افتخار الحسن کاندھلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
افتخار الحسن کاندھلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 10 جنوری 1922  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کاندھلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 جون 2019 (97 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کاندھلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنفی
اولاد نور الحسن راشد کاندھلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 7   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ عالم،  مفسر قرآن،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تحریک تبلیغی جماعت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

افتخار الحسن بن رؤوف الحسن کاندھلوی (10 جنوری 1922 – 2 جون 2019) [1] بھارت کے جید مفسر قرآن اور محدث تھے۔ انہوں نے سنہ 1946ء میں کاندھلہ کی عیدگاہ کی بنیاد رکھی۔[2] اور اپنی زندگی میں چالیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔[3] ان کی بڑی بہن کی شادی ہندوستانی محدث محمد زکریا کاندھلوی سے ہوئی تھی۔

تعلیم[ترمیم]

افتخار الحسن نے حافظ رحیم بخش کی شاگردی میں قران سیکھا۔ اور حافظ سادات خان دیوبندی کے پاس مدرسہ احیاء العلوم مظفر نگر میں قران حفظ کیا۔ بعد ازان انہوں نے تبلیغی جماعت کے مرکز حضرت نظام الدین کے مدرسہ کاشف العلوم میں عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا لیکن وہاں کا ماحول انہیں راس نہ آیا اور وہ واپس مظفر نگر چلے آئے اور وہاں شرح جامی تک کی تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ مرادیہ سے فراغت کے بعد انہوں نے مظاہر العلوم سہارنپور میں داخلہ لیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت کے بعد انہوں کاندھلہ میں قیام کرنے کا ارادہ کیا اور امت کو قران و حدیث سکھانے کا بیڑا اٹھایا۔

تصوف[ترمیم]

انہوں نے تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے ہاتھوں پر بیعت کی۔ ان کے انتقال کے بعد عبد القادر رائے پوری سے بیعت ہوئے اور اجازت حاصل کی۔

تصانیف[ترمیم]

مولانا افتخار الحسن نے تقریباً چالیس کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں؛

  • آخرت کی یاد[4]
  • اعمال رمضان[5]
  • عاشور محرم الحرام
  • دعا کی اہمیت
  • فضیلت قران
  • حق تعالی کے دو مخصوص انعام
  • علم کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔
  • اسلام میں امانت داری۔

وفات[ترمیم]

افتخار الحسن کی وفات 2 جون 2019ء بمطابق 27 رمضان 1440 ہجری میں کاندھلہ میں بعمر 97 سال ہوئی۔[6] پسمانگان میں 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑیں۔ ان کی تدفین 3 جون 2019ء کو ہوئی۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "इस्लामिक धर्म गुरु हजरत मौलाना के निधन से जिले मे शहर शोक की लहर، एसपी शामली पहुंचे कांधला कस्बे، आज होगी अंतिम विदाई"۔ Amar Ujala۔
  2. "हजरत साहब ने रखी थी कांधला ईदगाह की नींव"۔ Amar Ujala۔
  3. "हजरत साहब के पैगाम को आगे बढ़ाएगा परिवार"۔ Amar Ujala۔
  4. * آخرت کی یاد
  5. * اعمال رمضان
  6. "यूपी: 95 वर्षीय हजरत मौलाना इफ्तेखारूल हसन का इंतकाल، जनाजे में उमड़ा जनसैलाब، देखें तस्वीरें"۔ Amar Ujala۔
  7. "جید مفسر قرآن مفتی افتخار الحسن کاندھلویؒ کے جنازہ میں ہزاروں سوگوار ہوئے شریک"۔ Qaumi Awaz۔