افراط (کونیات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طبیعی علم الکائنات میں، کائناتی افراط، کونیاتی افراط یا صرف افراط  ابتدائی کائنات کے دور میں ہونے والا خلاء کا زبردست پھیلاؤ ہے۔ افراطی دور کا اختتام بگ بینگ کے بعد پہلے سیکنڈ کے 10 کی قوّت نما -36 حصّے سے لے کر 10 کی قوّت نما -33 اور 10 کی قوّت نما -32 سیکنڈ کے درمیان ہوا۔ افراطی دور کے بعد کائنات نے پھیلنا جاری رکھا تاہم اس کا شرح پھیلاؤ اس سے کم تھا۔

افراطی مفروضہ 1980 کے عشرے میں بنایا گیا۔ یہ کائنات کی بڑی ساختوں کے پیمانے کو بیان کرتا ہے۔ خرد پیمانے کے افراطی علاقے میں کوانٹم اتار چڑھاؤ بڑھ کر کائنات کے حجم کے ہوکر  کائنات میں موجود ساختوں کی نمو کے بیج بن گئے تھے۔ (دیکھیے کہکشاؤں کی تشکیل و ارتقا اور ساختی تشکیل)۔ طبیعیات دانوں کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آیا کیوں کائنات ہر سمت میں یکساں (یکساں الخواص) دکھائی دیتی ہے اور کیوں کائناتی پس منظر کی خرد موجی اشعاع یکساں تقسیم ہیں، آیا کیوں کائنات چپٹی ہے اور وہ کیا وجہ ہے کہ کوئی یک قطبی قابل مشاہدہ نہیں ہے۔  

افراط کا ذمہ دار مفصل زرّاتی طبیعیاتی نظام اب تک غیر دریافت شدہ ہے، بنیادی تصویر کافی تعداد میں اندازے لگاتی ہے جن کی تصدیق مشاہدہ کرکے ہوچکی ہے۔ وہ مفروضی میدان جو افراط کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اس کو انفلیٹون کہتے ہیں۔

2002 میں نظریہ کو پیش کرنے والے تین اصل طبیعیات دانوں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا؛ ایم آئی ٹی سے تعلق رکھنے والے ایلن گتھ، اسٹینفورڈ سے تعلق رکھنے والے آندرے لینڈی اور پرنسٹن سے وابستہ پال اسٹین ہارڈت کو اعلیٰ درجہ کی شہرت کا حامل ڈیراک پرائز "علم الکائنات میں افراط کے تصّور کو بنانے " کے لیے عطا کیا گیا۔   

عمومی جائزہ [ترمیم]

ایک پھیلتی ہوئی کائنات کا عموما ً ایک کائناتی افق ہوتا ہے جس کی تشبیہ ہم زیادہ جانے پہچانے افق سے دے سکتے ہیں جو کرہ ارض کے خم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو کائنات کے اس حصّے کی طرف نشان لگاتا ہے جس کا مشاہدہ ایک شاہد کر سکتا ہے۔ روشنی (یا دوسری اشعاع) جو اس کائناتی افق کے پار سے کوئی جسم خارج کرے گا وہ کبھی بھی مشاہد تک نہیں پہنچ سکتی  کیونکہ مشاہد اور جسم کے درمیان موجود خلاء بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کائنات کی تاریخ  - یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائناتی افراط کی وجہ سے ثقلی امواج ابھری ہوں گی، بگ بینگ کے فوراً بعد سریع از نور رفتار سے پھیلاؤ (17مارچ 2014) 

قابل مشاہدہ کائنات  ایک بڑی ناقابل مشاہدہ کائنات کا صرف  سرسری سا ایک حصّہ ہے ؛ کائنات کے دوسرے حصّوں نے ابھی تک زمین سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ کائنات کے یہ حصّے ہمارے موجودہ کائناتی افق سے پرے ہیں۔ معیاری بگ بینگ کے نمونے میں، افراط کے بغیر،  کائناتی افق  ترک ہوکر منظرنامے میں ایک نیا علاقہ لے آتا ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی مقامی مشاہد پہلی مرتبہ اس حصّے کو دیکھے گا تو اسے خلاء کے پہلے دیکھے ہوئے حصّوں اور ان نئے حصّوں میں  کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا : ان کا پس منظر کی اشعاع کا درجہ حرارت دوسرے حصّوں ہی جیسا ہوگا اور ان کا مکاں و زمان کا خم دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہوکر ارتقا پزیر ہو رہا ہوگا۔  یہ ایک پہیلی کی طرح ہے : ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ نئے علاقے جانتے ہوں کہ  ان کا خم اور درجہ حرارت کتنا ہونا چاہیے؟ وہ یہ بات اشاروں کو حاصل کرکے تو نہیں جان سکتے،  کیونکہ ان کا ہمارے ماضی کی روشنی کی کون سے کوئی پہلے سے رابطہ نہیں ہے۔ افراط اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے کہ تمام علاقے  ایک ابتدائی دور سے بڑی خلائی  توانائی یا کائناتی مستقل کے ساتھ آئے ہیں۔ کائناتی مستقل کے ساتھ خلاء  کی نوعیت مختلف ہوتی ہے : بجائے یہ باہر کی طرف حرکت کرے  کائناتی افق ایک ہی جگہ پر رہتا ہے۔ کسی بھی مشاہد کے لیے کائناتی افق کا فاصلہ یکساں ہی رہتا ہے۔ انتہائی برق رفتاری سے پھیلتی ہوئی خلاء کے ساتھ  دو قریبی مشاہد تیزی سے ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں ؛ اتنی تیزی سے کہ ان کے درمیان رابطہ کی حد  قائم نہیں رہتی۔ مکانی قاشیں بہت تیزی کے ساتھ بہت بڑی مقدار کا احاطہ کرتے ہوئے  پھیلتی ہیں۔ اجسام ہمہ وقت کائناتی افق سے آگے حرکت کرتے رہتے ہیں، جن کا دور کا فاصلہ متعین ہوتا ہے اور ہر چیز متجانس بن جاتی ہے۔  

جب افراطی میدان آہستگی کے ساتھ خلاء کو چھوڑتا ہے تو کائناتی مستقل کی قدر صفر ہوجاتی ہے اور اس کے بعد خلاء عمومی رفتار سے پھیلتی ہے۔ عام پھیلاؤ کے دوران نظر آنے والے نئے حصّے بعینہ ویسے ہوتے ہیں جنہوں نے افراط کے دوران افق کو دور کیا تھا، لہٰذا ان کا درجہ حرارت اور خم بھی لگ بھگ  اتنا ہی رہتا ہے، کیونکہ یہ تمام حصّے  اصل میں مکان کے  ایک چھوٹے سے حصّے سے ہی نکلے ہیں۔

افراط کا نظریہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ آیا کیوں مختلف حصّوں کا درجہ حرارت اور خم  قریب قریب ایک جیسا ہی ہے۔ یہ اس  چیز کی پیش گوئی بھی کرتا ہے کہ مکان کی قاش  کا کل خم ایک مستقبل عالمگیر وقت پر صفر ہوتا ہے۔ اس پیش گوئی کا مطلب یہ بھی ہے کہ کائنات میں موجود  کل عام مادّہ، تاریک مادّہ  اور باقی بچی ہوئی خلائی توانائی  مل کر فاصل کثافت بناتی ہیں اور ثبوت اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ افراط طبیعیات دانوں کو اس قابل کرتا ہے کہ وہ افراطی دور کے دوران کوانٹم اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مختلف حصّوں میں ہونے والے درجہ حرارت میں معمولی تفاوت  کا حساب لگا سکیں اور اس قسم کی کئی مقداری پیش گوئیوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

خلائی پھیلاؤ[ترمیم]

خلاء کے پھیلنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دو جمودی مشاہد ایک دوسرے سے سرعت والی سمتی رفتار سے الگ ہو رہے ہیں۔ مشاہد سے اجسام کائناتی افق کی طرف ایک معین رفتار سے دور ہوتے ہیں جس کو وہ ایک مناسب وقت میں طے کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی ناجنسیت کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے آزاد ہو جائے گی بعینہ جس طرح بلیک ہول کے واقعاتی افق کی سطح پر کوئی بھی اونچی نیچی جگہ یا مادّہ نگل کر غائب ہوتا ہے۔ کیونکہ مکان و زمان مقدار کا انحصار کسی صریح وقت پر نہیں ہے، لہٰذا ایک مرتبہ جب مشاہد کائناتی افق کو پار کر لیتا ہے تو اس سے قریب موجود شاہد اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ دور جانے کا یہ عمل اور اس کی جگہ لینے کا عمل متواتر مزید آگے کی جگہوں - مکان و زمان کی تیز رفتار پھیلاؤ پر بعینہ اسی طرح ان کی جگہ لیتا رہے گا۔ یہ متواتر تیز رفتار مکان و زمان کا پھیلاؤ ڈی سٹر مکان کہلاتا ہے اور اس کو قائم رکھنے کے لیے کائناتی مستقل کا ہونا اور خلائی توانائی جو ہر جگہ ایک مخصوص مقدار کی نسبت سے ہو لازمی ہے۔ طبیعی حالات ایک حرکت سے دوسری حرکت تک مستحکم ہوں : پھیلاؤ کی شرح، جس کو ہبل کی مقدار معلوم کہتے ہیں وہ قریباً مستقل ہے اور کائنات کے پیمانے کی مقدار صحیح ایک مخصوص مقدار کی نسبت ہونی چاہیے۔ افراط کو اکثر اسراع پزیر پھیلاؤ کا دور بھی کہتے ہیں کیونکہ دو مشاہدوں کے درمیان فاصلہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے (یعنی کہ جیسی ہی وہ الگ ہوتے ہیں ان کی الگ ہونے کی شرح اسراع پزیر ہوتی ہے)، جبکہ مخصوص مقدار تقریباً ایک جیسی ہی رہتی ہے (دیکھیے تخفیف اسراع مقدار صحیح )۔

چند ناجنسیت باقی رہ گئیں[ترمیم]

کائناتی افراط نے ناجنسیت، غیر ہم اطرافیت اور مکان کے خم کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے کائنات کو بہت ہی سادہ حالت میں ڈھال دیا ہے جہاں اس پر مکمل طور پر انفلیٹون میدان، کائناتی مستقل کے منبع کا غلبہ تھا اور صرف وہ اہم نا جنسیت انفلیٹون میں ہونے والے ننھے کوانٹم کے اتار چڑھاؤ تھے۔ انفلیٹون نے اجنبی بھاری زرّات کو بھی ہلکا کر دیا جیسے کہ مقناطیسی یک قطبی جن کی پیش گوئی زرّاتی طبیعیات کے معیاری نمونوں کی اکثر توسیع نے کی ہے۔ اگر کائنات ان زرّات کو افراطی دور سے پہلے بنانے کے لیے صرف اس قدر گرم تھی تو ان کو قدرتی حالت میں نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ وہ اس قدر نایاب ہوں گے کہ اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی قابل مشاہدہ کائنات میں موجود نہیں ہوگا۔ یہ سب مل کر بلیک ہول کے مسئلہ اثباتی غیر بال کی طرح افراطی مسئلہ اثباتی غیر بال کہلاتے ہیں۔

غیر بال مسئلہ اثباتی لازمی طور پر اس لیے کام کرتا ہے کیونکہ اس میں اور بلیک ہول کے واقعاتی افق میں کوئی فرق نہیں ہے بجز فلسفیانہ اختلاف رائے کے کہ دوسری طرف کیا ہے۔ غیر بال مسئلہ اثباتی کی توضیح یہ ہے کہ کائنات (قابل مشاہدہ اور ناقابل مشاہدہ) افراط کے دوران زبردست رفتار سے پھیلی۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں توانائی کی کثافت عموماً گرتی ہے یا ہلکی ہو جاتی ہے کیونکہ کائنات کا حجم بڑھتا ہے۔ جب خطی سمت دگنی ہو جاتی ہے، تو توانائی کی کثافت آٹھ گنا سے کم ہوتی ہے ؛ اشعاعی توانائی کی کثافت اس سے بھی زیادہ اس وقت کم ہوتی ہے جب کائنات پھیلتی ہے کیونکہ ہر فوٹون کا طول موج کھینچتا (سرخ منتقلی کی طرف ہو جاتا)ہے، یہ پھیلاؤ کے نتیجے میں فوٹون کے منتشر ہونے کے علاوہ ہوتا ہے۔ جب خطی جہتوں کو دگنا کیا جاتا ہے، تو اشعاع میں توانائی کی کثافت سولہ گنا گر جاتی ہے (دیکھیے توانائی کثافت تسلسل مساوات کا حل برائے بالا اضافیانہ سیال)۔ افراط کے درمیان، انفلیٹون میدان میں توانائی کثافت لگ بھگ ایک جیسی ہی رہتی ہیں۔ تاہم توانائی کثافت دوسری تمام چیزوں میں بشمول ناجنسیت، خم، غیر ہم اطرافیت، اجنبی زرّات اور معیاری نمونے کے زرّات میں گرتی ہے اور اچھے خاصے افراط کے ساتھ یہ تمام نظر انداز کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس سے کائنات چپٹی اور متشاکل اور (متجانس انفلیٹون میدان کو چھوڑ کر) زیادہ تر خالی رہ جاتی ہے، جس لمحے افراط ختم ہوتا ہے تو دوبارہ گرم ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

دورانیہ[ترمیم]

ایک اہم لازمی شرط یہ ہے کہ افراط کو اس قدر طویل ہونا چاہیے کہ ایک واحد چھوٹے افراطی ہبل مقدار سے دور حاضر کی قابل مشاہدہ کائنات کو بنا سکے۔ یہ اس اطمینان کو کرنے کے لیے لازمی ہے کہ کائنات کا ظہور بڑے قابل مشاہدہ پیمانے پر چپٹا، متجانس اور ہم اطراف ہو۔ یہ لازمی شرط عام طور پر اس وقت قابل اطمینان سمجھی جاتی ہے جب کائنات افراط کے دوران 10 کی قوّت نما 26 کی طاقت سے پھیلے۔

دوبارہ گرم ہونا[ترمیم]

افراط فوق خنک پھیلاؤ کا دور ہے جب درجہ حرارت ایک لاکھ یا اتنے ہی گنا سے گرا تھا۔ (درجہ حرارت کا صحیح گرنا نمونے پر انحصار کرتا ہے، تاہم پہلے نمونے میں یہ عام طور پر 10 کی قوّت نما 27 کیلون سے لے کر 10 کی قوّت نما 22 کیلون تک گرتا ہے۔ یہ نسبتاً کم درجہ حرارت افراطی مرحلے میں قائم رہا۔ جب افراط ختم ہو گیا تو درجہ حرارت واپس افراط سے پہلے کے دور پر واپس چلا گیا؛ اس کو دوبارہ گرم ہونا یا حراری کہتے ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ انفلیٹون میدان کی بڑی ممکنہ توانائی زرّات کی صورت میں انحطاط پزیر ہوئی اور کائنات کو معیاری نمونے کے زرّات، بشمول برقی مقناطیسی اشعاع سے لبریز کر دیا اور یوں کائنات میں اشعاع کے غلبے کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ کیونکہ افراط کی نوعیت معلوم نہیں ہے یہ عمل اب بھی ٹھیک طرح سے نہیں سمجھا گیا ہے، ہرچند کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پرامیٹرک گمک کے ذریعہ وقوع پزیر ہوا ہوگا۔

تحریک[ترمیم]

افراط بگ بینگ میں موجود کئی مسائل کو حل کر دیتا ہے جس کو 1970 کی دہائی میں دریافت کیا گیا تھا۔ افراط کو گتھ نے اس وقت پہلی مرتبہ پیش کیا جب وہ اس مسئلہ پر تحقیق کر رہے تھے کہ مقناطیسی یک قطبی آج ہمیں کیوں نظر نہیں آتے ؛ اس نے معلوم کیا کہ جھوٹے جوف کی مثبت توانائی عمومی اضافیت کے بمطابق خلاء کے پھیلاؤ کو انتہائی تیز رفتاری سے پیدا کرے گی۔ بہت جلد ہے اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ ایسا کوئی پھیلاؤ عرصے دراز سے موجود کئی مسائل کا حل پیش کر سکتا ہے۔ یہ مسائل ان مشاہدات سے پیدا ہوئے تھے کہ کائنات جیسا دور حاضر میں دکھائی دیتی ہے، اس کے لیے اس کو انتہائی حساس موزونیت کے ساتھ شروع ہونا تھا یا بالفاظ دیگر بگ بینگ کے وقت خاص قسم کی شرائط موجود ہونا چاہیے تھیں۔ افراط کوشش کرتا ہے کہ ان مسائل کا حل پیش کرے جس میں یہ بتاتا ہے کہ متحرک نظام کائنات کو اس خاص حالت میں لایا ہے اس طرح سے کائنات بگ بینگ نظریہ میں پیش کی جانے والی کائنات کے قریب تر ہو جاتی ہے۔