اعلام (زرکلی)
| اعلام (زرکلی) | |
|---|---|
| (عربی میں: الأعلام) | |
| مصنف | خیر الدین زرکلی |
| اصل زبان | عربی |
| درستی - ترمیم | |
اعلام زرکلی قدیم اور جدید شخصیات کی سوانح حیات پر لکھی جانے والی مشہور ترین تصانیف میں سے ایک ہے اور سب سے زیادہ مفید اور سب سے زیادہ وسیع مواد پر مشتمل ہے۔ اس کو مرتب کرنے والے مصنف خیر الدین زرکلی (متوفی: 1396ھ) تھے۔ کتاب کا پورا نام ہے:
| ” | «الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين» | “ |
."The Notables: A Dictionary of Biography of the Most Famous Arab, Arab, and Orientalist Men and Women." [1]
کتاب کا تعارف
[ترمیم]اس کتاب کے مؤلف خیر الدین زرکلی (وفات: 1396ھ) نے اپنے ترجموں کا معیار بیان کرتے ہوئے کہا: جس شخصیت کا میں ذکر کروں گا، اس کے لیے ضروری ہے کہ: اس کے پاس ایسا علم ہو جس کی گواہی اس کی کتابیں دیں یا وہ خلیفہ، بادشاہ یا حاکم رہا ہو یا بلند منصب مثلاً وزارت یا قضا حاصل کیا ہو اور وہاں نمایاں خدمات انجام دی ہوں یا کسی فقہی مسلک کا امام ہو یا کسی فن میں ممتاز ہو یا تعمیرات میں کوئی نمایاں کارنامہ چھوڑا ہو یا شاعر ہو یا ایسی شخصیت ہو جس کا نام بار بار لیا جاتا ہو یا زیادہ روایتیں نقل کی ہوں یا نسب کے اعتبار سے اصل اور بنیاد ہو یا مثالی شخصیت ہو۔ اور مجموعی ضابطہ یہ ہے کہ وہ ایسی معروف شخصیت ہو، جس کا ذکر عام ہو اور لوگ اس کے بارے میں پوچھتے ہوں۔
شیخ طناحی نے کہا: زرِکلی نے اپنی کتاب میں اُن مستشرقین کے لیے بھی جگہ رکھی ہے جنھوں نے عربی زبان کی خدمت کی، خاص طور پر تحقیقِ نصوص اور علمی مطالعات میں۔
کتاب لکھنے کا محرک
[ترمیم]مصنف کہتے ہیں: عربی خزانے میں ایک خلا موجود تھا اور عربی قارئین کی ایک ضرورت تھی اور موجودہ زمانہ بھی مطالبہ کرتا تھا کہ عرب دنیا کی تمام سوانحی کتابوں چاہے وہ مخطوط ہوں یا مطبوع کی منتشر معلومات کو جمع کیا جائے۔
میں نے اس کتاب کے ذریعے اسی خلا کا ایک چھوٹا سا حصہ پُر کرنے، اس ضرورت کو کسی حد تک پورا کرنے اور زمانے کے تقاضے کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔ اللہ کرے میں اس میں کامیاب ہو جاؤں۔
شخصیت تلاش کرنے کا طریقہ
[ترمیم]خیر الدین زرکلی نے شخصیات کو پہلے اور دوسرے نام کے مطابق الف بائی ترتیب میں درج کیا ہے۔ شہرت کے اعتبار سے ترتیب نہیں دی، البتہ شہرت والے نام کی جگہ حوالہ دیا تاکہ اصل نام تک پہنچا جا سکے۔ مثلاً: اگر آپ ابن جریر طبری کو دیکھنا چاہیں تو پہلے شہرت کے تحت دیکھیں گے: ابن جریر = محمد بن جریر (وفات 310ھ) طبری = محمد بن جریر (وفات 310ھ) اور نام کے ساتھ دیا گیا عدد تاریخِ وفات ہوتا ہے۔
خیر الدین زرکلی نے صرف پہلے دو ناموں کے اعتبار سے ترتیب رکھی ہے۔ یعنی جن کا نام احمد بن محمد ہے، وہ سب ایک ہی صف میں ہوں گے، پھر ان میں وفات کی تاریخ کے اعتبار سے ترتیب ہو گی: مثلاً: احمد بن محمد بن یوسف (وفات 360ھ) پہلے آنے گا پھر احمد بن محمد بن ابراہیم (وفات 450ھ)
کتاب کی طباعتیں
[ترمیم]- پہلی طباعت (1345ھ): مصر کی عربی مطابع میں، 3 جلدوں میں، کل 1187 صفحات۔
- دوسری طباعت (1377ھ): 10 جلدوں میں۔ دسویں جلد میں تصحیحات، اضافات اور بعض مترجمین کی تحریروں اور تصاویر کے نمونے شامل کیے گئے۔ یہ طباعت پہلی سے تین گنا بڑی تھی۔
- تیسری طباعت (1389ھ): بیروت میں 11 جلدوں میں۔ یہ دوسری طباعت ہی ہے مگر تراجم کے متن میں مزید تصحیحات شامل کی گئیں اور ایک نئی جلد المستدرک الثانی کے نام سے بڑھائی گئی۔ خطوط و تصاویر کا حصہ الگ جلد میں کر دیا گیا۔[2]
- چوتھی طباعت (1399ھ): دار العلم للملايين، بیروت، 8 بڑے مجلدات میں۔ مؤلف کی وفات کے بعد اس کے دوست ظافر القاسمی اور دیگر اہلِ علم کی نگرانی میں۔ اس میں الإعلام بما ليس في الأعلام بھی شامل کیا گیا۔ بعض تراجم طبع کے دوران چھوٹ بھی گئیں۔
- پانچویں طباعت (2002ء): 7 جلدوں میں، دار العلم للملايين، بیروت۔[3]
کتاب کے بارے میں آراء
[ترمیم]- ’’الاعلام‘‘ اپنے موضوع میں لکھی گئی سب سے بہترین کتاب ہے۔ بلکہ عورتوں اور مردوں کی تراجم پر اس دور میں اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ — محمود طناحی
- مختصر یہ کہ یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے بہترین جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ معاصر عربوں نے اپنی تاریخِ شخصیات کے باب میں کوئی اہم کام نہیں کیا۔ اور یہ کتاب ہر طالبِ علم کی لائبریری میں ضرور ہونی چاہیے۔ — محمود طناحی
- زِرکلی کی ’’الاعلام‘‘ ان دس بہترین کتابوں میں سے ایک ہے جن پر یہ صدی پچھلی صدیوں پر فخر کر سکتی ہے۔ — شیخ علی طنطاوی
- اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ چودھویں صدی ہجری میں شائع ہونے والی سب سے عظیم عربی کتاب کون سی ہے؟ تو میں بلا تردد کہوں گا: ’’السعلام‘‘ — عبد العزیز الرفاعی [4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "بين «أعلام الزركلي» و«صحرا الصويان»"۔ صحيفة الاقتصادية (بزبان عربی)۔ 5 اپریل 2019۔ 2019-04-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-16
- ↑ al-Zirikli (1954)۔ al-A'lam (بزبان عربی) (2nd ایڈیشن)۔ Cairo, Egypt: al-Sahafat al-Arabiyya
- ↑ al-Zirikli (2002)۔ al-A'lam (بزبان عربی) (7th ایڈیشن)۔ Beirut, Lebanon: Dar El Ilm Lilmalayin
- ↑ "بين «أعلام الزركلي» و«صحرا الصويان»"۔ صحيفة الاقتصادية (بزبان عربی)۔ 5 اپریل 2019۔ 2019-04-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-16
