مندرجات کا رخ کریں

اظھار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اظھار لغوی معنی: اظہار کا مطلب ہے بیان کرنا، واضح کرنا۔ اصطلاحی معنی: تجوید میں اظہار اس بات کو کہتے ہیں کہ نونِ ساکن یا تنوین کو ادغام کے بغیر صاف اور کھلے انداز سے ادا کیا جائے۔ یعنی: نون کو اس کے اصل مخرج سے ادا کیا جائے، اس میں غنہ نمایاں نہ ہو، نہ وقف ہو، نہ سکوت اور نہ حرف پر کوئی تشدید ہو۔

اظہار کے حروف

[ترمیم]

اظہار کے چھ حروف ہیں جو اس شعری مصرعے کے ہر لفظ کے پہلے حرف میں جمع کیے گئے ہیں:

أخی هاك علماً
حازه غير خاسر

یعنی ان چھ حروف کو "حروفِ اظہار" کہا جاتا ہے: ( ا ، ھ ، ع ، ح ، غ ، خ )

چنانچہ:اگر نونِ ساکن یا تنوین کے بعد ان میں سے کوئی حرف آ جائے خواہ وہ ایک ہی لفظ کے اندر ہو یا دو مختلف الفاظ میں تو قاری پر واجب ہے کہ نون یا تنوین کو پوری وضاحت اور صفائی کے ساتھ ظاہر کرے، ادغام نہ کرے۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. الإظهار.. معناه.. وحروفه إسلام ويب مركز الفتوى. وصل لهذا المسار في 9 مارس 2017 آرکائیو شدہ 2017-03-09 بذریعہ وے بیک مشین