افتخار احمد عثمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
افتخار احمد عثمانی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 28 اپریل 1968ء
رہائش لاہور، پاکستان
قومیت پاکستانی
پیشہ ڈراما نگار
اداکار

افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار افی ایک پاکستانی اداکار، فلم نگار، کالم نویس، ڈراما نویس[2]، ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کی وجہ شہرت، ان کا لکھا ہوا ریکارڈ ساز ڈراما سیریل ناگن[3][1][4] ہے۔ 200 اقساط پر مبنی یہ سیریل سن 2017ء میں جیو کہانی پر نشر ہوا. یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا ڈراما ہے۔ اس کے علاوہ ”اترے گا اب نہ کوئی خضر“، ”بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں“، ”کرم جلی[5][6]“ بھی افتخار افی کے قلم کی تخلیقات ہیں۔[7]

اداکاری کی بات کریں تو حال ہی میں افتخار افی نے ڈرامہ سیریل انکار میں ایک مختصر مگر نہایت اہم کردار "گلو بادشاہ" کا نبھایا. اس کردار کے ذریعے افتخار افی نے شائقین کے دل جیت لیے. رواں سال افتخار افی کی پہلی کتاب چکڑ چھولے شائع ہوئی. اس کتاب میں افتخار افی نے نا صرف اشفاق احمد کے پیغام کو آگے بڑھایا بلکہ اپنے تجربات کی روشنی میں زندگی گزارنے کا بہترین سلیقہ سکھایا. کتاب کی تقریبِ رونمائی برطانیہ میں منعقد ہوئی.

بچپن اور ابتدائی تعلیم[ترمیم]

افتخار افی سنت نگر ، لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن بھی وہیں گزرا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مون لائٹ اسکول اوراسلامیہ جونیئر اسکول سے حاصل کی۔ مڈل سٹینڈرڈ کا امتحان این۔ڈی۔ ہائی اسکول اچھرہ سے اور میٹرک گورنمنٹ اسلامیہ اسکول دیو سماج سے پاس کیا۔

پیشہ ورانہ تعلیم[ترمیم]

ایم۔اے۔او کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ کے بعد انہوں نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ گلبرگ لاہور سے ڈراما میں دو سالہ ڈپلومہ حاصل کیا پہلی پرفارمنس تھیٹر ڈراما " پاٹے خاں " میں دی اور وقت کے صدر فاروق خان لغاری کے سامنے پرفارم کیا اور 1996ء کو میڈم منور توفیق کی نگرانی میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سنٹر میں ادکاری کا آڈیشن پاس کیا۔

عملی زندگی[ترمیم]

افتخار افی کے پانچ بڑے شعبہ جات ہیں جن میں اداکاری، ڈراما نویسی، شاعری، کالم نگاری اور تصوف کا فروغ شامل ہیں۔ بابا اشفاق احمد کی صحبت میں 9 سال گزارے اور صوفی ازم کی طرف راغب ہوئے، 2003ءسے 2005ء تک لاہور کے شاکر علی میوزیم میں ڈراما پڑھایا یہ کلاسز ابسن اکیڈمی ناروے اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیر انتظام تھیں، 7 سال ایورسٹ ڈرامیٹک سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے سٹریٹ تھیٹر کیا اس سوسائٹی کے لیے ”سفر پاکستان“، ”قمرو“ اور ”بندہ پرور کب تلک“ جیسے ڈرامے نہ صرف لکھے بلکہ ان کی ہدایتکاری بھی کی، انہوں نے 7 برس روزنامہ خبریں اور 2 سال روزنامہ اوصاف میں کالم لکھے، سن 2010ء سے سوشل میڈیا پر کالم لکھ رہے ہیں۔[8][9][10]

اداکاری[ترمیم]

افتخار نے ڈراما سیریل تعلق، انوکھی، میں مر گئی شوکت علی، خُدا گواہ، دِلّی کے بانکے، آگ، محبت ہار محبت جیت، خدا زمیں سے گیا نہیں، فصیلِ جان سے آگے، خالدہ کی والدہ، زندگی ہاتھ بڑھا، سنگت، لشکارا، کمی رہ گئی، فرض اور انکار ڈراما، اس کے علاوہ بی بی سی کے پہلے ریڈیو سوپ ”پیار کے پاسپورٹ“ میں اور ”سن آف پاکستان“ فلم میں کام کیا۔

ڈراما نویسی[ترمیم]

سال سیریل عنوان چینل اداکار ڈائریکٹر نوٹس
2010ء مٹھاس پی ٹی وی
2010ء لو سٹوری 2010ء، 10 اقساط اے۔پلس انٹرٹینمنٹ
2011ء اترے گا اب نہ کوئی خضر اے۔پلس انٹرٹینمنٹ
2014ء بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں، 214 اقساط اے آر وائے زندگی
2016ء غلطی اے۔پلس انٹرٹینمنٹ
2017ء ناگن جیو کہانی
2016ء اکیلی رہ گئی میں آج انٹرٹینمنٹ
2018ء کرم جلی اے پلس انٹرٹینمینٹ

حوالہ جات[ترمیم]