اسمرتی مندھانا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسمرتی مندھانا
ذاتی معلومات
پیدائش 18 جولائی 1996ء (عمر 22 سال)
سانگلی، مہاراشٹر، بھارت
بلے بازی بائیں ہاتھ کی بلے باز
گیند بازی دائیں ہاتھ کی مدھم رفتار
حیثیت بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 75) 13 اگست 2014  بمقابلہ  انگلستان
آخری ٹیسٹ 16 نومبر 2014  بمقابلہ  جنوبی افریقہ
ایک روزہ پہلا 10 اپریل 2013  بمقابلہ  بنگلہ دیش
آخری ایک روزہ 19 فروری 2016  بمقابلہ  سری لنکا
پہلا ٹی20 5 اپریل 2013  بمقابلہ  بنگلہ دیش
آخری ٹی20 31 جنوری 2016  بمقابلہ  آسٹریلیا
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹسٹ او ڈی آئی ٹی20آئی
میچ 2 20 20
رنز بنائے 81 645 321
بیٹنگ اوسط 27.00 32.25 18.88
سنچریاں/ففٹیاں 0/1 1/5 0/1
ٹاپ اسکور 51 102 52
گیندیں کرائیں
وکٹیں
بولنگ اوسط
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 0/– 7/- 4/–
ماخذ: ESPNcricinfo, 23 اکتوبر 2016

اسمرتی مندھانا (پیدائش: 18 جولائی، 1996ء) ایک بھارتی خانون کرکٹ کھلاڑی ہے جو بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلتی ہے۔[1][2]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

اسمرتی کی پیدائش 18 جولائی، 1996ء کو ممبئی میں اسمیتا اور شری نواس مندھانا کے یہاں پیدا ہوئی۔[3][4] جب وہ دو سال کی تھی، تب سارا خاندان سانگلی، مہاراشٹر منتقل ہو گیا جہاں اس نے اسکولی تعلیم مکمل کی۔ اس کے والد اور بھائی شراون ضلعی سطح پر سانگلی ضلع کے لیے کھیلا کرتے تھے۔ اسے کرکٹ میں حوصلہ افزائی کی وجہ اس کے بھائی مہاراشٹر 16 سے کم عمروں کے مقابلوں میں حصہ لینا ہے۔ 9 سال کی عمر وہ 15 سال سے کم عمر مہاراشٹر کی ٹیم کے لیے منتخب ہوئی۔ 11 سال کی عمر میں وہ مہاراشٹر 19 سال سے کم عمروں کی ٹیم کا حصہ بنی۔[5]

سمرتی کی کرکٹ سرگرمیوں سے اس کا خاندان قریب سے جڑا ہے۔ اس کا باپ ایک ادویہ کے تقسیم کار کے ساتھ سارھ اس کے کرکٹ پروگراموں کی دیکھ ریکھ کرتا ہے۔ اس کی ماں اس کی غذا، لباس اور تنظیمی معاملوں کا خیال رکھتی ہے اور بھائی شراون اب بھی مشق کے دوران گیند بازی کرتا ہے۔[3][4]

کریئر[ترمیم]

گھریلو سطح کا کرکٹ[ترمیم]

اسمرتی مندھانا کا پہلا غیر معمولی مظاہرہ اکتوبر 2013ء میں آیا جب وہ پہلی بھارتی خاتون بنی جس نے ایک روزہ کھیل میں دہری سنچری بنائی۔ مہاراشٹر بمقابلہ گجرات کھیلتے ہوئے وہ 150 گیندوں میں 224 ناقابل تسخیر رن بنائے۔ یہ مقابلہ ویسٹ زون 19 سال سے کم عمروں کی ٹورنمنٹ کے لیے آلمبیک کرکٹ گراؤنڈ وڈودرا میں کھیلا گیا۔[6]

2016ء میں ویمنز چیالنجر ٹروفی میں اسمرتی تین آدھی سنچریاں انڈیا ریڈ کے لیے بنائی، جو اتنے ہی کھیلوں تھے اور اس طرح سے اپنی ٹیم کو 82 گیندوں میں 62 ناقابل تسخیر رن فائنل میں انڈیا بلو کے خلاف بنائے۔ 192 رنوں کے ساتھ وہ اس ٹورنمنٹ کی سب سے زیادہ اسکور کرنے والی بنی۔[7]

ستمبر 2016ء میں اسمرتی نے برسبین ہیٹ کے ساتھ معاہدہ طے کیا کہ وہ ویمنز بگ باش لیگ کے لیے ہرمن پریت کور کے ساتھ کھیلے گی، اس طرح سے وہ پہلی بھارتی بن گئی جو اس لیگ کا حصہ بنی۔[8] ملبورن رینیگیڈز کے لیے کھیلتے ہوئے جنوری 2017ء میں اسے فیلڈنگ کرتے ہوئے عجیب سا محسوس ہوا جب اس کی اوور کا آخری بال اس کے گھٹنے کو چوٹ پہنچ گیا۔ وہ باقی ٹورنمنٹ سے باہر ہو گئی جس میں وہ 12 اننگز میں 89 رنز بنا پائی تھی۔[9][10]

بین الاقوامی سطح کا کریئر[ترمیم]

اسمرتی اپنا پہلا ٹسٹ مقابلہ اگست 2014ء میں انگلینڈ کے خلاف وارمسلے پارک میں کھیلی۔ اس نے اپنی ٹیم کو پہلی اننگز میں 22 اور دوسری اننگز میں 51 اسکور کرتے ہوئے جیتنے میں مدد کی؛ بعد کی اننگز میں وہ افتتاحی وکٹ کی ساجھے داری میں تھیروشی کامنی کے ساتھ 76 رن بنائے جبکہ مخالف ٹیم کا کل اسکور 181 تھا۔[11][12]

بھارت کے 2016ء کے آسٹریلیائی دورے کے دوران ہوبارٹ کے بیلیریو اوول میں اسمرتی نے اپنی پہلی سنچری بنائی (109 بالوں سے 102 رن)، جبکہ ٹیم کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔[13]

اسمرتی وہ واحد بھارتی کھلاڑی ہے جس کا نام آئی سی سی خواتین کی 2016ء ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Smriti Mandhana"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2014۔
  2. "Smriti Mandhana's journey from following her brother to practice to becoming a pivotal India batsman"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2016۔
  3. ^ ا ب Sidhanta Patnaik۔ "Mandhana's journey from Sangli to England"۔ Wisden India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2016۔
  4. ^ ا ب Kumar Swamy۔ "Smriti Mandhana logs Test win on debut in UK"۔ The Times of India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2016۔
  5. Shashank Kishore۔ "The prodigious journey of Smriti Mandhana"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2016۔
  6. "Smriti makes good use of Dravid's bat, scores double ton"۔ The Times of India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2016۔
  7. "Mandhana powers India Red to title"۔ Wisden India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2016۔
  8. "India Women stars relishing Big Bash opportunity"۔ International Cricket Council۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2016۔
  9. "Knee injury ends Mandhana's WBBL campaign"۔ Wisden India۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2017۔
  10. "Records / Women's Big Bash League, 2016/17 / Most runs"۔ espncricinfo.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2017۔
  11. "Raj key in India's test of nerve"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2016۔
  12. "Nagraj Gollapudi speaks to members of India's winning women's team"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2016۔
  13. "Australia Women ace 253 chase to seal series"۔ Cricinfo۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2016۔
  14. "Smriti lone Indian in ICC women's team"۔ The Hindu۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اپریل 2017۔