اعدائے محمد و آل محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اعدائے محمد و آل محمد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی بھی وقت نبی اکرم اور ان کی آل کی مخالفت، دل آزاری یا دشمنی کی ہو۔ سنی و شیعہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ ایسے اشخاص دشمن خدا شمار ہوتے ہیں۔

نبی پاک پر تنقید[ترمیم]

اسلام میں توہین رسالت قانون اور اس کا حکم، واضح اور دو ٹوک ہے۔

قریش[ترمیم]

بنى عبد المطلّب[ترمیم]

1 - ابو لہب: عبد عزی بن عبد المطلب نام تھا۔ کنیت ابو عتبہ تھی۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چچا اور دیوار بدیوار پڑوسی تھا، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکذیب میں ایک لمحہ بھی نہیں رکا۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے اہل خانہ) اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والا آدمی تھا۔ اس کی اور اس کی بیوی ام جمیل کی مذمت میں سورت لہب نازل ہوئی۔

قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اُس کی مذمت کی گئی ہے، حالانکہ مکہ میں بھی اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے اور اُس میں ابو لہب کے کردار کو دیکھا جائے۔

اس وقت چونکہ پورے ملکِ عرب میں ہر طرف بے امنی، غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور صدیوں سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اُس کے اپنے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطعِ رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپ کی مخالفت نہیں کی، بلکہ وہ کھلم کھلا آپ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اِن خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر کے اپنے آبائی دین سے منحرف ہو گئے ہو۔ وہ اِس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اُس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے اور اُن کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہل عرب، سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔

اس اخلاقی اصول کو، جسے زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے، صرف ایک شخص نے اسلام دشمنی میں توڑ ڈالا اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطلب۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چچا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد ماجد اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصاً جبکہ بھتیجے کا باپ وفات پا چکا ہو تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں ان تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔

ابن عباس سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوتِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا "یا صباحاہ" (ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر محلہ کرنے کے لیے آتے دیکھ کر لیتا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندان کے لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آ سکتا تھا وہ خود آیا اور جو نہ آ سکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانوں گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے۔ اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا "تبا لک الھٰذا جمعتنا؟" (ستیاناس جائے تیرا، کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟" ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کھینچ مارے۔[1]

ابن زید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا "تبا لھٰذا الدین تبا ان اکون وھٰؤلاء سوآءً" (ناس جائے اِس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں) [2]

مکہ میں ابو لہب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ)، عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراء اور ابن الصداء الہذلی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے "اے بنی عبد مناف، یہ کیسی ہمسایگی ہے؟ ابو لہب کی بیوی ام جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپ کے گھر کے دروازے پر خار دار جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی، تاکہ صبح سویرے جب آپ یا آپ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چبھ جائے۔[3]

نبوت سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ اظہار نبوت کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضور کے سامنے آ کر اس نے کہا میں "النجم اذا ھوٰی" اور "الذی دنا فتدلی" کا انکار کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف تھوکا جو آپ پر نہیں پڑا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خدایا، اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے۔ اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دورانِ سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بد دعا کا خوف ہے۔ اس قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گذر کے اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔[4] روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اظہار نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ تبت یدا ابی لھب کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کر کے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا۔

اُس ابو لہب کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے قاسم بن محمد کے بعد دوسرے صاحبزادے عبد اللہ بن محمد کا بھی انتقال ہو گیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کی بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بے نام و نشان ہو گئے۔[5] محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، یہ آپ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عباد الدیلی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کہہ رہے تھے "لوگو، کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فلاح پاؤ گے" اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ "یہ جھوٹا ہے، دینِ آبائی سے پھر گیا ہے"۔ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔[6]

دوسری روایت انہی ربیعہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا؛ آپ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں "اے بنی فلاں! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔" آپ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ "اے بنی فلاں، یہ تم کو لات و عزیٰ سے پھیر کر اُس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہر گز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو" میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔[7]

طارق بن عبد اللہ محاربی کی روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذو المجاز کے بازار میں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ "لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے" اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپ کو پتھر مار رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں اور وہ کہتا جاتا ہے کہ "یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو" میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔[8]

نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا یہی ابو لہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کی بجائے کفار قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب پر فاقوں کی نوبت آ گئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اِن سے اِتنی قیمت مانگوں کہ یہ خرید نہ سکیں، تمہیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابو لہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا۔[9]

2 - عتبہ بن ابو لہب

3 - عتیبہ بن ابو لہب: نبوت سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ اظہار نبوت کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضور کے سامنے آ کر اس نے کہا میں "النجم اذا ھوٰی" اور "الذی دنا فتدلی" کا انکار کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف تھوکا جو آپ پر نہیں پڑا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خدایا، اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے۔ اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دورانِ سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بد دعا کا خوف ہے۔ اس قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گذر کے اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔[10] روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اظہار نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ تبت یدا ابی لھب کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کر کے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا۔

4 - ابو سفیان بن حارث: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چچا زاد اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رضاعی بھائی تھا۔ 20 سال مکمل دشمنی کرتا رہا۔

بنى عبد شمس بن عبد مناف[ترمیم]

1 - عتبہ بن ربیعہ،

2 - شیبہ بن ربیعہ (برادر عتبہ)،

3 - عقبہ بن ابى معیط: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سخت ترین دشمنوں میں سے ایک تھا اور آپ کے مخالفین میں سب سے زیادہ نفرت کرنے والا تھا۔

وہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا اور انہیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔

اس کی عادت تھی جب سفر سے واپس آتا تو مکہ کے لوگوں کی دعوت کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی دعوت دیتا تو اس دفعہ بھی دعوت دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تک تم اسلام قبول نہیں کرو گے میں تیری دعوت پر نہیں آؤں گا تو ناچار اس نے کلمہ پڑھ لیا تو خلف نے طعنہ دیا کہ تم اپنے آباء کے طریقے سے مرتد ہو گئے ہو اور جب تک جا کر شان رسالت میں گستاخی نہیں کرو گے میں تم سے بات نہیں کروں گا۔ تو وہ آ کر گستاخیاں شروع ہو حتی کہ آپ کے رخ انور پر لعاب پھینک دیا جو الله کے حکم سے انگارے میں بدل گیا اور خود اسی منہ کو جلا دیا۔ حضرت علی شیر خدا نے اس کی گردن اڑا دی تھی۔

4 - ابو سفیان بن حرب: یہ معاویہ کا باپ تھا، ظہور اسلام کے وقت اس کی سب سے زیادہ مخالفت ان ہی لوگوں کی جانب سے عمل میں آئی جو قریش کے سب سے با اثر رئیس تھے اور جن کا اثر و اقتدار نسلاً بعد نسل چلا آتا تھا، ابو سفیان بھی رؤسائے قریش میں سے تھا اور بنی ہاشم کا دشمن تھا، اس لئے اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلام کے ساتھ انہیں دوہری مخالفت تھی؛ چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایذا رسانی، مسلمانوں کی مخالفت اور اسلام کے استیصال میں سب سے پیش پیش رہتا تھا اسلام کے مٹانے میں اس نے اپنی پوری قوتیں صرف کر دیں، آغاز دعوتِ اسلام سے لیکر فتح مکہ تک اسلام کی مخالفت اور اس کی بیخ کنی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا دعوتِ اسلام کے آغاز میں قریش کا جو وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اس کا ایک رکن ابو سفیان بھی تھا۔[11]

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کرنے کی جو سازش ہوئی تھی، جس کے سبب سے آپ نے ہجرت فرمائی تھی، اس میں بھی ابو سفیان کا ہاتھ شامل تھا، کفر و اسلام کا سب سے پہلا مقابلہ بدر میں ہوا، اس میں ابو سفیان نہ شریک ہو سکا، اس وقت وہ کاروان تجارت لیکر گیا ہوا تھا۔

بدر میں بڑے بڑے معززین قریش مارے گئے تھے، اس لیے سارا قریش جذبۂ انتقام میں دیوانہ ہورہا تھا، ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ مارے جاچکے تھے، ان کے بعد قریش کی مسند ریاست پر ابو سفیان بیٹھا اس لیے بحیثیت سردار، مقتولین بدر کا انتقام اپنا پہلا فرض سمجھتا تھا، اس کے علاوہ خود اس کا ایک لڑکا حنظلہ بھی جہنم واصل ہوا تھا، اس لیے یہ انتقام اور زیادہ مؤکد ہو گیا تھا اور اس نے حلف لے لیا تھا کہ جب تک محمد سے بدر کا انتقام نہ لے لے، اس وقت تک عورتوں کو نہ چھوئے گا، اس حلف کے بعد دو سو سواروں کا دستہ لیکر مدینہ پہنچا یہاں کے یہودی مسلمانوں کے خلاف تھے، اس لیے ابو سفیان ایک یہودی رئیس حی بن اخطب کے پاس گیا، رات کا وقت تھا، گھروں کے دروازے بند ہوچکے تھے، ابو سفیان نے حی کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر اس نے دشمن کے خوف سے نہ کھولا، اس لیے ابو سفیان اس کے دروازہ سے لوٹ آیا اور ایک دوسرے ممتاز یہودی اور بنی نضیر کے سردار اور خزانچی سلام بن مشکم کے پاس پہنچا، اس نے نہایت پر تپاک استقبال کیا اور بڑی خاطر و تواضع کی، کھانا کھلایا، شراب پلائی، اور ابو سفیان کی مہم کے متعلق بہت سی راز کی باتیں بتائیں، صبح کو ابو سفیان نے مدینہ کے قریب عریض پر حملہ کر کے کھجور کے باغوں کی ٹٹیاں جلا ڈالیں اور ایک انصاری مسلمان اور ان کے حلیف کو قتل کر کے لوٹ آیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی، تو آپ نے تعاقب کیا، قرقرۃ الکد میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ابو سفیان بہت آگے نکل چکا ہے، اس لیے واپس تشریف لے آئے۔[12] اس واقعہ سے ایک حد تک ابو سفیان کی قسم پوری ہو گئی، لیکن ابھی مقتولین بدر کا انتقام باقی تھا، اور جن جن لوگوں کے اعزا و اقربا مارے گئے تھے وہ انتقام کے لئے بےچین تھے، چنانچہ ابو جہل کا لڑکا عکرمہ، عبد اللہ بن ربیعہ، صفوان بن امیہ، اور آتش انتقام میں پاگل دیگر لوگ، ابو سفیان کے پاس پہنچے اور کہا آپ لوگ اپنے کارواں تجارت (یہ وہی کارواں تجارت ہے، جو بدر کے زمانہ میں سامانِ تجارت لے کر گیا تھا) کا نفع ہم کو دے دو کہ اس کے ذریعہ ہم لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابلہ کا سامان کریں، ابو سفیان نے کہا میں اپنا حصہ سب سے پہلے دیتا ہوں اس کے علاوہ قریشی خاندان کے ہر ممبر نے دل کھول کر چندہ دیا۔ [13]

غرض قریش تیاریاں کر کے بڑے جوش و خروش سے مسلمانوں کے استیصال کے لیے نکلے اور مدینہ کے پاس کوہ احد پر فوجیں اتاریں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات سو جان نثاروں کی مختصر جماعت لیکر مدافعت کے لیے تشریف لے گئے، احد پر دونوں کا مقابلہ ہوا، مسلمانوں کی جانفروشی نے کفر کے ٹڈی دل کو پسپا کر دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صف بندی کے وقت مسلمانوں کا ایک دستہ پشت پر حفاظت کے لیے متعین کر دیا تھا کہ مخالفین عقب سے حملہ آور نہ ہوسکیں، مشرکین کی پسپائی کو دیکھ کراس دستہ نے مالِ غنیمت کی طمع میں اپنا مرکز چھوڑ دیا، خالد بن ولید مشرکین کے دستے کو لیے ہوئے منڈلا رہا تھا، اس نے میدان خالی پاکر عقب سے حملہ کر دیا، مسلمان اس ناگہانی حملہ کی تاب نہ لا سکے اور بہت بری طرح پیچھے ہٹے، بہت سے مسلمان اس پسپائی میں شہید ہو گئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرۂ انور زخمی اور دندانِ مبارک شہید ہوئے، آپ کے پاس چند جان نثاروں کے علاوہ کوئی باقی نہ رہ گیا تھا، ہر شخص اپنی جگہ بد حواس ہو رہا تھا، اس لیے آپ کی شہادت کی خبر اُڑ گئی۔

ابو سفیان یہ خبر سنکر فرطِ مسرت سے پہاڑ پر چڑھ گیا، اور فاتحانہ غرور میں باآواز بلند پوچھا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں! آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو منع کر دیا کہ جواب نہ دیا جائے، جب ابو سفیان کے سوال کا کوئی جواب نہ ملا، تو سمجھا نصیب دشمنان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کام تمام ہو گیا، دوسری آواز دی، ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر) ہیں اس سوال پر بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا، تیسری مرتبہ اس نے حضرت عمر کو پکارا، اس مرتبہ بھی جواب نہ ملا، یہ خاموشی دیکھ کر وہ سمجھا کہ سب ختم ہو گئے، حضرت عمر سے ضبط نہ ہو سکا، آپ پکارا ٹھے، او دشمنِ خدا تیرے رسوا کرنے والوں کو خدا نے زندہ رکھا ہے، یہ سن کر اس نے ہبل کی جے پکارا "اعل ہبل" ہبل بلند رہ ’ صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے جواب میں کہا " اللہ اعلیٰ واجل " خدا برتر اور بڑا ہے، یہ جواب سن کر ابو سفیان بولا، لنا عزی ولا عزی لکم ’ ہمارے پاس ہمارا معبود عزیٰ ہے اور تمہارے پاس نہیں ہے، صحابہ نے جواب دیا "اللہ مولنا ولا مولی لکم " خدا ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی نہیں ہے۔ ابو سفیان کامیابی کے نشہ میں مخمور تھا، بولا آج کا دن بدر کا جواب ہے، لوگوں نے بغیر میرے حکم کے مسلمان لاشوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے ہیں، لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس بھی نہیں ہے، بروایت ابن اسحق حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا ہمارے شہداء جنت میں ہیں اور تیرے مقتولین جہنم میں، ابو سفیان نے حضرت عمر کی آواز سنی تو پاس بلا کر پوچھا سچ سچ بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کام تمام ہو گیا یا زندہ ہیں؟ آپ نے فرمایا خدا کی قسم زندہ ہیں اور تمہاری گفتگو سن رہے ہیں، یہ سن کر ابو سفیان نے کہا ابن قمہ نے کہا تھا کہ میں نے محمد کا کام تمام کر دیا لیکن میں تم کو اس سے زیادہ سچا سمجھتا ہوں۔

اختتامِ جنگ کے بعد آنحضرتﷺ نے احتیاطا ًقریش کے تعاقب میں ستر آدمی بھیجے تاکہ وہ دوبارہ نہ لوٹ سکیں، دوسرے دن خود بہ نفس نفیس مقام حمرا اسد تک تعاقب میں تشریف لے گئے، آپ کا خطرہ صحیح تھا، ابو سفیان یہ خیال کرکے کہ ابھی مسلمانوں کا پورا استیصال نہیں ہوا ہے، بمقام روحار سے دوبارہ واپسی کا قصد کررہا تھا، کہ اس دوران میں قبیلہ خزاعہ کے رئیس معبد سے جو مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر تصدیق کے لیے آیا تھا اوراب واپس جارہا تھا، ملاقات ہوئی، اس سے ابو سفیان نے اپنا خیال ظاہر کیا، اس نے کہا میں ابھی اپنی آنکھوں سے دیکھتا چلا آرہا ہوں، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سر وسامان کے ساتھ آ رہے ہیں کہ ان کا مقابلہ سخت دشوار ہے، یہ خبر سن کر ابو سفیان نے ارادہ بدل دیا۔

احد کے بعد یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف تحریک شروع کی ابو سفیان اس میں بھی پورے طور سے معاون ومدد گار تھے، 5ھ میں جب تمام عرب قبائل نے مسلمانوں کے استیصال کے لیے مدینہ پر ہجوم کیا تو قریش بھی ابو سفیان کی قیادت میں جمع ہوئے، لیکن یہ طوفان ہوا کی طرح اڑ گیا، یہی متحدہ اجتماع جنگِ خندق کے نام سے مشہور ہے۔ 6ھ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرب وجوار کے تمام امرا اور فرمان رواؤں کے نام دعوتِ اسلام کے خطوط بھیجے، تو ایک خط ہرقل کے نام بھی بھیجا وہ صحیح عیسوی مذہب کا پیرو اور حق کا متلاشی تھا، اس لیے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات معلوم کرنے چاہے، اتفاق سے اس وقت قریش کا کاروانِ تجارت شام آیا ہوا تھا، اس میں ابو سفیان بھی تھا، ہرقل نے ا ٓنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات دریافت کرنے کے لیے اس قافلہ کو ایلیا طلب کیا اور تمام ارکان سلطنت کے روبرو مترجم کے ذریعہ سے سوالات شروع کیے، سب سے پہلے پوچھا تم میں کون اس شخص سے جو اپنے کو نبی سمجھتا ہے، زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہے، ابو سفیان نے اپنے کو پیش کیا کہ میں اس کا قریب تر عزیز ہوں، ہرقل نے اسے قریب بلایا اور دوسرے قریشیوں سے کہا میں اس سے، اُس شخص (آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے متعلق سوالات کروں گا، جہاں وہ غلط جواب دے تم لوگ فوراً ٹوک دینا، ابو سفیان کا بیان ہے کہ اگر اس وقت مجھ کو اپنے ہمراہیوں کی تردید کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں جھوٹ بول دیتا، اس اہتمام کے ساتھ سوالات وجوابات شروع ہوئے۔ ہرقل: قریش میں اس شخص کا نسب کیسا ہے؟ ابو سفیان: قریش کا عالی نسب آدمی ہے ؟ ہرقل: اس سے پہلے تم میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ابو سفیان: نہیں ہرقل: شرفاء ومعززین اس کے پیرو ہیں یا کمزور وناتوان؟ ابو سفیان: ناتوان و کمزور ہرقل: ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے یا گھٹتی ہے۔ ابو سفیان: بڑھتی جاتی ہے۔ ہرقل: کوئی شخص اس مذہب کو قبول کرنے کے بعد اس سے بیزار ہوکر مرتد بھی ہوتا ہے؟ ابو سفیان: نہیں ہرقل: کبھی اس نے دھوکا اور فریب دیا ہے۔ ابو سفیان: نہیں البتہ اس دوران میں حال معلوم نہیں، (ابو سفیان کا بیان ہے کہ اس سوال کے علاوہ اور کسی میں مجھے اپنی طرف سے ملانے کا موقع نہیں ملا) ہرقل: اس شخص سے اور تم لوگوں سے کبھی کوئی جنگ بھی ہوئی ہے۔ ابو سفیان: ہاں ہرقل: اس کا کیا نتیجہ رہا ابوسفیان: کبھی ہم غالب رہے اور کبھی وہ ہرقل: وہ تم کو کسی چیز کا حکم دیتا ہے۔ ابو سفیان: وہ کہتا ہے، تنہا خدائے واحد کی عبادت کرو، اس میں کسی کو شریک نہ کرو اور اپنے اٰبا و اجداد کے مذہب کو چھوڑ دو، نماز پڑھو، خیرات کرو، صلہ رحمی کرو، پاک دامن رہو۔ اس گفتگو کے بعد ہرقل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت کا پورا یقین ہو گیا اور اس نے بطارقہ کے سامنے علی الاعلان آپ کی رسالت کا اعتراف کیا۔[14] بنی خزاعہ اور بنی بکر کے قبائل مدتوں سے حریف چلے آ رہے تھے، لیکن اسلام کے مقابلہ میں دونوں متحد ہو گئے تھے، صلح حدیبیہ کے زمانہ میں بنی خزاعہ مسلمانوں کے اور بنی بکر قریش کے حلیف ہو گئے تھے۔ ایک قتل کے جھگڑے میں قریش نے معاہدہ توڑنے کی غلطی کر دی اور جب پچھتاوا ہوا تو بگڑی سنوارنے ابو سفیان ہی نبی اکرم کی بارگاہ آ کر منت سماجت کرتا رہا تھا۔

ابو سفیان نے بہت زیادہ دشمنی کی مگر آخر میں مسلمان ہو گیا تھا۔

5 - حكم بن ابو عاص: یہ مروان بن حکم کا باپ تھا۔

6 - معاویہ بن مغیرہ: عثمان کا چچا زاد تھا۔ مسلمانوں کی جاسوسی کرتا تھا۔ غزوہ احد میں جب واپس بھاگ نہ سکا تو عثمان کے گھر جا چھپا۔ صحابہ نے ڈھونڈ نکالا تو عثمان نے کہا میں نبی اکرم سے امان مانگنے ہی آیا ہوں۔ تین دن کی امان عطا ہوئی۔ مگر چوتھے دن بھی جاسوسی کرتا رہا تو نبی اکرم نے تلاش کا حکم دیا تو زید بن حارثہ اور عمار بن یاسر نے تلاش کر کے مار دیا۔

بنى عبد الدّار بن قصىّ[ترمیم]

1- نضر بن حارث بن علقمہ۔

بنى عبد العزّى بن قصىّ[ترمیم]

1 - اسود بن مطّلب، 2 - زمعہ بن اسود، 3 - ابو بخترى.

بنى زہره بن كلاب[ترمیم]

1 - اسود بن عبد يغوث: رسول خدا کا خالہ زاد تھا. طعنہ زنی کرنے والوں میں سے تھا، اور اگر اس کو کوئی غریب بے چارہ اور بے سہارا مسلمان، جو کسی کی حمایت میں نہ ہوتا، نظر آتا تو اس کو طنزیہ انداز میں کہتا: یہ زمین کے بادشاہ ہیں جو خسرو کی بادشاہت کے وارث ہیں!!.

اس کو موت نے، اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی مہلت نہیں دی کہ کس طرح مسلمانوں نے خسرو اور قیصر کی سرزمین کو حاصل کیا تھا اور اپنے قدموں سے ان تخت کو روندا تھا۔

بنى مخزوم بن یقظہ بن مرّہ[ترمیم]

1 - ابو جہل، ابو الحکم بن ہشام: مسلمانوں نے اسلام کے خلاف اس کی ضد اور جاہلانہ جنون کی وجہ سے اس کا لقب ابوجہل قرار دے دیا اور وہ بدر میں مارا گیا تھا۔

2 - عاص بن ہشام (برادر ابو جہل)،

3 - ولید بن مغیرہ بن عبد اللہ: قریش کا شیخ اور دانشمند آدمی، جو بے پناہ دولت کا مالک تھا۔

4 - ابو قیس بن ولید،

5 - ابو قیس بن فاكہ بن مغيرہ،

6 - زہیر بن ابى اميّہ: (رسول خدا کا پھوپھی زاد)، 7 - اسود بن عبد الاسد، 8 - صیفى بن سائب.

بنى سہم بن ہصیص بن كعب بن لؤىّ[ترمیم]

1 - عاص بن وائل: عمرو بن عاص کا باپ تھا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو طعنہ مارتے ہوئے ابتر (بے اولاد اور دم کٹا) کہا تھا اور سورہ کوثر اس ملعون کے رد میں نازل ہوئی۔

2 - حارث بن عدى، 3 - منبّہ بن حجّاج، 4 - نبيہ (برادر حجّاج).

بنى جمح بن ہصیص[ترمیم]

1 - امیہ بن خلف، بدر میں مارا گیا۔

2 - ابىّ بن خلف (برادر اميّہ): یہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بڑی ہڈی لے کر چلا گیا، تو اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینکا اور کہا: آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کا رب اسے اس کے بعد زندہ کرتا ہے جو آپ دیکھتے ہیں (یا اس کے سوکھ جانے کے بعد)؟ پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: {کہہ دو کہ جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا وہی اسے زندہ کرے گا اور وہ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے} [یٰس:79]۔

بدر میں ابی اور امیہ دونوں مارے گئے۔

3 - انیس بن معیر ، 4 - حارث بن طلاطلہ ، 5 - عدى بن حمراء ابن اصدى ہذلى، 6 - طعیمہ بن عدى، 7 - حارث بن عامر، 8 - زكانہ بن عبد ہبیرہ بن ابى وہب، 9 - اخنس بن شریق ثقفى۔

غیر قریش[ترمیم]

1- عبد اللہ بن ابی: یہ منافق تھا۔

2- ابو عفک: اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بولتا تھا جب نبی اکرم کی شان میں گستاخی کی تو سالم بن عمیر نے سریہ سالم بن عمیر میں اس کو قتل کر دیا۔

3- سلام بن حقیق: اس کا نام عبد اللہ بن ابی حقیق بھی نقل ہوا ہے۔ کنیت ابو رافع تھی۔ اسلام کا زبردست دشمن اور بارگاہ نبوت کی شان میں نہایت ہی بدترین گستاخ اور بے ادب تھا۔ یہ وہی شخص ہے جو حیی بن اخطب یہودی (نبی اکرم کے سسر) کے ساتھ مکہ گیا اور کفار قریش اور دوسرے قبائل کو جوش دلا کر غزوهٔ خندق میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے دس ہزار کی فوج لے کر آیا تھا اور ابوسفیان کو اُبھار کر اسی نے اس فوج کا سپہ سالار بنایا تھا۔

قبیلۂ خزرج کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ اب رسول اللہ ﷺ کا دشمن ابو رافع ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہے کہ اس کو قتل کر ڈالیں تاکہ دشمن رسول کو قتل کرنے کا اجر و ثواب حاصل کر لیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن عتیک و عبد اللہ بن انیس و ابو قتادہ و حارث بن ربعی و مسعود بن سنان و خزاعی بن اسود اس کے لیے مستعد اور تیار ہوئے۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور ﷺ نے اجازت دے دی اور سریہ عبد اللہ بن عتیک کا سربراہ، عبداللہ بن عتیک کو مقرر فرمایا اور ان لوگوں کو منع کر دیا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔[15] اور عبد اللہ بن عتیک نے اس کو اس کے قلعہ نما گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔

4- کعب بن اشرف: اس کو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ جنگ ِ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل ہو جانے سے اس کو انتہائی رنج و صدمہ ہوا۔ چنانچہ یہ قریش کی تعزیت کے لیے مکہ گیا اور کفارِ قریش کا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ایسا پر درد مرثیہ لکھا کہ جس کو سن کر سامعین کے مجمع میں ماتم برپا ہو جاتا تھا۔ اس مرثیہ کو یہ شخص قریش کو سنا سنا کر خود بھی زار زار روتا تھا اور سامعین کو بھی رلاتا تھا۔ مکہ میں ابو سفیان سے ملا اور اس کو مسلمانوں سے جنگ ِ بدر کا بدلہ لینے پر ابھارا بلکہ ابو سفیان کو لے کر حرم میں آیا اور کفار مکہ کے ساتھ خود بھی کعبہ کا غلاف پکڑ کر عہد کیا کہ مسلمانوں سے بدر کا ضرور انتقام لیں گے پھر مکہ سے مدینہ لوٹ کر آیا تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی ہجو لکھ کر شان اقدس میں طرح طرح کی گستاخیاں اور بے ادبیاں کرنے لگے، اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ کو چپکے سے قتل کرا دینے کا قصد کیا اور منصوبہ بنایا۔

کعب بن اشرف کے یہ کام معاہدہ کی خلاف ورزی تھے جو یہود اور انصار کے درمیان میں ہو چکا تھا کہ مسلمانوں اور کفارِ قریش کی لڑائی میں یہودی غیر جانبدار رہیں گے۔ بہت دنوں تک مسلمان برداشت کرتے رہے مگر جب پیغمبرِ اسلام صلی ﷲ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی مقدس جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو محمد بن مسلمہ نے ابو نائلہ و عباد بن بشر و حارث بن اوس اور ابو عبس کو ساتھ لیا اور رات میں کعب بن اشرف کے مکان پر گئے اور ربیع الاول کو اس کے قلعہ کے پھاٹک پر اس کو قتل کر دیا۔[16]

5- کعب بن اسد قرظی

6- دعثور بن حارث غطفانی یا غورث بن حارث یا ابن اسحاق کے بقول عمرو بن جحاش، ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں ہوا جب اس اعرابی (دعثور بن حارث) نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر تلوار سونت لی تھی اور کہا تھا : اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟

  • بخاری میں ہے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے لوگوں کو بلایا وہ جمع ہوئے جب کہ وہ شخص نبی مکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پاس بیٹھا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اسے کوئی سزا نہ دی،
  • واقدی اور ابن ابی حاتم نے ذکر کیا ہے کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا، ایک قوم نے ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنا سر درخت کے تنے پر مارا حتی کہ مر گیا،
  • بخاری نے غزوہ ذات الرقاع میں اس کا نام غورث بن حارث ذکر کیا ہے ابو حاتم محمد بن ادریس رازی، ابو عبد اللہ محمد بن عمر واقدی نے ذکر کیا ہے کہ اس کا نام دعثور بن حارث تھا اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا،
  • محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ اس شخص کا نام عمرو بن جحاش تھا یہ بنی نضیر سے تھا بعض نے ذکر کیا ہے کہ عمرو بن جحاش کا واقعہ اس واقعہ کے علاوہ ہے۔[17]

7- اسود عنسی

8- طلیحہ بن خویلد بعد میں توبہ کر کے پھر مسلمان ہو گئے۔

9- سجاع

10- مسیلمہ کذاب

11- ابو عزہ جُمَحِی عمرو بن عبد اللہ، شاعر جاہلی تھا۔ ھجو کرتا تھا۔ نبی اکرم نے ایک دفعہ جنگ بدر میں قیدی بننے کے بعد معافی مانگنے اور خود کو غریب اور بیٹیوں والا کہنے پر اس کی جان بخشی کی۔ مگر وعدہ خلافی کر کے پھر دشمنی کی۔ اور ھجو کی اور جنگ احد لڑنے آیا اور قید ہوا گڑگڑایا تو اس بار معافی نہ ملی اور حکم ہوا تو عاصم بن ثابت نے گردن اڑا دی۔

12۔ حویرث بن نقید،

13۔ مقیس بن صبابہ،

14۔

عورتیں[ترمیم]

  • عصماء بنت مروان خطمیہ جو بنو امیہ میں سے تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت پہنچائی اور ہجو کیا۔[18]

[19] یہودی شاعرہ تھی۔[20] اس کے شوہر مرثد بن زید بن حصن انصاری تھے۔ خاندان بنو امیہ سے تعلق تھا اور مدینہ منورہ میں رہا کرتی تھی۔ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف ہجوگوئی اور بدزبانی کی پاداش میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے کزن عمیر بن عدی خطمی جو نابینا تھے کو اجازت دی انہوں نے سریہ عمیر بن عدی میں اس عورت کو قتل کر دیا۔[21] ابن اسحاق، ابن سعد اور ابن عساکر نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔

انجام[ترمیم]

ان دشمنان نبی میں سے بہت سے ملعون جنگ بدر اور دیگر مواقع پر مارے گئے اور کچھ مسلمان ہو گئے۔

صحابہ میں سے دشمنان اسلام[ترمیم]

قرآن کریم نے اصحاب رسول کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا ہے، اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے کوئی بدری ہو یا غیر بدری، حدیبیہ سے پہلے ایمان لایا ہو یا حدیبیہ کے بعد، فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کے درمیان آیا ہو یا فتح مکہ کے بعد۔ لہذا ان گروہوں کے اصلی چہروں کو قرآن کریم نے اس طرح ذکر کیا ہے:

1۔ مشہور منافقین (سورہ منافقون، آیت 1)۔

2۔ دھوکہ باز اور چالاک منافق (سورہ توبہ، آیت101)۔

3۔ دلوں کے مریض (سورہ احزاب، آیت 12)۔

4۔ فتنہ پھیلانے والے اور دشمنوں کی باتیں سننے والے (سورہ توبہ، آیت 45 ۔ 47)۔

5۔ اچھے اور برے اعمال انجام دینے والے (سورہ توبہ، آیت 102)۔

6۔ مرتد افراد (سورہ آل عمران، آیت 154)۔

7۔ مومنین کے علاوہ تسیلم شدہ افراد (سورہ حجرات، آیت 14)۔

8۔ مؤلفۃ القلوب (سورہ توبہ، آیت 60)۔

9۔ فاسق (سورہ حجرات، آیت 6)۔

10۔ جنگ کے وقت کفار کو پشت دیکھا کر بھاگنے والے (سورہ انفال، آیت 15۔ 16)۔


اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ان دس گروہوں کو عادل و باتقوی شمار نہیں کیا جا سکتا، عادل اور متقین کی تعریف کرنے والی آیات بھی ان کو شامل نہیں ہیں ورنہ آیات کے مفہوم میں تناقض لازم آے گا۔

قرآن کریم نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی رحلت کے بعد ایک گروہ کے مرتد ہونے کی خبر دی ہے: ”وَ ما مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اٴَ فَإِنْ ماتَ اٴَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اٴَعْقابِکُمْ وَ مَنْ یَنْقَلِبْ عَلی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللَّہَ شَیْئاً وَ سَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرینَ“ اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤ گے جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گزاروں کو ان کی جزا دے گا۔

اگرچہ آیت کا لہجہ ایک شرط کو بیان کر رہا ہے (اگر پیغمبر اکرم مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے؟) اور قضیہ شرطیہ اس کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن آیت کا مضمون اس کو بیان کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے اصحاب کے درمیان اس آیت کے نزول کے وقت یعنی ہجرت کے تیسرے سال، جنگ احد میں کچھ ایسے افراد موجود تھے جن کی رفتار و گفتار اور اعمال و کردار اس بات کی نشان دہی کرتے تھے کہ ممکن ہے وہ رسول اسلام کی رحلت کے بعد، مرتد ہو جائیں، لہذا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ تمام اصحاب رسول یہاں تک کہ جنگ احد میں شرکت کرنے والوں کو برابر مان لیں؟ چہ جائیکہ وہ لوگ جو جنگ احد کے بعد ایمان لائے یا اس کے بھی بہت بعد ایمان لائے!۔

اگر ان آیات کو مومنین کی مدح کرنے والی آیات کے ساتھ ملا دیں تو مفسر ایک واضح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعض اصحاب صالح تھے اور بعض غیر صالح۔ بعض ایسے بلند مرتبہ تھے جن کی برکت سے بارش نازل ہوتی تھی، اور بعض ایسا ایمان رکھتے تھے کہ جو کسی کام کا نہیں تھا۔[22]

منافق صحابہ[ترمیم]

  • ذو الخویصرہ تمیمی اس نے سب کے سامنے نبی اکرم کو بے انصاف یعنی غیر عادل کہا تھا۔ تو اس کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی۔

وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ يَسْخَطُوْنَ[23]
(اے پیغمبر) ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں تم پر (بے انصافی کا) الزام لگاتے ہیں۔ لیکن اگر ان کو اس میں سے (ان کی خواہش کے مطابق) دے دیا جائے تو خوش ہو جائیں اور اگر (ان کی خواہش کے مطابق) نہ دیا جائے تو بس فوراً یہ بگڑ بیٹھتے ہیں۔
علامہ بغوی کہتے ہیں:
نَزَلَتْ فِي ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيِّ وَاسْمُهُ حُرْقُوصُ بْنُ زُهَيْرٍ أَصْلُ الْخَوَارِجِ[24] یہ آیت کریمہ ذو الخویصرہ کے بارے میں نازل ہوئی اس کا نام حرقوص بن زہیر تھا جو خوارج کی بنیاد ہے۔
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں: انه ذو الخويصرة التّميمي، قال للنبيّ صلى الله عليہ وآلہ وسلم يوماً: اعدل يا رسول الله، فنزلت هذه الآية. ويقال: أبو الخواصر۔ ويقال: ابن ذي الخويصرة.[25] ذو الخویصرہ نے ایک دن نبی اکرم سے کہا یا رسول اللہ انصاف کیا کریں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اسے ابو الخواصر اور ابن ذی الخویصرہ بھی کہا گیا۔
فخر الدین رازی کے بقول حرقوص کا نام مقداد بن ذو الخویصرہ رکھا گیا تھا۔
إِذْ جَاءَهُ الْمِقْدَادُ بْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ، وَهُوَ حُرْقُوصُ بْنُ زُهَيْرٍ، أَصْلُ الْخَوَارِجِ۔[26] 38ھ میں خوارج سے جنگ نہروان کے لئے احنف بن قیس کی سربراہی میں بھیجے لشکر کے ہاتھوں مارا گیا۔

تاریخ طبری میں ہے کہ جیش بن ربیعہ، ابو المعتمر کنانی نے اسے قتل کیا تھا۔[27]

مرتد صحابہ[ترمیم]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مرتد ہونے والے افراد کے حالات تفصیل سے تاریخ میں مذکور ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کے زمانے کافی صحابہ کرام اور نومسلم افراد مرتد ہو گئے تھے جو تین طرح کے افراد تھے اور مسلمانوں نے ان سے متعدد جنگیں لڑی جو فتنۂ ارتداد کی جنگیں کہلاتی ہیں۔

  • عبد اللہ بن خطل یا عبد العزی بن خطل: انصاری صحابی اور کاتب وحی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس کے ساتھ ایک اور مسلمان کو کر دیا، اس نے اس مسلمان کو قتل کر دیا اور قتل کی سزا کے ڈر سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا اور مشرکین سے جا ملا۔[28] سیرت ابن ہشام میں یہ بھی ہے کہ اس کا ایک مسلمان غلام تھا، جو اس کی خدمت کرتا تھا، اس نے غلام کو حکم دیا کہ پہاڑی بکرا ذبح کرکے اس کے لیے کھانا تیار کرے اور خود سو گیا، جب اٹھا تو دیکھا کہ کھانا تیار نہیں ہے، بس کیا تھا کہ غلام کو جان سے ہی مار ڈالا اور ڈر کے مارے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا، اور شقاوت اتنی بڑھ گئی کہ اپنی دو لونڈیوں سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی اور ہجو کے اشعار کہلواتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کے خون کو مباح قرار دیا، فتحِ مکہ کے دن وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت وہ خانہٴ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی لونڈیوں کے قتل کا بھی حکم نافذ ہوا تھا۔[29]

یہ بھی ہے کہ جب اس کو دفن کیا گیا تو زمین نے اسے قبول نہیں کیا اور باہر نکال پھینکا۔[30]

  • عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح یہ بھی صحابی اور کاتب وحی تھے۔ یہ عثمان غنی کے رضاعی بھائی ہیں، فتحِ مکہ سے پہلے ہی ایمان قبول کیا اور ہجرت کی، پھر شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہو گئے اور مشرکینِ مکہ سے جا ملے، فتحِ مکہ کے دن عثمان غنی کی سفارش پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو امان, دیا[31] بعد میں صحابہ سے فرمایا، تم میں کوئی سمجھ دار نہ تھا کہ جب میں نے عبد اللہ کی بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا تو اٹھ کر اس کو قتل کر ڈالتا، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اس وقت کوئی اشارہ کیوں نہ فرمایا، آپ نے کہا: نبی کے لیے اشارہ بازی زیبا نہیں،[32] پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بہت پختہ مسلمان رہے، اسلام ہی پر ان کا خاتمہ ہوا۔[33]

ارتداد سے پہلے دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کتابت کا بھی موقع نصیب ہوا، اہلِ تاریخ و سیر کا اس پر اتفاق ہے۔[34]

ان کے سلسلے میں بعض کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ: ابن ابی سرح قرآن مجید کی کتابت میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے۔

ابن جریر طبری اپنی تفسیر قرآن مین نقل کرتے ہیں کہ ابن ابی سرح نے اسلام چھوڑ دیا تھا، بعد میں وہ فتح مکہ سے قبل دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔[35][36]دوسری طرف، طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں ابن ابی سرح اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق لکھے ہیں کہ وہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ان کے لیے کتابت کیا کرتے تھے۔ وہ مرتد ہو گئے لیکن پھر فتح مکہ کے دن دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔[37] ایک حدیث جو سنن ابی داؤد میں مذکور ہے، اس میں ہے کہ اس دن (فتح مکہ کے دن) ابن سعد کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تنی ہوئی زبان کے ساتھ گفتگو ہوئی۔[38]

اہل بیت سے اختلاف[ترمیم]

کچھ لوگ اہل بیت سے کسی نہ طور اختلاف اور دشمنی کرتے رہے ہیں۔

بنت پیغمبر سے اختلاف[ترمیم]

جن افراد نے بی بی سے کوئی نہ کوئی اختلاف یا عناد کیا درج ذیل ہیں۔

1- خلیفہ اول، حضرت ابو بکر: ابھی خلیفہ تسلیم نہیں ہوئے تھے اور خلافت کے لیئے مختلف افراد سے بیعت لینے کا سلسلہ شروع ہوا تو بی بی کے گھر کو جلانے کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنی وفات کے وقت اقرار اور اظہار ندامت کیا کہ کاش میں فاطمہ کے گھر کو جلانے کا حکم نہ دیتا۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 51).

2- خلیفہ دوم حضرت عمر: آپ بی بی کے گھر کو جلانے کے مرتکب ہوئے۔(تاریخ طبری، جلد 2، صفحہ 433 و کنز العمال جلد 5، صفحہ 651).

3- اسید بن حضیر: (الامامۃ و السیاسہ جلد 1، صفحه 11) بعض مؤرخین نے اس کا نام اسید بن حصین لکھا ہے.<ref>احقاق الحق، جلد 2، صفحہ 370<\ref>

4- سلمہ بن سلامہ: (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 47)

5- ثابت بن قیس: خزرجی (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 48)

6- خالد بن ولید: (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 48.

7- محمد بن مسلمہ: (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 48).

8- بشیر بن سعد: (احتجاج، جلد 1، صفحہ 414 و اختصاص، شیخ مفید، صفحہ 185).

9- مغیرہ بن شعبہ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 48).

10- ابو عبیدہ بن جراح (اختصاص، شیخ مفید، صفحہ 185)

11- سالم مولی ابی حذیفہ (اختصاص، شیخ مفید، صفحہ 185)

12- معاذ بن جبل (الوافی بالوفیات، جلد 6 صفحہ 17. ملل و نحل، جلد 1 صفحہ 5. الامامۃ و السیاسۃ، جلد 1 صفحہ 12).

13- قنفذ (الوافی بالوفیات، جلد 6 صفحہ 17. ملل و نحل، جلد 1 صفحہ 5. الامامۃ و السیاسۃ، جلد 1 صفحہ 12)

14- عثمان (اختصاص شیخ مفید، صفحات 184 و 187)

15- عبد الرحمن بن عوف (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 68. البدایہ و النہایہ، جلد 5 ، صفحہ 250. سیر اعلام النبلاء، صفحہ 26)

16- زیاد بن لبید (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 68)

17- معاویہ بن ابو سفیان (وقعۃ صفین، صفحہ 163)

18- عمرو بن عاص (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 6، صفحہ 51).

19- زید بن اسلم (احقاق الحق، جلد 2، صفحہ 370).

حضرت علی سے اختلاف[ترمیم]

منابع[ترمیم]

[1] سيرة النبى ، ج 1/319 - 330.

[2] - چکیده تاریخ پیامبر اسلام, دکتر محمد ابراہیم آیت

[3] - سید المرسلین، ج‏1، ص 421 - 423، شیخ جعفر سبحانی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر
  2. ابن جریر
  3. بیہقی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عساکر، ابن ہشام
  4. الاستیعاب، ابن عبد البر، الاصابہ، ابن حجر، دلائل النبوۃ ابو نعیم اصفہانی، روض الانف سہیلی
  5. سورۂ کوثر
  6. مسند احمد، بیہقی
  7. مسند احمد، طبرانی
  8. ترمذی
  9. ابن سعد، ابن ہشام
  10. الاستیعاب، ابن عبد البر، الاصابہ، ابن حجر، دلائل النبوۃ ابو نعیم اصفہانی، روض الانف سہیلی
  11. سیرہ ابن ہشام :1/138
  12. سیرت ابن ہشام: 1/426
  13. سیرت ابن ہشام، ج 1، ص 436، وابن سعد حصہ مغازی :25
  14. بخاری
  15. زرقانی علی المواہب ج 2 ص 163
  16. سیرتِ مصطفیٰ، ص 283 عبد المصطفیٰ اعظمی
  17. تفسیر قرطبی۔ ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی، سورہ المائدہ آیت 11
  18. ما روي عن ابن عباس قال: هجت امرأة من خطمة النبي صلى الله عليه و آلہ و سلم، فقال: من لي بها، فقال رجل من قومها: أنا يارسول الله، فنهض فقتلها، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لا ينتطح فيها عنزان.
  19. وقد ذكر بعض أصحاب المغازي وغيرهم قصتها مبسوطة. قال الواقدي حدثني عبد الله بن الحارث بن الفضيل عن أبيه أن عصماء بنت مروان من بني أمية بنت زيد كانت تحت يزيد بن زيد بن حصن الخطمي وكانت تؤذي النبي صلى الله عليه وسلم وتعيب الإسلام وتحرض على النبي صلى الله عليه وسلم، وقالت شعراً:
    فباست بني مالك والنبيت
    وعوف وباست بني الخزرج
    أطعتم أتاوي من غيركم
    فلا من مراد ولا مذحج
    ترجونه بعد قتل الرؤوس
    كما يرتجى مرق المنضج
    قال عمير بن عدي الخطمي حين بلغه قولها وتحريضها: اللهم إن لك عليّ نذراً لئن رددت رسول الله صلى الله عليه وسلم إلىالمدينة لأقتلنّها، ورسول الله يومئذ ببدر، فلما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من بدر جاءها عمير بن عدي في جوف الليل حتى دخل عليها في بيتها، وحولها نفر من ولدها نيام منهم من ترضعه في صدرها، فجسها بيده فوجد الصبي ترضعه فنحاه عنها، ثم وضع سيفه على صدرها حتى أنفذه من ظهرها، ثم خرج حتى صلى الصبح مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم نظر إلى عمير فقال: أقتلت بنت مروان قال: نعم بأبي أنت يارسول الله، وخشي عمير أن يكون أفتات على رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتلها، فقال: هل علي في ذلك شيء يارسول الله؟ قال: لا ينتطح فيها عنزان، فإن أول ما سمعت هذه الكلمة من النبي صلى الله عليه وسلم، قال عمير: فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى من حوله، قال: إذا أحببتم أن تنظروا إلى رجل نصر الله ورسوله بالغيب، فانظروا إلى عمير بن عدي ، فقال عمر بن الخطاب: انظروا إلى هذا الأعمى الذي تسرى في طاعة الله، فقال: لا تقل الأعمى، ولكنه البصير. فلما رجع عمير من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد بنيها في جماعة يدفنونها، فأقبلوا إليه حين رأوه مقبلاً من المدينة، فقالوا: ياعمير أنت قتلتها قال : نعم، فكيدوني جميعاً ثم لا تنظرون، فوالذي نفسي بيده لو قلتم بأجمعكم ما قالت لضربتكم بسيفي هذا حتى أموت أو أقتلكم، فيومئذ ظهر الإسلام في بني خطمة، وكان منهم رجال يستخْفُون بالإسلام خوفاً من قومهم.
  20. Esat Ayyıldız, Asmâ Bint Mervân: Arap-Yahudi Bir Kadın Şair, Edebiyat Kazıları, Ankara: İKSAD Publishing House, 2020. s. 13 -42.
  21. ام السیر سیرت حلبیہ ج 5 ص 483 - ناشر : دار الاشاعت، اردو بازار، کراچی پاکستان
  22. سیمای عقائد شیعہ، ص 315
  23. التوبہ: 58
  24. (تفسير البغوی، مؤلف أبو محمد الحسين الفراء البغوی، ناشر دار إحياء التراث العربی، بيروت)
  25. زاد المسير في علم التفسير، مؤلف ابو الفرج عبد الرحمن جوزی، ناشر دار الكتاب العربی، بيروت
  26. مفاتيح الغيب تفسير الكبير، مؤلف فخر الدين الرازي خطيب الری ناشر دار إحياء التراث العربی، بيروت
  27. تاریخ طبری ج 5 ص 87
  28. الدرر في المغازی والسیر ص 233
  29. سیرت ابن ہشام 3/410، المغازی للواقدی 859، 860
  30. تاریخ القرآن ص 55
  31. الاستیعاب 2/ 375، فتح الباری 8/ 11، البدایہ والنہایہ 5/35
  32. سیرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ج 2 ص 531
  33. الاستیعاب 2/ 375، فتح الباری 8/ 11، البدایہ والنہایہ 5/35
  34. (سیرة ابن ہشام 3/ 405، تاریخ خلیفہ بن خیاط ج 1 ص 77
  35. "al-Tabari's Tafsir for 6:93". 14 جون 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 جنوری 2013. 
  36. [1]
  37. Al-Tabari, "History of al-Tabari Vol. 9 – The Last Years of the Prophet"، transl. Ismail K. Poonawala, p.148, Albany: State University of New York Press
  38. Translation of Sunan Abu-Dawud (partial)۔ Translated by Professor Ahmad Hasan (online) Hadith 14:2677