اشتیاق احمد دربھنگوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اشتیاق احمد دربھنگوی
ذاتی
پیدائش7 جنوری 1978ء (عمر 44 سال)
جھگڑُوا، کِرَت پور بلاک، ضلع دربھنگہ، بہار، بھارت
مذہباسلام
قومیتہندوستانی
فقہی مسلکسنی، حنفی
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیفقہ، تفسیر قرآن، اردو ادب
اساتذہمحمود حسن گنگوہی، سعید احمد پالن پوری، عبد الحق اعظمی، حبیب الرحمن قاسمی اعظمی، سید محمد ارشد مدنی، عثمان منصور پوری، نظام الدین اعظمی، ظفیر الدین مفتاحی، حبیب الرحمن خیر آبادی
دیگر ناماشتیاق احمد قاسمی

اشتیاق احمد دربھنگوی (معروف بَہ: اشتیاق احمد قاسمی) ایک ہندوستانی نقاد، سوانح نگار، تذکرہ نویس، خاکہ نگار، مقالہ نگار، عالم اور مفتی ہیں۔ نیز 2008ء سے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ابتدائی و تعلیمی زندگی[ترمیم]

اشتیاق احمد کی ولادت دستاویز کے مطابق تاریخ ولادت 28 محرم 1398ھ بہ مطابق 7 جنوری 1978ء کو اور تخمینہ کے مطابق مارچ 1974ء کو اپنے نانیہال جَھمٹا، ضلع سہرسہ، بہار میں ہوئی اور والد کا نام شیخ انوار احمد صدیقی ہے۔[1] انھوں نے ابتدائی تعلیم؛ اپنی والدہ محترمہ کے پاس پھر ماسٹر عالم گیر کے پاس جماعت بندی کے بغیر مکتب میں دینیات، اردو، ہندی اور ابتدائی فارسی (فارسی کی پہلی) کی تعلیم حاصل کی۔[1] پھر 1983ء تا 1986ء مدرسہ معارف العلوم جھگڑوا میں عمر فاروق شمسی، محمد طیب قاسمی اور شبیر احمد وغیرہ کے پاس فارسی کی اور سال کی قید و بند کے بغیر آزادانہ طور پر اسکول کی چھٹی جماعت تک کی کتابیں پڑھیں۔[1] پھر 1986ء تا 1988ء مدرسہ فلاح المسلمین، بکرم، پٹنہ میں محمد سہیل احمد قاسمی، غیاث الدین احمد قاسمی، اظہار عالم قاسمی، حافظ محمود، ابو اللیث اور عبد القدوس وغیرہ کے پاس؛ فارسی پڑھی، ہدایۃ النحو کا کچھ حصہ اور بہار بورڈ کی تحتانیہ و فوقانیہ چہارم تک کی کتابیں پڑھیں۔[1] پھر 1989ء تا 1991ء مدرسہ قاسم العلوم، منگراواں، ضلع اعظم گڑھ (یو، پی) میں عبد القادر بستوی، سہیل احمد قاسمی مبارکپوری، محمد یاسین قاسمی جہانا گنجی، قمر الزماں قاسمی مبارکپوری اور محمد عارف ولید پوری وغیرہ کے پاس؛ اول، دوم اور سوم عربی اور الٰہ آباد بورڈ سے مولوی کی تعلیم مکمل کی۔[1] پھر 1992ء تا 1995ء مدرسہ ریاض العلوم، گورینی، ضلع جونپور (یو، پی) میں عبد الحلیم، محمد ارشاد بھاگلپوری، محمد جمیل، عبد اللّٰہ بستوی، اکرام اللّٰہ، عبد العظیم ندوی، سعادت علی الٰہ آبادی اور محمد حنیف وغیرہ کے پاس؛ چہارم، پنجم، ششم (موقوف علیہ) تک کی تعلیم حاصل کی اور خارج اوقات میں قاری محمد شمیم سے قراءتِ سبعہ میں شاطبیہ پڑھی اور قراءت سبعہ کا اجرا کیا۔[1] 1996ء کو دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کی جماعت میں داخلہ ہوا اور اسی سال سوم پوزیشن کے ساتھ دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے، 1997ء میں دار العلوم ہی سے افتا کیا، پھر 1998ء تا 1999ء دو سال وہیں رہ کر تدریبِ افتا کیا اور اسی دوران خارج اوقات میں شعبۂ کمپیوٹر میں اولین طلبہ کے درمیان؛ اردو، عربی و انگریزی کی ٹائپ رائٹنگ بھی سیکھی۔[1][2] ان کے اساتذۂ بخاری؛ نصیر احمد خان بلند شہری اور عبد الحق اعظمی تھے، ان کے دیگر اساتذۂ دار العلوم دیوبند میں نعمت اللّٰہ اعظمی، قمر الدین گورکھپوری، سعید احمد پالن پوری، سید ارشد مدنی، عبد الخالق مدراسی، ریاست علی ظفر بجنوری، محمود حسن گنگوہی، حبیب الرحمن قاسمی اعظمی، عثمان منصور پوری، نظام الدین اعظمی، حبیب الرحمن خیر آبادی، ظفیر الدین احمد مفتاحی، محمود حسن بلند شہری، اور محمد طاہر غازی آبادی شامل ہیں۔[1] افتاء ہی کے سال میں رسم المفتی کا نصاب مکمل ہونے کے بعد اشتیاق احمد محمود حسن گنگوہی سے بیعت ہوئے تھے، پھر گنگوہی کے انتقال کے بعد نظام الدین اعظمی سے مناسبت پاکر انھیں مناسبت کے بارے میں بتایا تو انھوں نے کہا کہ اپنے حالات لکھ کر بتایا کرو؛ مگر چند دنوں بعد ہی اعظمی کا انتقال ہوگیا،[3] پھر اشتیاق احمد نے بیعت و ارشاد کا تعلق مظفر حسین سہارنپوری کے خلیفہ سعید احمد پالن پوری سے کر لیا اور پالن پوری کی وفات تک انھیں سے منسلک رہے۔ پھر انھوں نے پالن پوری کے بعد محمود حسن گنگوہی کے خلیفہ محمد طاہر غازی آبادی کی طرف رجوع کیا۔[4]

تدریسی و خدمات[ترمیم]

1999ء تا 2000ء دار العلوم دیوبند ہی میں معین مدرس رہے اور اول و دوم عربی کی قدوری اور کافیہ (بحث فعل و حرف) جیسی کتابیں ان سے متعلق تھیں۔[1][2] 2000ء تا 2008ء انھوں نے دار العلوم حیدر آباد میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس عرصے میں اعدادیہ سے ہفتم عربی تک کی کئی کتابیں جیسے: مختصر المعانی، تفسیر جلالین، مشکوٰۃ المصابیح، نیز افتاء کی کتابیں، جیسے: الاشباہ و النظائر، رسم المفتی اور سراجی ان سے متعلق تھیں۔[1] 1430ھ بہ مطابق 2008ء کو دار العلوم دیوبند میں ان کا تقرر عمل میں آیا اور 1440ھ کو درجۂ وسطیٰ ب میں ان کی ترقی ہوئی۔[5][1] اس وقت سے تا ہنوز مختلف اوقات میں؛ اول تا ششم عربی کی مذکورۂ ذیل بعض کتابیں ان کے زیر تدریس رہی ہیں اور بعض اب بھی ہیں: مفتاح العربیہ، ہدایۃ النحو، نور الایضاح، مرقاۃ، قدوری، آسان منطق، کافیہ، شرح تہذیب، القراءۃ الواضحۃ (حصہ سوم)، تعلیم المتعلم، نفحۃ العرب، مشکوٰۃ الآثار، الفیۃ الحدیث، ترجمۂ قرآن (سورۃ الفاتحہ سے سورۃ الحجرات تک)، نور الانوار، ہدایہ اولین، قطبی، دروس البلاغہ، اصول الشاشی اور تسہیل الاصول۔[1]

قلمی خدمات[ترمیم]

تصانیف[ترمیم]

ان کی تصانیف میں مندرجۂ ذیل کتابوں کے علاوہ تقریباً پانچ غیر مطبوعہ کتابیں، سفرنامے اور ترجمۂ قرآن شامل بھی شامل ہیں:[1][4]

  • طرازی شرح اردو سراجی (اس کتاب کا فارسی، پشتو اور بنگلہ میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔)
  • خاصیاتِ فصولِ اکبری (تحقیق و تعلیق)
  • مختصر خاصیاتِ ابواب (اردو)
  • مولانا بستوی کا ذکر جمیل
  • زیب و زینت کے احکام
  • کلیاتِ کاشف (ترتیب و تحشیہ)[6]
  • مالا بد منہ (مترجَمِ اردو)[7]
کلیات کاشف.jpg
مولانا بستوی کا ذکر جمیل.jpg
Tarazi-Urdu-Sharh-Siraji.jpg
مالا بد منہ (مترجم اردو) کا سرورق.jpeg

مضامین[ترمیم]

ان کے تقریباً ڈھائی سو مقالات و مضامین؛ روزنامہ منصف حیدرآباد، روزنامہ اعتماد حیدرآباد، ماہنامہ حسامی حیدرآباد، ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ماہنامہ ترجمانِ دیوبند، آئینۂ دار العلوم دیوبند، فکر و تحریر کلکتہ، سہ ماہی بحث و نظر حیدرآباد، ہماری زبان انجمن ترقی اردو، روزنامہ سہارا انڈیا، المفتاح حیدرآباد، ماہنامہ حضرت عائشہ حیدرآباد، ماہنامہ السعید پرنام بٹ (تمل ناڈو) ماہنامہ النخیل پاکستان، ماہنامہ فقیہ پاکستان وغیرہ جیسے معروف اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔[1]

ان کے بعض مشہور و اہم مضامین کے عناوین درج ذیل ہیں:[8]

  1. مفتی اعظم مفتی عزیز الرحمن عثمانی - حیات و خدمات
  2. صحابۂ کرام کے سلسلہ میں علمائے دیوبند کا معتدل موقف
  3. حضرت مولانا محمد عثمان معروفی اور فنِ تاریخ گوئی
  4. کاتبینِ پیغمبر اعظم صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ایک تعارف
  5. تدوینِ قرآن مجید - ایک تحقیقی جائزہ
  6. نیٹ ورک مارکیٹنگ - اقتصادی اور اسلامی نقطۂ نظر
  7. حضرت مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی کی غزلیہ شاعری - معاصر ادباء کی نظر میں
  8. اسلام كا نظامِ سلام و مصافحہ
  9. انقلابِ ماہیت - اسلامی نقطۂ نظر
  10. عربی تفسیروں کے اردو ترجمے- تعارف و تجزیہ[9]
  11. ترانۂ دار العلوم دیوبند کا فنی، فکری اور ادبی مطالعہ[10]
  12. حیاتِ نانوتوی کی روشن قندیلیں[11][12]
  13. علامہ اقبال کے شعری تصورات[13]
  14. شیخ طریقت حضرت حاجی سید محمد عابد حسین[14]

تحقیقی کارنامے[ترمیم]

انھوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (حیدرآباد) سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔[1] ان کا مقالۂ ایم فِل بہ عنوان ”چند منتخب علمائے دیوبند کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہقاری محمد طیب، کفیل الرحمن نشاط عثمانی اور ریاست علی ظفر بجنوری کی مطبوعہ شاعری کے تجزیاتی مطالعہ پر مشتمل تھا۔[6] نیز مقالۂ پی ایچ ڈی کا عنوان ”علمائے دیوبند کی اردو سوانح نگاری کا تنقیدی جائزہ (آزادی سے قبل)“ تھا، جس پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی گئی۔[15][16][4][17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ روح الامین میُوربھنجی، محمد (5 دسمبر 2021). "حضرت مولانا مفتی اشتیاق احمد دربھنگوی دامت برکاتہم". بصیرت آن لائن. بصیرت آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 05 دسمبر 2021. 
  2. ^ ا ب ابن الحسن عباسی. "مطالعہ کی ناتمام سرگزشت". یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ (ایڈیشن ستمبر 2020). دیوبند: مکتبۃ النور، مکتبۃ الانور. صفحہ 661. 
  3. بجنوری، محمد سلمان، ویکی نویس (شوال 1439ہجری مطابق جولائی 2018ء). "حضرت مفتی محمد نظام الدین اعظمی مفتی اعظم دار العلوم دیوبند: یادیں اور باتیں از اشتیاق احمد دربھنگوی". ماہنامہ دار العلوم. دیوبند: مکتبہ دار العلوم. 102 (7): 19. 
  4. ^ ا ب پ "مفتی اشتیاق احمد دربھنگوی: ایک صاحب علم شخصیت". 4 دسمبر 2021. اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2021. 
  5. قاسمی، محمد اللّٰہ (اکتوبر 2020ء). "موجودہ اساتذۂ عربی". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ. دیوبند: شیخ الہندؒ اکیڈمی. صفحہ 769. 
  6. ^ ا ب جامعی، محمد سالم، ویکی نویس (صفر المظفر 1439ھ- بہ مطابق اکتوبر 2017ء). "مولانا ریاست علی ظفر بجنوری نمبر". ہفت روزہ الجمعیۃ. ہفت روزہ الجمعیۃ، مدنی ہال، 1-بہادر شاہ ظفر مارگ، نئی دہلی 2: 76-77. 
  7. وقار احمدکھگڑیاوی، محمد (23 جون 2022ء). "مالابد منہ اردوــــــــــــــــــــ ترجمہ نگاری کا شاہ کار". بصیرت آن لائن. بصیرت آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 18 جولائی 2022ء. 
  8. "اردو مضامین تلاش برائے مولانا اشتیاق احمد قاسمی". darululoom-deoband.com. اخذ شدہ بتاریخ 05 دسمبر 2021. 
  9. "عربی تفسیروں کے اردو ترجمے تعارف وتجزیہ..از: مولانا اشتیاق احمد". algazali.org. الغزالی ڈاٹ آرگنائزیشن. 3 مئی 2011. اخذ شدہ بتاریخ 6 فروری 2021. 
  10. قاسمی، مولانا اشتیاق احمد (23 اپریل 2021). "ترانۂ دار العلوم دیوبند کا فنی، فکری اور ادبی مطالعہ". Siddeequeqasmi.com. صدیق قاسمی. اخذ شدہ بتاریخ 06 دسمبر 2021. 
  11. "حیاتِ نانوتوی کی روشن قندیلیں". ahnafmedia.com. احناف میڈیا لائبریری. اخذ شدہ بتاریخ 07 دسمبر 2021. 
  12. محمد الیاس گھمن، ویکی نویس (نومبر 2016). "حیات نانوتوی کی روشن قندیلیں". ماہنامہ فقیہ. سرگودھا: مرکز اہل السنۃ والجماعۃ. 5 (11): 10. 
  13. ڈاکٹر محمد مرتضی. "علامہ اقبال کے شعری تصورات". جہاتِ اقبال (ایڈیشن 2017ء). دہلی: کتابی دنیا، 1955، گلی نواب مرزا، محلہ قبرستان. صفحات 67–68. 
  14. نواز دیوبندی. "شیخ طریقت حضرت حاجی سید محمد عابد حسین از مولانا اشتیاق احمد دربھنگوی". سوانحِ علمائے دیوبند (ایڈیشن جنوری 2000ء). دیوبند: نواز پبلی کیشنز. صفحات 218–245. 
  15. "دارالعلوم دیوبند کے استاد مفتی اشتیاق احمد قاسمی کو پی ،ایچ ،ڈی کی ڈگری تفویض". قندیل آن لائن. 24 فروری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 06 دسمبر 2021. 
  16. خان، دانیال (26 فروری 2020). "دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی اشتیاق احمد کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض". unaurdu.com. یو این اے اردو ڈاٹ کام. اخذ شدہ بتاریخ 06 دسمبر 2021. 
  17. "مفتی اشتیاق احمد قاسمی کو مانو سے پی ایچ ڈی کی ڈگری". urdu.ythisnews.com. 26 فروری 2020ء. اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2021. 

بیرونی روابط[ترمیم]