اشکنازی یہودی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اشکنازی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اشکنازی یہودی
Ashkenazi Jews
(יהודי אשכנז Y'hudey Ashkenaz اشکنازی عبرانی)
ویلنا گاؤن
ایمی نویتهر
ہینرک ہینی
مائر امشیل روتشیلڈ
مارک چاگل
موسی ایسرلس
البرٹ آئنسٹائن
سارہ برنہارٹ
سگمنڈ فرائڈ
سٹینلے کوبریک
حناہ زینس
میخائیل بوت وین نک
شولم الیکھیم
گولڈا مائیر
فیلیکس مینڈلسوہن
کل آبادی
(10[1]–11.2[2] ملین)
خاطر خواہ آبادی والے علاقے
 ریاستہائے متحدہ امریکا لاکھ ۶۰ – ۵۰ [3]
Flag of اسرائیل اسرائیل ۲۰ لاکھ ۸۰ ہزار[1][4]
 روس ۱،۹۴،۰۰۰–۵۰،۰۰،۰۰۰
 ارجنٹائن ۳،۰۰،۰۰۰
 مملکت متحدہ ~ ۲،۶۰،۰۰۰
 کینیڈا ~۲،۴۰،۰۰۰
 فرانس ۲،۰۰،۰۰
 جرمنی ۲،۰۰،۰۰
 یوکرین ۱،۵۰،۰۰۰
 آسٹریلیا ۱،۲۰،۰۰۰
 جنوبی افریقا ۸۰،۰۰۰
 بیلاروس ۸۰،۰۰۰
 مجارستان ۷۵،۰۰۰
 چلی ۷۰،۰۰۰
 برازیل ۳۰،۰۰۰
 نیدرلینڈز ۳۰،۰۰۰
 مالدووا ۳۰،۰۰۰
 پولینڈ ۲۵،۰۰۰
 میکسیکو ۱۸،۵۰۰
 سویڈن ۱۸،۰۰۰
 لٹویا ۱۰،۰۰۰
 رومانیہ ۱۰،۰۰۰
 آسٹریا ۹،۰۰۰
 نیوزی لینڈ ۵،۰۰۰
 آذربائیجان ۴،۳۰۰
 لتھووینیا ۴،۰۰۰
 چیک جمہوریہ ۳،۰۰۰
 سلوواکیہ ۳،۰۰۰
 استونیا ۱،۰۰۰
زبانیں
تاریخی : یدیش
جدید: مقامی زبانیں، بنیادی طور پر: انگریزی، عبرانی، روسی
مذہب
یہودیت، کچھ سیکولر، لادینیت
متعلقہ نسلی گروہ
دیگر یہودی اور سرزمین شام،[5][6][7][8] اطالوی لوگ، Iberians اور دیگر یورپی[9][10][11][12][13] Samaritans،[7] Assyrians،[7][8]

اشکنازی (Ashkenazi) جنہیں اشکنازی یہودی (Ashkenazi Jews) (عبرانی: אַשְׁכְּנַזִּים‎‎، اشکنازی عبرانی تلفظ: [ˌaʃkəˈnazim]، واحد: [ˌaʃkəˈnazi]، جدید عبرانی: [aʃkenaˈzim, aʃkenaˈzi]; اور יְהוּדֵי אַשְׁכֲּנַז Y'hudey Ashkenaz، لفظی معنی. "جرمنی کے یہودی")،[14] بھی کہا جاتا ہے ایسے یہودی ہیں جو رومی عہد میں یورپ اور جرمنی کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان علاقوں میں بھی ان لوگوں نے لکھنے پڑھنے اور بودوباش میں عبرانی روایات کو قائم رکھا۔ ان کو عیسائی بادشاہوں کی طرف سے نفرت کا سامنا بھی تھا جو ان کے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کا سبب بنتا تھا۔ اسی لیے یہ لوگ معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے۔

۱۸۸۱ء وسطی یورپ کے یہودی

اشکنازی یہودی تارکین وطن کی آبادی  جو یہودیوں تارکین وطن کی ایک الگ اور یکجا برادری کے طور پر مقدس رومن سلطنت کے پہلے ہزاریہ کے اختتام کے وقت وقوع پذیر ہوئی .

ان   تارکین وطن اشکنازی یہودیوں  کی روایتی زبان   یدیش مختلف بولیوں پر مشتمل ہے.اشکنازی تمام تر  وسطی اور مشرقی یورپ میں  پھیلے اور وہاں برادریاں قائم کیں  جو قرون وسطی سےلیکر   حالیہ دنوں تک  ان کے بسنے کے بنیادی علاقے ہیں   ، وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ان بے وطنوں کی اپنی ایک علاقائی  اور تارک وطن اشکنازی تشخص پروان چرھنے لگی.قرون وسطی کے اخیر میں اشکنازی آبادی کا زیادہ تر حصہ مسلسل جرمن علاقوں سے باہر  پولینڈ اور لتھوانیا  میں (بشمول موجودہ  بیلاروس اور یوکرائن) مشرقی یورپ کی طرف منتقل ہوتاچلا گیا- ۱۸ اور ۱۹ صدی کے  آخر میں, وہ  یہودی جو جرمنی ہی میں رہے یا واپس جرمنی آیے  انکی  ثقافتی اقدار نے دھارا بدلا- حثکالا (یہودی نشاة ثانیہ) کے زیر اثر  ، جدوجہد آزادی  ، دانشورانہ اور ثقافتی بدلاؤ کیلئے  انہوں  نے آہستہ آہستہ یدش زبان کا استعمال ترک کردیا ، جبکہ اپنی مذہبی زندگی اور ثقافتی تشخص کی نئی جہتوں کو پروان چڑھانے لگے-" یورپ میں  قیام کے دوران اشکنازیوں نے یورپی ثقافت میں اپنا اہم حصہ ڈالا  اور فلسفہ ، ادب ، آرٹ ، موسیقی اور سائنس کے تمام شعبوں میں  قابل ذکر اور غیر متناسب اضافہ کیا " (ایرک ہوبسبام) – ہولوکاسٹ(مرگ انبوہ),یعنی  یہودی نسل کشی اور  دوسری عالمی جنگ کے  دوران اور تقریبا ساٹھ لاکھ یہودیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام  نے  اشکنازی تارکین وطن کی ثقافت  اور تقریبا ہر اشکنازی یہودی خاندان کو متاثر کیا ہے.

گیارہویں صدی عیسوی  تک اشکنازی دنیا کی  کل یہودی آبادی کا تقریبا ۳فیصد تھے  , جبکہ ۱۹۳۱ کے  اپنے عروج کے دنوں میں دنیا کی کل یہودی آبادی کا ۹۲% شمار کئے گئے .  ہولوکاسٹ سے تھوڑا  عرصہ قبل تک یہودیوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ستاسٹھ لاکھ تھی. اشکنازیوں کی عصری آبادیاتی شماریات وقت کے ساتھ متغیر ہوتی رہتی ہیں جو کہ کم  و بیش ایک کروڑ سے  ایک کروڑ بارہ لاکھ کے درمیان رہی. سرجیو ڈیلا پرگولا نےسپین اور پرتگال کےوہ یہودی( سفاردی )جنہیں ۱۴۹۲ میں بیدخل کیا گیا اور ( مزراہی) صہیونیت پر یقین رکھنے والے یہودی کو سرسری حساب میں شمار کرتے ہوۓ دعوی کیا کہ اشکنازی دنیا کی کل یہودی آبادی کا ۷۴ فیصد سے کم ہیں-

جننیاتی اشکنازی مطالعہ —اشکنازی مادری اور پدری نسب پر تحقیق کرتے ہوۓ ان کے مغربی ایشیائی ماخذ کے اشارے ملتے ہیں - لیکن اشکنازی لوگ اپنی یورپی نسبت کے متعلق ایک مختلف اور بحث طلب سوچ رکھتے ہیں کہ ان میں یورپی جننیات کی ملاوٹ مادری نسبتوں سےہی آئی ہیں- عام طور پراشکنازی یہودی،  سفاردی یہودیوں کے بر خلاف  ہیں  جو کہوبیرین جزیرہ نما  کے یہودیوں  کی نسل سے ہیں (اگرچہ اس جزیرہ نما میں اور یہودی بھی موجود ہیں).ان میں کچھ عبرانی حروف کے تلفظ اور مذہبی رسومات کی  ادائیگیمیں کچھ اختلافات  ہیں ۔

یہودیوں کے کسمپرسی کے دور کے  خاتمے کی بعد منافقین کو روکنے کے لیے  کسی کے مذہب بدل کر یہودیت اختیار کرنے کو یہودیوں کی جانب سے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا جاتا یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جو کہ ایک تاریخی نظریہ ہے جس پر دوبارہ عمل ہو رہا ہے- اور یہ بحث تو کافی عام ہو چکی ہے کہ یہودی کون ہے اور کون نہیں ،چہ جائیکہ اشکنازی یہودی کا تعین کیا جائے، جس کے لیے مذہبی، لسانی، نسلی اور ثقافتی تعریف کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے اب جبکہ زیادہ تر یہودی آبادی مشرقی یورپ سے امریکہ، مغربی اور شمالی یورپ کی جانب ہجرت کر چکے ہیں عہدحاضر سے قبل کی ان کی خود ساختہ تنہائی بھی ختم ہو چکی ہے جس نے انکو ایک الگ ثقافتی مذہبی اور قومی شناخت دی تھی-لفظ اشکنازی اپنی تاریخی ارتقاء کے منازل طہ کرنے کیبعد اب دوبارہ اہمیت حاصل کرچکا ہے خاصکر اسرائیل میں جہاں اس لفظ کو اب روایتی معنوں میں نہیں لیا جاتا- دنیا بھر میں اکثر یہودی برادری آج بھی دو کنیساؤں میں منقسم ہے جہاں اشکنازی اور سفاردی روایات کی مطابق عبادت سر انجام دی جاتی ہیں-اگر چہ  یہ امتیاز اب رفتہ رفتہ ختم ہوتا جا رہا ہےلیکن غیراسرائیلی سفاردی یہودیوں کو ایک الگ مذہبی شناخت اور امتیاز حاصل ہے جبکہ اشکنازیوں نے کھیل ، ثقافت ، تنوت نور، اداکاری، سیاست، معاشیات اور صیہونیت میں اپنا مقام بنایا ہے -چنانچہ شائد اسی لئے الحاد اور سیاسی محرکات کا وقوع پذیر ہونا اشکنازیوں میں کہیں زیادہ ہے -جبکہ دوسری جانب ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اسرائیلی اشکنازی اور سفاردی یہودیوں کے خصوصیات غیر اسرائیلی یہودیوں سے قطعا جدا ہیں ، اسرائیلی اشکنازی یہودیوں میں روایتی قدامت پسند یہودیت اب بھی موجود ہے اور اسرائیل کی بڑی سیاسی قوتوں میں مذہبی سفاردی پارٹی شاس بھی ہے.

مندرجہ ذیل مضمون دی چرچ ٹائمز ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ کوہیو گ مونٹےفیورے (جسکا تعلق مشہور یہودی خاندان مونٹےفیورے سے تھا اور عیسائیت اختیار کی )کیجانب سے شائع ہوا -

قبیلہ خذر کے آثارقدیمہ کی کھدائی کے دوران نکلا سکہ
یہودی دنیا سفاردی اور اشکنازی میں منقسم ہیں۔ سفاردیوں کا نام سفارد ( ہسپانیہ ، اسپین )میں رهنے کی وجہ سے پڑا پھر انہیں وہاں سے بیدخل کر دیا گیا اور بحیرہ روم کے کنارے اٹلی ،یونان ،ترکی، اور وسطی یورپ میں جابسے ،خوشحال یہودیوں نے انکے معززین سے شادیاں کیں، اور یوں انکی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا حتی کہ بعد میں انہی کی نسلوں کو وہاں سے بیدخل کیا گیا-

اشکنازی مشرقی یورپ کا سب سے بڑا یہودی گروہ ہے ، انجیل انہیں يافث کی اولاد بتاتا ہے جو آرمینیا اور کوہ ارارات کے گرد آباد ہوئے- پچھلی صدی میں روس اور مشرقی یورپ میں یہودیوں کی تعداد زیادہ رہی جو فرانس اور جرمنی سے وہاں دھکیلے گئے اور صدیوں پہلے جن کی ان ملکوں میں اصل تعداد نہ ہونے کے برابر تھی - قرون وسطی میں ترک قبیلہ خذر کی ۱۱ صدی سے ۱۳ صدی تک مملکت بحیرہ اسود سے بحیرہ قزوین تک اور قفقاز( کوہ کاف) سے دریائے وولگا تک پھیلی ہوئی تھی- اور وہ فاتح مسلمانوں اور بازنطینی عیسائیوں درمیان پھنسے لیکن مزاحمت کرتے انہوں نے یہودیت اختیار کرکے اشکنازی آبادی میں بہت بڑا اضافہ کیا- مملکت کے خاتمے کے بعد انہوں نے تجارتی راہداریوں پر بس کر تجارت شروع کی- کچھ روس میں رہے ، کچھ بلقان گئے ، کچھ لتھوینیا ، پولنڈ اور جرمنی چلے گئے - تمام ثبوت اسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مشرقی یورپ کے یہودیوں کا سب سے بڑا ماخذ یہی لوگ ہیں - یدش زبان پولش ، مشرقی جرمن اور عبرانی زبانوں کا آمیزہ ہے جبکہ فرانسیسی اور رهنیش ( مغربی جرمن ) کے الفاظ نہیں ملتے - ان کی طوطہ ناک جیسی مشابہات شامیوں جیسی نہیں البتہ کوہ کافیوں جیسی ضرور ہے -آرتھر کوسٹلر نے ۱۹۷۸ء میں اپنی کتب "The Thirteenth Tribe " . میں ان خیالات کا اظہار کیا تھا جو کہ یہودی عوام کیلئے دشمن کے طعنہ جیسے بدمزہ تھے خالص یہودی نسل (بنی اسرائیل) جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ہر علاقے کے یہودیوں میں وہاں کےغیر یہودی لوگوں کے خدوخال اور اطوار پائے جاتے ہیں - تاریخ اور عمرانیات ملکر اس مشہور خیال کو رد کرتے ہیں کہ موجودہ یہودی خالص تاریخی بنی اسرائیل کی اولاد ہیں - شامیر مغربی کنارے میں روسی نژاد یہودیوں کی آبادکاری میں مصروف ہے، روسی اصل میں ترک خذر قبیلہ کا قتل عام کرتے رہے-ہٹلر کا ہالوکاسٹ (مرگ انبوہ) اصل میں غیر نسلی اسرائیلی یہودیوں کے خلاف رہا .میکسویل ایک نسلی چیک یہودی تھا .

[15]

نامی ارتقا[ترمیم]

لفظ اشکناز عہد نامہ قدیم کے انجیلی کردار اشکناز بن گومر بن خافط بن يافث بن نوح سے لیا گیا ہے - اشکناز ،منائیاں ،ارارات اور اورارتو جنہیں خدا نے بابل کیخلاف لڑنے کیلئے بلایا انجیل کی کتاب یرمیاہ (۵۱:۲۷) میں مملکتوں کو ظاہر کرتا ہے- جبکہ اشکناز ان میں سے شمال بعید کی ایک مملکت تھی- تلمود کے رسالہ یومہ میں گومر کو بنام جرمنیہ پکارا گیا ہے البتہ شمال مغربی شام کی یہودی ادب میں جرمنیکا کے نام سےاسکی نشاندہی کی گئی جو بعد میں بگڑ کر جرمنیہ بنا- نام اشکناز چھٹی صدی عیسوی کے سکانڈزا کے علاقے کیساتھ بھی منسلک رہا جو کہ جرمنیک قبیلوں کا منبع ہے- آرمینیائی تاریخ کے ۱۰ ویں صدی عیسوی تک یہودی کبھی کبھار لفظ اشکناز آدیابن،خزر ،جزیرہ نما کریمیا اور مشرقی یورپی علاقوں کیلئے بھی استعمال کرتے تھے، عباسی دور کے یہودی فلسفی سعيد بن يوسف الفيومی سلاوی ، مشرقی اور وسطی یورپی علاقوں کیلئے لفظ اشکناز استعمال کیا کرتے تھے-جدید دور کے مؤرخوں میں بوداپست اور ویانا کے یہودی تاریخدان اور تلمودی آثارقدیمہ کےبانی پروفیسر اسمعیل کراؤس نےخزریہ کے علاقے کو اشکناز کا نام دیا-

ابتدائی قرون وسطی کے زمانے میں وسطی اور مشرقی یورپ کےیہوو کے لئےیہ نام استعمال کیا جاتا رہا ہے- یہودی آبادکاری والے علاقوں کے انجیلی ناموں کے القابات کیمطابق اسپین کو سفارد کہا گیا ہے (عبدیاہ ۲۰) فرانس کو تسارفت اور بوہیمیا کو کنعان (سلاطین۔1 : ۱۷-۹)- قرون وسطی متوسطہ تک راشی جیسےتلمودی مفسروں نے جرمنی کو اشکناز نامزد کرنا شروع کردیا تھا جسکا پرانا نام لوتارنژیہ تھا-

تاریخ[ترمیم]

یورپ میں اشکنزم سے قبل کی تاریخ[ترمیم]

قدیم شام میں ابتداء سے ہی اشکنازیوں کی تاریخ پراسراریت میں لپٹی چلی آرہی ہے اور یہودیوں کی ایک الگ برادری کے طور انکے ابھرنے پر بہت سی قیاس آرائیوں نے جنم لیا- اٹلی اور جنوبی یورپی علاقوں کے راستے قدیم شام سے انکے انخلا کا نظریہ یہودیوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور مشہور رہا- تاریخی دستاویزات اور نوشتے جنوبی یورپ میں یہودیوں کی موجودگی کی قبل از عیسائی دور کی تصدیق کرتے ہیں- ۲۱۲ ق م میں جب کاراکلا نے روم میں تمام آزاد لوگوں کو شہریت سے نوازا تو یہودیوں کو اس نعمت سے محروم رکھا گیا- یہودیوں کے ہر فرد کو حکمران جولین کے دور حکومت۳۶۳ء سے پہلے تک جزیہ دینا پڑتا تھا لیکن بعد میں انہیں ثقافتی اور مذہبی تعلقات استوار کرنے اور مقامی پیشے اختیار کرنے کی آزادی دے دی گئی لیکن ۳۸۰ء میں عیسائیت کے روم اور قسطنطنیہ کا سرکاری مذہب قرار دئے جانے کے بعد یہودی آنوسی ہوکر عیسائی ہوئے یا ایک بار پھر ہتک آمیز سلوک کیا جانے لگا-

یونان میں یہودیوں کی تاریخ کی ابتداء ۴۸۰ ق م سے ۸ ق م کے دور میں ہوتی ہے جب ٹکسالی و کلاسیکی یونانی ثقافت کو اپنے تاریک دور کے بعد باضابطہ تشکیل دیا جارہا تھا- یونانی مورخ ہیرودوت یہودیوں کو سلطنت فارس پر حملہ میں معاونت کیوجہ سے بحری ٹیکس گزار 'فلسطینی شامی' کہا کرتا تھا - یونانی طرز زندگی بہت سے خوشحال یہودیوں کیلئے پرکشش تھی اگرچہ یونانی شرک یہودی توحید پر زیادہ اثرانداز نہ ہوسکا- ایتھنز کے قدیم علاقے اگورہ کے کنیسہ کی تاریخ ۲۶۷ءسے ۳۹۶ ء کے دور کی ہے - مقدونیہ کے تاریخی علاقے استوبی کا کنیسہ ۴ء میں ایک پرانے کنیسہ کی جگہ دوبارہ تعمیر کیا گیا لیکن ۵ء میں اس کو سرکاری کلیسا میں تبدیل کر دیا گیا- یونانی هلنیستی یهودیت انتطاکیہ اور اسکندریہ میں خوب پھیلی لیکن بعد میں یونانی بولنے والے ان یہودیوں میں سے باالرضا یا آنوسی ہو کر نے عیسائیت اختیار کرلی- کروشیا کے مختلف علاقوں میں جہاں قدیم رومی چھاونیاں قائم تھیں وہاں وقتا فوقتا قبروں کی کھدائی کے دوران ایسے قطبے برآمد ہوتے رہے جو ۲ء-۳ء میں یہودیوں کی موجودگی کی تصدق کرتی ہیں-انتطاکیہ طرسوس،مرسین کیپادوکیا کے یہودی اور اطالوی و هلنیستی علاقوں کے یہودی شامی فوجی کمک کیساتھ پانونیا پہنچے اور اپنا کنیسہ اور برادری قائم کرلی- کھدائی سے پتہ چلتا ہے کہ یہودی پہلے پہل لشکرگاہ کے قریب مگر علیحدہ احاطہ بند علاقوں میں رہتے رہے اور اپنے ہم خیال اور ہم مذہب فوجی مرتبوں میں ہی شادیاں کرتے رہے- رافائيل پاتائی بیان کرتا ہے کہ رومی مبصروں کے قطبوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعد ازاں یہودیوں اور شامیوں کی رسومات ، طرز لکھائی و خطاطی اور ناموں میں فرق بہت حد تک ختم ہو گیا تھا حتی کہ بعد ازاں شامی اور یہودی میں تفریق بہت مشکل ہوگئی تھی -۴۳۳ءمیں جب پانونیا ہن قبیلے کے حوالے کیا گیا تو چھاونیوں کی فوج و آبادیاں واپس روم چلی گئیں البتہ پانونیا ہی کے علاقوں میں کچھ صدیوں بعد بھی یہودیوں کے رهنے کے کچھ مبہم آثار ملے-

زمانہ قدیم اور قرون اولی میں رومی سلطنت سے باہر مستقل یہودی موجوگی کے آثار جرمنی اور مشرقی یورپ کے علاقوں میں ابھی تک نہیں ملے- البتہ اس زمانے میں جرمنی اور گال کے علاقوں میں یہودی خانہ بدوش تاجروں و دستکاروں کے قلیل وقتی آثار ملتےہیں- گال(موجودہ شمالی فرانس اور جنوبی جرمنی) کے علاقوں میں قرون وسطی میں جا کر قابل ذکر یہودی آبادی ابھری جبکہ بریتانیہ ویلنس اور اورلینز میں ۵ء اور ۶ء میں موجود تھیں- اس زمانے میں سے لیکر قرون وسطی تک یہاں کے اکثر یہودی غالب یونانی ثقافت میں ضم ہو کر عیسائیت اختیار کرتے رہے- فرانکیوں کے بادشاہ داگوبرت اول نے اپنے ملک میروونجئین سے یہودیوں کو ۶۲۹ء میں بیدخل کردیا اور یہودیوں کو سخت یہودی مخالف احکام کیوجہ سے سابقہ رومی علاقوں میں نئے مشکلات کا سامنہ کرنا پڑا-

۸۰۰ء میں شارلیمین کے فرانکی سلطنت کو شمالی اطالیہ اور روم تک وسعت دینے کےبعد فرانکیہ پر اتحاد اور استحکام کا ایک مختصر زمانہ آیا جس نے یہودی تاجروں کو الپس کے شمال میں آبادکاری کے مواقع دئے- شارلیمین نے یہودیوں کو وہی حقوق دئے جو یہودیوں کو کبھی رومی سلطنت میں حاصل تھے ساتھ ہی جنوبی اطالیہ کے یہود مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے وسطی یورپ اور فرانکی علاقوں کیجانب ہجرت کرنے لگے - جہاں پرانہوں نے مالیات ،تجارت اور قرض دہی کے پیشے اختیار کئے چونکہ کلیسا کیجانب سے عیسائیوں پر سود کی لین دین پر پابندی تھی- شارلیمین کے زمانے سے آج تک شمالی یورپی یہودی زندگی بہترین انداز سے رقم کی گئی ہے-۱۱ء تک جب راشی نے اپنی تاریخی تبصرے لکھےتو اشکنازی اپنے تلمودی علم اور ہلاخاہ (یہودی شریعت) پر دسترس کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے - یہ لوگ اپنی یہودی فقہ اور عبرانی لسانیات اور ادب میں مہارت کی کمی کیوجہ سے سفاردی اور اسلامی علاقوں کے یہودی علماء کے زیر عتاب بھی رہے تھے- قرون وسطی میں یہودی و لاطینی زبانوں کی دیسی جرمن الفاظ کیساتھ ملاپ کی وجہ سے یدش وجود میں آئی- جو ایک جرمنک زبان تھی جوعبرانی حروف میں لکھی جاتی تھی اور عبرانی آرامی سلاو اور رومی زبانوں کے انتہائی زیر اثر رہی تھی-

متوسطہ اور اخیر قرونِ وسطی کی ہجرتیں[ترمیم]

۸ء اور ۹ء کے تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ الپس اور کوہ پائرینیس کے شمال میں یہودی برادریاں موجود تھیں- ۱۱ صدی ء تک جنوبی یورپی اور مشرق وسطیٰ کے یہودی معاشی مواقعوں کی رغبت میں اور عیسائی حکمرانوں کی دعوت پر شمالی علاقوں خصوصاً دریائے رائن کے ساتھ آباد ہونا شروع ہوئے- یعقوب بن یکوطئیل(جو ایک امیر اور نیک راہب سمجھا جاتا تھا، اس نے اپنے ملک کے یہودیوں کو جبراّ تبدیلی مذہب سے بچانے کیلئے پاپائے روم سے ذاتی درخواست کی جسکے بعد)فلانڈر کے بلدوین پنجم نے یعقوب بن یکوطئیل کو تیس یہودی خاندانوں کیساتھ اپنے علاقوں میں آباد ہونے کی دعوت دی[16]، یونہی نارمن نے فتح انگلینڈ کے بعد یہودیوں کو مدعو کیا اسی طرح ویلیم اول عرف حرامی ویلیم نے بھی فتح کے بعد انہیں اپنے علاقے میں قیام کی دعوت دی- بشپ رودیجر ہزمان نے رومی شہنشاہ ہنری چہارم کی منظوری سے دریائے رائن کے کنارے آباد مینز کے یہودیوں کو اشپیر میں قیام کیلئے مدعو کیا- ان تمام دعوتوں اور آبادکاریوں کے پیچھے یہود کے اقتصادی اصلاحات ،معاشی ترقی شروع کرنے ، محصولات کو بہتر بنانے اور تجارت کو وسعت دینے میں مہارت کار فرما تھی- چنانچہ ہمیشہ کی طرح یہود بازاروں، کلیساؤں کے قریب اور اندرونِ شہرمنتقل ہوتے گئے جہاں اگرچہ وہ شاہی اور کلیسا کے طاقت کے قریب تو رہے لیکن انتظامی خودمختاری سے بھی نوازے گئے -

راہبانہ یہودیت اور بابل کی تلمودی ثقافت جو کہ اسکی بنیاد ہے ۱۱ صدیء میں دونوں جنوبی اٹلی میں جڑ پکڑتی گئیں اور وہاں سے شمال میں اشکنازیوں میں پھیلی-

پہلی صلیبی جنگ کے دوران رائنستان کے شہر متز میں یہودیوں کا قتل عام ، اگستے میجیٹ کی تصویر

صلیبیوں کو اپنی جنگوں کیلئے سرمایہ درکار ہوتا تھا جو وہ سود پر بطور قرض یہودیوں سے لیتے جبکہ کیتھولک عیسائیت میں سود لینا ناجائز تھا یوں یہودی مالدار اور عیسائی انکےمقروض ہوتے جارہے تھے چنانچہ صلیبیوں نےمسلم شمنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہودیوں کو مسلمان جیسا بےایمان قرار دینا اور سرعام قاتلانِ عیسیٰ کہنا شروع کردیا جب صلیبی ہتھیاروں سےمسلح ہو چکے تو انہوں نے صلیبی مہم میں توسیع کی اور مسلمانوں کیساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی دشمنوں کی فہرست میں شامل کرکے انکا قتلِ عام کیا - ۱۰۹۶ ء میں دریائے رائن کے کنارے کلون سے لیکر مینز تک صلیبیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے اس قتل عام کو رائنستان کی خونریزی یا عبرانی میں 'ہربان شوم' کہتے ہیں-

ڈیوڈ نرنبرگ کیمطابق "رائنستان کی خونریزی جدید یہودی تاریخ نویسی میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہے اور اسے اکثر سام دشمنی(ضدِ یہود)کی پہلی مثال قرار دیا جاتا ہےجسکی انتہا ہولوکاسٹ (مرگ انبوہ) تھی چنانچہ اسکو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا-"

۱۰۹۵ء میں صلیبی جنگوں کے آغاز کیوجہ سے ، ۱۲۹۰ء میں انگلینڈ سے ، ۱۳۹۴ء میں فرانس سے ،۱۵ء صدی میں جرمنی کے کچھ علاقوں سے بیدخل کئے جانے کیوجہ سے یہودیوں کو مشرقی جانب پولینڈ ۱۰ء صدی میں، لتھوینیا ۱۰ء صدی میں، اور روس ۱۲ء صدی میں ہجرت کرنا پڑی- کئی صدیوں پر محیط اس زمانے میں یہودی اقتصادی سرگرمیاں درج ذیل عوامل کیوجہ سے تجارت ، کاروباری انتظام اور معاشی خدمات مہیا کرنے پر مرکوز رہیں :

یوروپی عیسائیوں کی طرف سے بعض یہودی سرگرمیوں پر پابندی جیسے عیسائیوں سے سود لینا، اعلی شرح خواندگی ، سوداگروں کا دوسرے خطوں اور ملکوں میں فقط اپنے خاندانی افراد پر اعتماد، تقریبا تمام مردوں کاتعلیم یافتہ ہونا-

پولش لتھوینیا کی دولت مشترکہ اپنی سب سے بڑی حدودکے زمانےمیں

۱۵ ء صدی تک پولینڈ کی اشکنازی یہودی برادری یورپ کی سب سے بڑی آبادی تھی جو کہ بعد میں روس، آسٹریا اور پرشیا (جرمنی) کے زیر تسلط آیا اور ہولوکاسٹ تک اشکنازی یہودیت کا مرکز رہا- وسطی اور مشرقی یورپ کا ماحول اجنبی کیلئ سازگار نہ تھا چنانچہ ایک طویل عرصہ تک یہودیوں کا اس خطّے کی ثقافتوں میں انضمام نہ ہو سکا اور الگ تھلگ رہتے رہے اگرچہ کہیں کہیں توہین و تحقیر کیوجہ سے کچھ لوگ اپنی ثقافتوں کو ترک کر کے مقامی ثقافتوں میں سمو بھی گئے- مزید برآں یہود شتیتل(یہودی پاڑہ) میں رہا کرتے تھے،جہاں وہ مردوں کیلئے مضبوط تعلیمی نظام کو برقرار رکھا کرتے ، راہبانہ قیادت کی تعظیم اور رہنمائی لیا کرتے ، اپنے پڑوسیوں کی طرز زندگی کو حقارت اور بیزاری سے دیکھتے تھے ، اور ان تمام رجحانات میں ضد سامیت (سام دشمنی)کی شدت کیساتھ مزید اضافہ ہوا۔

قرون وسطی کے حوالے[ترمیم]

۱۱ صدیء کے پہلے نصف حصہ میں بغداد کے مشہور یہودی عالم گاؤن ہائے بن شریرہ ایک بھیجے گئے سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اشکناز سے پوچھا گیا ہے بلاشبہ جس سے مراد جرمنی تھا - بعد کے نصف حصہ میں مشہور یہودی مفسر راشی تلمود پر تبصرہ کرتے ہوئے اشکناز کی زبان اور ملک کا حوالہ دیتے ہیں - ۱۲ صدیء کیبعد سے لفظ اشکناز کافی تواتر سے استعمال ہوتا رہا ہے-شہر وتری کے سمہاح بن سموئیل کی یہودی فقہ کی کتاب وتری ماحزور میں مملکتِ اشکناز کا حوالہ بہ لحاظ رسوماتِ کنیسہ اور دوسرے معنوں میں دیا گیا ہے - اشکناز کی زمین اور زبان کے حوالے ١٣ صدی ء کی تحاریر میں بہت ملتے ہیں - مثلاً فتاویٰ سلمان بن ادرت(جلد ١ نمبر ٣٩٥) ، فتاویٰ اشہربن یحیٰ (صفحہ ٦ ،۴) ، اسکی ھلاخا کی فقہ (براکوت ١،١٢ ایڈیشن ولنا صفحہ ١٠) اشہربن یحیٰ کے بیٹے یعقوب بن اشہر کی کتاب طور اوراخ کھایم (باب ٥٩)، فتاوی اسحاق بن شیث (١٩٣،٢٦٨.٢۷٠)- مِدراش کی تالیف کےدوران کتاب رباح میں راہب برکیاه اشکناز، رِفاتح اور ٹوگرماح کا ذکر بطور جرمن قبیلے یا جرمن خطوں کے کرتا ہے- فلسطینی یہود کے یونانی بولی میں شائد یہ لفظ موجود ہوتا ہو یا اسکا متن جرمنیکا سے بگڑ کر موجودہ شکل میں آیا ہو- برکیاه کا یہ نظریہ تلمود پر مبنی ہے (یوما ١٠ الف ، میگلاہ ۷۱ ب) جہاں گومر ولد اشکناز کا ترجمہ جرمامیہ کیا گیا ہے جس سے واضح طور پر تلفظ کی یکسانیت کی بنیاد پر مراد جرمنی ہی ہے-

ورمز کے یہودی پیلا نشان زیب تن کئے ہوئے

بعد ازاں لفظ اشکناز جنوبی اور مشرقی جرمنی کیساتھ مخصوص ہو گیا جہاں کے رسومات مغربی جرمنی اور پولینڈ سے مختلف تھے- اشعيا ہوروطز اور دوسروں کی دعائیہ کتابوں کی دعائیہ نظموں میں اشکناز اور پولینڈ کا ذکر بھی ملتاہے-

١٦صدی ء میں پولینڈ کے شہر خه‌اوم کے صوفی راہب ایلیاہ کےمطابق اشکنازی یہودی ١١صدیء میں یروشلم میں رہا کرتے تھے-انکی حکایت کے مطابق ایک جرمن زبان بولنے والے فلسطینی یہودی نے دوسرے جرمن جسکا تعلق ڈولبرجر خاندان سے تھا کی جان بچائی -احسان لوٹانے کیلئے جب پہلی صلیبی جنگ میں شہہ سوار (نائٹ) یروشلم کا محاصرہ کرنے پہنچے تو ڈولبرجر خاندان کے لوگوں نے اس یہودی خاندان کی جان بچائی اور اسے اپنے ساتھ رائنستان کے شہر ورمز لے آئے - جرمنی میں یہودی برادریوں کی موجودگی کے مزید ثبوت ١١صدیء میں جرمنی سے یروشلم بھیجے گئے ہلاخا کے شرعی سوالات ہیں -

جدید تاریخ[ترمیم]

جرمن یہودیوں کی کچھ برادریوں کی تاریخ کے بارے میں مواد اجتماعی طور پر رائن، میموربخ اور لائبسبریف کے ذیل میں جن دستاویزات میں محفوظ کیا جاتا رہا ہے وہ اب داؤد ساسون کی مجموعہ کا حصہ ہیں- جرمن یہودی تاریخ کے اساسی تجرید میں موجودہ دور کے ہینرخ گاریٹز نے بعنوان "Volksthümliche Geschichte der Juden." شامل کیا ہے- یروشلم کے عوامی معاملات کے مرکز میں  سفاردی یہودیت پر ایک مضمون میں دانیال ایلازار نے پچھلے ہزار سال کی یہودی آبادیاتی تاریخ کا خلاصہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ١١ صدی ء کے اختتام تک دنیا کے  یہودیوں میں ٩۷% سفاردی جبکہ ٣% اشکنازی تھے- ۱۶ صدی ء کے اختتام تک  قیدیوں کی آزادی کے معاہدے کا خلاصہ کرتے ہوئے مرسی پادری جو کہ خود بھی ترکوں  کے ہاتھوں قید ہوا تھا ایک تیونسی عبرانی سائمن اسکنازی جو گائتا پہنچتے ہوئے قید کیا گیا اور جس نے دوسروں کی مالی امداد بھی کی کا حوالہ دیتے ہیں کہ ۱۷ ویں صدی میں سفاردی اشکنازیوں سے ٣:٢ کے تناسب سے بڑھے ہوئے تھے جبکہ یورپی یہودیوں کی خلافت عثمانیہ میں رهنے والے یہودیوں کے بہتر حالات زندگی کی بدولت ١٨ ویں صدی تک اشکنازی سفاردیوں سے ٣-٢ کے تناسب سے بڑھے چکے تھے- ١٩٣١ ء تک اشکنازی دنیائے یہود کے ٩٢ فیصد تک پہنچ چکے تھے- یہ عوامل سراسر جنوبی سے مغربی یورپ اور وسطی سے مشرقی یورپ یہودی ہجرت کی آبادیاتی اسلوب کو ظاہر کرتے ہیں- ۱۷۴۰ء کے یروشلم کے یہودی آبادگاہ میں آباد ہونے والے پہلے خاندان نے لتھوینیا سےہجرت کی -

مغرب کے پولینڈ بیلارس اور روس جیسے علاقوں سے بعد میں آنے والی نسلوں کو بہتر سیاسی و سماجی ماحول ملا- فروغ پذیر اشاعتی صنعت اور سینکڑوں کی تعداد میں انجیلی تبصروں کی چھپائی کی وجہ سے اہم یہودی مراکز اور ہسادی تحریک میں ترقی ممکن ہوئی- نئی اقوام کے درمیان دو صدیوں کی تقابلی برداشت کے بعد مشرق کے پروگروم (قتلِ عام بہ بلوائی) اور دوسرے علاقوں کی معاشی مواقع کے جواب میں ١٩ اور ٢٠ صدی میں بڑے پیمانے پر مغربی جانب نقل مکانی ہوئی - ۷٥٠اء کیبعد اشکنازی یہودی کی تعداد امریکی یہودیوں میں سب سے زیادہ ہے-یورپی روشن خیالی کے پس منظر میں یہودی خلاصی فرانس میں شروع ہوئی اور مغربی و وسطی یورپ میں پھیل گئی-قرون وسطی کے ایسی تمام پابندیاں بشمول شناختی لباس، جزیہ، اختیار پیشہ پر پابندی اور غیر یہودی برادریوں سے علیحدہ شتیتل، یہودی محلہ یا پاڑہ میں سکونت جنہوں نے یہودی حقوق کو محدود کر رکھا تھا منسوخ کر دی گئیں - ایسے قوانین بنائے گئے جنکے تحت مقامی ملکوں کے شہریوں میں یہودیوں کو ضم کیا گیا اشکنازیوں کو اپنے پرانے آبائی نام رکھنے کی اجازت ملی- اس عوامی زندگی میں شمولیت نے اشکنازی ثقافت ، حثکالا یا یہودی روشن خیالی کو بڑھاوا دیا جسکا اپنا مقصد جدید یوروپی اقدار کو یہودی زندگی میں شامل کرنا تھا-جہاں جہاں یہودیوں کو معاشرتی آزادی نہ مل سکی وہاں انہوں نے سوشلزم اختیار کی - ان دونوں عوامل نے مل کرصہیونیت کیلئے جدید یورپ میں راستہ ہموار کیا-

ہولوکاسٹ (مرگِ انبوہ)[ترمیم]

١٨ جنوری ٢٠٠٩ء کے اسرائیلی حملے کے بعدفلسطینیوں کے حق میں ملبورن کے منکرین ہولوکاسٹ لوگوں کا تیسرا احتجاج
١٩٣٣ء میں جرمن فوجی اسرئیل نامی ڈپارٹمنٹل سٹور کے باہر قطبےلئے کھڑے ہیں "جرمن لوگو اپنی حفاظت کرو  ! یہودیوں سے مت خریدو" سٹور شب بلورین کے لوٹ مار کے بعد غیر یہودی خاندان کے حوالے کیا گیا
١٩٢٠ء کا اخباری خاکہ :جمہوریہ ویمار کا اعلان کرنے والے اور اسکے دوسرے چانسلر جرمن ڈیموکریٹک یہودی سیاستدانفلپ شائڈیمناور سنٹر پارٹی کے رکن اور جنگ مخالف یہودی سیاستدان ماتیاس ارتسبرگرجس نے جنگ عظیم اول کے اختتام پر بدنام زمانہ صلح نامہ پر دستخط کئے
ماؤتھاسین کے فوجی توجہی کیمپ میں برہنہ سوویت جنگی قیدی

تجدید پسندان مرگ انبوہ (جو خود کو ترمیم پسندکہلواتے ہیں مگر یہودی اور مرگ انبوہ پر مکمل یقین رکھنے والے ان کو منکرینِ مرگ انبوہ کہتے ہیں) اس بات پر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ مرگ انبوہ میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ یہودی قتل ہوئے تھےیا اسے سرے سے کہانی سمجھتے ہیں مگر زیادہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرگ انبوہ پر نئے سرے سے تحقیق ہونا چاہئیے کہ اس میں مرنے والوں کی اصل تعداد کیا تھی۔ ان کے خیال میں یہ ساٹھ لاکھ سے بہت کم تھی اور اتنی بڑی تعداد کا ذکر پہلی دفعہ مرگ انبوہ کے کئی سال بعد سامنے آیا جس کا مقصد اسرائیل کے وجود کو بہانہ مہیا کرنا تھا۔ انکار ِ مرگِ انبوہ اکثر یوروپی و بحر اوقیانوسی ممالک میں اب باقاعدہ قابلِ سزا جرم ہے۔ ڈنمارک کےاخبار جائلینڈ پوسٹن کیطرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیبعدایرانی صدر احمدی نژاد اور ایران تجدید پسندانِ مرگِ انبوہ کے علم بردار بنکر سامنے آئے۔ حتیٰ کہ ١١ دسمبر ٢٠٠٦ء کو بین الاقوامی کانفرنس برائےنظر ثانی برنظریہ عالم بابت ہولوکاسٹ منقعد کی گئی۔

جیساکہ درج بالا تاریخی حوالوں سے ثابت ہوا کہ یورپ سے باربار کی ذلت آمیز یہودی بیدخلی کیبعد یورپی یہودیوں (اشکنازی) نےہمیشہ اقتصادیات اور تجارتی پیشے اختیار کرکے ارباب اقتدار سے قریب تر ہوئے۔ پہلی جنگ عظیم کی جرمن شکست کے محرکات میں سے (دائیں بازو کی نظریات والوں کے نزدیک) وہ یہودی ریپبلکن تھے جنہوں نےدورانِ جنگ ہی ١۹۱۸-۱۹ء کے جرمن بغاوت میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر جرمن فوج کو شکست سے دوچار اور اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کیا۔ چنانچہ جب نازی اقتدار میں آئے تو انہوں نےجمہوریہ ویمار کو مجرمینِ نومبر کا شاخسانہ قرار دیا جنہوں نے اقتدارکےحصول کیلئےعوام سے غداری کر کے جرمن مفاد کی پیٹھ میں چھرا گھونپاتھا۔ نازی پہلی جنگ عظیم کے بعد قائم ہونیوالیجمہوریہ ویمار کو بدعنوانی کی دلدل ، قومی تذلیل ،ایماندار حزبِ اختلاف کو بےرحم ایذارسانی کرنے والی ریاست گردانتے ہیں اور ان ١۴ سالوں کو یہودیوں ، مارکسیت کے معتقدین اور بولشیوک ثقافتی اقتدار کے سال قرار دیتے تھے۔ برلن میں برطانوی فوجی مشن کے سربراہ جنرل نیل مالکوم نے١٩١٦ء-١٩١٨ء تک جرمن فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل ایرک لوڈنڈورف سےجنگ کے بعد ١٩١٩ء میں ایک ضیافت میں جرمن شکست کے اسباب کے متعلق پوچھا ۔ لوڈنڈورف نے گھر کے محاذ کی ناکامی کیساتھ ساتھ کئی اور عذر بھی گِنوائے۔ پھر مالکوم نے پوچھا

کیا جنرل آپکی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا؟" لوڈنڈورف نے کہا "ہاں، یہی ،بالکل یہی،میں اسی لفظ کی تلاش میں تھا ، ہماری پیٹھ میں چھرا ہی تو گھونپا گیا-

١٩١٩ء میں سام دشمن تنظیم Deutschvölkischer Schutz und Trutzbund کےلیڈر الفریڈ روتھ کی کتاب"فوج میں یہودی "میں یہودی مردم شماری کے نتائج اکھٹے کئے گئےجنکے مطابق فوج میں زیادہ تر یہودی موقع پرست، منافع خور یا جاسوس تھے۔ یہودی سازش کی فرد جرم میں برلن کا پیدائشی اور میونخ کا رہائشی یہودی صحافی اور نقاد کرٹ آئزنر جو ١٩١٦ء کے بعد سے جنگ کے ناجائز ہونے کے متعلق لکھتا رہا اور جسکا میونخ کی بغاوت میں بہت بڑا ہاتھ تھا جنگ کیبعدقتل کردیا گیا۔ نئی وجود میں آئی جرمن ریاست ویمار کےعبوری صدر فریڈرک ایبر واپس آنے والے غازیوں کو سلامی دینے کی تقریب میں کہتے جاتے "دشمن نے تمہیں شکست خوردہ نہیں کیا" اگرچہ اب جرمن اور غیرجرمن سکالر اور مؤرخین اس تصور کو یکسر مسترد کرتے آرہے ہیں اور وسائل کی کمی کو جرمن مغلوبیت کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

تاہم یہودیوں کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے آغاز تک یورپ میں رہنے والے اندازاً ۸۰لاکھ یہودی اشکنازی تھے جس میں سے ۶۰ لاکھ کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ ۹۱% پولش یہودیوں کو ، ۶۰% یوکرینی یہودیوں کو ، ۵۰–۹۰ % جرمنی، ہنگری، اور بالٹک ریاستوں کے سلاو یہودیوں کو، ۲۵  % سے زیادہ فرانس کے یہودیوں کو قتل کیا گیا۔کچھ ممالک میں بشمول یونان ہالینڈ اور سابقہ یوگوسلاویہ میں سفاردی برادریاں اسی طرح کی نسل کشی کا شکار ہوئے۔ چونکہ اکثر متاثرین اشکنازیوں سےتھےدنیا یہود میں انکی تعداد ١٩٣١ء کے ٩٢% سے کم ہوکر آجکل٨۴% فیصد ہوگئی ہے۔ ہولوکاسٹ یدش کی ترقی اور پیشرفت پر بھی اثرانداز ہوا چونکہ متاثرین ہولوکاسٹ کی اکثریت تقریبا ٥٠ لاکھ یدش بولنے والے قتل ہوئےتھے، جو جنگ کیبعد امریکہ برطانیہ ارجنٹینا کینیڈا آسٹریلیا اور اسرائیل منتقل ہو گئے۔ اسرائیل کی موجودہ کل آبادی کا ٣۵% اور یہودی آبادی کا ۴۵% اشکنازی ہیں۔

اسرائیل[ترمیم]

اسرائیل میں لفظ اشکنازی کی اصطلاح اب اپنے اصلی معنوں سے ہٹ کر اُن یہودیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہےجوکبھی یورپ میں آباد رہےہوں اگرچہ اِنکا نسلی پس منظر سفاردی کیوں نہ ہو۔ مزراہی ،یمنی ،کُرد یا کسی بھی غیر اشکنازی پس منظر کے یہودی جِنکا جزیرہ نما آئبیریا سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اب سفاردی ہی کہلاتے ہیں۔ اشکنازی اور غیراشکنازی خاندانوں کی آپسی شادیوں کی وجہ سے اور ذیلی نسلی امتیازات کو زیادہ خاطر میں نہ لانے کیوجہ سے مِلے جُلے نسلی پس منظر کے یہودی اب کافی عام ہوتے جارہے ہیں۔

اشکنازی یہودیوں پر واجب ہے کہ اپنے مذہبی ھلاخائی معملات میں چیف اشکنازی راہب(مفتی اعظم) کی تقلید کریں جو انتخابات کیساتھ بدلتا رہتا ہے- اس لحاظ سے مذہبی اشکنازی یہودی ایک اسرائیلی ہوتا ہے جو مخصوص سیاسی و مذہبی مفادات و نظریات کا حامی ہوتا ہے-یہ اپنے فرقے کا چیف راہب(رئیس العلماء یا مفتی اعظم) اسوقت بنتا ہے جب اسی کے فرقے کی باقی پارٹیوں میں سے اسکی مذہبی پارٹی کو اسرائیلی رائدہندگان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہوجائے، اگرچہ رائدہندگان کے توازن کا نقشہ ہر الیکشن میں بدلتا رہتا ہے- اشکنازی یہودیوں کے مذہبی مفادات بہت سی چھوٹی چھوٹی مذہبی پارٹیاں لیکر چلتی ہیں، یہ چھوٹی پارٹیاں ملکر ایک بڑے اتحاد بناتی ہیں جس سے ایک پیچیدہ اسرئیلی معاشرہ کو وجود ملتا ہے۔ اس معاشرے میں سماجی ، معاشی ، لسانی اور مذہبی مفادات کی بنیاد پر ١٢٠ نشستی اور یک ایوانی كنيست(اسرائیلی مجلس شوریٰ) کے انتخابات کیلئے مقابلہ ہوتا ہے- اشکنازی نسب کے لوگ اسرائیلی یہودیوں کے٥ .۴۶ % اور تمام اسرائیلیوں کے ٣٥-٣٦% بنتے ہیں- اپنے یورپی کردار کے مطابق انہوں نے اسرئیل کے وجؤد میں آنے کیبعد بھی معاشیات، ذرائع ابلاغ اور سیاست میں ایک خاطر خواہ کردار ادا کیا ہے - شروع کی دہائیوں میں اشکنازی اور سفاردی یہود کے درمیان سخت ثقافتی تنازعات نے جنم لیا جسکی جڑیں ابھی بھی اسرائیلی معاشرے میں خال خال موجود ہیں- تاہم تمام یہودی مہاجرین پگھلاری ہنڈیا کے نظریہ پر متفق ہوئے اور اپنی اپنی زمانۂ جلاوطنی کی متفرق شناختیں چھوڑ کر اسرائیلی شناخت میں ضم ہو گئے-

اسرائیل اور یشوو کے چند چیف اشکنازی راہب

  • ابراہیم اسحاق کک
  • اسحاق حلیوی ہرزوگ
  • ایسر یہودا انترمان
  • شلومو غورين
  • آورہام شاپرہ
  • یسرائیل مئیر لو
  • شیعار یشوو کوہن
  • یونہ میتزجر
  • داؤد لاو

تعریف[ترمیم]

مذہبی یہود ھلاخا اور مذہبی قوانین کے علاوہ منہاگ کے رسومات بھی اپناتے ہیں - مختلفجغرافیائی خطوں کے مختلف مذہبی یہودی گروہوں نے مختلف رسومات اطوار اور تشریحات اختیار کئے- کچھ مسائل پر قدامت پسند یہودیوں کو اپنے آباء کے رسومات و طریق ہی اختیار کرنا ہوتے ہیں اور جبکہ ان رسومات میں چھوڑنا اور اپنانے کے انتخاب کو نہیں مانتے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 "Ashkenazi Jews". The Hebrew University of Jerusalem. اخذ کردہ بتاریخ 29 October 2013. 
  2. "First genetic mutation for colorectal cancer identified in Ashkenazi Jews". The Gazette (Johns Hopkins University). 8 September 1997. http://www.jhu.edu/~gazette/julsep97/sep0897/briefs.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-07-24. 
  3. Feldman، Gabriel E. (May 2001). "Do Ashkenazi Jews have a Higher than expected Cancer Burden? Implications for cancer control prioritization efforts". Israel Medical Association Journal 3 (5): 341–46. http://www.ima.org.il/IMAJ/ViewArticle.aspx?aId=2748۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-09-04. 
  4. Statistical Abstract of Israel, 2009, CBS. "Table 2.24 – Jews, by country of origin and age" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 22 March 2010. 
  5. Wade، Nicholas (9 June 2010). "Studies Show Jews' Genetic Similarity". The New York Times. http://www.nytimes.com/2010/06/10/science/10jews.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-08-15. 
  6. "High-resolution Y chromosome haplotypes of Israeli and Palestinian Arabs reveal geographic substructure and substantial overlap with haplotypes of Jews" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 2013-08-15. 
  7. ^ 7.0 7.1 7.2 "Reconstruction of Patrilineages and Matrilineages of Samaritans and Other Israeli Populations From Y-Chromosome and Mitochondrial DNA Sequence Variation" (PDF). Archived from the original on 8 May 2013. اخذ کردہ بتاریخ 2013-08-15. 
  8. ^ 8.0 8.1 "Jews Are The Genetic Brothers Of Palestinians, Syrians, And Lebanese". Science Daily. 2000-05-09. http://www.sciencedaily.com/releases/2000/05/000509003653.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-07-19. 
  9. Seldin MF, Shigeta R, Villoslada P, et al. (September 2006). "European population substructure: clustering of northern and southern populations". PLoS Genet. 2 (9): e143. doi:10.1371/journal.pgen.0020143. PMID 17044734. PMC 1564423. http://genetics.plosjournals.org/perlserv/?request=get-document&doi=10.1371/journal.pgen.0020143 
  10. Adams SM, Bosch E, Balaresque PL; and others (December 2008). "The genetic legacy of religious diversity and intolerance: paternal lineages of Christians, Jews, and Muslims in the Iberian Peninsula". American Journal of Human Genetics 83 (6): 725–736. doi:10.1016/j.ajhg.2008.11.007. PMID 19061982. 
  11. M. D. Costa and 16 others (2013). "A substantial prehistoric European ancestry amongst Ashkenazi maternal lineages". Nature Communications 4. doi:10.1038/ncomms3543. PMID 24104924. PMC 3806353. http://www.nature.com/ncomms/2013/131008/ncomms3543/full/ncomms3543.html. 
  12. "Jewish Women's Genes Traced Mostly to Europe – Not Israel – Study Hits Claim Ashkenazi Jews Migrated From Holy Land". The Jewish Daily Forward. 12 October 2013. http://forward.com/articles/185399/jewish-womens-genes-traced-mostly-to-europe-not/#. 
  13. Shai Carmi, Ken Y. Hui, Ethan Kochav, Xinmin Liu, James Xue, Fillan Grady, Saurav Guha, Kinnari Upadhyay, Dan Ben-Avraham, Semanti Mukherjee, B. Monica Bowen, Tinu Thomas, Joseph Vijai, Marc Cruts, Guy Froyen, Diether Lambrechts, Stéphane Plaisance, Christine Van Broeckhoven, Philip Van Damme, Herwig Van Marck et al. (September 2014). "Sequencing an Ashkenazi reference panel supports population-targeted personal genomics and illuminates Jewish and European origins". Nature Communications 5. doi:10.1038/ncomms5835. http://www.nature.com/ncomms/2014/140909/ncomms5835/full/ncomms5835.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 September 2014. 
  14. Ashkenaz, based on سانچہ:Cite Josephus and his explanation of Genesis 10:3, is considered to be the progenitor of the ancient Gauls (the people of Gallia, meaning, from Austria, France and Belgium), and the ancient Franks (of, both, France and Germany). According to Gedaliah ibn Jechia the Spaniard, in the name of Sefer Yuchasin (see: Gedaliah ibn Jechia, Shalshelet Ha-Kabbalah, Jerusalem 1962, p. 219; p. 228 in PDF), the descendants of Ashkenaz had also originally settled in what was then called Bohemia, which today is the present-day Czech Republic. These places, according to the Jerusalem_Talmud (Megillah 1:9 [10a], were also called simply by the diocese "Germamia." Germania, Germani, Germanica have all been used to refer to the group of peoples comprising the German Tribes, which include such peoples as Goths, whether Ostrogoths or Visigoths, Vandals and Franks, Burgundians, Alans, Langobards, Angles, Saxons, Jutes, Suebi and Alamanni. The entire region east of the Rhine River was known by the Romans as "Germania" (Germany).
  15. بشپ ہیو گ مونٹےفیورے ، برطانوی پادری کا مضمون، ی چرچ ٹائمز ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ ، http://www.answering-christianity.com/14gog.htm
  16. The New Cambridge Medieval History: Volume 1, C.500-c.700 page 567

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:اشکنازی_یہودی" />

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:اسرائیل_کے_نسلی_گروہ" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:ریاستہائے_متحدہ_امریکہ_کے_نسلی_گروہ" />