اسماعیلی اماموں کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ فہرست اسماعیلی شیعہ اماموں اور ان کی شاخوں کی ہے۔ یہ امام اہل بیت، خاندان نبوت سے ہوتے ہیں۔

ابتدائی امام[ترمیم]

اسماعیلی بارہ امامی شیعوں کے ساتھ درج ذیل ائمہ کو مشترکہ طور پر امام مانتے ہیں۔ تاہم، شمار کرنے کے طور پر اختلاف ہے، جیسے کہ کچھ[مبہم] شاخیں علی بن ابی طالب کو "پہلا" امام اور کچھ حسن ابن علی کو پہلا امام مانتے ہیں۔ مزید، بعض شاخوں علی کے جانشین کے طور پر حسن کو تسلیم نہیں کرتیں اور حسین کو علی کے بعد امام مانتی ہیں۔[حوالہ درکار]، مستعلی علی بن ابی طالب کو امام نہیں مانتے۔ زیدی شیعہ علی بن حسین کے بعد اس زنجیر کو توڑ کر، زید ابن علی کو امام مانتے ہیں۔

بارہ امامیوں سے اختلاف[ترمیم]

اسماعیلیوں کا اختلاف امام جغفر صادق کے بیٹوں سے شروع ہوتا ہے، ان کے بڑے بیٹے اسماعیل ابن جعفر کی وفات ان کی زندگی میں ہو گئی، لیکن بعض اسماعیلی گروہ کے لوگوں نے کہا کہ وہ مرے نہیں غائب ہوئے ہیں اور دوبارہ مہدی کے روپ میں ظاہر ہوں گے،ان میں کچھ اسماعیلیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسماعیل اپنے والد کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے لیکن امامت پھر بھی انہی کا حق ہے اور اسماعیل کی وفات کے بعد یہ امامت خود بخود ان کے بیٹے محمد اور پھر ان کی اولاد میں منتقل ہو گئی ہے۔ یاد رہے موجودہ دور میں نزاری اسماعیلیوں کا کہنا ہے کہ اسماعیل بن جعفر صادق مرا نہیں تھا۔ بلکہ مخالفیں کی وجہ سے امام جعفر صادق نے ایسا تقیہ طریقہ اپناکر اسماعیل کو سلامیہ شہر میں بھیجا جہان سے اسماعیلی مذہب کی تعلیمات کا شروعات ہوئی ہے۔۔ اور امام جعفر صادق کی طرف سے بیٹے کی جنازہ لوگوں کو بار بار دیکھانے کو ایک امامت کا امتحان سمجھتے ہے۔ اور کہتے ہے کہ اسماعیل مرا نہیں تھا۔ بلکہ امام جعفر الصادق آپنی روخانی طاقت سے اس کو بے ہوش کر دیا تھا۔ یا اپنی روخانیت نصوص کر دیا تھا جس سے وہ حالت بے ہوشی میں تھا۔ اور ایسا ہونے سے مخالفیں کو یقین ہوا کہ اسماعیل بن جعفر الصادق فوت ہو گئے۔۔ اور بعض نزاری کہتے ہے۔۔ اگر اسماعیل فوت بھی ہوا تھا۔ مگر پھربھی امامت اسی کا حق تھا۔ کیونکہ وہ حضرت فاطمہ بن محمدﷺ کی اولاد میں سے تھا۔ ۔۔ اور اس دور کو مہدیہ کا دور مانتے ہے۔۔ جس کا تفصلی زکر اسماعیلی ویکیپڈیا میں وضاحت کیا گیا۔ ۔۔

  • اسماعیل ابن جعفر، جعفر کے بیٹے اور نامزد وارث، جو والد سے پہلے ہی وفات پا گئے، لیکن سبعیہ اور اسماعیلیوں نے ان کو امام تسلیم کیا ہے (اثنا عشریہ یعنی بارہ امامی اس کے خلاف ہیں)۔
  • محمد (محمد ابن اسماعيل)، اسماعیل کا بیٹا، وفات ہارون الرشید کے دور حکومت میں (786ء–809ء)

The group that believed Muhammad ibn Ismail to be the امام مہدی who had withdrawn into غیبت اور would return again to earth some day، came to be known as the سبعیہs۔ This term is often incorrectly applied to the "Ismailis" who had separated from the Seveners and gone further on with the succession to the Imamat۔

One group of the Seveners propagated their faith from their bases in Syria through Dāʿiyyūn ("Callers to Islām")۔ In 899، the عبیداللہ مہدی announced that he himself was the "Imam of the Time" being also the fourth direct descendant of Muhammad ibn Ismail in the very same dynasty۔ This caused a split between his Sevener followers accepting his claim and those Seveners disputing his claim and clinging to Muhammad ibn Ismail as the Imam in occultation۔ This Imam and Fourth Da'i، Ubayd Allah al-Mahdi Billah، eventually became the First فاطمی خلیفہ۔ This separated group from the Seveners now became known as the Fatimids of the Maghreb and Egypt۔ This was the reason why the قرامطہ، the original Seveners، were the Fatimid's most irreconcilable opponents۔

فاطمی[ترمیم]

دولت فاطمیہ میں (اور بعد میں اسماعیلی) روایت، امامت ان کو منتقل ہوتی رہی:

اس کی موت کے بعد، جانشینی میں اختلاف کیا گیا۔ وصی مالک الافضل مستنسر کے چھوٹے بیٹے المستعلی کے سر تاجآیا۔ اس کو بڑے بیٹے النزار سے لڑنا پڑا، جو بہر حال ہار گیا تھا اور جیل میں وفات پائی۔ اس تنازع کے نتیجے میں دو شاخیں وجود میں آئیں، جن کو آج مستعلی اور نزاری کہتے ہیں۔

مستعلی[ترمیم]

تسلیم شدہ مستعلی امام:

حافظی دعوی کرتے ہیں کہ امیر کی وفات کے بعد چچا زاد کی طرف سے خلیفہ نامزد کیے گئے۔ The Mustaʿlī split into the Hafizi, who accepted him and his successors as Imam, and the طیبی، who believed that Amir's purported son At-Tayyib was the rightful Imam and had gone into occultation:

طیبی[ترمیم]

تسلیم شدہ طیبی امام:

The طیبیہ branch continues to this day, headed by a داعی مطلق as vice-regent in the imam's occultation. The Tayibbi have broken into several branches over disputes as to which Da'i is the true vice-regent. The largest branch are the داؤدی بوہرہ اور there are also the سلیمانی بوہرہ اور علوی بوہرہ۔

حافظی[ترمیم]

تسلیم شدہ [[حافظی امام:

نزاری[ترمیم]

تسلیم شدہ نزاری امام:

نزاری اماموں کے فہرست اور تاریخ۔ ۔۔

http://www.ismaili.net/histoire/main.html


حوالہ جات[ترمیم]

  • Farhad Daftary۔ The Ismāʿīlīs: Their history and doctrines۔ Cambridge, England: Cambridge University Press۔ صفحات 551–553۔ آئی ایس بی این 0-521-42974-9۔
  • Heinz Halm۔ Die Schia۔ Darmstadt, Germany: Wissenschaftliche Buchgesellschaft۔ صفحات 193–243۔ آئی ایس بی این 3-534-03136-9۔