اسوان بند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسوان بلند بند
BarragemAssuão.jpg
اسوان بلند بند کا خلا سے نظارہ
باضابطہ نام اسوان بلند بند
مقام اسوان مصر
تعمیر کا آغاز 1960
تاریخ افتتاح 1970
ڈیم اور سپل وے
قسم ڈیم Embankment
تقید دریائے نیل
بلندی 111 میٹر (364 فٹ)
لمبائی 3,830 میٹر (12,570 فٹ)
چوڑائی (بنیاد پر) 980 میٹر (3,220 فٹ)
آب گُزر گنجائش 11,000 میٹر3/سیکنڈ (390,000 فٹ مکعب/سیکنڈ)
ذخیرہ آب
Creates جھیل ناصر
کل گنجائش 132 کلومیٹر3 (107,000,000 acre·ft)
سطح کا رقبہ 5,250 کلومیٹر2 (5.65×1010 فٹ مربع)
زیادہ سے زیادہ لمبائی 550 کلومیٹر (1,800,000 فٹ)
زیادہ سے زیادہ چوڑائی 35 کلومیٹر (115,000 فٹ)
زیادہ سے زیادہ پانی کی گہرائی 180 میٹر (590 فٹ)
عام طور پر بلندی 183 میٹر (600 فٹ)
بجلی گھر
Commission date 1967–1971
ٹربائن 12×175 MW (235,000 hp) Francis-type
Installed capacity 2,100 MW (2,800,000 hp)
Annual generation 10,042 GWh (2004)[1]
جدید اسوان بند

اسوان بند مصر کے شہر اسوان کے قریب دریائے نیل پر قائم ایک عظیم بند ہے۔ دراصل یہ دو بند ہیں جن میں ایک جدید اور ایک قدیم ہے۔ جدید بند کو عربی میں "السد العالی" جبکہ انگریزی میں Aswan High Dam کہتے ہیں۔ قدیم بند کو Aswan Low Dam کہا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم اسوان بند کی تعمیر برطانوی دور میں ہوئی جو 1899ء میں شروع ہوکر 1902ء میں مکمل ہوئی۔ یہ 1900 میٹر طویل اور 54 میٹر بلند تھا۔ 1907ء سے 1912ء اور 1929ء سے 1933ء کے درمیان میں دو مراحل میں بند کی بلندی میں اضافہ کیا گیا۔

اسوان بند کے ساتھ تعمیر کی گئی "سوویت۔مصر دوستی کی یادگار"

1946ء میں جب ایک مرتبہ پھر بند میں پانی زیادہ ہو گیا تو اس دفعہ تیسری مرتبہ بند کو بلند کرنے کی بجائے نئے بند کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا جسے قدیم بند سے 6 کلومیٹر دور تعمیر کیا گیا۔ 1952ء میں جمال عبدالناصر کے دور حکومت میں چیکوسلواکیہ سے خفیہ عسکری معاہدے اور عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے پر امریکا اور برطانیہ نے بند کی تعمیر کے لیے 270 ملین ڈالر کا قرضہ دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر جمال عبد الناصر نے نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لیتے ہوئے اس سے ہونے والی آمدنی سے بند کی تعمیر کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے یورپ میں تہلکہ مچادیا اور برطانیہ اور فرانس کی مدد سے اسرائیل نے مصر پر حملہ کرتے ہوئے نہر سوئز پر قبضہ جمالیا۔ یہ واقعہ سوئز بحران کہلاتا ہے۔ اقوام متحدہ، روس اور امریکا نے مداخلت کرتے ہوئے قابض افواج سے مصر نے باہر نکلنے کا مطالبہ کیا جسے تسلیم کر لیا گیا۔ سرد جنگ کے ان دنوں میں سوویت یونین نے افریقہ میں اپنے اثرات بڑھانے کے لیے 1958ء میں مصر کو اسوان بند کی تعمیر میں تعاون کی پیشکش کی اور بطور تحفہ ایک تہائی لاگت بھی دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ تکنیکی ماہرین اور بھاری مشینری بھی مہیا کی۔ 1960ء میں بند کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور سد عالی 21 جولائی 1970ء کو مکمل ہوا۔

خصوصیات[ترمیم]

جدید اسوان بند 3600 میٹر طویل، بنیادوں پر 980 میٹر اور ہلال پر 40 میٹر عریض اور 111 میٹر بلند ہے۔ بند میں ہر سیکنڈ میں 11 ہزار مکعب میٹر پانی گزر سکتا ہے۔ اس عظیم بند کی تعمیر سے بننے والی جھیل کو "جھیل ناصر" کا نام دیا گیا جو 550 کلومیٹر طویل اور زیادہ سے زیادہ 35 کلومیٹر عریض ہے۔ اس کا سطحی رقبہ 5250 مربع کلومیٹر ہے۔ بند سے 175 میگا واٹ کے 12 جنریٹر چلتے ہیں جو 2.1 گیگا واٹ کی پن بجلی پیدا کرتے ہیں۔ بجلی کی پیداوار کا آغاز 1967ء میں ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]