اصغر گونڈوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اصغر گونڈوی
اصغر گونڈوی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1884  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گورکھپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1936 (51–52 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
گونڈہ، اترپردیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

اصغر گونڈوی کا اصل نام اصغر حسین ہے۔ اصغر تخلص کرتے تھے۔ ان کے والد گورکھپور کے ضلع میں رہتے تھے لیکن ملازمت کے سلسلے میں مستقل طور پر گونڈہ میں مقیم ہوچکے تھے۔ اصغر گونڈوی کے والد منشی تفضل حسین گونڈہ میں بطور قانون دان کام کرتے رہے۔

اصغر گونڈوی کی ابتدائی تعلیم وتربیت گھر پر ہی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ طورپر کہیں تعلیم حاصل نہیں کی۔ کچھ عرصے کے لیے ایک انگریزی مدرسے میں انھوں نے وقت گزارا اور پڑھ کر چھوڑ دیا۔ انھیں فطری طورپر علم و ادب اور مطالعے کا خاصا شوق تھا۔ اس طرح انھوں نے اپنی ذاتی کوششوں اور مطالعے ہی کی بدولت اچھی خاصی استعدادِ علمی حاصل کرلی تھی۔ اصغر گونڈوی کے مطالعے نے ان کے اندر بڑی روشنی پیدا کر دی تھی، اس کے تحت انھوں نے شعرو شاعری بھی شروع کر دی تھی، لیکن باضابطہ طور پر وہ شعروشاعری اپنانے کے لیے اپنا کلام منشی جلیل اللہ وجد بلگرامی کو دکھانے لگے۔ آخر میں منشی امیراللہ تسلیم سے بھی انھوں نے اصلاح لینی شروع کر دی تھی۔ بہر صورت جب ان کی طبع میں توازن اور روانی پیدا ہو گئی تو اصلاح سے بے نیاز ہو گئے۔ اسی عہد میں انھوں نے ایک رسالے "ہندوستانی"کی ادارت بھی اختیار کرلی تھی، پھر وہ برسوں تک اس ادارت سے وابستہ رہے۔

اصغر گونڈوی بنیادی طور پر ایک شریف النفس، پاکیزہ مزاج اور آسودہ خاطر انسان تھے۔ نفاست پسندی کے وہ رسیٓا تھے۔ انھوں نے اپنی رسمی پاکیزگی کے باعث زہد و تقویٰ کی منزلوں کا مزہ بھی چکھ لیا تھا، لہٰذا وہ باقاعدہ طور پر شاہ عبد الغنی کے ہاتھ پر بیعت ہو کر بادۂ تصوف سے سرشار ہوتے رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]