اسٹیج ماں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اداکاری، گلوکاری اور موسیقی جیسے فنون میں اسٹیج ماں (انگریزی: Stage mother) سے مراد کسی کم عمر فنکار کی ماں ہے۔ اکثر مائیں اپنے بچوں کو آڈیشن کے لیے جاتی ہیں، وہ یہ یقینی بناتی ہیں کہ اولاد سیٹ پر بر وقت ہو، وغیرہ۔ اسٹیج ماں کی اصطلاح کئی دفعہ منفی معانی و مطالب میں بھی مستعمل ہوتی ہے، جس میں یہ سجھاؤ دیا جاتا ہے کہ یہ خاتون شر انگیزی کی حد تک خصوصی برتاؤ کی طلبگار ہوتی ہے یا پھر یہ خاتون اپنے بچے کی ترقی کے لیے نامناسب دباؤ ڈال رہی ہے، جو غالبًا کامیابی کے خود اس کے بچپن کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔[1] رتبے اور شاہانہ مطالبے کبھی کبھی اسٹیج ماؤں کی دھکی چھپی دھمکیوں کا حصہ ہوتی ہیں۔

تعریف[ترمیم]

ایک اسٹیج ماں اپنے بچے کی کئی بار سرکاری مینیجر بھی ہو سکتی ہے (مثلًا روز تھامسن ہوویک، ڈینا لوہان، ایتھیل گم، ٹیری شیلڈز، سوسان ڈف، وغیرہ)۔ یہ اپنے بچے کی پیشہ ورانہ خدمات کے معاوضے پر بھاؤ تاؤ کرتی ہیں۔ ایسے مینیجروں کو اکثر فلمی دنیا میں "مومیجر" کہا جاتا ہے۔[2]

کچھ مخصوص معاملوں میں جہاں ماں اور بچے دونوں فلمی دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، از خود "اسٹیج ماں" کی چسپیدگی کی جا سکتی ہے، جس کے لیے کوئی وجہ نہیں ہوتی ہے۔ کیتھی لی گیفورڈ "اسٹیج ماں" کے تصور کی مخالف رہی ہے اور وہ یہ توضیح کر چکی ہے کہ اس کا بیٹا کوڈی جو اس کے ساتھ ماڈل بیہیویئر میں کام کر چکا ہے، وہ اپنے صوابدید سے کام کر چکا ہے نہ کہ اس کی سفارش کی وجہ سے۔ گیفورڈ اس فلم میں ایک اسٹیج ماں کا رول نبھاتی ہے۔

معروف اسٹیج مائیں[ترمیم]

اسٹیج باپ[ترمیم]

باپوں کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسی طرح سے منظم کرتے ہیں، جیسے کہ جوزف جیکسن (جیکسن خاندان کا صدر)، مورے ولسن (دی بیچ بائز کا باپ)، جو سمپسن (جیسیکا اور ایشلی کا باپ)، جیف آرچولیٹا (امیریکن آئیڈل رنر اپ ڈیوڈ آرچولیٹا کا پاپ)، میتھیو نوئیلز (بیونسے اور سولانج نوئیلز کا باپ) اور کیٹ کلکین (میکالے اور کائران کلکین کا باپ)۔[3] ایسی باپ کی ایک تاریخی مثال لیوپولڈ موزارٹ تھی، جو اپنے بیٹے کی موسیقارانہ صلاحیت کو کم عمری میں پہچان لیا اور اسے صحیح رخ میں پروان پڑھنے کا موقع دیا۔[4]

ابراہام کوئینٹانیلا جونئر جو تیجانو سپر اسٹار سیلینا کے والد ہیں، انہیں اس بات کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ سیلینا کی غیر معمولی گلو کاری کو کھوج نکالا؛ اس نے سیلینا اور اس کے بھائی بہنوں کو ایک بینڈ کی شکل دی (سیلینا ای لاس دینوس - Selena y Los Dinos)، جو اس بینڈ کا شروعاتی دنوں میں نام تھا۔

اسٹیج باپ اسی طرح کا کردار اپنے بچوں کے کھیل کے کردار فروغ دینے کے لیے کرتے ہیں[5]۔بچوں کی ترقی کو پرواز دینے کی کوشش اور اسی شد و مد سے باپ کے خود کی مالی حالت کو بڑھانے اور نام کمانے کی چاہ کم عمری میں ورزش اور توانائی میں اضافہ کی کوشش کرنا شامل ہے اور اس میں مخفی کام بھی شامل ہیں جیسے کہ بچوں کے اسکول میں داخلے میں تاخیر کرنا تا کہ ان کے بچے اپنے ہم جماعتوں سے عمر میں بڑے ہوں۔[6] لاوار بال جو لاس اینجلیس لیکر لونزو بال کا باپ ہے، اس بات کے لیے بد نام ہوا کہ وہ بچے کی کمائی اپنے عیش و آرام پر خرچ کر رہا تھا۔[7][8][9] اس طرح لے برون جیمس اور رسل ویسٹ بروک۔[10]

تحریری مائیں[ترمیم]

اس اصطلاح کا ایک متبادل "تحریری مائیں" ہیں یا وہ مصنفات ہیں جو یہ یقینی بناتی ہیں کہ ان کے بچوں کو ذریعہ بنا کر کتابیں یا اسکرین پلے لکھتی ہیں جس میں بچوں کی زندگی کے ذلت آمیز واقعات کو موضوع بنایا جاتا ہے، وہ بچوں کے مفاد سے متصادم ہوتا ہے یا بچوں کے نجی مسائل کو مزید پیچیدہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔[حوالہ درکار] تحریری مائیں مصنفات، کامیڈین یا کارٹون نگار بھی ہو سکتی ہیں۔[حوالہ درکار]

تحریری ماؤں کی ایک مثال لین جانسٹن رہی ہے جس پر اس بات کی تنقید کی گئی کہ وہ اپنے بچوں (اور شوہر) کو اپنی مامک اسٹرپ فار بیٹر آر ورس میں استعمال کر چکی ہے، جو کئی کارٹون نگاروں سے بالکل الگ ہے جیسے کہ چارلس شولٹز اور برک بریتھیڈ جو فرضی کرداروں کا سہارا لیتے ہیں۔ جانسٹن کے بچوں کو بالآخر اسکول سے نکال دینا پڑا کیونکہ وہ مسلسل دوسرے بچوں کی زور آزمائی اور رسو کرنے والے برتاؤ کو جھیل رہے تھے جو ان کے کامک کرداروں سے تشبیہ دیے جانے کی وجہ سے تھا، پھر انہیں ایک نجی اسکول میں شریک کرنا پڑا جہاں طلبہ کے عادات و اطوار پر سخت قواعد نافذ تھے۔[11]

مقبول ثقافت میں[ترمیم]

  • مشہور موسیقی ویڈیو جیپسی روز نام کی عورت کی کہانی ہے جو اپنے بچوں جون اور لوئز پر حکم چلانے والی اسٹیج ماں ہے جو آگے چل کر جون ہیووک اور جیپسی روز لی کے طور پر پردے کے اوپر دکھتے ہیں۔
  • 1933ء کی فلم اسٹیج ماں ایک شکست خوردہ موسیقار کی کہانی ہے جو اپنی بیٹی کو رقاصہ بننے پر مجبور کرتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Living Vicariously through Children with a Twist"۔ Psychology Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  2. "From Beyonce To Britney Spears, Is It Ever A Good Idea To Be Managed By A Parent?"۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اکتوبر 2014۔[مردہ ربط]
  3. "The father from hell?" (انگریزی زبان میں)۔ 1996-11-09۔ ISSN 0307-1235۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  4. Edward Holmes (1845)۔ The Life of Mozart Including His Correspondence۔
  5. "Could LaVar Ball scare NBA teams from drafting Lonzo Ball?"۔ USA TODAY (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  6. "Was it Guys Like These who Ruined Sportsmanship....or was it Just Us?" Sports Illustrated Sept. 30th, 1991
  7. "LaVar Ball claims he 'would kill Michael Jordan one-on-one' back in his heyday"۔ ESPN.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  8. Chuck Schilken۔ "LaVar Ball, father of UCLA star Lonzo Ball, says he could have beaten Michael Jordan one-on-one"۔ chicagotribune.com (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  9. Brian Mazique۔ "LaVar Ball: Marketing Genius, Out Of Control Dad, Or Both?"۔ Forbes (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  10. "LaVar Ball finally said it: Lonzo, not LeBron, is the best player in the world"۔ CBSSports.com (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-21۔
  11. Aaron Johnston "Kate and I were constantly bullied due to the strip" Suddenly Silver, 25 Years of FBOFW, 2003