اعضا کا عطیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اگر کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو (Part) اس طرح بے کار ہوجائے کہ اس کی جگہ پر کسی دوسرے انسان کا عضو (Part) اس بیمار شخص کے جسم میں نہ لگایا جائے تو طبی اعتبار سے ڈاکٹروں کو یہ یقین ہے کہ مریض کی موت واقع ہوجائے گی۔ غرضیکہ اُس بیمار شخص کی زندگی بچانے کے لئے دوسرے انسان کے عضو (Part) لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ مثلاً کسی شخص کے دونوں گردے فیل (خراب) ہوگئے ہیں، اور اب طبی اعتبار سے اس کی زندگی بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دوسرے شخص کا ایک گردہ نکال کر اس بیمار شخص کے لگا دیا جائے[1]، تو اس عمل کو اعضا کا عطیہ قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی جسم کے کئی اعضا، جیسے کہ آنکھیں بطور عطیہ دی جاتی ہیں۔ جو طلبہ طب کی تعلیم بڑھتے ہیں، اکثر ان پر لزوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ انسانوں پر عمل جراحی انجام دینے سے پہلے کسی غیر جاندار جسم پر مشق کریں۔ ایسی صورتوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کئی جگہوں پر یا تو لوگوں کی وصیت کے تحت عطیہ کیے گئے فانی جسم یا پھر لا وارث لوگوں کے جسموں کو کام میں لایا جاتا ہے۔ اعضا کا عطیہ کبھی بغرض خیر کی انجام دہی مفت ہوتا ہے تو کبھی اس میں خرید فروخت ہوتی ہے، جس میں لاکھوں روپیے کی لین دین ہوتی ہے۔ اسے انسانی اعضا کی فروخت کا نام دیا گیا ہے۔ مفت عطیہ دینے پر بھی یہ اعضا کسی ادارے کی تفویض میں در کار نگرانی کے حالات میں رکھے جاتے ہیں اور اس وجہ سے ضرورت مند لوگوں سے اس کے لیے پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔

دنیا میں اعضا کی ضرورت کے مسائل[ترمیم]

سوئٹزرلینڈ کی نیشنل آرگن ڈونیشن فاؤنڈیشن سوئس ٹرانسپلانٹ کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کے عطیے میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مرنے والوں کے آدھے سے زیادہ رشتہ داروں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیاروں کی خواہشات کیا تھیں، اگر چیکہ وہ رضا کارانہ طور بعد از مرگ اپنے اعضا کا عطیہ کرنے کے خواہش مند تھے۔ 2018ء میں 158 افراد نے مرنے کے بعد اپنے اعضا کا عطیہ کیا تھا، لیکن 1400 سے زائد افراد انسانی اعضا کی پیوند کاری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان 158 افراد کو پیوند کاری سے پہلے اپنی زندگی کے بہترین وقت میں برسوں کی بیماری اور بے روزگاری کا سامنا رہا ہے۔ سوئس ٹرانسپلانٹ کے فرانزسکا بیئلر نے بی بی سی کو بتایا ’خاندان والوں کی کم علمی کی وجہ سے اہلخانہ کے ساتھ بات چیت میں، انسانی اعضا عطیے کرنے کی 60 فیصد درخواستیں رد ہو جاتیں ہیں۔‘[2]

ایسے ہی حالات کئی دیگر یورپی ممالک کے ہیں۔ تاہم کئی ترقی پزیر ممالک میں اعضا کے عطیے کی تہذیب یا تو مفقود ہے، یا پھر روایت کا سماج میں زیادہ چلن نہیں ہے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]