اضافیتی پیمائشیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آئین سٹائین نے 1905 میں نظریہ اضافیت مخصوصہ (Special Relativity) پیش کیا تھا جو یہ بتاتا ہے کہ انتہائی تیز رفتاری سے، لیکن یکساں رفتار سے حرکت کرتے ہوئے مادے کا برتاو کیسا ہوتا ہے۔ [1]
دس سال بعد آئین سٹائین نے عمومی اضافیت (General Relativity) کا نظریہ پیش کیا جو یہ بتاتا ہے کہ کمیت توانائی (mass energy) کی موجودگی میں خلا وقت (space time) میں خم آ جاتا ہے جو کشش ثقل (gravity) کو جنم دیتا ہے۔ [2]

اضافیت کے اصولوں کے مطابق جب کوئی شے لگ بھگ روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے تو نیوٹن کی کلاسیکل طبیعیات کے قوانین ناکام ہو جاتے ہیں۔

Alt text
اگر ایک گولہ دائیں جانب سے روشنی سے بھی زیادہ رفتار سے آئے اور قریب سے گزر کر بائیں جانب چلا جائے تو اسکا آنا نظر نہیں آئے گا۔ لیکن جب وہ گزر کر جا رہا ہو گا تو اسکی دو شکلیں نظر آئینگی اور وہ دونوں ہی مخالف سمتوں میں دور جاتی ہوئی نظر آئینگی۔ یہ دونوں شکلیں آپس میں مشابہ نہیں ہونگی۔ آتے ہوئے گولے کا رنگ نیلا ہو گا اور جاتے ہوئے گولے کا لال۔

اضافیتی لمبائی[ترمیم]

جب کوئی شے لگ بھگ روشنی کی رفتار سے حرکت کرتی ہے تو اس رفتار کو اضافیتی (relativistic) رفتار کہا جاتا ہے۔ اگر ایک خلائی جہاز روشنی کی رفتار کے 99 فیصد کی رفتار سے (یعنی 0.99c سے ) ہمارے پاس سے گزرے تو اسے ہمارے پاس موجود سو سنٹی میٹر لمبی چھڑی محض 14 سنٹی میٹر لمبی دکھائی دے گی۔ آئین سٹائین کے مطابق اتنی زیادہ رفتار پر حرکت کی سمت میں لمبائی سکڑ جاتی ہے۔ ( روشنی کی رفتار 1.00c ہوتی ہے۔ )

ہمارے لحاظ سے روشنی کو اس ایک میٹر لمبی چھڑی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک فاصلہ طے کرنے میں 3.33x10−9 سیکنڈ لگتے ہیں۔ 0.99c کی رفتار سے گزرنے والے خلائی جہاز کے لیے یہ وقت 0.467x10−9 سیکنڈ ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے یہ چھڑی صرف 14 سنٹی میٹر کی ہے۔[3]

اگر دو ایسے خلائی جہاز جن میں سے ہر ایک کی رفتار روشنی کی رفتار کا 90% ہو، مخالف سمتوں سے آتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب سے گزر جائیں تو نیوٹن کی طبیعیات کے مطابق اب ان کے درمیان فاصلہ روشنی کی رفتار کے 180 فیصد کے حساب سے بڑھنا چاہیے یعنی روشنی کی رفتار سے بھی 80 فیصد زیادہ۔ لیکن آئین سٹائین کے مطابق کسی بھی چیز کی رفتار کبھی بھی روشنی کی رفتار سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ آئین سٹائین کے بتائے گئے فارمولوں کے مطابق ان خلائی جہازوں کی ایک دوسرے سے دور جانے کی رفتار 0.994c ہو گی نا کہ 1.8c۔

اضافیتی وقت[ترمیم]

بہت تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہوئے اجسام پر وقت آہستہ گزرتا ہے۔ اسے Time dilation کہتے ہیں۔
رجل القنطورس (Alpha Centauri) نامی دو ستارے دنیا سے 4.26 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں۔ اگر ایک خلائی جہاز 0.97c کی یکساں رفتار سے وہاں تک جائے تو دنیا والوں کے لیے وہ 4.39 سال میں وہاں پہنچ جائے گا۔ مگر اس خلائی جہاز میں موجود خلا نورد کے لیے یہ فاصلہ 1.07 سال میں طے ہو گا۔ اگر خلائی جہاز کی رفتار بڑھ کر 0.999c ہو جائے تو خلا نورد اپنی گھڑی کے لحاظ سے 0.19 سال میں وہاں پہنچ جائے گا جبکہ اس دوران دنیا میں 4.264 سال گزر چکے ہوں گے۔
اگر کوئی خلائی جہاز عین روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو اس میں موجود خلا نورد کے لیے وقت بالکل رک جاتا ہے لیکن اسے اس بات کا احساس نہیں ہوتا۔ اسے وقت کے رکنے کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ دنیا پر واپس آئے گا۔

فوٹون چونکہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اس لیے فوٹون پر وقت رک جاتا ہے۔

میون ایسے ایٹمی ذرات ہوتے ہیں جو الیکٹرون کے خاندان (لیپٹون) سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن الیکٹرون کے برعکس یہ ناپائیدار ہوتے ہیں اور ان کی نصف حیات محض 2.2 مائیکرو سیکنڈ ہوتی ہے۔ لیکن اگر ان کو ذراتی مسرع کی مدد سے نہایت تیز رفتار بنا دیا جائے تو ان کی عمر بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان پر اب وقت آہستہ گزرتا ہے۔ جب میون کی رفتار 0.994c ہوتی ہے تو ان کی نصف حیات لگ بھگ نو گنا زیادہ ہوتی ہے۔[4]

اضافیتی کمیت[ترمیم]

حرکت کرتے ہوئے اجسام کی کمیت بڑھ جاتی ہے۔ حرکت جتنی تیز ہو گی یہ اضافہ اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ رفتار جب تک روشنی کی رفتار کے نزدیک نہ پہنچے یہ اضافہ خاطر خواہ نہیں ہوتا۔
ایک پروٹون کی کمیت 1.6726x10−27 کلو گرام ہوتی ہے یعنی 1.00728 amu۔ اگر اسے توانائی کی اکائی میں ظاہر کیا جائے تو یہ 1.5x10−10 جول یا 938.256 میلین الیکٹرون وولٹ ہوتی ہے۔ لیکن جب پروٹون کو ذراتی مسرع میں 0.99c کی تیز رفتار تک پہنچا دیا جاتا ہے تو اس کی کمیت بڑھ کر 1.18x10−26 کلو گرام ہو جاتی ہے یعنی لگ بھگ سات گنا بڑھ جاتی ہے۔

کوسمک ریز میں ایسے ذرات بھی ہوتے ہیں جن کی توانائی 10x20 الیکٹرون وولٹ سے بھی زیادہ ہوتی ہے یعنی 16 جول سے بھی زیادہ۔ ایک سو گرام کی گیند جو 18 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہی ہو وہ بھی اتنی ہی توانائی رکھتی ہے جتنی کوسمک رے کا یہ واحد ذرہ۔ اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے یہ ذرہ پروٹون سے اربوں گنا زیادہ کمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔

خلاصہ[ترمیم]

  • اگر کوئی چیز روشنی کی 90 فیصد رفتار سے سفر کرتی ہے (یعنی 0.9c کی رفتار سے ) تو اس کی لمبائی لگ بھگ 2.3 گنا کم ہو جائے گی، کمیت 2.3 گنا بڑھ جائے گی اور اس پر وقت 2.3 گنا آہستہ گزرے گا۔
  • اگر کوئی چیز روشنی کی 99 فیصد رفتار سے سفر کرتی ہے (یعنی 0.99c کی رفتار سے ) تو اس کی لمبائی لگ بھگ 7 گنا کم ہو جائے گی، کمیت 7 گنا بڑھ جائے گی اور اس پر وقت 7 گنا آہستہ گزرے گا۔
  • اگر کوئی چیز روشنی کی 99.9 فیصد رفتار سے سفر کرتی ہے (یعنی 0.999c کی رفتار سے ) تو اس کی لمبائی لگ بھگ 22 گنا کم ہو جائے گی، کمیت 22 گنا بڑھ جائے گی اور اس پر وقت 22 گنا آہستہ گزرے گا۔
  • اگر کوئی چیز روشنی کی 99.99 فیصد رفتار سے سفر کرتی ہے (یعنی 0.9999c کی رفتار سے ) تو اس کی لمبائی لگ بھگ 70 گنا کم ہو جائے گی، کمیت 70 گنا بڑھ جائے گی اور اس پر وقت 70 گنا آہستہ گزرے گا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]