیٰ اُن چیزوں سے جن سے لوگ شریک قرار دیتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ ہے پیدا کرنے والا ، ایجاد کرنے والا ، صورتیں بنانے والا۔ اس کے اچھے اچھے نام ہیں۔“

نیز ایک اور مقام پر قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے کہ : وَ هُوَ اللهُ فِي السَّمَوَاتِ وَ فِي الْأَرْضِ - (3 :6) اور آسمانوں اور زمین میں وہی اللہ ہے۔"

اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اسم اللہ معبود کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہاں اس حقیقت کی طرف نشاندہی کی گئی ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہی ایک ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے، دوسری کوئی بھی ذات لائق عبادت نہیں اور کائنات کی ہر چیز اُس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور اُسی کی عبادت کر رہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : المُ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوْتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ط (22:18) " کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے آدمی اللہ تعالی ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔“ اس ارشاد الہی سے ظاہر ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی اپنی جگہ اللہ تعالی

کی عبادت میں مصروف ہے اور انسان اور جنات کے متعلق تو اللہ تعالی کا بہت واضح فرمان ہے کہ۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ 0 (56 :51) اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“

اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیر صدر دین اپنے گنان میں فرماتے ہیں کہ :

(گنان " دُنیا سر جی نے پاٹھ نمبر 2 -1) " اے بھائی ! میرے مالک نے دُنیا کی تخلیق کر کے اناج پیدا کیا، ہوا اور پانی (بھی) پیدا کئے۔ اے بندے ! اگر تم نے مالک کی عبادت نہ کی تو بتاؤ تم کس مقصد کے لئے آئے ہو؟"

  " شیخ سعدی اس حقیقت کو اپنے کلام میں اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ :

  " ابر و باد و مه و خورشید و فلک در کارند

تا تو نانے بکف آری و بغفلت نه خوری،

همه از بهر تو سرگشته و فرمان بردار

شرط انصاف نباشد که تو فرمان نبری

ابر، ہوا، چاند، سورج، آسمان سب کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ تا کہ تو روزی حاصل کر سکے اور غفلت سے نہ کھائے۔ یہ سب تیرے لئے پریشان اور تابعدار ہیں (تو پھر) یہ انصاف کی بات نہ ہوگی کہ تو (اللہ کا) فرمان نہ مانے “

(گلستان سعدی، مترجم قاضی سجاد حسین)

  " پس معلوم ہوا کہ اس وسیع کائنات میں اللہ تعالی ہی کی واحد ذات ہے جو سب کا خالق، مالک اور ربّ ہے اور اسی کی ذاتِ یکتا لائق عبادت ہے۔ اسی عقیدے کو دل میں نقش کرنے کیلئے ایک مسلم سے سب سے پہلے یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ ، لا الا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔“

" پس جب ہم یا اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں تو ہم اُسی ذاتِ واحد کی تعریف و ستائش کرتے ہیں جو اس پوری کائنات کا معبود حقیقی ہے اور جس کی عبادت میں یہ پوری کائنات مصروف ہے۔

يَا وَهَّابُ: یعنی اے دینے والا ۔ وھاب کے معنی ہیں بلا عوض کوئی چیز دینے والا یا بخشنے والا جس میں نہ دینے والے کی کوئی غرض شامل ہو اور نہ لینے والے کا اپنا کسب۔ قرآن حکیم کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جانب سے انبیاء و اولیاء اور حقیقی مومنین و مومنات کو معجزانہ طور پر جو علم و حکمت اور روحانی نعمتیں عطا فرماتا ہے اس کیلئے فعل وَهَبَ کا استعمال کیا گیا ہے۔ الله تعالى اَرحَمُ الرَّاحِمِینَ یعنی تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور بنی نوع انسان پر اس کا یہ کرم ہے کہ وہ انہیں ہر وہ چیز عنایت فرماتا ہے جو وہ اس سے طلب کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

واتكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (14:34)

اور جو کچھ تم نے اس سے مانگا اُس نے تمہیں دیا۔ اگر تم اس کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اس کا احاطہ نہیں کر سکو گے۔“ یوں تو دینے اور لینے والوں کا تصور انسانوں کے درمیان بھی پایا جاتا ہے لیکن وہاب کی صفت صرف اللہ تعالی ہی کی ذات کیلئے مخصوص ہے کیونکہ وہی ایک ایسی ذات ہے جو کسی بھی قسم کے معاوضے کی خواہش کے بغیر اپنی مخلوقات کو انگنت نعمتوں سے نوازتی ہے کیونکہ اس کی ذات خواہشات سے بلند ہے۔ جو شخص کسی دوسرے کو کسی معاوضے کی اُمید پر کوئی چیز دیتا ہے وہ در اصل تنظیم نہیں ہوتا بلکہ تاجر ہوتا ہے اور بدلے کی اُمید سے کوئی بھی انسان خالی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وھاب مطلق ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

يايُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ ، وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ 0 (15 : 35) "اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ وہی بے نیاز قابل حمد ہے۔“

اگر قرآنِ حکیم کی ان آیات پر ایک نظر ڈالی جائے جن میں فعل وَهَبَ کا استعمال ہوا ہے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ فعل خاص طور پر معجزانہ قسم کی بخششوں کیلئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑی عمر میں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کا عطا فرمانا ، حضرت بی بی مریم کو حضرت عیسی علیہ السلام کا عطا فرمانا، حضرت داؤد علیہ السلام کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا عطا فرمانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام کا عطا فرمانا، حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کا عطا فرمانا، نیز انبیاء علیہم السلام کو علم و حکمت سے نواز کر منصب نبوت سے سرفراز فرمانا وغیرہ ان تمام رحمتوں اور نعمتوں کیلئے فعل وطب کا استعمال کیا گیا ہے۔ گویا اس میں عطا کرنے کا ایک ایسا معجزانہ عصر شامل ہے جو عام قوانین فطرت کے ذریعہ ممکن نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں یہ دُعا آئی ہے کہ :

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلكًا لَّا يَنْبَغِي لَاحَدٍ مِّنْ بَعْدِي : إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ O (35 :38) " (حضرت سلیمان نے علیہ السلام ) کہا اے میرے پروردگار ! مجھے ڈھانپ لے اور مجھے ایک ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی اور کو میسر نہ ہو۔ یقیناً تو بہت عطا کرنے والا ہے۔“

انسان اُمیدوں کا پیکر ہے۔ اس کی اُمنگیں اور خواہشیں بحر بے کنار کی طرح ہیں اور وہ اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دُعائیں مانگتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ئیں طلب کرتے ہوئے یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ الوهاب یعنی بہت بڑا عطا کرنے والا ہے اس لئے اس کی جانب سے نہ ہی کبھی مایوس ہونا چاہیئے اور نہ ہی دُعا مانگنے سے کبھی تھکنا چاہیئے ۔ سید محمد شاہ اپنے گنان میں فرماتے ہیں کہ :

اے جی جے جے مانگوں تے توں ہی دیوے، ایوا ایوا لاڈ لڑاوے۔ ا (گنان" صاحب جی توں" پاٹھ نمبر 1) " اے مولا ! جو کچھ میں مانگتا ہوں تو وہی دیتا ہے، تو ایسے ایسے لاڈ کرواتا ہے۔"

  ⬇ يَا عَلِي : یعنی ”اے علی العلی اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک اہم ہے جس کے معنی ہیں بہت ہی بلند اور عالی مقام۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ : وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ) (2:255) اور وہ بلند مرتبہ عظمت والا ہے۔" اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے کہ : وَانَّ اللهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ  (22:62) اور یقیناً اللہ تعالیٰ وہی عالیشان (اور) بڑائی والا ہے۔“

  اسم العَلِيُّ اللہ تعالیٰ کی اس بلندی اور عظمت کی طرف اشارہ کرتاہے۔

جس کا احاطہ کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ وہ انسان کے خیالات اور وہم و گمان

سے کہیں بالاتر ہے بلکہ اس کی بلندی کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: سُبُحْنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا (17:43) اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے وہ (اللہ ) کہیں زیادہ پاک اور برتر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ساتھ عام طور پر لفظ ” تعالی اضافہ کیا جاتا ہے

جس کا مقصد اس ذات عالی صفات کی بلندی اور برتری کو ظاہر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ

کا مقام اتنا بلند ہے کہ نہ تو اس کے برابر کوئی اور مقام ہے اور نہ اس سے برتر ۔

بلکہ دیگر تمام مقامات اس سے پست ہیں کیونکہ لفظ عَلِی الْعُلُو سے مشتق ہے جس

کے معنی ہیں کسی چیز کا بلند ترین حصہ اور یہ سُفُلُٗ کی ضد ہے۔۔ جس طرح اللہ تعالٰی کا ہر نام اس حقیقت کی شہادت دیتا ہے کہ وہ ہر اعتبار سے بلند و برتر ہے اس طرح اسم ”علی“ بھی اس کی برتری اور بلندی بیان کرتا ہے۔ نیز علی سے مراد حضرت امیر المومنین مولا مرتضی علی علیہ السلام بھی ہیں جو آنحضرت صلعم کے جانشین اور امام اول ہیں۔ آپ مشکل کشا کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل کشائی کی کوئی بھی دُعا نام علی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

چنانچہ حضرت علی علیہ السلام کی ذات، جو آنحضور صلعم کی طرح نور خداوندی کا مظہر تھی، دین اسلام میں ظاہری و باطنی مدد کے لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ مدد کے میدان میں آپ کے خصوصی اور منفرد مقام کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود آنحضرت صلعم نے آپ کو اپنے کار نبوت میں مدد گار قرار دیا اور ہر مشکل مرحلے میں آپ سے مدد طلب کی۔ دعوت عشیرہ کے موقع پر جب آنحضرت صلعم نے سرداران قریش کے

سامنے اپنی رسالت کا اعلان فرمایا اور پوچھا کہ اس کار عظیم میں کون میری مدد کرے گا؟ اس وقت باوجود کم سنی کے حضرت علی علیہ السلام نے تین مرتبہ یہ اعلان فرمایا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ جب آنحضرت صلعم پر قرآن کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں موسیٰ علیہ السلام منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا وزیر اور شریک بنانے کی دُعا کرتے ہیں (35-20:24) تو آپ ﷺ  نے بھی مندرجہ ذیل الفاظ میں خدا سے دعا مانگی کہ :

" خداوندا ! میں بھی تجھ سے وہی سوال کرتا ہوں جو میرے بھائی موسی نے کیا تھا کہ میرے سینے کو کشادہ فرما اور میرا کام میرے لئے آسان کر اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھیں اور میرے اہل بیت سے میرے بھائی علی کو میرا وزیر بنا اور اسکے ذریعہ میری پشت مضبوط کر اور میرے کام میں اس کو میرا شریک بنا تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیری تسبیح کریں اور تیری یاد کریں، تُو  تو ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔“ (قرآن مجید، مترجم مولانا فرمان علی، صفحہ 432 ، بحوالہ تفسیر در منشور، جلد نمبر 4، صفحه 295)

جنگِ اُحد میں جب حضرت علی سے فتح و نصرت ظہور میں آئی تو جبرائیل نے رسول صلعم سے کہا ہے کہ یہ ہے ہمدردی۔ آپ نے فرمایا : إِنَّهُ مِنِی وَ أَنَا مِنْهُ (بیشک وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں)، اور جبرائیل نے کہا : آنا منكما (میں آپ دونوں سے ہوں)۔ اس وقت تمام صحابہ کرام نے یہ آواز سُنی کہ لَا فَتَى إِلَّا عَلِيٌّ لَا سَيْفَ إِلَّا ذُوالفقار ؛ علی کے سوا کوئی بہادر نہیں اور ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں)۔ آنحضرت صلعم نے حضرت علی سے فرمایا کہ ” اے علی ! تم نے اپنی تعریف سنی جو وہ فرشتہ جس کا نام آسمان میں رضوان ہے، کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے لا فتى إِلَّا عَلِيٌّ لا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَار - مصباح الظلم از شمس العلماء نواب سید امداد امام بحوالہ تاریخ طبری، کامل ابن اثیر اور مدارج القبوۃ)۔

اسی طرح معرکہ خیبر کے موقع پر جب بڑے بڑے صحابہ قلعہ قموص کی فتح میں ناکام رہے تو آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ : أَمَّا وَاللهِ لاعْطِيَنَّ الرَّأْيَةَ غَدًا رَجُلٌ كَرَّارٌ غَيْرُ فَرَّارٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدِيهِ

کل میں علم اُس شخص کو دوں گا جو بار بار حملہ کرنے والا ہے اور بھاگنے والا نہیں ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور جسے اللہ اور اس کا رسول دوست رکھتے ہیں اور اللہ اس کےہاتھوں فتح عطا کرے گا۔“

  حضرت علی اس وقت وہاں موجود نہ تھے اس وجہ سے قریش کے ہر فرد کی یہ اُمید تھی کہ شاید اُسی کو علم دیا جائے گا۔ دوسری صبح حضرت علی اپنے اونٹ پر سوار رسول اللہ صلعم کے پاس پہنچے... ان کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں، قطری کپڑے کی پٹی آنکھوں پر بندھی تھی۔ رسول اللہ نے فرمایا قریب آؤ۔ حضرت علی آپ کے قریب آئے تو آپ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا جس سے وہ درد جاتا رہا۔ آپ نے ان کو علم عطا کیا اور اُن ہی کے ہاتھوں قلعہ قموص فتح ہوا۔ اس وقت سے آپ فاتح خیبر کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔

( تاریخ طبری، مدارج النبوة ، سيرة الهى ، خلافت و امامت و غیره)

آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ :

إِنَّ اللهَ تَعَالَى أَيَّدَ هَذَا الدِّينَ بِعَلِيِّ (كوكب دُری صفحہ 188) " بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کے ذریعہ اس دین کی مدد فرمائی۔“

آپ کے روحانی مقام کے متعلق آنحضرت صلعم کا ارشاد ہے کہ :

يَا عَلى كُنتَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ سِرِّاً وَ مَعِى جِهْرًا

شیخ فرید الدین عطار، مثنوی مظہر العجائب، ترجمه سید شاہد، صفحه 160)

” اے علی ! آپ تمام پیغمبروں کے ساتھ باطن میں تھے اور میرے ساتھ ظاہر میں بھی ہیں۔“

👈حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے فرمایا کہ :  جب ہم (حضرت) علی علیہ السلام کے متعلق سوچتے ہیں تو اس سے وہ شخص مراد نہیں جو ساٹھ سال تک اس دُنیا میں رہے بلکہ وہ دائمی (ہستی) ہے جو اللہ کی طرف سے آئی تھی اور براہ راست اللہ کی طرف واپس لوٹ گئی ۔"

(اسماعیلیہ ایسوسی ایشن مشن کانفرنس، دار السلام، جولائی 1945)

  نیز آپ کا ارشاد ہے کہ : " آغا علی شاہ داتار نے فرمان فرمایا تھا کہ آدھی رات کو یا علی کا ذکر کریں اس میں جو ثواب ہوگا وہ آپ کا ہے اور جو گناہ ہو وہ ہم پر ہے۔“

(نجوڑی 1893-12-31)

حضرت شمس تبریز فرماتے ہیں کہ :

  تا صورت و پیوند جهان بود علی بود

تا نقش زمین بود زمان بود علی بود

" جب سے دُنیا کی صورت اور اس کے اجزاء وجود میں آئے اس وقت سے علی تھا اور جب سے زمین و زمان کا نقشہ بن رہا تھا اس وقت   سے علی تھا۔(  کتاب المناقب  )اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہم حضرت علی علیہ السلام کو پکارتے ہیں تو اس سے مراد وہ نور علی ہے جو ہر زمانے کے امام کی حیثیت سے مومنین کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ چونکہ مشکل کشائی حضرت علی ہی کا دوسرا نام ہے اس لئے ہم ہر قسم کی حاجت روائی کیلئے حضرت علی علیہ السلام کے نام کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی حقیقت کے پیش نظر ہماری مقدس دُعا میں اس دُعائیہ کلمہ کو شامل کیا گیا ہے ۔

" يَا عَلِيُّ بِلُطْفِكَ اَدْرِكْنِي " یعنی "اے علی ! اپنی لطف و عنایت سے میری امداد کو پہنچ “ اور چونکہ مولا مرتضی علی علیہ السلام کا نور تا قیامت قائم رہنے والا ہے اور ہر دور کے امام میں دراصل حضرت علی ہی کا نور ہے اس لئے اس بنیادی تعلیم کو بھی ہماری مقدس دُعا میں شامل کیا گیا ہے کہ تَوَسَلُوا عِنْدَ الْمَصَالِبِ بِمَوْلَكُم الْحَاضِرِ الْمَوْجُودِ شَاءُ كَرِيمِ الْحُسَيْنِى۔ یعنی " مصیبتوں کے وقت اپنے حاضر اور موجود امام شاہ کریم الحسینی کا سہارا لو"

" پیر شمس نے اس حقیقت کو اپنے گنان میں انتہائی خوبی کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ :

ہے بی علی نے ہو ئیشے بی علی ،

ایسا دین تھے دل مانے دھرنا ،

ایسا وچن تھے دل مانہے دھرنا ،

هرم سب چھوڑی بھائی علی علی کرنا،

(گنان ” کیسری سینہ “ کا پاٹھ نمبر 1) علی ہی ہے اور علی ہی ہوگا۔ یہی خیال تم اپنے دل میں رکھو، یہی خیال تم اپنے دل میں رکھو، تمام وہم و گمان کو چھوڑ کر علی علی کرو۔“

الله الصَّمَدُ : " اللہ بے نیاز ہے۔“ صمد کے معنی ایسی ہستی کے ہیں

جس کی طرف ہر قسم کی امداد کیلئے رجوع کیا جائے اور جس کے سب محتاج ہوں

مگر وہ کسی کا محتاج نہ ہو۔ نیز اس کے معنی ایک ایسے سردار کے بھی ہیں جس کے

اوپر کوئی اور سردار نہ ہو۔ چنانچہ اللهُ الصَّمَدُ کی اس تسبیح میں جو قرآن حکیم کی سورۃ الاخلاص کی ایک آیت بھی ہے، اس حقیقت کی طرف نشاندہی کی گئی ہے کہ خداوند تعالی ہی کی ذات وہ واحد ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ خود کسی کا محتاج نہیں۔ ساری کائنات اس پر دارو مدار رکھتی ہے، وہ حیی اور قیوم ہے، اس کی وجہ سے ہر چیز زندہ اور قائم ہے لیکن وہ خود قائم بالذات یعنی اپنی ذات پر قائم ہے، وہ کسی پر دارو مدار نہیں رکھتا۔ قرآن حکیم کی مندرجہ ذیل آیات سے یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ : كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ ) (21:93) تمام چیزیں ہماری ہی طرف رجوع کرنے والی ہیں۔“

  " ایک اور مقام پر ارشاد ہے کہ : وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلِّ لَهُ فَيَتُونَ 0 (26 : 30) اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اُسی کیلئے ہے اور سب اُس کے فرمان بردار ہیں ۔ “ پس اللهُ الصَّمَدُ کی معنوی گہرائی میں یہ حقیقت پنہاں ہے کہ کائنات کی ہر چیز خداوند تعالیٰ کی محتاج ہے اور زبان حال یا زبان قال سے اُس سے اپنی حاجت روائی کی التجا کرتی ہے۔ قادر مطلق نے اس حقیقت کو کتنے واضح الفاظ میں بیان فرما دیا ہے کہ :

يايُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ 0 35:15) "اے لوگو ! تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔“

اس حقیقت کو سید امام شاہ اپنے گنان میں اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ :

اے جی سر بہار سہو نو داتار چھے،

تے سہونی پورے آس،

تے گھٹ گھٹ و یا پک سائیاں ہے،

بھائی جیم پھولوں مان ہے واس

(گنان پیو پیو کیجئے“ پاٹھ نمبر (7) ”اے بھائی ! وہ خالق سب کا داتار ہے اور سب کی اُمیدیں پوری کرتا ہے۔ وہ محبوب ہر دل میں اس طرح پھیلا ہوا ہے جس طرح پھولوں میں خوشبو ۔“

ہر شام پڑھی جانے والی تسبیحات

يَا عَلى يَا مُحَمَّدٌ : یا علی کی تسبیح کی وضاحت اس سے قبل صبح کوپڑھی جانے والی تسبیحات میں ہو چکی ہے۔ یا علی اور یا محمد کی دونوں تسبیحات کی مشترکہ اہمیت کو بیان کرنے سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسم محمد کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے۔ چنانچہ یا محمد کی تسبیح میں ہم سرور کونین حضرت محمد مصطفی رسول محمدﷺ  کو پکارتے ہیں جو خاتم النبین ہیں اور جن کے متعلق خداوند تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : وَ ما أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (21:107) یعنی " (اے محمد صلعم) اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر ۔“ اس مقام پر اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو جو رحمت قرار دیا ہے یہ وہی ہمہ گیر اور ہمہ رس رحمتِ الہیہ ہے جس نے ساری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے کہ :

وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ 0 (7:156) اور میری رحمت نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔"

پس باری سبحانہ و تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو اسی رحمتِ عالمگیر کا مرکز قرار دیا ہے اور جب ہم یا محمد کہتے ہیں اس وقت ہم اسی مرکز کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کے مطالعے سے ایسی بہت سی آیات سامنے آتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو روئے زمین پر اپنے نور کا مظہر قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے آپ کی قربت کا یہ عالم ہے کہ آپ کے اقوال و افعال کو اللہ تعالیٰ اپنے اقوال و افعال قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آنحضرت صلعم نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنی مٹھی میں خاک بھر کر کفار کی طرف پھینکی تو آپ کے اس فعل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : وَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى  (8:17) یعنی ” (اےمحمدﷺ !) آپ نے نہیں پھینکی (مٹھی خاک کی) جبکہ آپ نے پھینکی لیکن اللہ نے پھینکی۔" اسی طرح آپ کی بیعت کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ : إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أيديهم : (10: 48) " یقیناً (اے  محمدﷺ !) جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں ما سوا اس کے نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں (اور) ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔“ نیز آپ کی اطاعت کے متعلق ارشاد ہے کہ :

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ (4:80) اور جو رسول کی اطاعت کرتا ہے پس اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔“  علاوہ ازیں خداوند تعالیٰ نے ایسی بہت سی صفات و اسماء کو آنحضرت صلعم کیلئے استعمال فرمایا ہے جنہیں وہ خود اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مثلاً اپنے آپ کو رحمت کہتا ہے تو آنحضرت صلعم کو بھی رحمت کہتا ہے، اپنے آپ ﷺ کو ہادی اورنور کہتا ہے تو آپ کو بھی انہی ناموں سے یاد فرماتا ہے۔ اپنے آپ کو رَہ وُفٌ رَّحِیم کہتا ہے تو آنحضرت صلعم کو بھی اسی نام سے خطاب فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) (128: 9) یقینا تم میں سے ایک رسول تمہارے پاس آیا ہے، تمہارا تکلیف اُٹھانا اس پر شاق گزرتا ہے، تمہاری بھلائی کا بڑا خواہش مند ہے، مومنین پر بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔“ اگر خداوند تعالیٰ ہمیں اس دُعا کی تعلیم دیتا ہے کہ : اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لا (6 :1) ”اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت کر ۔“ تو دوسرے مقام پر آنحضرت صلعم کے لئے ارشاد فرمایا کہ : إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ لا (42:52) اور یقینا تو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔“ نیز جاننا چاہیئے کہ چونکہ آنحضرت صلعم زمین پر نور خداوندی کے مظہر کی حیثیت سے تھے اس لئے آپ کے مقدس نام کی تسبیح سے مومنین کو نور خداوندی کی بخشش ملتی ہے۔ اگر آیۂ نور ( اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ 35: 24) پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے اپنے آپ کو آسمانوں اور زمین کا نور قرار دینے کے بعد اپنے نور کی مثال ایک روشن چراغ سے دی ہے۔ اسی طرح ایک دوسری آیت میں آنحضرت صلعم کو بھی سراجاً منيراً (46 :33) (یعنی روشن چراغ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس روشن چراغ کے ذریعہ ہی کسی کو خداوند تعالیٰ کا نور میسر آسکتا ہے۔ پس جس طرح آنحضرت صلعم اپنے دور میں نور الہی کے مظہر کے مقام پر فائز تھے اسی طرح آپ کے بعد حضرت علی اور ان کی

اولاد اطہار میں ہونے والے آئمہ اطہار اس منصب عالیہ پر فائز ہیں۔ چنانچہ سید امام شاہ

اپنے گنان میں فرماتے ہیں کہ :

اے جی محمد محمد کیجئے ، انے محمد اللہ رسول،

چاپ لیکو کہیئے ، اے تو سدائے چھے رے قبول۔

گنان " ڈلڈل گھوڑے نیٹو ، پاٹھ نمبر (9) ”اے بھائی ! محمد محمد کا ذکر کرو اور محمدﷺ  اللہ کے رسول ہیں، اُن کے نام کا ذکر کرو جو ہمیشہ قبول ہوتا ہے۔“

مندرجہ بالا بیان کے بعد اب اس حقیقت کی وضاحت کی جاتی ہے کہ یا علی یا محمد کی تسبیح میں ہم حضرت علی اور حضرت محمد صلعم دونوں کو بیک وقت پکارتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ہستیاں خداوند تعالیٰ کے نور واحد میں سے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ :

انَا وَ عَلِيٌّ مِّنْ نُورٍ وَاحِدٍ ( سيد محمد صالح کشفی ، کوکب دری ، صفحہ 125) میں اور علی ایک ہی نور سے ہیں۔“

نیز جاننا چاہئے کہ آنحضرت مسلم علم کا شہر ہیں اور حضرت علی علیہ السلام اس کا دروازہ ہیں۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ :

أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَاتِ البَابَ .

(کوکپ ڈری، صفحہ 151)

" میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی اس کا دروازہ ہے پس جسے علم کی طلب ہے اُسے چاہیئے کہ وہ دروازے سے آئے۔“


ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا کہ :

أنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَ عَلى بَابُهَا. (کوکب دری ، صفحہ 157) میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔" علاوہ ازیں آنحضرت صلعم دین اسلام کے ظاہر کی حیثیت سے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام اس کے باطن کی حیثیت سے ہیں اور ان دونوں ہستیوں کی تعلیمات کی وجہ سے دین اسلام مکمل ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں آنحضور صلعم کا ارشاد ہے کہ :

إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَاوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيْلِهِ . کو کپ دری، صفحه 168 نیز وجه دین از سیدنا ناصر خسرو، اردو، جلد دوم، صفحه 122) یقینا تم میں سے ایک شخص ہے جو تاویل قرآن پر جنگ کریگا جیسا کہ میں نے تنزیل قرآن پر جنگ کی ہے، تفصیل دریافت کرنے پر آپ ﷺ  نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا ! نیز آپ ﷺ  نے فرمایا کہ : يَا عَلِي أَنَا وَ أَنْتَ أَبَوَا هَذِهِ الْأُمَّة (المجالس الْمَوْتِدِيه) "اے علی ! میں اور آپ اس امت کے والدین ہیں۔“ قرآن حکیم میں بھی متعدد جگہوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت صلعم اور حضرت علی علیہ السلام کا ذکر ایک ساتھ فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ : يأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُم بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مينا  (4:175) ”اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک ظاہر نور نازل کیا ہے۔“ شیعه مفسرین کے مطابق اس آیت میں دلیل سے مراد آنحضرت صلعم اور نور ۔

مبین سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ (تفسیر امتقین) اسی طرح ایک اور آیت میں ذکر ہے کہ : فَامِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا (64:8) پس تم اللہ، اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے۔"

تفسیر قمی٘ میں ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ (تفسیر المتقین ) نیز ایک اور مقام پر ارشاد ہے کہ :

أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ 0 (11:17) " کیا (منکرِ قرآن ایسے شخص کی برابری کر سکتا ہے) جو اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھی راہ پر ہو اور اس کے پیچھے اس کا ایک گواہ بھی ہو۔“

اس آیت میں سیدھی راہ پر چلنے سے مراد آنحضرت مسلم ہیں اور گواہ سے مراد حضرت علی علیہ اسلام ہیں۔ (تفسیر المتقین)

پیر ستگر نور فرماتے ہیں کہ :

ایکی کلمہ کہو رے مومنو، تھے مت جاؤ کرے بھول، راہ علی نبی جی کی ساچ ہے، اے ہووے گے سدا قبول۔ (گنان " کلمہ کہو رے : " پاٹھ نمبر 1) ”اے مومنو ! تم کلمہ کہو اور بھول مت جاؤ ۔ علی نبی کی راہ ہی سچی راہ ہے۔ اُس راستے پر چلنے والے ہمیشہ مقبول ہوں گے۔“ سید احمد شاہ نے کسی حرفی میں ایک خوبصورت تشبیہ کے ذریعہ اس حقیقت

اوئنگ برنجن ایک ورکھ ج کیتا، اُنکو ڈالی دوئے جو دیتا، ایک نور محمد مصطفی ؛ دوجا نور على مرتضى ، مائی فاطمہ بھی اُن کے پھیلے، حسن حسین اس نور منہے کھیلے۔۔

کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ :

(سی حرفی، پاٹھ نمبر (1) " نا قابل دید خدا نے ایک (نورانی) درخت پیدا کیا، اس کی دو شاخیں بنا ئیں۔ ایک حضرت محمد مصطفیٰ صلعم کا نور ہے اور دوسرا حضرت علی مرتضیٰ کا نور ہے۔ حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء بھی ان کے ساتھ ہیں اور حضرت حسن اور حضرت امام حسین علیہما السلام بھی اس نور میں کھیلتے ہیں۔“

آغاز

جعفر صادق کے بڑے لڑکے اسماعیل سے یہ فرقہ منسوب ہے، ان کے مطابق اسماعیل کی وفات 133ھ میں ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے محمد پر نص کیا تھا اور امام محمد کے بعد تین ائمہ عبد اللہ، احمد اور حسین ہوئے۔ یہ تینوں مستورین کہلاتے تھے یعنی یہ بہت پوشیدہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے خاص خاص نقیبوں کے علاوہ ان کا پتہ کسی کو نہیں معلوم ہوتا تھا۔ ان کے ناموں میں بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔ حسین نے عسکر مکرم میں 297ھ میں وفات پائی۔ اس نے اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے عبد اللہ مہدی کو نص کیا۔ جو مہدی نام سے 297ھ مغرب (افریقہ) میں ظاہر ہوا۔ مذکورہ بالا مستورین اماموں کے ناموں میں بہت اختلاف ہے۔

علویوں نے سرتوڑ کوششیں کیں مگر ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس سے انہیں سیاسی دنیا میں کوئی نمایاں درجہ مل سکے اور دعوتوں کو بنی عباس کے مقابلہ کرکے اپنی امامت ثابت کریں۔ ان کی تحریکوں کو مشرق میں عباسیوں نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ عباسیوں کے خوف سے اسماعیلیوں کی تحریک بھی جو نہایت خفیہ تھی مشرق میں کامیاب نہیں ہوئی اور ان کے اماموں کو مستور ہونا پرا۔ اسی بنا پر انہوں نے اس کے لیے مغرب (افریقہ) کا انتخاب کیا اور وہاں انہوں نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی اور یوں فاطمی سلطنت کی بنیاد پڑی۔

فلسفہ اور مذہب

اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو فلسفہ سے ملانے کی کوشش کی ان میں معتزلہ اور اسماعیلی سرفہرست ہیں۔ لیکن اسماعیلیوں کا عقیدہ دوسرے شیعی فرقوں کی طرح یہ تھا کہ شریعت کے تمام روحانی علوم کا منبع اور سرچشمہ حضرت علیؓ کی ذات ہے اور آپ کے بعد ان علوم کی وراثت آپ کی اولاد کو ملی اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے امام جعفر صادق تک پہنچی۔ اسماعیلیوں کی روایت کے مطابق جعفر صادق نے اس کی اشاعت و تبلغ میں بڑا اہتمام کیا۔

عقائد

اسماعیلی سات کے عدد کو کامل ہونے کی وجہ سے اسے ایک پر اسرار عدد سمجھتے ہیں اور ان کے عقائد میں اس عدد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ عالم کے مختلف نظاموں میں سات کو بڑا دخل ہے۔ چنانچہ آسمان، زمینیں، کواکب، سیارے، دریا، جہنم کے طبقات، قران کی قراءتیں، سورہ فاتحہ کی آیتیں، انسانی چہرے کے منافذ، گردن کے مہرے، ہفتہ کے دن، بیت اللہ کے طواف وغیرہ یہ سب سات ہیں۔ اسی طرح انبیاے مرسلین جنہیں اسماعیلی نطقا کہتے ہیں اور ان کے ادوار سات ہیں۔ ہر ناطق کا ایک قائم مقام ہوتا ہے جو صامت کہلاتا ہے۔ یہ علم باطن کا وارث ہوتا ہے۔ اس کے دوسرے نام وصی، اساس اور سوس بھی ہیں۔ نبی مرسل کو ناطق اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آیت کریمہ "ہذا کتابنا ینطق علیکم بالحق" کے بموجب حق بات کہتا ہے اور خدا کی طرف سے نئی کتاب و شریعت لاتا ہے۔ وصی کو صامت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تاویل بیان کرتا ہے اور ظاہر کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے یعنی ظاہر بیان نہیں کرتا ہے۔

ولایت

معرفت کی طرح ہر مومن اپنے زمانے کے امام کی ولایت بھی فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی اسلام کے سات دعائم شمار کرتے ہیں۔ یعنی ولایت، طہارت، صلوۃ، زکواۃ، روزہ حج اور جہاد۔ ان سب میں اول درجہ ولایت ہے۔ یعنی ولایت کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں، کوئی کیسے ہی اعمال کیوں نہ کرے۔ لیکن اگر وہ امام کی ولایت کا قائل نہیں تو سارے اعمال بیکار ہیں۔ مہدی اسماعیلیوں کے عقیدہ میں کسی ایک خاض شخص کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روح القدوس ہے۔۔ یعنی اس کا ظہور ہر اس امام کے ساتھ ہوتاہے۔ جو امامت کے ساتھ خلافت یا جدید سیاست میں بھی عہدہ سنبھالتاہے ۔ ہر وہ امام آپنی دور کے مہدی ہوتا ہے ۔۔ اخری مہدی کے بارے میں اسماعیلی کتاب میں تاویلات اور نشانیان موجود ہے۔۔ جو ہر کسی کو نہیں بتا دیا جاتا ہے۔ اسماعیلی عقیدہ میں روخانی قیامت کا تصور بھی ہے۔ جو جسمانی دور کے ساتھ یعنی اماموں کے دور کے ساتھ ہے۔۔ جس کا اغاز اسماعیلی عقیدہ کی کتابوں کے مطابق تو پہلا امام علی کے دور سے شروع ہوا ہے۔۔ جو اسماعیلی کتاب میں قول علی مولا علی علیہ السلام کا ارشاد ہے٫ اَناَ الذی اَقومُ الساعة ۔۔یعنی میں ہوں وہ شخص جوقیامت کو برپا کرتا ہوں۔)( منقبت ٥٣ ) ؛کا حوالہ کے ساتھ فلسفے بیان ہوئے ہے۔۔ اور دوسری جسمانی قیامت کا دور اسماعیل بن جعفرصادق کے دور کو کہا جاتا ہے۔ اور تیسری دور عبد اللہ بن حسین المہدی کے دور کو کہتے ہیں، جو گیارویں امام اور فاطمیین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد اسماعیلی دعوت کے نو امام ہوئے، جو ظہور کے امام کہلاتے ہیں 525ھ میں ان کے اکیسویں امام طیب ڈھائی برس کی عمر میں دشمنوں کے خوف سے مستور کر دیے گئے۔ اور امام نزار کے دور کو بھی دور روخانی قیامت کا دور کہا جاتا ہے۔ کچھ اسماعیلی اٹھتالیس وان امام کے دور کو بھی جسمانی قیامت کا دور سمجھتے ہے۔ جس کے بعد کچھ گروہ اس کے فرزند پرنس علی کو جبکہ کچھ گروہ پرنس آغاخان سوم کے پوتے پرنس کریم آغاخان کو امام مانتے تھے۔۔ ابھی تک نزاری اسماعیلیوں کی ایک کثیر تعداد پرنس علی سلمان کو بھی اماموں میں شمار کرتے ہے۔۔ اسماعیلی عقیدہ میں یہ امامت جہان سے اختلافات کی بنا پر دو گروہ بنتے ہے اس کو جسمانی دور قیامت کا ایک امتحان سمجھا جاتا ہے۔ یو یہ امامت اس سلسلے سے نسل بہ نسل قیامت تک ائمہ یکے بعد دیگر ہوتے رہیں گے ۔، جن کا آخری امام قائم القیامہ ہوگا، جس سے دور کشف کی ابتدا ہوگی۔ یہ سب ائمہ اولولامر کہلاتے ہیں، جن کی اطاعت بندگان خدا پر فرض ہے۔ جب کہ فرقہ نزار کے مطابق مستنصر تک جو اٹھارویں امام ہیں کے بعد نزار انیسواں امام ہے اور ان کے اماموں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس وقت آغا خان چہارم فرقہ نزاریہ کے امام ہیں ۔

ناطق

اسماعیلی کے نزدیک پہلے ناطق حضرت آدمؑ تھے، جنھوں نے خدا کے حکم سے ایک نئی شریعت وضع کی۔ ان کے بعد حضرت نوحؑ جنھوں نے حضرت آدمؑ کی شریعت کو منسوخ کرکے ایک دوسری نئی شریعت پیش کی۔ اسی طرح برابر ناطق آتے رہے۔ ہر ناطق اپنے پیش رو کی شریعت کو منسوخ کرکے اپنی شریعت کی تعلیم دیتا رہا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ انبیا کی شریعتوں کو منسوخ کرکے ایک جدید شریعت وضع کی۔ آپ محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علیؓ پر نص کی۔ حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ کو اپنا جانشین بنایا۔

یہ سلسلہ لگاتار امام محمد بن اسماعیل بن جعفر تک پہنچا، جو ساتویں ناطق اور ساتویں امام ہیں۔ جنھوں نے رسول اللہ صلم کی شریعت کے ظاہر کو معطل کرکے باطن کو کشف کیا اور عالم الطبائع کو ختم کیا۔ یہی دور جسمانی میں روخانی دور کا مہدی ہیں جن کے ذریعہ زمین عدل و انصاف سے آباد ہو گیا۔ جس طرح ان سے پہلے ظلم و جور سے معمور تھی۔

ناطقوں کے مبعوث ہونے اور ان کی شریعتوں کے منسوخ ہونے کا حوالہ عام تاریخ میں پایا جاتا ہے اور اس کی تصدیق فاطمیین مصر کے مشہور امام معز کی دعاؤں سے ہوتی ہے۔ ان دعاؤں کو اسماعیلی بہت متبرک سمجھتے ہیں، یہ سات دعائیں ہیں۔ ہر دن کے لیے ایک دعا ہے، جس میں ایک ناطق اور اس کے وصی اور ائمہ کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔

ناطق وصی ساتواں امام
آدم شیث[2] نوح
نوح سام ابراہیم
ابراہیم اسماعیل موسی
موسی ہارون عیسی
عیسی شمعون محمد
محمد علی مہدی [3]

امام

سوائے کسانیہ اور زیدیہ کے کل شیعی فرقوں کے اعتقاد کے لحاظ سے سچے امام کی دو بڑی شرطیں ہیں۔ ایک یہ وہ فاطمی ہو اور دوسری اس کے پیش رو نے اس پر نص بھی کی ہو۔ شیعی امام کی جامع اور مانع تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ وہ زمین پر خدا کے خاص منتخب نمائندے ہیں جنہیں اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے رہنما بنایا ہے اور مانوق الطبعیت قوتوں سے سرفراز کیا ہے اور جنہیں مومنین سے بیت لینے کا حق کسی انتخاب اور امت کے اجماع سے نہیں بلکہ برا راست خدا سے حاصل ہے۔ غرض کہ شیعہ آسمانی حق و اصول کے قائل ہیں جو جمہوری انتخاب کے اصول سے مخالف ہے۔ امام علم خدا کا خازن اور علم نبوت کا وارث ہے۔ اس کا جوہر سمادی اور اس کا عالم علوی ہے۔ اس کے نفس پر افلاک کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا تعلق اس عالم سے ہے جو خارج از افلاک ہے۔ اس میں اور دوسرے بندگان خدا میں وہی فرق ہے، جو حیوان ناطق اور غیر حیوان ناطق میں ہے۔ ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے۔ زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہے سکتی ہے، ورنہ متزلزل ہو جائے۔ اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہؓ کی نسل سے جاری رہے گا۔ باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا ہو، بالغ ہو نابالغ امام ہوتا رہے گا۔ سوائے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے جو ایک خاص صورت ہے۔ امام کو ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسرے سب احکام غاسب اور متغلب ہیں۔ کبھی امام ظاہر ہوتا ہے اور کبھی اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے نائب جنہیں داعی کہتے ہیں اس کے قائم مقام ہوتے ہیں ۔

اسماعلیت میں امام کی خصوصیات

اسماعیلیوں کی موجودہ آغاخانی نزاری کا ماننا ہیں کہ امام معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی خطا نہیں ہوسکتی ہے۔ ہر حالت میں اس کے حکم کی تعمیل مرید پر لازم ہے خواہ اس میں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے۔ امام شریعت کے تمام علوم جانتا ہے۔ خصوصاً قران کے حروف مقطعات کے اسرار سے سوائے امام کے کوئی دوسرا واقف نہیں۔ ہر مومن پر اپنے زمانے کے زندہ امام کی معرفت واجب ہے، اگر وہ چل بسے اور اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ امام اپنے رائے سے نہیں بلکہ خدا کے الہام سے اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہے۔ امام کے بعد اس کا بیٹا ہی امام بنتا ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو کہ بڑا۔امامت کا سلسلہ باپ کے بعد بیٹے کا یہ سلسلہ دنیا ختم ہونے تک جاری رہے گا، ہر زمانے میں امام کا ہونا ضروری ہے اور اس کے وجود سے دنیا میں برکت برقرار ہوتی ہے۔ امام کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی دشمنوں کے خوف سے مستور یعنی پوشیدہ ذندگی بسر کرتا ہے۔اور اس کی نیابت اس کے داعی کرتے ہیں۔ جن پر ہمشیہ اس کی تائید ہوتی رہتی ہے۔ امام اپنے مریدوں کی جان و مال کا مالک ہوتا ہے اور ان کے متعلق جیسا چاہے ویسا ہی احکام نافذ کر سکتا ہے۔ قیامت کے دن قایم القیامہ ظاہر ہوں گے جو اس زمانے کی تمام حکومتوں کو مغلوب کر کے اپنی حکومت قائم کریں گے۔ قیامت کی ابتدا امام محمد بن اسماعیل سے ہو گئی ہے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری شریعت کی تاویلات بیان کر دیا ہے۔ معرفت کی طرح ہر مومن پر اپنے زمانے کے امام کی ولایت کا اقرار و عہد بھی فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی اسلام، کے سات دعائم شمار کرتے ہیں۔ یعنی ولایت، طہارت، صلوۃ، زکواۃ، روزہ حج اور جہاد۔ ان سب میں اول درجہ ولایت ہے۔ یعنی ولایت کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں، کوئی کیسے ہی اعمال کیوں نہ کرے۔ لیکن اگر وہ امام کی ولایت کا قائل نہیں تو سارے اعمال بیکار ہیں۔ مہدی اسماعیلیوں کے لحاظ سے عبد اللہ حسین ہیں، جو گیارویں امام اور فاطمیین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد فاطمی دعوت کے نو امام ہوئے، جو ظہور کے امام کہلاتے ہیں ۔اس کے بعد بھی فاطمی امام کی نسل سے قیامت تک ائمہ یکے بعد دیگر ہوتے رہیں گے ۔، جن کا آخری امام قائم القیامہ ہوگا، جس سے دور کشف کی ابتدا ہوگی۔ یہ سب ائمہ اولولامر کہلاتے ہیں، جن کی اطاعت بندگان خدا پر فرض ہے ۔

نصف و توقیف

شیعوں کے تمام فرقوں کی طرح اسماعیلی بھی باشاہوں کے خدائی حق کے قائل تھے۔ ان کہنا ہے کہ آدم کو اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا اور بندوں کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو خلیفہ مقرر کریں۔ اللہ نے آدم کو حکم دیا وہ اپنا جانشین مقرر کرے۔ اس طرح ان کا قائم مقام بھی خدا کا خلیفہ کہلاتا ہے۔ خدا کی خلافت ہمیشہ زمین پر قائم رہے تی ہے اور یہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ روئے زمین پر جاری رہتا ہے۔ کسی امام کا اپنا جانشین مقرر کرنا نص و توقیف کہلاتا ہے۔ بغیر نص و توقیف کے کسی امام کا قیام جائز نہیں ہے۔ اس میں بندوں کی رائے اور اجماع کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور شیعی فرقوں کی طرح اسماعیلیوں میں نصف و توقیف کا اصول بہت اہم ہے۔ جس میں خلافت کا قیام اجماع امت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ اختیار خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ تعلیٰ نے اپنا رسول بنایا اور آپ نے خدا کے حکم سے حضرت علی کو اپنا خلیفہ مقرر کیا،۔ کسی خلیفہ کی خلافت بغیر نص و تو قیف کے درست نہیں ہوسکتی ہے۔ علاوہ اس اصول کی بنیادی امتیاز حضرت فاطمہ کی نسل سے ہر زمانے میں ایک امام کے ضرورت ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہو یا کسی مصلحت سے مستور ہو۔ باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا ہو، بالغ ہو نابالغ امام ہوتا رہے گا۔ سوائے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے جو ایک خاص صورت ہے۔ امام کو ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسرے سب احکام غاسب اور متغلب ہیں۔ فاطمیین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنایا اور انہیں حکم دیا کہ علیؓ کو اپنا خلیفہ بنائیں اور حضرت علیؓ نے اللہ کے حکم سے خلافت کی امانت ہماری طرف منتقل کی۔ لہذا ہم اللہ کے خلیفہ ہیں اور ہم دنیا میں مذہبی و سیاسی حکمران ہیں ۔

آسمانی حق کا تصور

کہا جاتا ہے کہ آسمانی حق اور خاندانی حکومت ایسے تصورات جن کی طرف عرب کی ذہنیت مائل نہیں تھی۔ اس کے بخلاف ایرانی حق آسمانی کو اہم سمجھتے تھے۔ جن کے یہاں حکومت ایک خاندان میں محدود رہتی تھی۔ ساسانی بادشاہ اپنے آپ کو دیوتا یا ربانی وجود سمجھتے تھے۔ قدیم کیانی خاندان کی اولاد ہونے ساتھ اپنے کو حکومت اور فر کیانی کا جائز وارث سمھتے تھے۔ ساسانیوں کے عہد میں حق آسمانی کا عقیدہ جس عمومیت اور جوش کے ساتھ ایران میں پھیلا اس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی ہے۔ ائمہ کے جو غلو آمیز عقیدے پھیلے ان کا بانی یمن کا عبد اللہ بن سباتھا۔ جس نے حضرت علیؓ کو ’ انت انت ‘ یعنی تم خدا کہا۔ یہ یہودی تھا اس لیے حضرت موسیؑ کے وصی یوشع بن نون کے متعلق یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ آسمانی حق اور تناسخ وغیرہ جیسے ایرانی خیالات کے یمن میں شائع ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایرانیوں نے عام الفیل یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال یمن فتح کیا تھا۔ اسماعیلوں کے دور کشف، دور فترت، دور ستر اور جہنم اور نفوس کی جزا اور سزا کے مسائل کم و بیش ہندی فلسفے سے ملتے جلتے ہیں۔ اگرچہ بعض مسائل میں اسماعیلیوں نے جدت بھی دکھائی ہے ۔

دعوت

اسماعیلیوں نے اپنی سیاسی عمارت کی بنیاد مذہب پر رکھی تھی۔ جسے وہ دعوت کہتے تھے۔ مہدی سے مستنصر کے زمانے تک ان کی مذہبی سرگرمیں جاری رہیں۔ لیکن مستنصر کے دور میں ہی اس کی قوت گھٹنے لگی۔ مستنصر کی وفات کے بعد خود اسماعیلیوں کے دو فرقے ہو گئے۔ مستعلیوں نے آمر کے قتل کے بعد اپنی دعوت یمن منتقل کردی، نزاریوں نے ’ الموت ‘ کو اپنا مستقر بنایا۔ دروزی جو حاکم کو خدا مانتے تھے مصر چھوڑ کر لبنان منتقل ہو گئے۔ اس طرح اسماعیلیوں کی قوت جو ایک مرکز پر تھی منتشر ہو گئی۔ اسماعیلیوں کے دعوت کے اس اصول کے مطابق امامت باپ کے بعد منتقل ہونی چاہیے۔ لیکن آمر کے بعد اس کا چچا ذاد بھائی حافظ امام بن گیا۔ گو مستعلوی کہتے ہیں کہ آمر کے قتل کے بعد اس کا ڈھائی سالہ بیٹا طبیب حقیقی امام جو نزاریوں کے خوف سے چھپادیا گیا۔ اس وجہ سے بھی بہت سے اسماعیلیوں کے خیلات بدل گئے اور اسماعیلیوں کی قوت کو ضعیف پہنچا۔

باطنی

اسماعیلیوں کی کتابوں میں ظاہر شریعت کے تعطیل کے معتدد حوالے ملتے ہیں۔ امام معز کی دعا میں جو تعطیل کا لفظ ہے اس کے معنی تبدیل و منسوخ کے ہیں۔ علاوہ اس کے شریعت محمدی کا مقابلہ انبیا سابقین سے کیا ہے، جن کا ظاہر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ غرض کہ ساتویں امام محمد بن اسماعیل بن جعفر الصادق کے جو قائم القیامہ اور یوم القیامۃ و البعث ہیں کے دور میں ظاہری شریعت کے اسرار واضح کر دیا گیا۔ ۔۔ اور چھٹا جسمانی دور ختم ہو کر ساتویں روحانی دور کی ابتدا ہوئی، اب ظاہری اعمال یعنی نماز، روزہ وغیرہ کی تاویلات بیان کردی گئی۔ اور اسماعیلی عقیدہ شریعت سے طریقت میں تبدیل ہوئی۔۔ کیوں کہ اسماعیلیوں کے عقیدے کے مطابق شریعت کی تاویلات ظاہر کردی گئیں ہیں۔ ممثولات کی معرفت اور ولایت ( محبت ) کافی ہے۔ امام معز کی دعاؤں کا حوالہ اور شرح جلیل قدر داعیوں نے کیں ہیں۔ امام محمد بن اسماعیل کے بعد جو چودہ امام ان کی نسل سے ہوئے اور روز قیامت تک جاری ہوں گے۔ ان کو امام معز نے اپنی دعاؤں میں امام محمد بن اسماعیل کے خلفاء کہا ہے۔ امام مزکور سے قائم کا روحانی دور شروع ہوا ہے۔ اسماعیلوں کے مطابق انے والے دور کے اماموں میں سے جس کو موقع ملے وہ قائم کی حثیت سے ظاہرہو کر عدل و انصاف سے حکومت کرے گا۔ اور یہ امامت نسل بہ نسل جاری رہے گا۔ ۔۔۔

امام معز کی دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم اسماعیلوں کا عقیدہ یہ ہے کہ امام محمد بن اسماعیل کے عہد سے ظاہری اعمال اٹھ گئے اور علم باطن کا دور شروع ہوا۔ چنانچہ قدیم اسماعیلی فرقہ مثلاً قرامطہ اور نزاری بھی یہی عقدہ رکھتے تھے۔ بلکہ انہوں نے کھلاکھلم اپنا عقیدہ ظاہر کیا۔ امام مہدی اور ان کے جانشینوں نے اس قسم کے عقیدے ظاہر نہیں کیے۔ اس کی وجہ مشترق اولیری نے یہ بتائی کہ ان حکمرانوں کو مصر و شام پر مستقل حکومت کرنے کا موقع ملا اور ان ممالک میں اکثریت اہل سنت کی تھی۔ اس لیے انہوں نے صرف ایسے عقیدے ظاہر کیے جو ان کی رعایا سے ملتے جلتے تھے۔ مہدی اور اس کے خلفاء نے باطن کی تعلیم تو دی لیکن اس کے ساتھ اس امر پر بھی زور دیا کہ کہ باطن کے ساتھ ظاہر بھی ضروری ہے۔ ظاہری اعمال دور کشف میں قائم القیامۃ ہی اٹھائیں گے۔ اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے باطن کی تعلیم ہر کس و ناکس کو نہیں دی جاتی تھی، بلکہ اس میں سننے والے کے استعداد اور وقت کے مقتضاد کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا۔ دعوتوں کی مجلسیں صرف قیصر ہی میں پوشیدہ مقام پر ہوا کرتی تھیں۔ مبتدی صرف ظاہر کی تعلیم سے مستفید ہوا کرتے تھے۔ علامہ مجلسی کی روایت ہے کہ امام جعر صادق نے اسماعیل کو اپنا جانشین بنایا تھا۔ لیکن ایک موقع پر وہ شرع عمل کے مرتب ہوئے۔ یہ دیکھ کر ان کے والد برا فروختہ ہوئے اور امامت کے عہدہ موسیٰ کاظم کی طرف منتقل کر دیا، فرقہ اسماعیلیہ نے نہیں مانا اور تاویل کی کہ اسماعیل کا ایسا کرنا ان کی اعلیٰ روحانیات کا ایک ثبوت ہے، کیوں کہ وہ ظاہر شریعت کے پابند نہ تھے بلکہ باطن کے قائل تھے۔ یہ اسماعیلیوں کے اس رجحان کی مثال ہے جو تاویل یعنی باطنی شریعت کی طرف ہے ۔

اسماعیلی دعوت کے درجات

عہدہ حجت امور
صدر دعوت ( 1 ) نبی# نبی کے بعد وصی جس کا دوسرا نام صامت ہے# وصی کے بعد امام ظاہر شریعت کی تعلیم

باطنی علوم کی تعلیم ظاہری شریعت کی حفاظت باطنی علم کی تعلیم۔

بارہ باطنی مدگار

ان میں امام کا خاص اور اول مدد گار شامل ہے جسے داعی البواب کہتے ہیں

پہلی حجتیں یہ لوگ امام کی خدمت میں رہتے ہیں اور ان پر جہاد فرض نہیں ہے ۔
بارہ ظاہری مدگار نہاری حجتیں ظاہری شریعت کی تعلیم۔ بارہ زجزیروں میں زمین کی تقسیم کی جاتی ہے اور ہر جزیرے میں ایک حجت کو پھیجاجاتا ہے۔ نہاری حجتوں پر جہاد فرض ہے ۔
مبلغین جو نبی یا وصی یا امام کی طرف سے مختلف شہروں میں تبلیغ کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ داعی البلاغ ظاہری شریعت کی حفاظت اور باطنی علوم کی تعلیم امام کی غیبت کے زمانے میں جو داعی اس کا قائم مقام ہوتا ہے، اسے داعی مطلق کہتے ہیں، اسے کل اختیارات ہوتے ہیں۔ سب داعیوں کے صدر کو داعی الدعاۃ کہتے ہیں ۔
داعی کا اول مددگار ماذوں مستجب سے عہد میثاق لینا
داعی کا دوسرا مددگار مکاسر مستجب کے پہلے مذہب کو باطل ٹہرانا اور اپنا ،ذہب ثابت کرنا۔

بعض اوقات نئے عہدے مثلاً لاحق، جناح، لومصہ، مکلب، رفیق اور داعی محصور وغیرہ بھی قائم کیے جاسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسماعیلی دعوت کا حقیقی بانی ایک ایرانی داعی ابو شاکر میمون القداح یا اس کا بیٹا عبد اللہ تھا۔ دونوں مختلف ادیان اور یونانی فلسفہ کا ماہر تھے ۔

اسماعیلیوں کے مخصوص مذہبی علم

علم تفصیل
( 1 ) فقہ اسماعیلی فقہ میں قیاس اور رائے کو بالکل دخل نہیں ہے، اجتہاد گمراہی کا راستہ ہے۔ ہر شریعی حکم نص قطی کا محتاج ہے ،
( 2 ) تاویل اس فن میں سب سے معتبر تصنیفیں قاضی القضاۃ نعمان بن محمد کی ہیں۔ علم تاویل کو علم باطن بھی کہتے ہیں۔ ان میں وہ اسرار ہیں جو عوام کو نہیں بتائے جاتے ہیں۔ اسماعیلیوں میں بھی جو ایک خاص درجہ تک پر پہنچتا ہے وہی ان پر مطلع ہو سکتا ہے ۔
( 3 ) فلسفہ تاویل کے ختم ہوجانے پر مذہبی فلسفہ کی تعلیم دی جاتی ہے جسے اسماعیلی اپنی اصطلاح میں ’ حقیقت ‘ کہتے ہیں۔ اس فن میں عالم کی ابتدا، انتہا، قیامت، بعث، حشر وغیرہ کے مثائل بیان کیے جاتے ہیں ۔

علم حقیقت ( یا حقائق ) میں سب سے اہم اور مستند کتاب ’ اخوان الصفا ‘ ہے۔ اس کے آخری رسالہ جو ’ جامعہ ‘ نام سے مشہور ہے۔ اس میں تاویل و حقائق کے بنیادی مسائل بیان کیے گئے ہیں

نزاری عبادت خانہ

نزاری اسماعیلیوں کا عبادت گاہ کو جماعت خانہ کہلاتے ہیں ۔نزاری اسماعیلی جماعت خانہ میں اسماعیلیوں کے علاوہ کسی دوسرے کا داخلہ ممنوع ہے

اسماعیلی فرقے

اسماعیلی دعوت کی ابتد کو بارہ صدیاں سے زیادہ گذر چکی ہے ں۔ اس طویل مدت میں کئی مذہبی اور سیاسی بتدیلیاں ہوئیں۔ جس کی وجہ سے اس میں مختلف فرقہ پیدا ہوئے، اس لیے اصل عقیدے میں تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔ ہر فرقہ نے علحیدہ اعتقاد اختیار کیا۔ اس وقت جو اسماعیلی ہیں ان میں بعض امام کو خدا مانتے ہیں جیسے دروزی۔ بعض صرف باطن ہی کے قائل ہیں جیسے نزاری جو عام طور پر خوجے کہلاتے ہیں اور بعض باطن سے ساتھ ظاہر کے بھی پابند ہیں جیسے داودی اور سلیمانی۔

ایران کے قلعہ الموت میں ان کی بے مثال حکومت رہی ہے۔ یہ حکومت ان سے مصر میں ان کی مشہور زمانہ فاطمی دور حکومت کے چھن جانے کے بعد شروع ہوتی ہے جس میں حسن صباح مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں اسماعیلی پوری دنیا میں آباد ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی پر امن لوگ ہیں اور کسی دوسرے کے عقیدے کو نہیں چھیڑتے ہیں۔ پوری دنیا میں ان دی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس وقت اسماعیلی مسلمان ہندوستان، پاکستان، یمن، لبنان، شام اورایران میں آباد ہیں اور بہت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

ماخذ ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمیین مصر

دیگر نام و گروہ

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. دیکھیں اسماعیلی ویب سائیٹ امانہ نیز اسماعیلی تاریخ کی ویب سائٹ
  2. بعض اسماعیلی، ہابیل کو آدم علیہ السلام کا وصی سمجھتے ہیں.
  3. یہ تمام اسماعیلی فرقے کا نظریہ ہے۔ البتہ مہدی کون ہے یہ اختلاف ہے۔

https://ismaililiterature.com/urdu-books/

ہماری اسماعیلی مذھب کی حقیقت اور اسکا نظام از ڈاکٹر زاہد علی

https://www.scribd.com/doc/138202017/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%B2%D8%A7%DB%81%D8%AF-%D8%B9%D9%84%DB%8C