اسم ضمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسم ضمیر اسم معرفہ کی ایک قسم ہے

اسم ضمیرکا مفہوم[ترمیم]

ایسے الفاظ جو کسی دوسرے اسم کی جگہ استعمال کیے جائیں اسمائے ضمیر کہلاتے ہیں۔

یا

وہ اسم جو کسی چیز شخص یا نام کی بجائے بولا جائے اسم ضمیر کہلاتا ہے۔

یا

ایسے تمام الفاظ جو کسی اسم کی جگہ بولے جائیں یا انہیں زبان سے بول کردل میں کسی شخص یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اسم ضمیر کہلاتے ہیں۔

اسم ضمیر کی مثالیں[ترمیم]

خدا ایک ہے وہ، سب کا مالک ہے۔

اِس مثال میں وہ اسم ضمیر ہے اور خدا مرجع ہے۔

انورایک محنتی لڑکا ہے۔ وہ صبح سویرے اُٹھتاہے۔ اُس نے کبھی غیر حاضری نہیں کی۔ اُسے تمام اساتذہ پیار کرتے ہیں۔

اِس ،مثال میں وہ، اُس نے، اُسے اسمائے ضمیر ہیں جبکہ انور مرجع ہے۔

مرجع[ترمیم]

اسم ضمیر جس اسم کی بجائے بولا جائے اسے مرجع کہتے ہیں، اوپر دی گئی مثالوں میں خدا اور انور مرجع ہیں۔

ضمیر شخصی[ترمیم]

اسم ضمیر جب کسی شخص کے لیے استعمال ہو تو اسے ضمیر شخصی کہتے ہیں۔

یا

وہ اسم ضمیر جو کسی شخص کے لیے بولا جائے ضمیر شخصی کہلاتا ہے۔

ضمیر شخصی کی مثال[ترمیم]

عرفان آیا اور وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

اس جملے میں وہ کا لفظ ضمیرشخصی ہے۔

ضمیرشخصی کی صورتیں[ترمیم]

ضمیر شخصی کی تین صورتیں ہیں۔

  1. ضمیر غائب
  2. ضمیر حاضر یا ضمیر مخاطب
  3. ضمیر متکلم

1۔ ضمیر غائب[ترمیم]

ضمیر غائب کا مفہوم[ترمیم]

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہمارے سامنے موجود نہ ہو یعنی غائب ہو۔

یا

یہ ضمیر ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو ہمارے سامنے حاضر نہ ہو یعنی غائب ہو۔

ضمیرغائب کی مثالیں[ترمیم]

وہ، اُس، اُن، اُنہوں وغیرہ

2۔ ضمیر حاضر یا ضمیر مخاطب[ترمیم]

ضمیر حاضر کا مفہوم[ترمیم]

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے بات کی جائے اِس ضمیر میں ہمارا مخاطب ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے اِس لیے اِس ضمیر کو ضمیر مخاطب بھی کہتے ہیں۔

یا

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے ساتھ بات کی جائے اِس ضمیر میں چونکہ ہم بات کرنے والا مخاطب ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے یعنی حاضر ہوتا ہے اِس لیے ا،س ضمیر کو ضمیر حاضر یا ضمیر مخاطب کہتے ہیں۔

ضمیر حاضر کی مثالیں[ترمیم]

تُو، تُم، آپ وغیرہ

3۔ ضمیر متکلم[ترمیم]

ضمیر متکلم کا مفہوم[ترمیم]

یہ ضمیر ہے جس میں بات کرنے والا شخص (متکلم) اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔

یا

ضمیر متکلم اُس ضمیر کو کہتے ہیں جس میں بات کرنے والا شخص یعنی متکلم اپنی ذات کے لیے کرتا ہے۔

ضمیر متکلم کی مثالیں[ترمیم]

میں، ہم وغیرہ.

ضمیر شخصی کی حالتیں[ترمیم]

اسم ضمیر شخصی کی مندرجہ ذیل تین شخصی حالتیں ہیں۔

  1. حالتِ فاعلی
  2. حالت مفعولی
  3. حالتِ اضافی

1۔ حالتِ فاعلی[ترمیم]

حالت فاعلی کا مفہوم[ترمیم]

جب کوئی ضمیر اپنے فاعل کی جگہ استعمال کیا جائے تو ضمیر کی ااِس حالت کو حالتِ فاعلی کہتے ہیں۔

یا

جب کوئی ضمیر اپنے بجائے فاعل کی جگہ پر استعمال ہوتا ہو تو ضمیر کی اِس حالت کو ضمیر کی فاعلی حالت کہتے ہیں۔

حالت فاعلی کی مثالیں[ترمیم]

وہ، اُس نے، میں، ہم وغیرہ

اکبر کہتا ہے ”میں کراچی جائوں گا“

اِس جملے میں ”میں “ ضمیر کی فاعلی حالت ہے۔

طاہربہت نیک ہے وہ بزرگوں کا ادب کرتا ہے۔

اِس جملے میں ”وہ“ ضمیر کی فاعلی حالت ہے۔

ضمیر کی فاعلی حالت کے صیغے[ترمیم]

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ، اُس وہ، اُن، انہوں نے تو آپ، تُم میں ہم

2۔ حالت مفعولی[ترمیم]

حالت مفعولی کا مفہوم[ترمیم]

جب کوئی ضمیر اپنے مفعول کی جگہ استعمال ہوتویہ ضمیر کی حالت مفعولی کہلاتی ہے۔

یا

جب کوئی ضمیر مفعول کی جگہ استعمال ہو تو ضمیر کی اِس حالت کو حالتِ مفعولی کہا جاتا ہے۔

حالت مفعولی کی مثالیں[ترمیم]

حالت مفعولی کی مثالوں کے چند نمونے ملاحطہ فرمائیں

  • اُسے، اُس کو، تمھیں، تُم کو، مجھے، مجھ کو وغیرہ
  • وسیم بہت اچھا لڑکا ہے، سب اُسے بہت پیار کرتے ہیں۔
  • میں تمھارا بھائی ہوں، مجھے صحیح بات بتائو۔

اِن جملوں میں ”اُسے “ اور ”مجھے “ ایسے اسمائے ضمیر ہیں جو مفعول کی جگہ پر استعمال ہوئے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں ضمیر کی حالت مفعولی کہتے ہیں۔

ضمیر کی مفعولی حالت کے صیغے[ترمیم]

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
اُسے اُنہیں تجھے تُمھیں مجھے ہمیں
اُس کو اُن کو تُجھ کو تُم کو، آپ کو مجھ کو ہم کو

3۔ حالتِ اضافی[ترمیم]

جب کوئی کسی اسم کا کسی شخص یا چیزسے تعلق ظاہر کرے اُسے ضمیر کی حالتِ اضافی کہتے ہیں۔

یا

جو ضمیر کسی شخص یا چیز کا تعلق کسی اسم سے ظاہر کرے اُسے ضمیر کی حالِتِ اضافی کہتے ہیں۔

حالت اضافی مثالیں[ترمیم]

حالت اضافی کی مثالوں کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

  • اُس کا، اُس کے، اُس کی، اُن کا۔ اُن کے، میرا، میرے، ہمارے وغیرہ
  • انور نہایت ذہین لڑکا ہے ”اُس کا حافظہ بہترین ہے “
  • علامہ اقبال عام شاعر نہیں تھے ”اُن کے استاد مولوی میر حسن تھے “
  • ارشد نے کہا کہ ”میرا بھائی اسکول گیا ہے “

اِن تینوں مثالوں میں ”اس کا“ ”اُن کے “ ”میرا“ ایسے ضمیر ہیں جو مرجع سے اپنا تعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ انہیں ضمیر کی اضافی حالت کہتے ہیں۔

ضمیر کی حالتِ اضافی کے صیغے[ترمیم]

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
اُس کا اُن کا تیرا تمھارا، آپ کا میرا، ہمارا
اُس کے اُن کے تیرے آپ کے میرے ہمارے
اُس کی اُن کی تیری آپ کی میری ہماری

حوالہ جات[ترمیم]

[1]

[2]

  1. آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی
  2. آئینہ اردو