اسود عنسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسود عنسی
معلومات شخصیت
وفات سنہ 632  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
یمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
قاتل فیروز دیلمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قاتل (P157) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ واعظ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

اسود عنسی کا اصل نام عیہلہ بن کعب بن عوف عنسی تھا۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانے میں ہی نبوت کا دعویدار بن بیٹھا۔

محمد ﷺ کا خواب[ترمیم]

حضور صلی اللہ عليہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں دو کنگن ہیں جسے آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے نفرت اور حقارت کے سبب ہاتھ سے جھٹک دیا، آپ ﷺ نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ اس سے مراد نبوت کے دو جھوٹے دعویدار ہیں۔ ایک، طلیحہ کذاب، یمامہ والا اور دوسرا، اسود عنسی، یمن والا۔

حدیث[ترمیم]

فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے (خواب میں) سونے کے دو کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے۔ مجھے اس خواب سے بہت فکر ہوا، پھر خواب میں ہی وحی کے ذریعہ مجھے بتلایا گیا کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ چنانچہ جب میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس سے یہ تعبیر لی کہ میرے بعد جھوٹے نبی ہوں گے۔“ پس ان میں سے ایک تو اسود عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ٣٦٢١

مختصر واقعہ[ترمیم]

حضرت محمد ﷺ کی حجۃ الوداع سے واپسی کے علالت کا دور شروع ہوا اسی زمانے میں یمن کے علاقے میں قبیلۂ عنس کے ایک شخص عیہلہ بن کعب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ شخص مزاجاً نرم اور شیریں گفتگو والا تھا لیکن کریـہ صورت اور کالی رنگت کا تھا اسی وجہ اسے اسود کہا گیا یعنی کالا۔ اس کے لقب کے متعلق، ذو الخمار (اوڑھنی والا) یا ذو الحمار (گدھے والا) تحریر ہے، وجہ یہ ہے کہ کریہ صورت ہونے کے سبب وہ اوڑھنی کا نقاب لگاتا تھا اور اس کے پاس سدھایا ہوا ایک گدھا بھی تھا جو اس کے اشارے پر رکوع و سجود کرتا تھا۔ اسود عنسی شعبدے اور کہانت میں بھی ماہر تھا جس کی وجہ سے اسے دعوائے نبوت کو ثابت کرنے میں مدد ملی۔ شعبدے اور کہانت کے زور پر لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت کا معتقد بنا کر اس نے باضابطہ یمن کے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور بلا شرکت غیر ے،(مصلحت خداوندی سے) پورے یمن کا حاکم بن گیا۔ حکومت اور اقتدار ملتے ہی اس کے کلام کی شیرینی ختم ہو گئی اور عجز و انکسار کی جگہ غرور اور تکبر نے لے لیا۔

انجام[ترمیم]

حضرت محمد ﷺ کو تمام حالات کی خبر ہوئی تو یمن کے چند مسلمانوں کے نام آپ ﷺ نے اسود عنسی کی سرکوبی کا حکم بھیجا، چنانچہ وہاں کے مسلمانوں نے حکمت اور مصلحت کے ساتھ، عسکری ہنگامہ آرائی کے بغیر اس فتنے کا سر کچلنے کے لیے باہم مشورہ کیا اور ایک دن اس کے محل میں نقب کے سہارے داخل ہوئے اور فیروز نامی ایک شخص نے اس کی گردن مروڑ کر اسے اس کے انجام تک پہنچا دیا۔ ان تمام واقعات کی خبر جناب محمد رسول الله صلى الله علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی مل گئی اور آپ نے مدینے میں مسلمانوں کو بتایا۔ لیکن جب قاصد یہ خبر لے کر مدینہ پہنچا تو اس وقت جناب محمد رسول الله صلى الله علیہ وسلم اس دار فانی سے پردہ فرما چکے تھے۔

عہد صدیق کی پہلی خوشخبری[ترمیم]

حضرت ابو بکر صدیق جب خلیفہ بنے تو انہیں پہلی خوشخبری یہ ملی کہ اسود عنسی کا قتل ہو گیا اور ایک فتنے سے نجات مل گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

[1]

  1. بخاری شریف، حدیث نمبر ٣٦٢١، ابن اثیر و ابن خلدون۔