مندرجات کا رخ کریں

اعضا کا عطیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایرانی عوام نفس پارک میں شریک، عطیہ اعضاء کے قومی دن کے انعقاد کے موقع پر – 21 مئی 2018ء۔ ایران میں ہر سال 21 مئی کو قومی دن برائے عطیہ اعضاء منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں انسانی اعضاء کے عطیے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔اس دن مختلف تقریبات، آگاہی مہمات اور واکس کے ذریعے زندگی بچانے کے جذبے کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کی تقریبات دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی ہوتے ہیں۔

اگر کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو (Part) اس طرح بے کار ہوجائے کہ اس کی جگہ پر کسی دوسرے انسان کا عضو (Part) اس بیمار شخص کے جسم میں نہ لگایا جائے تو طبی اعتبار سے ڈاکٹروں کو یہ یقین ہے کہ مریض کی موت واقع ہوجائے گی۔ غرض کہ اُس بیمار شخص کی زندگی بچانے کے لیے دوسرے انسان کے عضو لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ مثلاً کسی شخص کے دونوں گردے فیل (خراب) ہو گئے ہیں اور اب طبی اعتبار سے اس کی زندگی بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دوسرے شخص کا ایک گردہ نکال کر اس بیمار شخص کے لگا دیا جائے[1]، تو اس عمل کو اعضا کا عطیہ قرار دیا جاتا ہے۔

انسانی جسم کے کئی اعضا، جیسے کہ آنکھیں، گردے، جگر، دل، پھیپھڑے اور جلد، بطور عطیہ دیے جا سکتے ہیں۔ آج کل جدید طبّی ٹیکنالوجی نے اعضا کی پیوندکاری (transplantation) کو ممکن بنا دیا ہے جس سے ہزاروں انسانوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ جو طلبہ طب کی تعلیم بڑھتے ہیں، اکثر ان پر لزوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ انسانوں پر عمل جراحی انجام دینے سے پہلے کسی غیر جاندار جسم پر مشق کریں۔ ایسی صورتوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کے کئی جگہوں پر یا تو لوگوں کی وصیت کے تحت عطیہ کیے گئے فانی جسم یا پھر لا وارث لوگوں کے جسموں کو کام میں لایا جاتا ہے۔

اعضا کا عطیہ کبھی خالصتاً خیرات اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کے لیے مالی لین دین بھی کی جاتی ہے، جسے انسانی اعضا کی فروخت کہا جاتا ہے۔ کچھ ملکوں میں اعضا کی خرید و فروخت قانونی طور پر ممنوع ہے، لیکن پھر بھی بلیک مارکیٹ میں اس کا کاروبار جاری رہتا ہے۔ کچھ افراد اپنی غربت کی وجہ سے اعضا بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کے کچھ پسماندہ علاقوں میں یہ ایک سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔[2]

مفت عطیہ دینے پر بھی یہ اعضا اکثر کسی طبّی ادارے، اسپتال یا عطیہ بینک کے تحت درکار نگرانی کے حالات میں رکھے جاتے ہیں اور اس وجہ سے ضرورت مند لوگوں سے اس کے لیے کچھ اخراجات لیے جاتے ہیں۔ اس لیے بعض اوقات "مفت" عطیے کے باوجود اس میں مالی لاگت شامل ہوتی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر

[ترمیم]

اسلامی فقہ میں اعضا کے عطیے کا معاملہ طویل بحث کا حامل ہے۔ بیشتر معاصر علمائے کرام نے اعضا کے عطیے کو انسان کی جان بچانے کی صورت میں جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ:

عطیہ دینے والا رضا کارانہ طور پر راضی ہو؛

اعضا کی خرید و فروخت نہ ہو؛

اس سے کسی دوسرے انسان کی جان بچائی جا رہی ہو؛

یہ عطیہ کسی لازمی طبّی ضرورت کے تحت ہو۔

پاکستان، بھارت اور خلیجی ممالک میں مفتیان کرام نے مشروط جواز کی رائے دی ہے، جب کہ کچھ علما اس کی مکمل ممانعت کرتے ہیں۔[3]

دنیا میں اعضا کی ضرورت کے مسائل

[ترمیم]

سوئٹزرلینڈ کی نیشنل آرگن ڈونیشن فاؤنڈیشن سوئس ٹرانسپلانٹ کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کے عطیے میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مرنے والوں کے آدھے سے زیادہ رشتہ داروں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیاروں کی خواہشات کیا تھیں، اگر چیکہ وہ رضا کارانہ طور بعد از مرگ اپنے اعضا کا عطیہ کرنے کے خواہش مند تھے۔ 2018ء میں 158 افراد نے مرنے کے بعد اپنے اعضا کا عطیہ کیا تھا، لیکن 1400 سے زائد افراد انسانی اعضا کی پیوند کاری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان 158 افراد کو پیوند کاری سے پہلے اپنی زندگی کے بہترین وقت میں برسوں کی بیماری اور بے روزگاری کا سامنا رہا ہے۔ سوئس ٹرانسپلانٹ کے فرانزسکا بیئلر نے بی بی سی کو بتایا: ’’خاندان والوں کی کم علمی کی وجہ سے اہلخانہ کے ساتھ بات چیت میں، انسانی اعضا عطیے کرنے کی 60 فیصد درخواستیں رد ہو جاتیں ہیں۔‘‘[4]

ایسے ہی حالات کئی دیگر یورپی ممالک کے ہیں۔ مثلاً جرمنی، آسٹریا اور نیدرلینڈز میں بھی عطیے کی کمی اور انتظار کی طویل فہرستیں ہیں۔ تاہم کئی ترقی پزیر ممالک، خاص طور پر جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اعضا کے عطیے کی تہذیب یا تو مفقود ہے یا پھر روایت کا سماج میں زیادہ چلن نہیں ہے۔ ان ممالک میں تعلیم، مذہبی رہنمائی اور صحت عامہ کی سہولتوں کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

اخلاقی و قانونی پہلو

[ترمیم]
  • اعضا کا عطیہ ایک طرف جہاں انسانی ہمدردی اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ ہے، وہیں اس سے جڑے کئی اخلاقی اور قانونی پہلو بھی ہیں، جیسے:
  • مرنے والے کی خود مختاری (autonomy)
  • خاندانی رضامندی
  • جسمانی استحصال سے بچاؤ
  • شفافیت اور عطیے کی منصفانہ تقسیم
  • بعض ملکوں نے "پیشگی رضامندی" (opt-in) اور بعض نے "خاموش رضامندی" (opt-out) کا اصول اختیار کیا ہے۔ فرانس، اسپین اور بیلجیم جیسے ممالک میں یہ اصول اپنایا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد اپنی زندگی میں اعضاء نہ دینے کا اعلان نہ کرے تو اس کی موت کے بعد اعضا عطیہ سمجھا جائے گا۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]


مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ "انسان کے اعضاء کا عطیہ اور خرید وفروخت"۔ 2020-10-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-10-16
  2. ↑ Deborah Cohen (7 مئی 2018)۔ Where is the Real Organ Trade Happening?۔ BBC
  3. ↑ "اسلام میں اعضاء کا عطیہ: شرعی حیثیت"
  4. ↑ سوئزرلینڈ میں انسانی اعضا عطیہ کرنے کی شرح کیوں کم ہے؟