اسماعیل بن موسیٰ مینک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسماعیل بن موسیٰ مینک
Ismail ibn Musa Menks talk at Kerala State Business Excellence Awards 2015.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 جون 1975 (44 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہرارے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Zimbabwe.svg زمبابوے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مفتی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

اسماعیل بن موسی مینک (انگریزی: Ismail ibn Musa Menk) المعروف مفتی مینک زمبابوی عالم دین اور زمبابوے کے مفتی اعظم ہیں۔[1][2] وہ مجلس العلماء زمبابوے کی فتوی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔[3][1][4] انہیں سنہ 2013ء، 2014ء اور 2017ء میں اردن کے مؤسسۃ آل البیت للفکر الاِسلامی کی جانب سے انہیں دنیا کے 500 با اثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔[5][6] سنہ 2018ء میں انہوں نے اپنے اقوال کا مجموعہ موٹیویشنل مومینٹس کے عنوان سے کتاب شائع کی[7][8] اور سنہ 2019ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن موٹیویشنل مومینٹس 2 کے نام سے شائع کیا۔[9]

ان کی پیدائش زمبابوے کے شہر ہرارے میں ہوئی اور اسی شہر میں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے علوم شریعت کی ڈگری جامعہ اسلامیہ سے لی اور پھر فقہ و قانون میں مہارت کے لیے دار العلوم کنتھاریہ گجرات، بھارت چلے گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Peace comes calling a look into the Life of Mufti Menk, Grand Mufti of Zimbabwe."۔ Cochin Herald۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2017۔
  2. Liam Stack۔ "The World Reacts on Social Media to Muhammad Ali's Death"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2017۔ Ismail Menk, the Grand Mufti of Zimbabwe, the African country's highest Islamic religious authority
  3. "Was Minister Shanmugam's speech directed at preachers like Mufti Menk?"۔ The Independent۔
  4. "Mufti Menk denied permission to deliver sermon at the Islamic Centre"۔ Valley News۔
  5. "The 500 Most Influential Muslims 2017" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Royal Islamic Strategic Studies Centre۔
  6. "The 500 Most Influential Muslims 2013–14" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Royal Islamic Strategic Studies Centre۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2018۔
  7. "PressReader.com – Connecting People Through News"۔ www.pressreader.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-01۔
  8. Musa Menk۔ Motivational Moments۔ ALQ Creative۔ آئی ایس بی این 978-9811126475۔
  9. Saman Haziq۔ "Islamic scholar Mufti Menk launches his second book"۔ Khaleej Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-03-04۔