اسماعیل میرٹھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسماعیل میرٹھی
معلومات شخصیت
پیدائش 12 نومبر 1844  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میرٹھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 نومبر 1917 (73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
میرٹھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ مرزا اسد اللہ خان غالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مولوی اسماعیل میرٹھی (پیدائش: 12 نومبر 1844ءیکم نومبر 1917ء) کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔ "مولوی اسما عیل میرٹھی، ایک ہمہ جہت شخصیتان کا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں ہونا چاہیے " پروفیسر گوپی چند نارنگ

پیدائش[ترمیم]

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسما عیل نگر کے نام سے معروف ہے۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

ان کا سلسلہ نسب محمد بن ابو بکر سے جا ملتا ہے۔ ان کے کسی بزرگ نے ترکستان کے قدیم شہر خجند میں سکونت اختیار کی تھی اور وہاں سے آپ کے مورث اعلی میں سے قاضی حمید الدین خجندی بادشاہ ظہیر الدین بابر کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔ معروف ادیب و شاعر حضرت مولانا محمد اسماعیل میرٹھی علیہ الرحمہ جن کی نظمیں آج بھی داخل نصاب ہیں، محمد عبدالعلیم صدیقی کے والد ماجد کے چھوٹے بھائی تھے، دونوں بھائیوں کی عمروں میں 14 سال کا فرق تھا۔ - See more at: http://www.tahaffuz.com/5067/#sthash.FSaG7cig.dpuf ’’حیات اسماعیل‘‘ میں درج شدہ معلومات کی روشنی میں حضرت مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدیقی خجندی علیہ الرحمہ تک، مبلغ اعظم کا شجرہ نسب یہ ہے ’’شاہ محمد عبد العلیم بن شاہ عبد الحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد بن مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدیقی خجندی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہم‘‘ (محمد اسلم سیفی بن مولانا محمد اسماعیل میرٹھی (خان بہادر) سابق چیئرمین، میونسپل بورڈ، میرٹھ ’’حیات اسماعیل (مع کلیات اسماعیل)‘‘ - See more at: http://www.tahaffuz.com/5067/#sthash.FSaG7cig.dpuf

ملازمت[ترمیم]

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسما عیل میرٹھی نے سررشتہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی جہاں ان کی ملاقات قلق میرٹھی سے ہوئی۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا منظوم ترجمہ ’جواہر منظوم‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس منظوم ترجمے نے اسما عیل میرٹھی کو بہت متاثر کیا، جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالامال ہو گیا۔

ادبی خدمات[ترمیم]

یہ اشعار مولوی اسماعیل میرٹھی کے ہیں جو انھوں نے بچوں کے لیے لکھے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف بچوں کے شاعر تھے۔

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا۔ ۔۔۔ کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

ادب سے ہی انسان انسان ہے۔ ۔۔۔ ادب جو نہ سیکھے وہ حیوان ہے

بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت۔ ۔۔۔ نہیں کام آتی دلیل اور حجت

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں۔ ۔۔۔ ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں

ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر۔ ۔۔۔ تو ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر

جو بات کہو صاف ہو ستھری ہو بھلی ہو۔ ۔۔۔ کڑوی نہ ہو کھٹی نہ ہو مصری کی ڈلی ہو

معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کہتے ہیں :”بچوں کا ادب اسماعیل میرٹھی کی ادبی شخصیت کا محض ایک رخ ہے۔ ان کا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لیے زیادہ تر مثنوی اور مسدس کے فارم کو برتا تھا۔ اسماعیل نے ان کے علاہ مثلث، مربع، مخمس اور مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزاد نظم اور نظم معرٰی کے جو تجربے کیے، ان سے بہت پہلے عبد الحلیم شرر، نظم طباطبائی اور نادر کاکوروی اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔ “

وفات[ترمیم]

اسماعیل میرٹھی نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو میرٹھ میں انتقال کیا۔

مقبولیت[ترمیم]

ان لوگوں نے اس وقت اردو زبان و ادب کی آبیاری کی جب فارسی زبان و ادب کا بول بالا تھا۔ مدارس میں فارسی کتابوں کا چلن تھا اور گھروں میں صرف انفرادی طور پر اردو کی تعلیم ہوتی تھی۔ اس وقت بچوں کی تدریسی ضرورتوں کا ادراک کرتے ہوئے جس شخص نے باقاعدہ بچوں کے ادب کی طرف توجہ دی وہ مولوی اسما عیل میرٹھی تھے۔ انھوں نے نظمیں بھی لکھیں اور پہلی سے پانچویں جماعت تک کے لیے اردو کی درسی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ابتدائی جماعتوں کے لیے اردو زبان کا قاعدہ بھی مرتب کیا۔ انھوں نے قواعد و زبان پر بھی کئی کتابیں تصنیف کیں۔ انھوں نے لوئر پرائمری، اپر پرائمری اور مڈل جماعتوں کے لیے علاحدہ درسی کتابیں تیار کیں۔ جن میں بچوں کی نفسیات کے مطابق اسباق شامل کرتے ہوئے ان کی عمروں کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔ ان کی درسی کتابیں ہزاروں مدارس اور اردو میڈیم اسکولوں کے نصاب میں شامل ہیں۔