اشین وراتھو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اشین
Ashin


وراتھو
Wirathu
ဝီရသူ
دیگر نام Win Khaing Oo
ذاتی
پیدائش 10 جولائی 1968ء

کیاوکسے، ماندالے، برما (اب میانمار)
مذہب بدھ مت
قومیت برمی
مدرسہ تھیرواد
دیگر نام Win Khaing Oo
پیشہ بھگشو
معبد ماسوئین خانقاہ، ماندالے

اشین وراتھو (10 جولائی 1968ء کو کیاوکسے، ماندالے علاقہ، برما میں پیدائش) ایک قوم پرست برمی بودھ بھکشو اور برما میں مسلم مخالف تحریک کا رہنما ہے۔ ۔[1] اس پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کر کے ان کے قتل پر اپنے ہم وطنوں کو اکسانے کے الزامات ہیں مگر وہ خود کو امن کا علمبردار کہتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اس نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی۔[2]

پس منظر[ترمیم]

وراتھو 1968ء میں ماندالے کے پاس پیدا ہوا۔ اس نے 14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ کر بھکشو بننے کا فیصلہ کیا۔ 2001ء میں اس نے 969 تحریک میں شمولیت اختیار کی۔[3] دو سال بعد 2003ء میں اسے اس کی تقریروں کی بنیاد پر 25 سال کی قید سنائی گئی[4] مگر 2012ء میں اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔[5] 2011ء میں حکومت کی متعارف کردہ اصلاحات کے بعد وراتھو سوشل میڈیا بالخصوص یوٹیوب پر بہت متحرک ہو گیا ہے۔[6]

سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

وراتھو نے ستمبر 2012ء میں بھکشوؤں کی ایک ریلی کی سربراہی کی تاکہ صدر تھین شین کی متنازع تجویز (روہنگیا مسلمانوں کو تیسرے ملک بھیج دیا جائے) کے حمایتی اکھٹا کر سکے۔[7] ایک ماہ بعد راکھائن ریاست میں تشدد پھوٹ پڑا۔[7] وراتھو کا کہنا تھا کہ رخائن کے پرتشدد واقعات دراصل برما کے دار الحکومت میکتلا میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے تھے۔ اس واقعے میں سنار کی دکان پر ہونے والی تکرار ڈکیتی اور آتش زنی میں بدل گئی تھی۔ اس کے بعد شہر بھر میں 14 افراد مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔[8][9] کم از کم دو لوگ بشمول ایک بودھ بھکشو اور ایک مسلمان، برمی عوام کے ہاتھوں 5 مارچ کو تشدد کا شکار ہوئے۔[10][11]

20 جون 2013ء کو وراتھو کی تصویر ٹائم میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی جس پر لکھا تھا: "بودھ دہشت گردی کا چہرہ۔[12] آپ محبت اور رحم دلی سے بھرپور ہونے کے باوجود پاگل کتے کے ساتھ نہیں سو سکتے۔ اگر ہم کمزور ہوئے تو ہماری سرزمین مسلمان ہو جائے گی"۔[2] وراتھو نے مسلمانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے محرکات میں ہمسایہ ریاستوں میں مسلمانوں کی جانب سے تشدد اور قبضہ کرنے اور انڈونیشیا میں اسلام پھیلنا تھے۔[13] اس نے یہ بھی بتایا کہ ٹائم میگزین کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ وہ خود کو "برمیز بن لادن" کہلاتا ہے۔[14] وراتھو کو انگلش ڈیفنس لیگ بہت پسند ہے اور اسی طرز پر وہ "عوام کے تحفظ" کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔[15]

تھین شین نے ٹائم پر قومی مفاہمت کے جاری عمل کے دوران میں میں مسلم مخالف تشدد کے حامی وراتھو پر الزام تراشی کر کے اسے نقصان پہنچانے پر تنقید کی۔ خود کو مہاتما بدھ کا بیٹا کہلانے والے صدر نے وراتھو کو شریف النفس اور امن کا علمبردار قرار دیا اور کہا: "ٹائم کا مضمون بدھ مت کے بارے میں غلط تاثرات پھیلا سکتا ہے جو ہزار سال سے موجود ہے اور برما کے شہریوں کی بڑی تعداد اس مذہب کے ماننے والی ہے۔ ۔[16] ٹائم میگزین وراتھو کے بارے میں غلط فہمی پھیلا رہا ہے اور اس کا نقطہ نظر نہ پیش کرنے کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ " اس نے کہا: "دنیا بھر کے میڈیا پر عرب دنیا قبضہ کر رہی ہے اور میں نے بھی یہ دیکھا ہے۔[16]" وراتھو نے حالیہ تشدد کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا۔ وراتھو نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کو مشرقِ وسطیٰ سے پیسے ملتے ہیں اور کہا: "مقامی مسلمان جاہل اور وحشی ہیں کیونکہ ان کی ڈوریاں انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہیں اور وہی ان کی معاشی، فوجی اور تکنیکی مدد کرتے ہیں۔"[17]

21 جولائی 2013ء کو وراتھو پر بم حملہ ہوا مگر اسے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ دھماکے سے پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے جن میں ایک نو آموز بھکشو بھی شامل تھا۔ وراتھو نے اس حملے کا الزام مسلمان انتہا پسندوں پر عائد کیا جو اس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینا چاہتے تھے۔[18][19][20]

اس نے بدھ اور مسلمانوں کے مابین شادی پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا[21] اور عوام سے کہا کہ وہ مسلمانوں کے کاروبار کا بھی مقاطعہ کریں۔[6]

تاہم بدھ مت کے تمام پیروکار اس کی باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ بدھ مت کے مندالے کے ایک وہار یعنی بڑے پگوڈا کے عالم اور رہنما نے کہا: "مہاتما بدھ کی تعلیمات کے برخلاف وراتھو نفرت کی طرف زیادہ مائل ہے۔ مہاتما بدھ کی تعلیم بتاتی ہے کہ نفرت بری چیز ہے اور ہر انسان برابر ہے۔ مہاتما بدھ نے انسانوں کو مذہبی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا۔"[7] ناقدین کے خیال میں وراتھو کی انتہا پسندی محض جہالت نہیں، اگرچہ اس کے نظریات سے مسلمانوں کے کامیاب کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔[7]

برما کے جمہوریت نواز کارکن نے وراتھو کی 969 تحریک کی مذمت کی ہے کہ اس سے نفرت پھیلتی ہے[7] اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر کارروائی کرے کیونکہ برما سب سے زیادہ یورپی امداد پانے والے ممالک میں سے ایک ہے۔[7]

ستمبر 2014ء میں وراتھو نے "عظیم سنگھ کانفرنس" میں شرکت کی جو کولمبو میں بودو بالا سینا کے زیرِ انتظام ہوئی۔ وراتھو نے 969 کے بارے کہا کہ وہ بودو بالا سینا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔[22]

جنوری 2015ء میں وراتھو نے اقوامِ متحدہ کی ایلچی یانگ ہی لی کو ‘فاحشہ‘ اور ‘طوائف‘ کہا۔[23][24]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.economist.com/blogs/prospero/2017/07/will-fight Two documentaries probe Myanmar’s religious strife
  2. ^ ا ب Thomas Fuller (20 جون 2013)۔ "Extremism Rises Among Myanmar Buddhists"۔ نیو یارک ٹائمز۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Alan Strathern (1 مئی 2013)۔ "Why are Buddhist monks attacking Muslims?"۔ BBC۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. Kate Hodal (28 اپریل 2013)۔ "Buddhist monk uses racism and rumours to spread hatred in Burma"۔ Guardian۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Nationalist Monk U Wirathu Denies Role in Anti-Muslim Unrest
  6. ^ ا ب Gianluca Mezzofiore (26 مارچ 2013)۔ "Fanatical Buddhist Monk Saydaw Wirathu Calling for Boycott of Myanmar Muslims"۔ International Business Times۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. ^ ا ب پ ت ٹ ث Kate Hodal (18 اپریل 2013)۔ "Buddhist monk uses racism and rumours to spread hatred in Burma – The Guardian"۔ The Guardian۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. Phyo Wai Lin, Jethro Mullen and Kocha Olarn (22 مارچ 2013)۔ "، muslims, clash with Rakhines in Myanmar"۔ CNN۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. "Inteview with Myanmar's President"۔ CNN۔ 24 مئی 2013۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "The Rohingya Saga"۔ Korean Press News۔ 21 جون 2013۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Horrifying Moment Burmese Buddhists Set Fire to Muslim Man in Riots Which Left 43 Dead – American Renaissance"۔ 22 اپریل 2013۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. Hannah Beech (1 جولائی 2013)۔ "The Face of Buddhist Terror"۔ Time Magazine۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "Militant Buddhist monks are stoking sectarian tensions in Myanmar"۔ دی اکنامسٹ۔ 10 اگست 2017۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2017۔
  14. Khin Khin Ei (21 جون 2103)۔ "Myanmar Monk Rejects Terrorist Label Following Communal Clashes"۔ Radio Free Asia۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  15. "Radical Buddhist monk accused of inciting riots that have killed hundreds of Muslims"۔ New York Post۔ 21 جون 2013۔
  16. ^ ا ب Hanna Hindstrom (26 جون 2013)۔ "Burma president backs anti-Muslim 'hate preacher' Wirathu"۔ Democratic Voice of Burma۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  17. Kate Hodal (18 اپریل 2013)۔ "Buddhist monk uses racism and rumours to spread hatred in Burma"۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  18. Shibani Mahtani and Myo Myo (22 جولائی 2013)۔ "Blast Near Monk Injures 5 in Myanmar"۔ Wall Street Journal۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  19. "Burma police: Explosion near Wirathu sermon in Mandalay wounds 5"۔ AP News۔ 22 جولائی 2013۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  20. Khin Maung Soe and Yadanar Oo (22 جولائی 2013)۔ "Myanmar's Nationalist Monk Claims Bombers Sought to 'Silence Him'"۔ Radio Free Asia۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  21. Shibani Mahtani (22 جولائی 2013)۔ "Myanmar Plan to Curb Interfaith Marriage Gains Support"۔ Wall Street Journal۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  22. "Ashin Wirathu Thera of Myanmar to work with BBS"۔ Daily Mirror (Sri Lanka)۔ 28 ستمبر 2014۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  23. Tim Hume (22 جنوری 2015)۔ "Top U.N. official slams Myanmar monk over 'whore' comments"۔ CNN۔
  24. "UN condemns Myanmar monk Wirathu's 'sexist' comments"۔ BBC Asia۔ 22 جنوری 2016۔

بیرونی روابط[ترمیم]